پختون تحفظ موومنٹ اور سوات کے حکام سے چند مطالبات


(5) سوات میں کبل کے مقام پر ایک وسیع اور خوب صورت گالف کورس ریاستی دور سے قائم ہے۔ یہاں ایک ریسٹ ہاؤس اور ایک بہت بڑا باغ بھی ہے۔ اس گراؤنڈ میں اہم سیاح، انتظامیہ کے اہل کار اور مقامی لوگ گالف کے کھیل سے لطف اندوز ہوتے تھے لیکن جب سوات میں حالات خراب ہوگئے تو اسے بھی فوج نے اپنے قبضہ میں لے لیا۔ یہ سوات کے قدرتی حسن کا بہت اہم جز اور مقامی لوگوں کی تفریح کا ایک بڑا ذریعہ تھا لیکن افسوس اب یہ بھی سوات کے لوگوں کے پاس نہیں رہا۔ معلوم نہیں کس قانون کے تحت یہ کشادہ اور سرسبز و شاداب گالف گراؤنڈ فوج کے قبضہ میں چلا گیا ہے۔ کیا پاکستان میں کوئی قانون ایسا ہے کہ عوامی ملکیت کے کسی مقام کو طاقت ور ادارے سے واگزار کرایا جا سکے؟

(6) اس کے علاوہ بھی فوج نے بہت سے مقامات پر عام لوگوں کے گھروں کو اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔ اب وہ اس کے مالکان کو کرایہ بھی ادا کرتی ہے لیکن ان میں بیشتر لوگ باَمر مجبوری کرایہ وصول کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے گھروں کو خالی کیا جائے لیکن وہ بے بسی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ کوئی گھر جب کسی وجہ سے خالی کرایا جاتا ہے تو اس کی حالت بہت ابتر ہوتی ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ گھر کے مالک سے زبردستی ایک کاغذ پر دستخط کروائے جاتے ہیں کہ اس کا گھر انھیں صحیح حالت میں مل چکا ہے۔ سوات میں یہ ظلم مسلسل جاری ہے لیکن نہ کسی میں ہمت ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کرے اور نہ ہی اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔

سوات میں میدانی علاقہ بہت کم ہے۔ یہاں بہت بڑی فوجی چھاؤنی قائم کی گئی ہے۔ اس کے لئے ابتدائی طور پر 300 کنال کی زمین مختص کر دی گئی ہے۔ یہ چھاؤنی سوات کے مختلف علاقوں میں تقسیم ہوگی جس کا ہیڈ کوارٹر غالباً سوات کے سیگرام نامی علاقے میں قائم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی سوات کے بیشتر خوب صورت علاقوں مثلاً ملم جبہ اور کالام وغیرہ میں خوب صورت ترین مقامات فوج نے حاصل کرلئے ہیں۔ اوّل تو سوات میں فوجی چھاؤنی کی بہ ظاہر کوئی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی تھی کیوں کہ سوات ریاستی دور سے ایک نہایت پرامن علاقہ چلا آ رہا ہے اور یہاں کبھی بھی حالیہ سوات شورش کی طرح کوئی ناخوش گوار واقعہ ظہور پزیر نہیں ہوا ہے۔ ریاستی دور سے پہلے ریاستِ دیر اور سوات کے لوگوں کے مابین مقامی جنگیں ہوتی رہی ہیں لیکن ان کی نوعیت دہشت گردی یا مذہبی انتہاپسندی جیسی نہیں تھی۔ بعد میں جب ریاست سوات وجود میں لائی گئی تو ان جنگوں کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ان علاقوں کو کسی بیرون ملک جارحیت کا کوئی خطرہ نہیں اور سوات کسی دوسرے یا دشمن ملک کی سرحد پر بھی واقع نہیں ہے لیکن بہرحال عسکری حکام بہتر جانتے ہیں کہ سوات میں ایک بڑی فوجی چھاؤنی کا قیام کیوں ناگزیر ٹھہرا۔ میرے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ سوات میں میدانی علاقے کی شدید کمی ہے لیکن اس کے باوجود بے پناہ قدرتی خوب صورتی کے حامل مقامات چھاؤنی کے لئے مختص کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے سوات میں سیاحت کو مستقبل میں شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ نو گو ایریاز بنیں گے، سوات میں مقیم فوجی جوانوں اور اعلیٰ حکام کے لئے رہائشی کالونیاں بنیں گی، جس کی وجہ سے سیاحوں کے علاوہ سوات کے اصل باشندوں کو بھی بہت سے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لئے اگر سوات میں فوجی چھاؤنی کے لئے شہری آبادی سے دور دراز کے پہاڑی مقامات پر آبادیاں تعمیر کرائی جائیں تو اس سے مقامی آبادی متاثر نہ ہوگی اور سیاحت کے لئے بھی مشکلات پیدا نہ ہوں گی۔

پاک فوج ہمارا اپنا ادارہ ہے۔ اسے ہم وطن عزیز کے امن و تحفظ کے لئے بہت ضروری سمجھتے ہیں اور اس کا احترام ہم پر ہر حوالے سے فرض ہے لیکن سوات میں فوجی آپریشنوں میں کچھ بے اعتدالیاں ایسی ہوئی ہیں جن کی وجہ سے اہل سوات اور فوج کے درمیان ایک نہ دکھائی دینے والی خلیج پیدا ہوچکی ہے۔ اس حوالے سے اہل سوات کے بہت زیادہ گلے شکوے ہیں لیکن معلوم اور نامعلوم خوف کی وجہ سے وہ ان کا برملا اظہار نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں غم و غصے کا ایک لاوا پک رہا ہے۔ اس لئے سوات میں مقیم حکام کو عوام کی یہ نہ دکھائی دینے والی ناراضی نظر انداز نہیں کرنی چاہئے۔ اب تک جو ہوچکا ہے، سو ہو چکا ہے۔ اب تو حکومت اور فوج کے بقول سوات میں مکمل امن و امان ہے تو اب ایسے اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے جن کی وجہ سے عوام اور فوج کے درمیان پیدا ہوجانے والے فاصلوں کا خاتمہ ہوسکے۔ جن خاندانوں کے سربراہوں اور بچوں کو غائب کرایا گیا ہے، انھیں بلاتامل چھوڑ دیا جائے۔ ان میں کوئی دہشت گرد نہیں ہے۔ یہ سب اس مٹی کے بچے ہیں۔ اگر کوئی کسی جرم کا مرتکب ہوا ہے تو اسے ورغلایا گیا تھا اور اس کے ورغلانے میں بعض ریاستی ادارے برابر کے مجرم ہیں۔ کیوں کہ سوات میں جب طالبانائزیشن کو فروغ دیا جا رہا تھا تو اس وقت مقامی انتظامیہ موجود تھی، سکیورٹی اور خفیہ ادارے فعال تھے۔ پھر کیوں ملا فضل اللہ کو بروقت نہیں روکا گیا۔ جو کام اس کو پھیلنے اور پھولنے کے بعد کیا گیا، وہی کام کسی بڑے نقصان کے بغیر اس کے آغاز میں بھی کیا جاسکتا تھا لیکن اس وقت یہ تمام ریاستی ادارے یا تو مجرمانہ اغماض برت رہے تھے اور یا مذہبی انتہاپسندوں کو ان کی خاموش تائید حاصل تھی۔ اب پلوں کے نیچے بہت پانی بِہ چکا ہے۔ سوات کے لوگوں کو مذہب کے نام پر جس طرح دھوکا دیا گیا، اس سے انھیں کافی سبق مل چکا ہے۔ اب ان میں سے کوئی ’’طالب‘‘ یا مذہبی جنونی نہیں بنے گا۔ اس لئے ریاست کو بااعتماد ضمانت کے بدلے اپنے بچوں کو مزید جبری گمشدگی سے نجات دلانی چاہئے تاکہ بکھرے ہوئے خاندان مزید بکھرنے اور تباہ ہونے سے بچ سکیں۔

ہمارے حکمرانوں اور طاقتور ریاستی اداروں کا المیہ یہ ہے کہ وہ کوئی بگڑا ہوا معاملہ بروقت حل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور جب معاملہ بگاڑ سے آگے بڑھ جاتا ہے تو انھیں ہوش آنے لگتا ہے لیکن اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ سوات اور قبائلی علاقوں کے عوام اس وقت ریاستی جبر اور ظلم کے خلاف سراپا احتجاج بن چکے ہیں، اس لئے ان کی آواز اور مطالبات کو سنا جائے اور مل بیٹھ کر مسائل کا قابل قبول حل نکالنے کی سبیل کی جائے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2