اے حمید کا عینک والا جن امریکہ میں

ایک کردار کا نام تھا ناگ۔ ایک مفروضہ ہے کہ ناگ سو سال کا ہوجائے تو کوئی بھی روپ بدلنے پر قادر ہوجاتا ہے۔ اس سیریز میں ناگ یہی کرتا تھا۔ کبھی پرندہ بنتا تھا، کبھی چوپایا۔ اکثر انسان بن جاتا تھا۔ حقیقت کی دنیا میں الٹا حساب ہے۔ یہاں انسان ناگ بن جاتے ہیں۔
اس سیریز کے تیسرے کردار کا نام عنبر تھا۔ وہ امر تھا، یعنی مر نہیں سکتا تھا۔ اسے مارا نہیں جاسکتا تھا۔ انسان کو پتا چل جائے کہ اسے مارا نہیں جاسکتا تو وہ غیر معمولی طور پر بہادر ہوجاتا ہے۔ پھر وہ فوج اور عدلیہ کے خلاف ٹوئیٹ کرسکتا ہے، وائس آف امریکا کی ویب سائٹ پر مضمون لکھ سکتا ہے۔ میں امر نہیں ہوں لیکن کبھی کبھی ایسی حرکتیں کر بیٹھتا ہوں تو اس کی وجہ عنبر ہے۔ یہ بہادری یا بے وقوفی مجھے اس نے سکھائی ہے۔
اے حمید نے بہت سی دوسری کتابیں بھی لکھیں۔ رومانوی کہانیاں، ڈرامے اور ادبی تاریخ، لیکن آج کل میں ان کی جو کتاب پڑھ رہا ہوں، اس کا نام امریکا نو ہے۔ بات یہ ہے کہ جب آپ عشق کرتے ہیں تو عشقیہ شاعری زیادہ سمجھ میں آنے لگتی ہے۔ جب آپ غمزدہ ہوتے ہیں تو غمگین گیت زیادہ اچھے لگنے لگتے ہیں۔
اے حمید نغمی صاحب کی کوششوں سے امریکا آئے اور انھوں نے وائس آف امریکا میں ملازمت اختیار کی۔ میں حال ہی میں امریکا آیا ہوں اور وائس آف امریکا میں ملازمت کررہا ہوں۔ مجھے اے حمید کی یہ کتاب، جسے سفرنامے کے بجائے قیام نامہ کہنا چاہیے، پڑھ کر بہت لطف آرہا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب اسی شخص کو پڑھنی چاہیے جو پہلے نغمی صاحب کی آپ بیتی امریکا میں بتیس سال پڑھ چکا ہو۔ ورنہ نیا آدمی بے زار ہوکر امریکا سے فرار ہوسکتا ہے۔
اے حمید نے اس کتاب کا نام امریکا نو کیوں رکھا، میں اس بارے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔ انھوں نے ایک خاتون کا مکالمہ لکھا ہے، وہ سنیے!
’’میری ماں میرے باپ سے الگ ہوچکی ہے۔ ایک ہیوسٹن کے ریستوران کے باتھ روم صاف کرتا ہے۔ دوسری نیویارک کے محتاج گھر میں کھڑکی کے شیشے سے لگی ٹھنڈی ویران سڑک کو تکتی رہتی ہے۔ میں خود دو خاوند کرکے چھوڑ چکی ہوں۔ میرے بچے ان کے پاس ہیں۔ ڈی سی کے ایک گندے فلیٹ میں رینٹل آفس کے بڈھے کالے منیجر کے ساتھ رہتی ہوں۔ وہ مجھے روز مارتا ہے۔ اسے چھوڑ کے چلی جاتی ہوں۔ چار روز کی دربدری کے بعد پھر اس کے پاس مار کھانے آجاتی ہوں۔ میرے بھائی ہیں۔ بہنیں بھی ہیں۔ عرصہ ہوا، کوئی مجھے ملنے نہیں آیا۔ یہاں کوئی کسی کا بھائی نہیں، کوئی بہن نہیں۔ مرد ہیں، عورتیں ہیں۔ لنچ کے لفافے ہیں۔ ڈالروں کی دلدل ہے۔ میں بھی اس دلدل میں دھنستی جارہی ہوں۔ جو اس دلدل میں جلدی دھنس جاتا ہے، وہ جلد مر جاتا ہے۔ بھائی کا پیار، بہن کی محبت، ماں کی ممتا، باپ کی شفقت، خاوند کا ایثار، یہ سب کچھ میرے لیے اجنبی جزیرے ہیں۔ ٹریش ہے۔ دس دن کسی میکڈونلڈز یا رائے راجرز میں ڈش واشر کا جاب کرتی ہوں اور گیارہویں روز پھر آؤٹ آف جاب ہوجاتی ہوں۔ مجھے ہیمبرگر، رہائش، وائن چاہیے۔ یہ میں کہاں سے لاؤں؟ مجھے ایک بہن چاہیے، بھائی چاہیے۔ ایک خاوند چاہیے۔ یہ میں کہاں سے لاؤں؟ امریکا نو، امریکا نو۔‘‘ وہ سسکیاں لیتے ہوئے رونے لگی۔
مجھے نہیں معلوم کہ یہ فکشن کا پیس ہے یا واقعی اے حمید کو ایسی کوئی خاتون ملی تھیں۔ لیکن یہ طے ہے کہ انھیں خود بھی امریکا پسند نہیں آیا۔ ان کی پوری کتاب امریکا پر تبرے سے بھری پڑی ہے۔ امریکا کے لوگ اچھے نہیں۔ ان کا اخلاق مصنوعی ہے۔ ان کے ہاں علاج مہنگا ہے۔ ان کے ہاں بوڑھوں کو بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ یہاں کوئی کسی کا رشتے دار نہں۔ یہاں درخت ہیں لیکن لاہور جیسی چھاؤں نہیں۔ یہاں پھول ہیں لیکن لاہور جیسی خوشبو نہیں۔ یہاں پرندے ہیں لیکن لاہور جیسے طوطے نہیں۔ یہاں شلوار میں ازاربند ڈالنے والی نالے پرونی تک نہیں۔ یہاں جوتے ملتے ہیں لیکن لاہور کے جوتوں جتنے مضبوط نہیں۔ یہ مذاق نہیں ہے۔ اے حمید نے واقعی بیاسی ڈالر کے ایک جوتے کے بارے میں کئی صفحات لکھ ڈالے۔ وہ اسے اپنے ساتھ لاہور لے گئے اور وہاں بھی اسے پہننے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے رہے۔
میرا خیال ہے کہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو اے حمید کی یہ کتاب پاکستان کے تعلیمی نصاب میں شامل کروانی چاہیے۔ اس کے بعد امریکا کا ویزا مانگنے والوں کی تعداد میں کافی کمی ہوسکتی ہے۔
مجھے آخر میں بتانا چاہیے کہ پاکستان میں اے حمید کو کوئی یاد کرتا ہو یا نہ کرتا ہو، ان کا لکھا ہوا ڈراما عینک والا جن سب کو یاد ہے۔ اس کے کردار سب کو یاد ہیں۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے یہ ڈراما کبھی نہیں دیکھا۔ جب یہ ڈراما ٹیلی وژن پر شروع ہوا تو میں تھوڑا بڑا ہوچکا تھا۔ میری دلچسپیاں جن بھوتوں کے بجائے پریوں میں زیادہ ہوچکی تھیں۔
میری بیوی ہر وقت ٹی وی پر اور اپنے ٹیب پر اور آئی فون پر ڈرامے دیکھتی رہتی ہے۔ کل میں نے اس سے پوچھا، میں عینک والا جن دیکھنا چاہتا ہوں۔ کیسے دیکھوں؟ بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا، آئینہ دیکھ لیں۔ عینک والا جن نظر آجائے گا۔

