میڈیا کا بحران اور دل کے دورے

فصیح الرحمان موجودہ حکومت کے آنے کے بعد جواں عمری میں انتقال کرنے والے پہلے میڈیا کارکن نہیں۔ چند دن پہلے سٹی 42 کے کیمرا مین رضوان ملک ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گئے تھے۔ ان کی شادی کو صرف ڈیڑھ ماہ ہوا تھا جب کہ انھیں کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی۔ ان سے ایک ماہ پہلے کیپٹل ٹی وی کے کیمرا مین فیاض علی ذہنی دباؤ کے باعث چل بسے تھے۔ وہ دس ماہ تک تنخواہ کے بغیر کام کرتے رہے جس کے بعد انھیں واجبات ادا کیے بغیر نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔ ان سے پہلے نومبر میں نیوز ون کے کرائم رپورٹر شیخ محمد عرفان کو دل کا دورہ پڑا اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ وہ سات ماہ سے تنخواہ سے محروم تھے۔

Read more

پیاسی زندگی، ادھورے خواب

میرا دماغ کچھ ایسی مشکل کا شکار ہے کہ ساری رات خواب دکھاتا ہے۔ عجیب عجیب خواب۔ عموماً ان میں تسلسل ہوتا ہے۔ میں قید خانے میں ہوں۔ پتھر کی دیواریں ہیں یا فولادی سلاخوں کا دروازہ۔ شاہی اہلکار کا ایک دستہ مجھے لینے آتا ہے۔ میں خوف زدہ ہوجاتا ہوں۔ کیا مجھے سزائے موت کے لیے لے جارہے ہیں؟ لیکن مجھے شاہی محل میں پہنچادیا جاتا ہے۔ اس محل میں سب بے لباس ہیں۔ مرد بھی اور عورتیں بھی۔ بادشاہ بھی اور غلام بھی۔ ایک لڑکی کو دیکھ کر میرے دل میں محبت کے جذبات امڈتے ہیں۔ اچانک کوئی مجھے دیوان خانے کے بیچ میں موجود تالاب میں دھکا دے دیتا ہے۔ مجھے تیرنا نہیں آتا۔ پانی میرے منہ اور ناک میں گھس جاتا ہے۔ میرا سانس رکنے لگتا ہے۔ میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

Read more

انچولی کی بیٹھکیں

انچولی بیٹھکوں والا محلہ ہے۔ ہر سڑک اور ہر دوسری گلی میں بیٹھک جمتی ہے۔ ان میں بیٹھنے والے لوگ روزانہ کی بنیاد پر آتے ہیں۔ سیاست، کھیل، عزاداری، محلے داروں کا حال احوال، یہ ان کے موضوعات ہوتے ہیں۔ ہر بیٹھک میں ایک دو جملے باز اور ایک دو دھر ضرور ہوتے ہیں۔ دھر…

Read more

رات، اندھیرا اور سفر

سمندر پر جانا مجھے پسند نہیں۔ جھیلیں اچھی لگتی ہیں۔ خاموش اور پرسکون۔ کراچی میں تہائی صدی رہنے کے باوجود بہت کم ساحل پر جانا ہوا۔ سی ویو پر سمندر کی ہیبت طاری ہوجاتی تھی۔ بہت عرصے بعد کل دوبارہ سمندر دیکھا۔ کراچی میں اس کا نام بحیرہ عرب تھا۔ یہاں اسے بحر اوقیانوس کہتے…

Read more

علامہ ضمیر اختر نقوی سے خصوصی گفتگو

علامہ ضمیر اختر نقوی کی بنیادی شناخت عالم دین کی ہے لیکن وہ زباں داں اور ادیب بھی ہیں۔ ان کے کتب خانے میں ہزاروں کتابیں اور مخطوطے ہیں۔ ممتاز مرثیہ نگار اور محقق ڈاکٹر ہلال نقوی کا خیال ہے کہ علامہ صاحب سے زیادہ مراثی کا ذخیرہ کسی کے ذاتی خزانے میں نہیں ہوگا۔…

Read more

علامہ ضمیر اختر نقوی امریکہ میں

علامہ صاحب قالین پر نیم دراز تھے۔ مجھے دیکھ کر انھوں نے اٹھنے کی کوشش کی۔ میں نے جلدی سے آگے بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر درخواست کی کہ مت اٹھیں۔ میں وہیں ان کے قریب بیٹھ گیا۔
”کیا رات کو مجلس پڑھتے ہی شکاگو چلے جائیں گے؟ “ میں نے پوچھا۔
”نہیں، صبح کی پرواز ہے۔ “ علامہ صاحب نے بتایا۔

Read more

سو بچوں سے زیادتی اور قتل کا مجرم جسے پولیس نے چھوڑ دیا

بیس سال پہلے ایک شخص ڈی آئی جی لاہور کے دفتر میں داخل ہوا اور دعویٰ کیا کہ اس نے بہت سے بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا ہے۔ پولیس حکام سمجھے کہ وہ شخص پاگل ہے اور اسے ڈانٹ ڈپٹ کر کے دفتر سے نکال دیا۔

اس شخص نے گھر جا کر ایک طویل خط لکھا اور روزنامہ جنگ لاہور کو بھیج دیا۔ خط میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے اعتراف کے علاوہ 74 بچوں کی تصاویر بھی تھیں۔

Read more

انچولی کے فنگر باؤلر اور بہاری وکٹ کیپر

ہم کراچی منتقل ہوئے تو رشتے دار بہت تھے لیکن میرا ہم عمر کوئی نہیں تھا۔ کزن کئی کئی سال بڑے تھے یا چھوٹے۔ مجھے محلے میں دوست بنانے میں مشکل پیش آئی۔ اظہار خالو کے بیٹے کاشف مدد کو آئے۔ وہ شام کو اپنے دوستوں کے ساتھ میدان میں کرکٹ کھیلتے تھے۔ انھوں نے…

Read more

انچولی کے کھوکھے

انچولی میں سب سے پہلے ہمارا قیام جس مکان میں رہا، اس کے قریب ترین پرچون کی دکان خالو اظہار کی تھی۔ ان کا نام مجھے بہت عرصے بعد معلوم ہوا۔ اس وقت وہ صرف خالو تھے۔ ان کی دکان کے باہر ایک تھڑا تھا جو پتا نہیں پہلے سے تھا یا انھوں نے بنوایا۔ اس پر خالو کے دوست آکر بیٹھ جاتے۔ ہمارے بابا بھی اکثر وہیں پائے جاتے۔ بابا کی اظہار خالو سے دوستی کی وجہ سے ان کی تینوں بیٹے بھائیوں کی طرح میرا خیال کرنے لگے۔ میں اگلی تحریر میں ارشاد بھائی، کاشف بھائی اور گڈو کا ذکر کروں گا۔

Read more

انچولی کے چند عجیب و غریب لوگ

انچولی میں شاعر ادیب، دانشور اور علما ہی نہیں، عجیب و غریب لوگ بھی رہتے تھے۔ دوسرے علاقوں کی انوکھی شخصیات بھی وقتاً فوقتاً یہاں حاضری دیتی تھیں۔ میں نے اپنے لڑکپن میں ایسے لوگوں کو انچولی میں گشت کرتے دیکھا ہے۔ ایک کردار ہارمونیم والا ملنگ تھا۔ دبلا پتلا، منحنی سا۔ کھچڑی بال۔ ملگجا…

Read more