انچولی کی بیٹھکیں

انچولی بیٹھکوں والا محلہ ہے۔ ہر سڑک اور ہر دوسری گلی میں بیٹھک جمتی ہے۔ ان میں بیٹھنے والے لوگ روزانہ کی بنیاد پر آتے ہیں۔ سیاست، کھیل، عزاداری، محلے داروں کا حال احوال، یہ ان کے موضوعات ہوتے ہیں۔ ہر بیٹھک میں ایک دو جملے باز اور ایک دو دھر ضرور ہوتے ہیں۔ دھر…

Read more

رات، اندھیرا اور سفر

سمندر پر جانا مجھے پسند نہیں۔ جھیلیں اچھی لگتی ہیں۔ خاموش اور پرسکون۔ کراچی میں تہائی صدی رہنے کے باوجود بہت کم ساحل پر جانا ہوا۔ سی ویو پر سمندر کی ہیبت طاری ہوجاتی تھی۔ بہت عرصے بعد کل دوبارہ سمندر دیکھا۔ کراچی میں اس کا نام بحیرہ عرب تھا۔ یہاں اسے بحر اوقیانوس کہتے…

Read more

علامہ ضمیر اختر نقوی سے خصوصی گفتگو

علامہ ضمیر اختر نقوی کی بنیادی شناخت عالم دین کی ہے لیکن وہ زباں داں اور ادیب بھی ہیں۔ ان کے کتب خانے میں ہزاروں کتابیں اور مخطوطے ہیں۔ ممتاز مرثیہ نگار اور محقق ڈاکٹر ہلال نقوی کا خیال ہے کہ علامہ صاحب سے زیادہ مراثی کا ذخیرہ کسی کے ذاتی خزانے میں نہیں ہوگا۔…

Read more

علامہ ضمیر اختر نقوی امریکہ میں

علامہ صاحب قالین پر نیم دراز تھے۔ مجھے دیکھ کر انھوں نے اٹھنے کی کوشش کی۔ میں نے جلدی سے آگے بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر درخواست کی کہ مت اٹھیں۔ میں وہیں ان کے قریب بیٹھ گیا۔
”کیا رات کو مجلس پڑھتے ہی شکاگو چلے جائیں گے؟ “ میں نے پوچھا۔
”نہیں، صبح کی پرواز ہے۔ “ علامہ صاحب نے بتایا۔

Read more

سو بچوں سے زیادتی اور قتل کا مجرم جسے پولیس نے چھوڑ دیا

بیس سال پہلے ایک شخص ڈی آئی جی لاہور کے دفتر میں داخل ہوا اور دعویٰ کیا کہ اس نے بہت سے بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا ہے۔ پولیس حکام سمجھے کہ وہ شخص پاگل ہے اور اسے ڈانٹ ڈپٹ کر کے دفتر سے نکال دیا۔

اس شخص نے گھر جا کر ایک طویل خط لکھا اور روزنامہ جنگ لاہور کو بھیج دیا۔ خط میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے اعتراف کے علاوہ 74 بچوں کی تصاویر بھی تھیں۔

Read more

انچولی کے فنگر باؤلر اور بہاری وکٹ کیپر

ہم کراچی منتقل ہوئے تو رشتے دار بہت تھے لیکن میرا ہم عمر کوئی نہیں تھا۔ کزن کئی کئی سال بڑے تھے یا چھوٹے۔ مجھے محلے میں دوست بنانے میں مشکل پیش آئی۔ اظہار خالو کے بیٹے کاشف مدد کو آئے۔ وہ شام کو اپنے دوستوں کے ساتھ میدان میں کرکٹ کھیلتے تھے۔ انھوں نے…

Read more

انچولی کے کھوکھے

انچولی میں سب سے پہلے ہمارا قیام جس مکان میں رہا، اس کے قریب ترین پرچون کی دکان خالو اظہار کی تھی۔ ان کا نام مجھے بہت عرصے بعد معلوم ہوا۔ اس وقت وہ صرف خالو تھے۔ ان کی دکان کے باہر ایک تھڑا تھا جو پتا نہیں پہلے سے تھا یا انھوں نے بنوایا۔ اس پر خالو کے دوست آکر بیٹھ جاتے۔ ہمارے بابا بھی اکثر وہیں پائے جاتے۔ بابا کی اظہار خالو سے دوستی کی وجہ سے ان کی تینوں بیٹے بھائیوں کی طرح میرا خیال کرنے لگے۔ میں اگلی تحریر میں ارشاد بھائی، کاشف بھائی اور گڈو کا ذکر کروں گا۔

Read more

انچولی کے چند عجیب و غریب لوگ

انچولی میں شاعر ادیب، دانشور اور علما ہی نہیں، عجیب و غریب لوگ بھی رہتے تھے۔ دوسرے علاقوں کی انوکھی شخصیات بھی وقتاً فوقتاً یہاں حاضری دیتی تھیں۔ میں نے اپنے لڑکپن میں ایسے لوگوں کو انچولی میں گشت کرتے دیکھا ہے۔ ایک کردار ہارمونیم والا ملنگ تھا۔ دبلا پتلا، منحنی سا۔ کھچڑی بال۔ ملگجا…

Read more

پپو بھائی انچولی والے

گزشتہ اتوار کو آٹھویں محرم تھی۔ میں نیویارک گیا تھا جہاں عشرہ محرم کا مرکزی جلوس برآمد ہوا تھا۔ یہ ہر سال عاشور سے پہلے والے اتوار کو مین ہٹن کی پارک ایونیو پر نکلتا ہے۔ چار گھنٹے جاتے ہوئے کی ڈرائیو اور چار گھنٹے کی واپسی۔ جلوس میں بھی فون پر پیغامات نہیں دیکھ سکا۔ گھر آکر دیکھا کہ کسی نے قائم بھائی کے لیے دعا کی درخواست کی تھی۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔ پاکستان میں صبح کے چار بجے تھے۔ کسی کو فون نہیں کرسکتا تھا۔ الجھن میں گرفتار رہا کہ بیوی کو بتاؤں یا نہ بتاؤں۔

ایسا ہی میسج کربلا میں موجود میرے کزن تہور بھائی کو بھی پہنچا۔ اس میں مرحوم کی بلندی درجات کی بات کی گئی تھی۔ وہ ان کی بیوی نے دیکھ لیا۔ تہور بھائی، قائم بھائی اور میں، ہم تینوں ہم زلف ہیں۔ کربلا میں رونا پیٹنا مچ گیا۔ پورا قافلہ تہور بھائی کے گرد جمع ہوگیا۔ بہن کی ہچکیاں بند گئیں۔ انھوں نے فوراً پاکستان واپسی کا مطالبہ کیا۔ قافلے کے منتظم پریشان ہوگئے۔ لاکھوں لوگ کربلا آرہے تھے۔ جانے کا انتظام کرنا ممکن نہ تھا۔

Read more

شاید میں آپ کو سمجھا نہ سکا

بارگاہ شہدائے کربلا کراچی کے بڑے امام باڑوں میں سے ایک ہے۔ یہ انچولی کی مسجد خیر العمل کے احاطے میں قائم ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 1985 میں جب ہم کراچی آئے تو یہ موجود نہیں تھا۔ مسجد کا ہال چھوٹا تھا۔ روضہ امام حسین کی شبیہہ بہت بعد میں بنی۔ آج وہ شبیہہ…

Read more