بابائے امریکہ کو سلام

پاکستانی تاریخ دان کہتے ہیں کہ محمد علی جناح اس لیے قائداعظم بنے کہ ان کے زمانے میں برصغیر کے مسلمانوں میں کوئی اتنے بڑے قد کا رہنما نہیں تھا۔ امریکا کا معاملہ مختلف ہے۔ یہاں انگریزوں سے آزادی کی جدوجہد میں متعدد بڑے رہنما شامل تھے۔ ان بانیان امریکا کو فاؤنڈنگ فادرز یعنی آبائے قوم کہا جاتا ہے۔ یہ فاؤنڈنگ فادرز کون تھے، کتنے تھے؟ امیگرنٹس تو دور کی بات ہے، بہت سے وہ لوگ بھی نہیں بتا پاتے

Read more

آصف فرخی: انھیں تنہائی نے مار ڈالا

”مبشر صاحب، اب تک آپ کو پتا چل چکا ہو گا کہ میری بیوی نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔“ آصف فرخی کے یہ الفاظ سن کر مجھے ایک جھٹکا لگا۔ میں گاڑی چلا رہا تھا۔ کرسمس کی وجہ سے سڑک سنسان تھی ورنہ گاڑی لہرانے کی وجہ سے حادثہ ہو سکتا تھا۔ ”یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں آصف بھائی؟ نہیں، مجھے نہیں پتا تھا۔ افسوس۔ ایسا کیوں ہوا“ میں بوکھلا گیا تھا۔ وہ آصف بھائی کا آخری دورہ امریکا

Read more

امروہے کے ماموں اچھن

محلے والے انھیں میر صاحب کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ اماں اچھن پکارتی تھیں۔ امی بھجان یعنی بھائی جان کہتی تھیں۔ ہم ماموں کے بجائے ڈیڈی ڈیڈی کرتے تھے۔
ان کا نام امام نذر تھا اور وہ میرے بڑے ماموں تھے۔ امی سے اٹھارہ انیس سال بڑے۔ امروہے میں آٹھویں تک وہ جون ایلیا کے کلاس فیلو رہے۔ اتفاق سے دونوں کی تاریخ ولادت بھی ایک تھی۔ 14 دسمبر 1931۔

مجھے امروہے کے بارے میں تھوڑا بہت جو معلوم ہے، وہ یا تو اماں یعنی میری نانی نے بتایا یا ڈیڈی نے۔ اماں پردے دار خاتون تھیں اور گھر سے نہیں نکلتی تھیں۔ ڈیڈی ہجرت کے وقت سولہ سترہ برس کے تھے اس لیے ان کی یادداشت میں بہت کچھ محفوظ تھا۔

Read more

انچولی کی قاتل حسینہ

کراچی آنے سے پہلے میں نے وی سی آر پر صرف دو ڈھائی فلمیں دیکھی تھیں۔ جتندر کی قیدی، جیکی شیروف کی ہیرو اور علی اعجاز، ننھے اور انجمن کی سالا صاحب۔ 1985 میں کراچی آنے کے بعد پہلی فلم قسم پیدا کرنے والی کی دیکھی۔ اس کے بعد کئی سال تک بنگالی بابو متھن کی کوئی فلم نہیں چھوڑی۔ امیتابھ بچن کی پہلی فلم مرد دیکھی۔ اس کے بعد امیتابھ کی گن گن کر تمام فلمیں دیکھ ڈالیں۔ اس

Read more

نیوز ریڈر کی خبر میں تلفظ کی غلطی ناقابل معافی ہوتی ہے

ایک دن میڈم پروین نے کہا، ”مبشر! جاکر ڈکشنری لے آؤ۔ ‘‘ میں نے پوچھا، ”کہاں سے ملے گی ڈشکنری؟ ‘‘ وہ ہنس پڑیں، ”ڈشکنری نہیں، ڈکشنری! میڈم الہیٰ بخش کے کمرے سے لے آؤ۔ ‘‘ میڈم الہیٰ بخش قائداعظم پبلک اسکول کی ہیڈمسٹریس تھیں۔ حسنین چیمبرز نام کی عمارت آج بھی خانیوال کے بلاک بارہ میں موجود ہے۔ قائداعظم پبلک اسکول اس کی پہلی منزل پر قائم تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس میں ایک طرف تین اندھیرے سے

Read more

زیادہ پیسے کمانے کا طریقہ: کامیاب صحافی کے قلم سے

’دیوان سنگھ نے اپنی پہلوانی کے دم خم کئی اکھاڑوں میں دکھائے۔ بڑی بڑی ریاستوں سے پنجہ لڑایا۔ اکالیوں سے متصام ہوا۔ ماسٹر تارا سنگھ اور سردار کھڑک سنگھ سے تلوار بازی کی۔ مسلم لیگ سے چومکھی لڑا۔ پولیس کو تگنی کا ناچ نچایا۔ خواجہ گیسو دراز حضرت حسن نظامی سے چہلیں کیں۔ تیس سے کچھ اوپر مقدمے چلوائے اور ہر بار سرخ رو ہوا۔ لاکھوں بلکہ کروڑوں کمائے اور اڑا ڈالے۔ وہ ایک عجائب گھر ہے جس میں سیکڑوں

Read more

یوسفی صاحب کے ہمراہ قیمتی لمحات کی کہانی

’’یہ جیو کے پروڈیوسر ہیں، آپ سے ملنے آئے ہیں۔‘‘ سروش صاحب نے کمرے کے دروازے سے میرا تعارف کروایا۔ یوسفی صاحب نے خالی خالی نگاہوں سے مجھے دیکھا۔ میں جھجکتا ہوا اس کمرے میں داخل ہوا جو پرانی کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ لیکن یوسفی صاحب کی سامنے ان کی اپنی نئی کتاب دھری تھی۔ وہ اس پر دستخط کررہے تھے۔ دستخط کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے؟ چند لمحے۔ لیکن مجھے ایسا لگا کہ وہ بہت بنا سنوار

Read more

خانیوال کی چند یادیں

بے بی باجی سے آج چھبیس سال بعد فون پر بات ہوئی۔ خانیوال میں وہ ہماری پڑوسی تھیں۔ دونوں مکانوں کی دیوار ملی ہوئی تھی۔ اس میں ایک کھڑکی کھول کر پٹ لگادیے گئے تھے۔ ہمیں دُسراتھ میسر آگئی۔ بابا کبھی ریاض آباد، کبھی میلسی کی نیشنل بینک برانچ میں تعینات رہے۔ وہ ہفتہ بھر وہیں رہتے اور جمعرات کی رات گھر آتے۔ جمعہ کو چھٹی گزار کے ہفتے کی صبح چلے جاتے۔ کئی سال یہی معمول رہا۔

میں چار پانچ سال کا تھا۔ کھڑکی کھول کر بے بی باجی کے گھر چلا جاتا۔ نیر بھائی سب سے بڑے تھے۔ پھر بے بی باجی، پھر واجد بھائی، پھر رانی۔ وہ میری ہم عمر تھی اور ہم ایک ہی دن قائداعظم پبلک اسکول میں داخل ہوئے۔ لیکن میری دوستی واجد بھائی سے تھی جنھیں سب پپو کہتے تھے۔ مجھ سے دو تین سال بڑے ہوں گے۔ ذہین اور شرارتی تھے۔ لوگوں کے مزے مزے کے نام رکھتے تھے۔ میری چھوٹی بہن کا نام انھوں نے گڈبین رکھا۔ اب مجھے یاد نہیں کہ اس کا سبب اور مطلب کیا تھا۔

Read more

مردوں کی دنیا میں اجنبی مخلوق

بیٹی ذرا سیانی ہوئی تو میری بیوی نے اس سے کہا کہ وہ آٹا گوندھے اور روٹی پکائے۔ بچی صبح اسکول جاتی تھی اور شام کو ہوم ورک کرتی تھی۔ اس نے کبھی باورچی خانے میں قدم نہیں رکھا تھا۔ ماں کے کہنے پر تسلہ سنبھالا اور آٹے میں زیادہ پانی ملا دیا۔ ماں نے بے نقط سنائیں۔ آٹا جیسے تیسے گندھ گیا۔ لیکن جب بچی نے روٹی پکانے کی کوشش کی تو کبھی جل گئی، کبھی کچی رہ گئی۔

Read more

امروہے والے ماموں اور کراچی والے چچا

کیا یہ بات کسی اعزاز سے کم ہے کہ آپ کا نام اور جون ایلیا کا نام کسی رسالے میں ایک ساتھ شائع ہو؟ میں ابھی اسکول میں پڑھتا تھا کہ لیٹر ٹو دی ایڈیٹر لکھنا شروع کردیے۔ اِدھر اُدھر تو بھیجتا ہی تھا، سسپنس ڈائجسٹ کو بھی بھیجنے لگا۔ کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایک دن اس ادارے میں بیٹھ کر دوسروں کے خطوط چھانٹوں گا۔ لیکن وہ بہت بعد کا واقعہ ہے۔ اسکول کالج کے دنوں میں خط

Read more

منشی محبوب عالم، ابن انشا اور مبشر علی زیدی

 ابن انشا سے بچپن ہی میں دوستی ہوگئی تھی۔ ان کی ایک تحریر ہماری درسی کتاب کا حصہ تھی۔ برطانیہ کے دورے اور مادام تساؤ میوزیم کا تذکرہ تھا۔ وہ ٹکڑا پڑھ کر کتاب کی تلاش ہوئی۔ آج کل کے بچے ومپی کڈ کی ڈائری پڑھتے ہیں۔ مجھے آوارہ گرد کی ڈائری ملی۔ پڑھتا گیا، ہنستا گیا۔ ابن انشا نے برطانیہ اور دوسرے ملکوں کے علاوہ جرمنی کا احوال بھی اس سفرنامے میں لکھا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس

Read more

آخر یہ کالم نگار جانبدار کیوں ہوتا ہے؟

ہمارا تعلیمی نصاب بقول شخصے جاہلی دور کا ہے۔ ہمارے معاشرے میں تربیت کا فقدان ہے۔ اکثریت کا تہذیب و تمدن سے کوئی رشتہ نہیں۔ جو شخص مختلف نقطہ ہائے نظر کی کتابیں نہیں پڑھتا اور اپنے کنویں سے نکل کر کم از کم چار چھ ملک نہیں دیکھ لیتا، اس کی سوچ کا ایک خاص سطح سے اوپر اٹھنا ممکن نہیں رہتا۔ ایسے لوگ ٹی وی دیکھ کر خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسرے کو بھی کرتے ہیں۔

Read more

غریب کی گلک اور عید کی چھٹیاں

غریب کو تنخواہ ملتی ہے تو وہ مارے خوشی کے باولا ہوجاتا ہے کہ اتنے بہت سے پیسوں کو کہاں کہاں خرچ کرے گا۔ ایک کمرے کے فلیٹ کا کرایہ تو صرف پانچ ہزار ہے جبکہ تنخواہ دس ہزار ملی ہے، راشن تو صرف چار ہزار میں آجاتا ہے جبکہ تنخواہ دس ہزار ملی ہے، دفتر آنے جانے کا کرایہ تو صرف دو ہزار ہے جبکہ تنخواہ دس ہزار ملی ہے، بجلی کا بل تو صرف تین ہزار دینا ہے

Read more

قلم میں جادو کیسے بھرتا ہے

آپ کسی لکھنے پڑھنے والے سے پہلی بار ملتے ہیں تو کیا بات کرتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ لکھنے والے سے اُس کی تحریروں ہی پر بات ہوسکتی ہے۔ میں جب کسی بڑے آدمی سے ملنے جاتا ہوں، اور میں سوائے لکھنے پڑھنے والوں کے کسی کو بڑا نہیں مانتا، تو میرے پاس کم از کم دو کتابیں ہوتی ہیں۔ ایک میری، جو میں اپنے تعارف کے لیے پیش کرتا ہوں، اور دوسری اُن کی، جس پر میں آٹوگراف دینے

Read more

حلوائی، بھانڈ، کٹھ پتلیاں اور صحافی

سیٹھ سوئیٹس کے سیٹھ صاحب نے حلوائی کو بلاکر کہا، ’’میاں جمن! تمھارا بنایا ہوا حلوہ شان دار سوئیٹس والوں کی مٹھائیوں سے زیادہ فروخت نہیں ہورہا۔ ہم ایک دو ہفتے اور دیکھتے ہیں۔ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو اپنا بندوبست کرلینا۔‘‘ جمن نے عرض کیا، ’’جناب! پہلی بات یہ کہ شان دار سوئیٹس کی دکان بڑی ہے اور مرکزی شاہراہ پر ہے۔ آپ کی دکان چھوٹی اور اندر گلی میں ہے۔ دوسرے یہ کہ شان دار سوئیٹس والے

Read more

اینمل فارم ، منہ بولا بیٹا اور منہ بولی صحافت

دو ہفتے پہلے لاہور لٹریری فیسٹول سے بلاوا آیا تو میں نے مہمانوں کی فہرست پر نگاہ ڈالی۔ ان میں رچرڈ بلیئر کا نام بھی شامل تھا۔ مجھے خوش گوار حیرت ہوئی۔ میں نے کتابوں کے تھیلے میں جارج آرویل کی کتاب رکھ لی۔ کیا آپ جارج آرویل کو جانتے ہیں؟ بہت سے، اردو پڑھنے والے کہیں گے، کون؟ بیشتر، شاید سب، انگریزی پڑھنے والے کہیں گے، جی ہاں۔ لیکن خیر، مجھ جیسا ان پڑھ بھی آرویل سے واقف ہے۔

Read more

گِدھوں کا منجن اور نفسیاتی مریضوں کا منورنجن

میری بیٹی او لیول کے بعد لٹریچر اور جرنلزم پڑھنا چاہتی ہے۔ کراچی کے ایک کالج نے اس کا انٹرویو کرنے کے بعد مشورہ دیا کہ اسے سائیکولوجی بھی پڑھنی چاہیے۔ میں نے اپنی بیٹی سے کہا ہے کہ اسی کالج میں داخلہ لے۔ وہ سمجھ دار لوگ ہیں۔ ان کا مشورہ درست ہے۔ اس مشورے پر پاکستان کے تمام صحافیوں اور ادیبوں کو بھی عمل کرنا چاہیے۔ ہم صحافی، نام نہاد صحافی، روزانہ ایسے فیصلے کرتے ہیں جن سے

Read more

کتابوں کا ہوکا اور ان مول دستخط

آپ کتنے عرصے کے بعد اپنی الماری میں کتابوں کی ترتیب درست کرتے ہیں؟ میں نے آج کئی مہینوں کے بعد اپنی الماریوں کو سنوارنے کا ارادہ کیا۔ میں اس عرصے میں سو ڈیڑھ سو، یا شاید اس سے بھی زیادہ کتابیں خرید چکا ہوں۔ اتنی کتابیں کون پڑھ سکتا ہے؟ دراصل مجھے کتابیں خریدنے کا ہوکا ہے۔ بعض اوقات میں کتاب خرید کر بھول جاتا ہوں اور دوسری بار بھی خرید لیتا ہوں۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک

Read more

سب مائیں ایک جیسی ہوتی ہیں ناں؟

پہلے چکر میں مجھے امّی کا خیال آیا۔ اسکول کے زمانے میں پیدل چل چل کے جب میرے پیر سُوج جاتے تو امّی گرم پانی سے ٹِکور کرتی تھیں۔ میں جاگتے میں منع کرتا تو سوتے میں پیر دباتی تھیں۔ کعبے کا طواف کرنے کے بعد میں سعی کررہا تھا۔ صفا سے مروہ کی طرف جاتے ہوئے ایک خاتون کی صورت میں امّی کی شباہت آئی۔ دھیان اللہ جی سے امّی جی کی طرف چلاگیا۔ دوسرے چکر میں یاد آیا

Read more

بھلا نام میں کیا رکھا ہے

واشنگٹن ڈی سی اور اس کے مضافات میں بعض علاقوں، سڑکوں اور عمارت کے دلچسپ نام ہیں۔ کچھ نام ہم پاکستانیوں کو عجیب لگتے ہیں جو شاید امریکیوں کے لیے نہیں ہوں گے لیکن جان بوجھ کر بھی ذرا ہٹ کے نام رکھے جاتے ہیں۔  ڈی سی انتظامیہ نے کانگریس بلڈنگ کو مرکز قرار دے کر شہر کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ ان کے نام نارتھ ایسٹ، نارتھ ویسٹ، ساؤتھ ایسٹ اور ساؤتھ ویسٹ ہیں۔ آپ حیران

Read more

علامہ صاحب کے کتب خانے کو دیمک کیسے لگی؟

تیس سال سے کتابیں جمع کررہا ہوں۔ چند دن پہلے خیال آیا کہ بہت سی کتابیں ننگ دھڑںگ پڑی ہیں۔ اخبارات کے وہ صفحات، بچوں کے وہ رسالے اور بڑوں کے وہ ڈائجسٹ سوکھے جارہے ہیں جن میں اپنا نام چھپا ہے۔ اور بھی بہت سے کتابچے اور پیپر بیک بکس ہیں۔ کیوں نہ ان کی جلدبندی کروالی جائے۔ اس طرح سب کی زندگی بڑھ جائے گی۔ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ڈاکٹر ہلال نقوی کا فون آیا۔ انھیں

Read more

خاک کربلا کی سرخ تسبیح اور ایک نیا نیا عقیدت مند

انچولی میں خدا جانے کس نے یہ روایت ڈالی کہ ہر پرچون فروش کو خالو کہا جاتا تھا۔ ہمارا کرائے کا مکان جس سڑک پر تھا، وہاں تین چار خالوؤں کی دکانیں تھیں۔ انچولی شیعہ اکثریت کا محلہ ہے۔ محرم نہ بھی ہو تو آئے دن مجالس ہوتی رہتی ہیں۔ میلاد بھی ہوتے ہیں۔ لوگ سارا سال نوحے سنتے ہیں۔ کربلا کی نسبتیں اور شیعہ محاورے بول چال کا حصہ ہیں۔ کسی متعصب غیر شیعہ کے لیے ایسے محلے میں

Read more

میرے بچپن کا محرم

محرم کے پہلے عشرے میں خانیوال کے مرکزی امام بارگاہ سے دو جلوس برآمد ہوتے ہیں۔ ایک چھٹی محرم کو اور دوسرا یوم عاشور۔ آج چھٹی محرم ہے۔ مجھے اپنے بچپن کا خانیوال یاد آ رہا ہے۔ میں ماضی میں جھانکنے کی کوشش کررہا ہوں۔ میری بچپن میں محرم آتے ہی دادی اماں کے گھر میں چارپائیاں الٹی کردی جاتی تھیں۔ ایسا اس وقت کیا جاتا تھا جب گھر میں کوئی موت ہوجائے۔ امام حسین کا سوگ ہمارے گھر کا سوگ

Read more

کیتھ صاحب کی ظالم ترک گرل فرینڈ

”تمھیں دیکھ کر مجھے اپنی سابق گرل فرینڈ یاد آ گئی۔“ کیتھ صاحب نے گلوگیر لہجے میں کہا۔
میں گھبرا گیا۔ اسٹیئرنگ پر جمے ہاتھ کپکپا گئے۔ گاڑی لہرا گئی۔
”جس شام زیادہ پی لوں تو سر چکرانے لگتا ہے۔“ کیتھ صاحب بڑبڑائے۔
”کیا آپ کی گرل فرینڈ بھی میری طرح ادھیڑ عمر تھی، بال سفید تھے اور اوبر چلاتی تھی؟“ میں نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔

Read more

علم کا طالب، کتابوں کا جوہری

ٹیلی وژن اور صحافت میں طویل عرصہ کام کرنے کی وجہ سے میں بتا سکتا ہوں کہ بہت سے لوگ آن اسکرین کچھ اور ہوتے ہیں اور آف اسکرین کچھ اور۔ عوامی زندگی میں کچھ اور، ذاتی زندگی میں کچھ اور۔ منبر پر کچھ تو نجی محفل میں کچھ اور۔

علامہ طالب جوہری کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں لیکن کسی رخ میں تصنع نہیں تھا۔ جیسی گفتگو مجلس کے خطاب میں کرتے تھے، ویسی ہی ٹیلی وژن کی تقریر میں۔ جو موقف عوام کے سامنے ہوتا تھا، وہی حکام کے سامنے۔ جس انداز سے علما سے مخاطب ہوتے تھے، اسی طرح مجھ جیسے طالب علم کے سامنے۔
علامہ صاحب کا روپ ایک ہی تھا لیکن میں نے انہیں مختلف زمانوں میں مختلف نگاہوں سے دیکھا۔

Read more

آصف فرخی: دھوکے کھانے والا آدمی

ڈاکٹر آصف فرخی دسمبر میں واشنگٹن آئے تو تین چار دن ہم نے ساتھ گزارے۔ انھوں نے وائس آف امریکہ کے دفتر کا دورہ کیا اور میں نے انھیں کتابوں کی کئی اچھی دکانیں دکھائیں۔

انھوں نے درجن بھر کتابیں خریدیں اور مجھے ان کی پسند کا اندازہ ہوا۔ بلکہ سمجھ میں آیا کہ عالمی فکشن کی کتابوں کا انتخاب کیسے کیا جائے۔

میں نے انھیں چینی ادیب یان لیانکے کا ناولا میرو پیش کیا۔ وہ انھوں نے ایک رات میں پڑھ لیا اور بہت خوش ہوئے۔ وہ پاکستان جا کر اس کا ترجمہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ آصف بھائی 2013 میں یان لیانکے سے مل چکے تھے جو مین بکر کی تقریب کے لیے وہاں آئے ہوئے تھے۔

Read more

انصار نقوی – چند یادیں چند باتیں

جیو نیوز کے ابتدائی دنوں میں میرا کام اسپورٹس پروگرام کے اسکرپٹ لکھنا تھا۔ ایک دن مجھے ایک نیا آئیڈیا سوجھا کہ کراچی کے اہم مقامات اور دلچسپ چیزوں پر پروگرام شروع کرنا چاہیے۔ میں نے پورا اسکرپٹ لکھ کر انصار بھائی کو دکھایا کیونکہ میں نے انھیں اس پروگرام کا میزبان تجویز کیا تھا۔

وہ آئیڈیا منظور نہیں کیا گیا کیونکہ اظہر عباس صاحب سمجھتے تھے کہ انصار بھائی کو نیوز روم منیجمنٹ کے سوا کوئی اور کام نہیں کرنا چاہیے۔ اس پروگرام کے ابتدائیے کے ایک جملے پر انصار بھائی نے مجھے داد دی تھی: مہاجروں کے شہر میں، میں ہوں آپ کا میزبان انصار!

Read more

علامہ ضمیر اختر نقوی امریکہ میں

علامہ صاحب قالین پر نیم دراز تھے۔ مجھے دیکھ کر انھوں نے اٹھنے کی کوشش کی۔ میں نے جلدی سے آگے بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر درخواست کی کہ مت اٹھیں۔ میں وہیں ان کے قریب بیٹھ گیا۔
”کیا رات کو مجلس پڑھتے ہی شکاگو چلے جائیں گے؟ “ میں نے پوچھا۔
”نہیں، صبح کی پرواز ہے۔ “ علامہ صاحب نے بتایا۔

Read more

احفاظ الرحمان مرحوم: کچھ یادیں کچھ باتیں

احفاظ صاحب غصے کے تیز تھے۔ گلا پھاڑ کے ڈانٹتے تو سامنے والے کی بھی ہوائیاں اڑ جاتی تھیں۔ مالکان اسی لیے ان کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے۔ مجھے سینئرز سے ڈانٹ سننے کا شوق تھا۔ ڈانٹ میں سبق چھپا ہوتا ہے۔ اچھے سینئر بھی ملے جو غلطی پر ڈانٹتے تھے۔ اور ایسے فنکار بھی دیکھے جو خواہ مخواہ ڈانٹنے کا بہانہ ڈھونڈتے تھے۔ یہ بات کم لوگوں کو سمجھ آتی ہے کہ غلطی پر سمجھانے والے کا قد

Read more

انکل جوش کی لائبریری

گزشتہ رات طبیعت خراب تھی۔ گلے میں تکلیف تھی، بخار ہوا اور آنکھوں میں درد۔ صبح کو ڈاکٹر کے پاس گیا۔ اُس نے بخار کی دوا تو دی لیکن کہا کہ آنکھوں کے درد کا علاج آنکھوں کا ڈاکٹر کرے گا۔ آئی اسپیشلسٹ نے کہا، ’’تمھاری آنکھیں خشک ہیں۔ تھوڑی بہت نہیں، بے حساب خشک۔ میاں، کیا پتھر دل ہو؟ اِس قوم کا حال دیکھ کر رونا نہیں آتا؟ کبھی جھوٹ موٹ ہی رولیا کرو۔‘‘ پھر اُس نے مصنوعی آنسوؤں

Read more

میڈیا کا بحران اور دل کے دورے

فصیح الرحمان موجودہ حکومت کے آنے کے بعد جواں عمری میں انتقال کرنے والے پہلے میڈیا کارکن نہیں۔ چند دن پہلے سٹی 42 کے کیمرا مین رضوان ملک ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گئے تھے۔ ان کی شادی کو صرف ڈیڑھ ماہ ہوا تھا جب کہ انھیں کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی۔ ان سے ایک ماہ پہلے کیپٹل ٹی وی کے کیمرا مین فیاض علی ذہنی دباؤ کے باعث چل بسے تھے۔ وہ دس ماہ تک تنخواہ کے بغیر کام کرتے رہے جس کے بعد انھیں واجبات ادا کیے بغیر نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔ ان سے پہلے نومبر میں نیوز ون کے کرائم رپورٹر شیخ محمد عرفان کو دل کا دورہ پڑا اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ وہ سات ماہ سے تنخواہ سے محروم تھے۔

Read more

پیاسی زندگی، ادھورے خواب

میرا دماغ کچھ ایسی مشکل کا شکار ہے کہ ساری رات خواب دکھاتا ہے۔ عجیب عجیب خواب۔ عموماً ان میں تسلسل ہوتا ہے۔ میں قید خانے میں ہوں۔ پتھر کی دیواریں ہیں یا فولادی سلاخوں کا دروازہ۔ شاہی اہلکار کا ایک دستہ مجھے لینے آتا ہے۔ میں خوف زدہ ہوجاتا ہوں۔ کیا مجھے سزائے موت کے لیے لے جارہے ہیں؟ لیکن مجھے شاہی محل میں پہنچادیا جاتا ہے۔ اس محل میں سب بے لباس ہیں۔ مرد بھی اور عورتیں بھی۔ بادشاہ بھی اور غلام بھی۔ ایک لڑکی کو دیکھ کر میرے دل میں محبت کے جذبات امڈتے ہیں۔ اچانک کوئی مجھے دیوان خانے کے بیچ میں موجود تالاب میں دھکا دے دیتا ہے۔ مجھے تیرنا نہیں آتا۔ پانی میرے منہ اور ناک میں گھس جاتا ہے۔ میرا سانس رکنے لگتا ہے۔ میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

Read more

انچولی کی بیٹھکیں

انچولی بیٹھکوں والا محلہ ہے۔ ہر سڑک اور ہر دوسری گلی میں بیٹھک جمتی ہے۔ ان میں بیٹھنے والے لوگ روزانہ کی بنیاد پر آتے ہیں۔ سیاست، کھیل، عزاداری، محلے داروں کا حال احوال، یہ ان کے موضوعات ہوتے ہیں۔ ہر بیٹھک میں ایک دو جملے باز اور ایک دو دھر ضرور ہوتے ہیں۔ دھر یعنی تختہ مشق ستم۔ جس کا زیادہ ریکارڈ لگایا جائے۔ مجھے کئی بیٹھکیں یاد ہیں۔ رشید ترابی پارک کے سامنے عالم شاہ جی کے گھر

Read more

رات، اندھیرا اور سفر

سمندر پر جانا مجھے پسند نہیں۔ جھیلیں اچھی لگتی ہیں۔ خاموش اور پرسکون۔ کراچی میں تہائی صدی رہنے کے باوجود بہت کم ساحل پر جانا ہوا۔ سی ویو پر سمندر کی ہیبت طاری ہوجاتی تھی۔ بہت عرصے بعد کل دوبارہ سمندر دیکھا۔ کراچی میں اس کا نام بحیرہ عرب تھا۔ یہاں اسے بحر اوقیانوس کہتے ہیں۔ کراچی کے ساحل پر سمندر زیادہ شور نہیں مچاتا۔ ڈیلاوئیر کا پڑوسی سمندر غصیلا ہے۔ درندے کی طرح چنگھاڑتا ہے۔ نصف شب کو اس

Read more

علامہ ضمیر اختر نقوی سے خصوصی گفتگو

علامہ ضمیر اختر نقوی کی بنیادی شناخت عالم دین کی ہے لیکن وہ زباں داں اور ادیب بھی ہیں۔ ان کے کتب خانے میں ہزاروں کتابیں اور مخطوطے ہیں۔ ممتاز مرثیہ نگار اور محقق ڈاکٹر ہلال نقوی کا خیال ہے کہ علامہ صاحب سے زیادہ مراثی کا ذخیرہ کسی کے ذاتی خزانے میں نہیں ہوگا۔ علامہ صاحب گزشتہ دنوں واشنگٹن آئے تو ہم نے مرثیے پر ان کے کام سے متعلق گفتگو کی۔ سوال: آپ ہر سال کئی کتابیں مرتب

Read more

سو بچوں سے زیادتی اور قتل کا مجرم جسے پولیس نے چھوڑ دیا

بیس سال پہلے ایک شخص ڈی آئی جی لاہور کے دفتر میں داخل ہوا اور دعویٰ کیا کہ اس نے بہت سے بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا ہے۔ پولیس حکام سمجھے کہ وہ شخص پاگل ہے اور اسے ڈانٹ ڈپٹ کر کے دفتر سے نکال دیا۔

اس شخص نے گھر جا کر ایک طویل خط لکھا اور روزنامہ جنگ لاہور کو بھیج دیا۔ خط میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے اعتراف کے علاوہ 74 بچوں کی تصاویر بھی تھیں۔

Read more

انچولی کے فنگر باؤلر اور بہاری وکٹ کیپر

ہم کراچی منتقل ہوئے تو رشتے دار بہت تھے لیکن میرا ہم عمر کوئی نہیں تھا۔ کزن کئی کئی سال بڑے تھے یا چھوٹے۔ مجھے محلے میں دوست بنانے میں مشکل پیش آئی۔ اظہار خالو کے بیٹے کاشف مدد کو آئے۔ وہ شام کو اپنے دوستوں کے ساتھ میدان میں کرکٹ کھیلتے تھے۔ انھوں نے مجھے ساتھ کھلانا شروع کردیا۔ اس وقت تک مجھے کرکٹ کا زیادہ شوق نہیں تھا۔ بولنگ کراتے ہوئے بازو نہیں گھومتا تھا۔ بیٹنگ آتی تو

Read more

انچولی کے کھوکھے

انچولی میں سب سے پہلے ہمارا قیام جس مکان میں رہا، اس کے قریب ترین پرچون کی دکان خالو اظہار کی تھی۔ ان کا نام مجھے بہت عرصے بعد معلوم ہوا۔ اس وقت وہ صرف خالو تھے۔ ان کی دکان کے باہر ایک تھڑا تھا جو پتا نہیں پہلے سے تھا یا انھوں نے بنوایا۔ اس پر خالو کے دوست آکر بیٹھ جاتے۔ ہمارے بابا بھی اکثر وہیں پائے جاتے۔ بابا کی اظہار خالو سے دوستی کی وجہ سے ان کی تینوں بیٹے بھائیوں کی طرح میرا خیال کرنے لگے۔ میں اگلی تحریر میں ارشاد بھائی، کاشف بھائی اور گڈو کا ذکر کروں گا۔

Read more

انچولی کے چند عجیب و غریب لوگ

انچولی میں شاعر ادیب، دانشور اور علما ہی نہیں، عجیب و غریب لوگ بھی رہتے تھے۔ دوسرے علاقوں کی انوکھی شخصیات بھی وقتاً فوقتاً یہاں حاضری دیتی تھیں۔ میں نے اپنے لڑکپن میں ایسے لوگوں کو انچولی میں گشت کرتے دیکھا ہے۔ ایک کردار ہارمونیم والا ملنگ تھا۔ دبلا پتلا، منحنی سا۔ کھچڑی بال۔ ملگجا کوٹ پینٹ پہنے رہتا تھا۔ گلے میں ہارمونیم کا پٹا ڈال کر اس بھاری ساز کو اٹھائے پھرتا تھا۔ ذہنی حالت ٹھیک نہیں لگتی تھی۔

Read more

پپو بھائی انچولی والے

گزشتہ اتوار کو آٹھویں محرم تھی۔ میں نیویارک گیا تھا جہاں عشرہ محرم کا مرکزی جلوس برآمد ہوا تھا۔ یہ ہر سال عاشور سے پہلے والے اتوار کو مین ہٹن کی پارک ایونیو پر نکلتا ہے۔ چار گھنٹے جاتے ہوئے کی ڈرائیو اور چار گھنٹے کی واپسی۔ جلوس میں بھی فون پر پیغامات نہیں دیکھ سکا۔ گھر آکر دیکھا کہ کسی نے قائم بھائی کے لیے دعا کی درخواست کی تھی۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔ پاکستان میں صبح کے چار بجے تھے۔ کسی کو فون نہیں کرسکتا تھا۔ الجھن میں گرفتار رہا کہ بیوی کو بتاؤں یا نہ بتاؤں۔

ایسا ہی میسج کربلا میں موجود میرے کزن تہور بھائی کو بھی پہنچا۔ اس میں مرحوم کی بلندی درجات کی بات کی گئی تھی۔ وہ ان کی بیوی نے دیکھ لیا۔ تہور بھائی، قائم بھائی اور میں، ہم تینوں ہم زلف ہیں۔ کربلا میں رونا پیٹنا مچ گیا۔ پورا قافلہ تہور بھائی کے گرد جمع ہوگیا۔ بہن کی ہچکیاں بند گئیں۔ انھوں نے فوراً پاکستان واپسی کا مطالبہ کیا۔ قافلے کے منتظم پریشان ہوگئے۔ لاکھوں لوگ کربلا آرہے تھے۔ جانے کا انتظام کرنا ممکن نہ تھا۔

Read more

شاید میں آپ کو سمجھا نہ سکا

بارگاہ شہدائے کربلا کراچی کے بڑے امام باڑوں میں سے ایک ہے۔ یہ انچولی کی مسجد خیر العمل کے احاطے میں قائم ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 1985 میں جب ہم کراچی آئے تو یہ موجود نہیں تھا۔ مسجد کا ہال چھوٹا تھا۔ روضہ امام حسین کی شبیہہ بہت بعد میں بنی۔ آج وہ شبیہہ جس مقام پر ہے، اُس سال وہاں شامیانہ لگا کر محرم کی مجلسوں کا انتظام کیا گیا۔ آپ پرانا کیلنڈر دیکھ کر حیران ہوں گی

Read more

انچولی کا محرم اور مجالس

آپ انچولی میں ایک سال محرم کرلیں۔ اس کے بعد نجف جائیں، کربلا جائیں، مشہد جائیں، دمشق جائیں، آپ کو اجنبیت کا احساس نہیں ہوگا۔ انسانوں کے دل میں ایک جیسے جذبات ہوں تو شہروں کی فضا بھی ایک جیسی ہوجاتی ہے۔

Read more

انچولی کا بہت بڑا ڈراما

انچولی کی تنگ گلیوں میں ایک شخص فل اسپیڈ سے ہونڈا ففٹی بھگاتا پھرتا تھا۔ پچاس پچپن سال عمر ہوگی۔ چہرے پر سنجیدگی لیکن حرکتیں شرارتی لڑکوں والی تھیں۔ کسی دوست کے بالکل سامنے جاکر ففٹی لہرا دی۔ کسی واقف کے بالکل قریب ہارڈ بریک لگاکر ڈرادیا۔ کسی راہ چلتے لنگوٹیے یار کو کہنی مار دی۔ لوگ بازو سہلاتے ہوئے کہتے، یار یہ نذر بہت بڑا ڈراما ہے۔

Read more

امریکا میں نوحہ خوانی

امریکا میں ہمارا یہ دوسرا محرم ہے۔ بلکہ مجھے تیسرا کہنا چاہیے۔ 2017 میں دس دن کے لیے آیا تھا تو محرم ہی کے دن تھے۔ ہیوسٹن میں میرے ماموں زاد بھائی تصور حسنین رات کو مجھے مجلس میں لے گئے۔ ہیوسٹن میں بے شمار کراچی والے رہتے ہیں۔ بلکہ امروہے والے بھی۔ انچولی کے فہیم بھائی اور حسین جری ملے۔ دوسرے شہروں کے کئی لوگ پہچان گئے۔ سوشل میڈیا پر گالیاں کھانے والوں کی صورت سب یاد رکھتے ہیں۔

Read more

شاہ است حسین، بادشاہ است حسین

خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی ایک رباعی محرم میں بہت لوگ پڑھتے اور لکھتے ہیں لیکن شاید اس کا درست مطلب کم لوگوں کو معلوم ہے۔ شاہ است حسین، بادشاہ است حسین دین است حسین، دین پناہ است حسین سر داد، نداد دست درِ دست یزید حقا کہ بنائے لا الہ است حسین کسی زبان میں کوئی سے بھی دو الفاظ ہم معنی نہیں ہوتے۔ شاہ کا مطلب ہے روحوں کا مالک۔ بادشاہ کا مطلب ہے جسموں کا مالک۔

Read more

نینی! یار یہ کیا بات ہوئی؟

جیونیوز میں ہر دوسری شام ایک خاتون میرے پاس آکر پوچھتی تھیں، ”مبشر، میں نے ایک رپورٹ بنائی ہے۔ آپ بلیٹن میں شامل کرلیں گے نا؟ “ میں روکھے لہجے میں کہتا، ”معذرت چاہتا ہوں۔ بلیٹن میں بالکل جگہ نہیں ہے۔ اگلے مہینے کی ستائیس تاریخ کو لگا دوں گا۔ “

وہ روہانسی سی ہوجائیں۔ میرا نام کھینچ کر لیتیں اور کہتیں، ”تب تک تو رپورٹ چلنے کے قابل نہیں رہے گی مبش شی ی ی ی یر۔ “ پھر ہم دونوں ہنس پڑتے۔ وہ جانتی تھیں کہ میں ان کی رپورٹ کو بلیٹن میں شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔

Read more

اگر پارلیمان اور عدلیہ آزاد نہیں تو میڈیا کیسے آزاد ہو گا؟ حامد میر

(انٹرویو: مبشر علی زیدی، وائس آف امریکہ) وائس آف امریکہ نے گزشتہ سال پاکستان میں آزادی صحافت کے موضوع پر انٹرویوز کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ سینئر صحافیوں نے بتایا کہ ملک میں سینسرشپ جیسی صورت حال ہے جب کہ کئی تجزیہ کاروں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ موجودہ حکومت کا ایک سال مکمل ہونے والا ہے۔ اس موقع پر سیاست اور معیشت کے ساتھ صحافت کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔ وائس آف امریکہ ایک

Read more

سیمی فائنل کوہ ہمالیہ کی دوسری طرف ہے

دفاعی چیمپین آسٹریلیا، میزبان انگلینڈ اور عالمی رینکنگ میں ٹاپ ٹیم بھارت کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچ چکی ہیں۔ چوتھی ٹیم نیوزی لینڈ کے نام کا اعلان اس لیے نہیں کیا جا رہا کیونکہ پاکستان کے پاس ایک موقع باقی ہے۔ لیکن یہ موقع ایسا ہے جیسے میراتھان جیتنے کے لیے راستے میں کوہ ہمالیہ کو عبور کرنا ہو۔

پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میں اپنا آخری میچ جمعہ کو بنگلادیش کے خلاف لارڈز میں کھیل رہی ہے۔ پاکستان کے 8 میچوں میں 9 پوائنٹس ہیں اور میچ جیت کر نیوزی لینڈ کے مساوی یعنی 11 پوائنٹس ہو جائیں گے۔ لیکن نیوزی لینڈ کا نیٹ رن ریٹ پاکستان سے بہت بہتر ہے۔

Read more

صدر کے خلاف سکینڈل اور تحقیقاتی صحافی

کیا آپ نے باب ووڈورڈ اور کارل برنسٹین کی کتاب آل دا پریزیڈنٹس مین پڑھی ہے؟ یا اس پر بنائی گئی فلم دیکھی ہے؟ صحافیوں، خاص طور پر رپورٹرز کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

میں نے کئی سال پہلے کتاب پڑھی تھی لیکن فلم چند دن پہلے دیکھی ہے۔ اس میں باب ووڈورڈ کا کردار رابرٹ ریڈفورڈ نے ادا کیا ہے۔ یہ شخص کیا کمال کا اداکار ہے! ریڈفورڈ نے فلم انڈیسینٹ پروپوزل میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ ریڈفورڈ فلمساز بھی ہیں اور انھوں نے ہی 1974 میں کتاب آل دا پریزیڈنٹس کے حقوق خریدے تھے۔

Read more

شمالی ورجینیا میں میرا قصبہ کیسا ہے؟

میں شمالی ورجینیا کے جس قصبے میں رہتا ہوں، اس میں ہر طرف ہریالی ہے۔ گھر کے چاروں طرف اتنے اور ایسے اونچے اونچے درخت ہیں کہ جنگل کا گمان ہوتا ہے۔ سڑکوں کے اطراف گھاس کے قطعات اور رنگ برنگے پھول نظر آتے ہیں۔

ہر گلی محلے میں دکان نہیں ہوتی۔ کمرشل ایریا مخصوص ہیں جہاں رہائش نہیں ہوتی۔ شمالی ورجینیا میں ایسے ہر مقام پر مفت بے حساب پارکنگ دستیاب ہوتی ہے۔
آٹے دال اور دوا سمیت ہر شے خالص ملتی ہے۔ کھانے پینے کے ہر آئٹم پر استعمال کی آخری تاریخ درج ہوتی ہے۔ مسلمان دکانوں کے علاوہ دوسرے سوپر اسٹورز بھی حلال گوشت مل جاتا ہے۔

نہ کوئی فون چھینتا ہے، نہ گاڑی چوری ہوتی ہے، نہ کبھی کوئی پولیس والا دکھائی دیا۔ ڈاکیا گھر کے باہر کتابوں کے پیکٹ رکھ جاتا ہے۔ کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔ شراب ہر اسٹور میں بکتی ہے لیکن آج تک کسی کو نشے میں دھت نہیں دیکھا۔

Read more

میں نے اس کا نام مون کیوں رکھا تھا؟

میں اس سے پہلے قائداعظم پبلک اسکول میں پڑھتا تھا جو خانیوال کا پہلا انگلش میڈیم اسکول تھا۔ شہر میں کوئی انگلش میڈیم ہائی اسکول نہیں تھا۔ چھٹی جماعت میں داخلے کے لیے صرف تین آپشن تھے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول، اسلامیہ ہائی اسکول اور کمیٹی اسکول جو صرف مڈل تک تھا۔ میرے بیشتر کلاس فیلوز نے گورنمنٹ ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔

مون کا اصل نام وقار امین تھا۔ وہ ڈاکٹر امین کا چھوٹا بیٹا تھا۔ ڈاکٹر امین میرے بڑے ماموں کے کلاس فیلو اور گہرے دوست تھے۔ ان کے بڑے بیٹے فہیم میرے ماموں زاد تہور بھائی کے کلاس فیلو تھے۔ مون نے پانچویں سرسید پبلک اسکول سے پاس کی تھی۔

Read more

جاوید بھٹو: ایک ضیافت جس کا افسوس رہے گا

کاش میں نے اس دعوت میں جانے سے معذرت کرلی ہوتی۔ میں عام طور پر دعوتوں میں نہیں جاتا۔ محفلوں میں شرکت نہیں کرتا۔ تقریبات میں شریک ہونے سے گھبراتا ہوں۔ پاکستان میں جھجک ختم ہوگئی تھی لیکن واشنگٹن آنے کے بعد پھر وہی حال ہوگیا ہے۔ کوئی مدعو کرتا ہے تو بہانے بناتا ہوں۔ خیالی مصروفیات بیان کرتا ہوں۔ شکریہ ادا کرکے معذرت کرلیتا ہوں۔ کاش میں نے اس دعوت میں جانے سے بھی معذرت کر لی ہوتی۔ کبھی

Read more

لائف از بیوٹی فل اور یہودی

ایک عام پاکستانی ہرگز اندازہ نہیں کرسکتا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں پر کیا بیتی۔ کتابوں میں کچھ واقعات پڑھنے اور فلمیں دیکھنے سے احساس کیا جاسکتا ہے، مکمل تصویر ہمارے سامنے نہیں آتی۔ فلسطین، کشمیر اور برما میں مسلمانوں پر ظلم کیا جارہا ہے لیکن اس کا موازنہ ہولوکاسٹ سے نہیں کیا جاسکتا۔

یورپ میں یہودیوں کی آبادی 1941 میں 90 لاکھ تھی۔ دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو 30 لاکھ یہودی باقی بچے تھے۔ دو تہائی یہودی نوجوان، بزرگ، خواتین، بچے مارے جاچکے تھے۔ کسی قوم کی کبھی ایسی نسل کشی نہیں کی گئی۔ روانڈا کے قتل عام میں کچھ جھلک دیکھی جاسکتی ہے جہاں 100 دن میں ایک قبیلے کے دس لاکھ افراد مار دیے گئے تھے۔

Read more

دماغ کا دہی بنایا یا دہی بنائی؟

وائس آف امریکہ کے واشنگٹن آفس میں جمعرات کو حلیم کی دعوت ہوئی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ آج ہم نے حلیم کھایا۔ کچھ نے کہا، حلیم کھائی۔ کراچی اور پنجاب کے صحافیوں میں خوب بحث ہوئی۔ ایک صاحب کا تعلق نہ کراچی سے تھا اور نہ پنجاب سے۔ انھوں نے فرمایا کہ یہ بحث کر کے آپ لوگوں نے دماغ کا دہی بنا دیا۔

اس کے بعد نئی بحث شروع ہوئی کہ دہی ہوتا ہے یا ہوتی ہے۔ اس بحث میں پستول ہوتا ہے، پستول ہوتی ہے، ٹکٹ ہوتا ہے، ٹکٹ ہوتی ہے، تار ہوتا ہے، تار ہوتی ہے اور فوٹو ہوتا ہے، فوٹو ہوتی ہے جیسے مسائل بھی سامنے آئے۔

Read more

میں امریکہ میں چودھری کیسے بنا؟

پرسوں رات سے بادل برس رہے ہیں۔ آغاز ڈھائی تین گھنٹے کی برفباری سے ہوا۔ اس کے بعد سے موسلادھار بارش ہورہی ہے۔ مزید پندرہ سترہ گھنٹے کی پیش گوئی ہے۔ سردی ہے لیکن قابل برداشت۔ درجہ حرارت صفر اور دس کے درمیان رہے تو مناسب ہے۔ صفر سے نیچے سسکیاں، منفی پانچ کے بعد کراہیں اور ساتھ میں ہوا چلے تو چیخیں نکلنے لگتی ہیں۔

منہ اندھیرے کار چلانا کوئی مسئلہ نہیں لیکن اندھیرا اور بارش ہو تو گڑبڑ ہوجاتی ہے۔ سڑک پر سفید لائنیں نظر نہیں آتیں۔ پتا نہین چلتا کہ کون سی لین میں ہوں۔ شکر ہے کہ میٹرو اسٹیشن بہت دور نہیں۔ کار وہاں پارک کرکے ٹرین میں دفتر جاتا ہوں۔

زندگی کا بیشتر حصہ شام کو کام، رات بھر جاگ کر مطالعہ کرنے اور منہ اندھیرے سونے والے شخص کا رات کو اول وقت سونا اور منہ اندھیرے گھر سے نکلنا کتنا عجیب واقعہ ہے، آپ نہیں جانتے۔ سچ یہ ہے کہ صبح کو اندھا بھینسا بنا ہوا ہوتا ہوں۔ ٹرین میں بیٹھتے ہی سو جاتا ہوں۔ آدھے گھنٹے میں منزل آجاتی ہے۔ میں سوتا رہ جاتا ہوں۔ کئی بار آخری اسٹیشن پر پہنچ کر آنکھ کھلی۔ لیکن کوئی فکر کی بات نہیں۔ وہی ٹرین واپس چل پڑتی ہے۔ میں کچھ تاخیر سے دفتر پہنچ جاتا ہوں۔

Read more

مبشر بھائی موقع ملتے ہی ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے

مبشر بھائی خانیوال میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔ بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد والد کی طرح بینک میں ملازم ہوگئے۔ تحریک جعفریہ سے وابستہ رہے۔ نوے کی دہائی میں خانیوال میں فرقہ وارانہ قتل کی واردات میں مارے گئے۔
۔
مبشر بھائی خانیوال میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔ بورڈ میں اوّل پوزیشن آئی۔ والد کی خواہش پر ڈاکٹری پڑھی۔ کراچی شفٹ ہونے کے بعد اپنا کلینک کھولا۔ ٹارگٹ کلنگ کی واردات میں مارے گئے۔

Read more

خانیوال کے دکاندار سے امریکہ کی سوپر مارکیٹ تک

جب میں چار پانچ سال کا ہوا تو ہم لوگ خانیوال کے بلاک گیارہ سے بلاک چودہ منتقل ہوگئے۔ بلاک گیارہ میں ہمارا قیام دادی اماں کے ساتھ تھا جو امام بارگاہ کے احاطے میں موجود مکان میں رہتی تھیں۔ اس مکان میں پھپھو اور چچا بھی ان کے ساتھ تھے۔

میں اور بچوں کی طرح بچپن میں چیز کو چجی کہتا تھا۔ چاچا چجی کا نعرہ لگاتا تو چچا عزادار مجھے نیک محمد کی دکان پر لے جاتے اور ٹافی یا مرونڈا یا لولی پوپ دلاتے۔ پرچون کی وہ دکان اہلحدیث مسجد کی بیرونی جانب تھی۔ ادھیڑ عمر نیک محمد دروازے کے ساتھ چوکی پر بیٹھے رہتے تھے۔ سفید قمیص اور چوخانے والی لنگی پہنتے اور بالوں میں خضاب یا مہندی لگاتے۔ داڑھی بھی تھی۔

میں 2009 میں خانیوال گیا تو امام بارگاہ میں حاضری کے بعد مجھے خیال آیا کہ نیک محمد کی دکان کا حال دیکھوں۔ بے اختیار اس جانب قدم اٹھ گئے۔ یہ دیکھ کر میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ نیک محمد تیس سال بعد بھی اسی طرح دروازے کے ساتھ چوکی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ سفید قمیص اور چوخانے والی لنگی باندھی ہوئی تھی۔ بالوں میں خضاب لگا ہوا تھا۔ داڑھی بھی ویسی ہی تھی۔

Read more

ثاقب نثار متنازع اور ناکام چیف جسٹس کے طور پر ریٹائر ہوئے: علی احمد کرد

علی احمد کرد پاکستان کے ان ممتاز وکلا میں سے ایک ہیں جو لگی لپٹی رکھے بغیر صاف صاف بات کرتے ہیں۔ وہ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر ہیں اور عدلیہ بحالی تحریک میں پیش پیش رہے۔ لیکن جب تحریک کامیاب ہوگئی اور معزول جج واپس عدالت میں آکر بیٹھ گئے تو چند دن بعد علی احمد کرد نے کہا کہ عدالتوں میں فرعون بیٹھے ہیں۔ حق بات کہنا اور اس پر ڈٹ جانا کرد صاحب کا امتیاز ہے۔

Read more

ادبی میلوں کو وسعت اور تنوع فراہم کرنے کا وقت آگیا: ڈاکٹر آصف فرخی

ڈاکٹر آصف فرخی اور امینہ سید کراچی لٹریچر فیسٹول کے بانی ڈائریکٹر تھے۔ نو سال تک ان کی زیر نگرانی پورے شان و شوکت سے جشن ادب منایا جاتا رہا۔ لیکن اب دونوں اس فیسٹول سے الگ ہوگئے ہیں اور آئندہ ماہ ایک نیا ادبی میلہ شروع کرنے والے ہیں۔ ’وائس آف امریکا‘ نے ڈاکٹر آصف فرخی سے ادبی میلے، ان کے جریدے اور کتابوں کے بارے میں گفتگو کی۔ سوال: کراچی لٹریچر فیسٹول آپ نے شروع کیا۔ نو سال

Read more

یونیورسٹیوں کا شہر بوسٹن

بوسٹن کامن شہر کے مرکز میں واقع ہے۔ یہ پچاس ایکڑ رقبے پر پھیلے پارک کا نام ہے۔ اس میں بہت سے درخت ہیں۔ گھاس کے قطعے ہیں۔ کئی مجسمے بھی نصب ہیں۔ فروگ پونڈ یعنی مینڈک کا تالاب ہے جو ان دنوں جما ہوا ہے اور بچے اس پر اسکیٹنگ کرتے ہیں۔ زیر زمین پارکنگ کا انتظام ہے۔ ہم نے اپنی گاڑی وہیں پارک کی۔ پھر پارکنگ فیس سن کر ہوش اڑ گئے۔ ایک گھنٹے کے بارہ ڈالر۔

بوسٹن کامن ہر اعتبار سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بوسٹن میں پہلے یورپی آبادکار ولیم بلیکسٹن کی ملکیت رہا۔ کسی زمانے میں قابض برطانوی افواج نے یہاں کیمپ قائم کیا تھا۔ اس میں باغیوں کو پھانسیاں دی جاتی رہیں۔ یہاں بڑے بڑے احتجاج ہوئے۔ اس کی تاریخ میں لکھا ہے کہ جنگ ویت نام کے خلاف مظاہرے میں بینظیر بھٹو بھی شریک ہوئیں۔

بوسٹن کامن کو نشتر پارک سمجھیں۔ آج بھی کسی نے جلسہ کرنا ہو تو یہاں کا رخ کرتا ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ جونئیر، پوپ جان پال اور میخائل گورباچوف یہاں لاکھوں لوگوں سے خطاب کرچکے ہیں۔ یہ یادگار کنسرٹس کا میزبان بھی رہا ہے۔

Read more

بوسٹن کی امریکی فوجن اور جنگی جہاز

بوسٹن میں ہفتے کی صبح بارش ہورہی تھی۔ تھوڑی سی نہیں، اچھی خاصی بارش۔ لیکن ہم اپنی چھتریاں ساتھ لائے تھے۔ گاڑی میں بیٹھے اور ساحل کا رخ کیا تاکہ امریکا کی انوکھی تاریخ کا مشاہدہ کریں۔

بوسٹن میں فریڈم ٹریل کا آغاز بوسٹن کامن پارک سے ہوتا ہے اور یہ ڈھائی میل دور سمندر کے کنارے تک جاتی ہے جہاں ڈھائی سو سال پرانا جنگی جہاز لنگرانداز ہے۔ اس کا نام یو ایس ایس کونسٹی ٹیوشن ہے۔ یہ دنیا کا سب سے قدیم بحری جہاز ہے جو ابھی تک سفر کے قابل ہے۔ یہ 1797 میں بنایا گیا اور 1881 میں ریٹائر ہوگیا۔ لیکن قسمت اچھی تھی کہ اسکریپ نہیں کیا گیا۔ 1907 سے اسے میوزیم کا درجہ حاصل ہے۔

Read more

امریکی یونیورسٹیاں – ہارورڈ یونیورسٹی کی زیارت

نیو ہیون سے بوسٹن ڈھائی گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ بوسٹن میں ہمارا کمرا بک تھا۔ رات ہوچکی تھی اور میں بھی آٹھ نو گھنٹے ڈرائیو کرکے تھک چکا تھا اس لیے بستر پر گرگے سوگیا۔ بیوی بچے پتا نہیں جاگتے رہے یا جلدی سوئے۔

علی الصباح ہماری آنکھ کھل گئی۔ سب نیا شہر دیکھنے کے لیے بے چین تھے۔ ناشتہ کرکے ہم نکلے اور پورا بوسٹن چھوڑ کے سیدھے کیمبرج جاپہنچے۔ انگلینڈ کے علاقے کیمبرج کی یونیورسٹی پوری دنیا میں مشہور ہے۔ انگلینڈ والوں نے بوسٹن کے جس علاقے کو اعلی تعلیمی اداروں کے لیے چنا، اس کا نام بھی کیمبرج رکھا۔

Read more

امریکی یونیورسٹیاں – ییل یونیورسٹی کی یاترا

گاڑی ہماری پرانی سی ہے۔ امریکا کے حساب سے کافی پرانی۔ دو ہزار سات کی ٹویوٹا کیمری۔ لیکن بھاگتی خوب ہے۔ ہمیں کینیڈا تک لے جاچکی ہے۔ امریکا کی سڑکیں بھی اچھی ہیں۔ ان پر اینٹ روڑے، کیلیں، گڑھے اور اسپیڈبریکر نہیں ہوتے۔ مزے سے گاڑی دوڑائیں۔

بچوں کی دو ہفتے کی چھٹیاں تھیں، کرسمس اور ہیپی نیو ائیر کے نام پر۔ وہ ختم ہونے کو آرہی تھیں۔ وہ گھر سے نکلنا چاہتے تھے۔ مزدور نے دفتر سے دو چھٹیاں مانگیں جو مل گئیں۔ چنانچہ ہم نے موٹے کپڑے چڑھائے اور نکل پڑے۔ ہم چاروں ہی سفر کرنے کے شوقین ہیں۔ یوں کہیے کہ عادی ہوگئے ہیں۔ کسی ایک ٹھکانے پر زیادہ دن رہنا پڑے تو اکتا جاتے ہیں۔

Read more

امریکی میٹرو اسٹیشن پر میری دیہاڑی لگ چکی ہے

میٹرو ٹرین اسٹیشن ایسا مقام ہوتا ہے جہاں کسی کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ سب لوگ دوڑتے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں۔ مختلف رنگوں، نسلوں اور اقوام کے لوگ۔ مختلف زبانیں بولتے ہوئے لوگ۔ مختلف ثقافتوں کے پہناوے پہنے ہوئے لوگ۔

میرے پاس ہمیشہ کچھ اضافی وقت ہوتا ہے۔ میں گھر سے جلدی نکلتا ہوں۔ میں دفتر دیر سے پہنچ سکتا ہوں۔ مجھے کوئی جلدی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ سب لوگ رولر کوسٹر پر سوار ہیں اور میں زمین پر کھڑا ہوکر انھیں گھومتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔

ایک جاپانی گڑیا بے چینی سے پلیٹ فارم پر ٹہل رہی ہے۔ اسے کام پر جاری کو دیر ہورہی ہے۔ اس نے لمبا اسکرٹ اور سفید شرٹ پہن رکھی ہے۔ کندھے پر سیاہ بیگ ہے۔
ایک بھاری بھرکم لڑکا سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ہانپ رہا ہے۔ اس نے شارٹ، ٹی شرٹ اور سفید جوگرز پہنے ہوئے ہیں۔ ہیڈ فون چڑھا ہوا ہے۔

ایک لال پری بھاگم بھاگ پہنچی ہے اور اس کا چہرہ لالوں لال ہورہا ہے۔ لال پینٹ شرٹ میں ملبوس ہے اور ہونٹوں پر لالی سجائی ہوئی ہے۔ جی چاہتا ہے کہ آگے بڑھ کر اسے لال سلام پیش کروں۔

Read more

جوش کی آپ بیتی کے اوراق کیسے کھوئے؟ طویل نظم کہاں غائب ہے؟

ڈاکٹر ہلال نقوی: میں کراچی یونیورسٹی کے ’پاکستان اسٹڈی سینٹر‘ میں پڑھاتا تھا۔ وہاں ممتاز ادیب رفیق احمد نقش پی ایچ ڈی کرنے کے لیے آئے۔ میری ان سے ملاقاتیں رہیں۔ کسی دن گفتگو کے دوران یادوں کی برات کے کھوئے ہوئے اوراق کا ذکر آگیا۔ انھوں نے یہ بتا کر مجھے حیران کر دیا کہ وہ صفحات ان کی تحویل میں ہیں۔ میں نے چونک کر پوچھا کہ یہ اوراق آپ کے پاس کہاں سے آئے۔ رفیق نقش نے کہا کہ ایک صاحب نے دیے ہیں۔ لیکن ان صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی کو میرا نام مت بتایئے گا۔

ہوا یہ تھا کہ یادوں کی برات کی کتابت اظہر عباس جعفری نے کی تھی۔ اس کے جو صفحات شائع نہیں ہوئے، وہ جوش صاحب نے انھیں دے دیے۔ اظہر صاحب شکیل عادل زادہ کے سب رنگ ڈائجسٹ میں کام کرتے تھے۔ انھوں نے وہ اوراق دفتر میں رکھے جو دوسرے کاغذات میں دب گئے اور اظہر صاحب سمجھے کہ کوئی اٹھاکر لے گیا۔ بہت دنوں عرصے بعد جب کسی نے کاغذات ٹٹولے تو وہ صفحات نکل آئے۔ تب تک اظہر صاحب ’سب رنگ‘ چھوڑ چکے تھے۔ شکیل عادل زادہ نے وہ مسودہ رفیق احمد نقش کو دے دیا۔ ادب کی امانت ادب کو واپس مل گئی۔

Read more

مسٹر افلاطون علی اعجاز

شاید میں دوسری یا تیسری جماعت کا طالب علم تھا جب فیروزسنز کی چھاپی ہوئی کتاب سو بڑے آدمی پڑھی۔ یہ مائیکل ایچ ہارٹ نہیں، کسی اور کی کتاب کا ترجمہ تھا۔ میں نے اس میں پہلی بار سکندر اعظم، سقراط، بقراط اور افلاطون کا نام پڑھا۔

اتفاق سے ان ہی دنوں میں نے ایک فلم مسٹر افلاطون کا پوسٹر دیکھا۔ خانیوال میں دو سینما تھے۔ شبنم اور پیلس۔ ان کی فلموں کے پوسٹر شہر بھر میں لگائے جاتے تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ ایک ٹکٹ میں دو شو دیکھے جاسکتے تھے۔

میں نے امی سے فرمائش کی کہ میں فلم مسٹر افلاطون دیکھنا چاہتا ہوں۔ امی نے منع کیا۔ کیا سیدوں کے خاندان کا بچہ سینما جائے گا؟ مجھے یہ نزاکتیں معلوم نہیں تھیں۔ میں مسٹر افلاطون کو دیکھنا چاہتا تھا۔

Read more

کراچی کی پڑوسن کا مرغا یاد آتا ہے

کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانک رہا ہوں۔ جنت کا نظارہ ہے۔ آج سورج نے منہ نہیں دکھایا۔ صبح سے بارش ہورہی ہے۔ درجہ حرارت ایک ڈیڑھ یا پونے دو ہے۔ کھڑکی شارع کی طرف نہیں بلکہ عقبی جانب ہے جہاں جنگل ہے اور بیچوں بیچ ندی بہتی ہے۔ جب درخت ہرے بھرے ہوتے ہیں تو ندی دکھائی نہیں دیتی۔ پت جھڑ میں اوپر آسمان کُھلتا جاتا ہے اور نیچے پانی نظر آنے لگتا ہے۔ خیر آج تو اوپر سے بھی پانی برس رہا ہے۔

Read more

فہمیدہ ریاض سے ایک ملاقات اور میری کتاب

طارق روڈ کے اطراف کی گلیوں میں گھومنا مجھے اچھا لگتا تھا۔ وہاں پرانے ناظم آباد جیسا ماحول ہے۔ میں نے کسی دور میں ایک سروے کمپنی میں ملازمت کی تھی جس کا دفتر طارق روڈ کی ایک ذیلی گلی میں تھا۔ میں نے صرف دو ڈھائی ماہ اسمار انٹرنیشنل میں کام کیا ہوگا لیکن اس دوران میں گلیوں کی خوب خاک چھانی۔ پیراماؤنٹ بکس تھوڑے فاصلے پر اسی علاقے میں ہے، اگرچہ خالد بن ولید روڈ کے قریب ہے۔

میں بہت سال بعد ان گلیوں میں گھسا تو پریشانی ہوئی۔ پیدل گھومنا الگ معاملہ ہے، کار چلانا الگ بات۔ ہر گھر کے آگے چار گاڑیاں کھڑی ہوں تو آنا جانا مشکل ہوجاتا ہے۔ مجھے کئی چکر لگانے کے بعد ایک جگہ کار پارک کا موقع ملا۔

Read more

ادیب اور صحافی کے پاس پیسہ آجائے تو مزاحمت نہیں کرتا: ناصر عباس نیر

ناصر عباس نیر اردو ادب کے اہم ترین نقادوں میں سے ایک ہیں۔ اردو ادب میں پی ایچ ڈی کے بعد جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ حاصل کی۔ سولہ کتابوں کے مصنف ہیں جن میں بیشتر تنقید کی ہیں۔ لیکن وہ افسانہ نگار بھی ہیں اور ان کے افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ اخبارات میں ادبی کالم بھی لکھتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں برسوں پڑھاتے رہے۔ آج کل اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل

Read more

میڈیا ہی نہیں، این جی اوز بھی سیلف سنسرشپ پر مجبور ہیں: آئی اے رحمان

آئی اے رحمان کو آج بیشتر لوگ انسانی حقوق کے رہنما کے طور پر جانتے ہیں۔ لیکن وہ بنیادی طور پر صحافی ہیں۔ پوری زندگی انھوں نے اظہار کی آزادی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ وہ کئی عشروں تک پرنٹ میڈیا سے وابستہ رہے اور ’پاکستان ٹائمز‘ کے ایڈیٹر رہے۔ تین کتابیں بھی تصنیف کیں۔ گزشتہ تین عشروں سے وہ انسانی حقوق کمیشن کے ڈائریکٹر ہیں اور اپنی خدمات کے اعتراف میں کئی عالمی ایوارڈ سے نوازے جا چکے ہیں۔

Read more

افغان مونا لیزا، امریکی ڈاونچی اور پاکستانی اسٹوڈیو

رشید سے بہت عرصے کے بعد اتفاقیہ ملاقات ہوئی۔ میں کسی کام سے بازار گیا تھا۔ ایک دکان سے نکلا تو وہ باہر کھڑا تھا۔ ہم دونوں گرم جوشی سے ملے۔ اس نے پوچھا کہ میں آج کل کیا کررہا ہوں۔ میں نے تفصیل سے بیان کیا۔ اپنی ہی باتیں کرتا رہا۔ یہ پوچھنا بھول گیا کہ وہ آج کل کیا کررہا ہے۔ رشید سے پہلی ملاقات 1986 میں ہوئی تھی۔ وہ کریم آباد پر پرانی کتابوں کا ٹھیلا لگاتا

Read more

عاصمہ جہانگیر صبح شام یاد آتی ہیں

پاکستان میں ان دنوں میڈیا سنسرشپ ہے یا نہیں، سنسرشپ ہے یا سیلف سنسرشپ، دباؤ ہے یا احتیاط، دباؤ ہے تو کس جانب سے؟ نہیں ہے تو بعض واقعات کی رپورٹنگ میڈیا میں کیوں نہیں ہورہی؟ میں ان سوالات کے جواب جاننے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یہ بات کہی تو جاتی ہے لیکن سمجھی نہیں جاتی کہ جمہوریت اور آزادی صحافت لازم و ملزوم ہیں۔ اگر بات کہنے نہیں دی جا رہی یا کہی جا رہی ہے لیکن رپورٹ

Read more

پاکستان میں سنسرشپ ایک ’سوفسٹیکیٹڈ آرٹ‘ بن چکی ہے: وسعت اللہ خان

وسعت اللہ خان کئی دہائیوں سے بی بی سی سے وابستہ ہیں اور بیس سال سے اس کی ویب سائٹ پر لکھ رہے ہیں۔ اخبار میں بھی کالم لکھتے ہیں۔ ٹی وی پر بھی تجزیہ کاری کرتے ہیں۔ ان کا نام نہ لکھا ہو تب بھی لوگ ان کی تحریر کو پہچان جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ کہ وسعت اللہ خان نے اردو کی میڈیائی لغت میں بخشو جیسے بہت سے الفاظ کا اضافہ کیا ہے اور منفرد اسلوب

Read more

پاکستان کا سب سے نڈر صحافی کون؟

پاکستان کے سب سے نڈر صحافی کا نام اظہر عباس ہے۔ جیونیوز کے ایم ڈی سے زیادہ بہادر کون ہوسکتا ہے؟ حکومت اور اپوزیشن، حریف چینل اور اخبارات، سیاسی جماعتیں اور پریشر گروپس، مالکان اور ملازمین، کسی کے بھی دباؤ کو قبول نہ کرنے والا بلکہ انھیں حد میں رکھنے والا کوئی عام آدمی ہوسکتا ہے؟ بس ایک بات سے اظہر صاحب گھبراتے تھے کہ کہیں میں ان کے بارے میں کچھ نہ لکھ دوں۔ اتفاق سے مجھے بھی ہمیشہ

Read more

انچولی میں کرکٹ، فٹ بال اور علامہ ضمیر اختر نقوی

انچولی کے بالکل درمیان میں ایک میدان ہے جس پر گھاس لگاکر شادی لان بنالیا گیا تھا۔ ہریالیز کے نام سے اس لان پر برسوں تقریبات ہوتی رہیں۔ اب رینجرز نے وہ سلسلہ بند کروادیا ہے۔ پہلے اس میدان کا نام سادات کرکٹ گراؤنڈ تھا لیکن کچھ لوگ چوکور ہونے کی وجہ سے اسے کیرم بورڈ بھی کہتے تھے۔ ہم یہاں ٹینس بال کرکٹ کھیلتے تھے۔ اس میدان پر کئی ایسے ٹورنامنٹ بھی ہوئے جن میں پورے کراچی کی ٹیموں

Read more

انچولی کا جون ایلیا سے بھی زیادہ جانا پہچانا شاعر

انچولی میں بہت سے امروہے والے رہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بہت سے شاعر بھی رہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کہے کہ وہ امروہے والا ہے لیکن شاعر نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ امروہے والا نہیں ہے۔ کوئی امروہے والا شعر کہے یا نہ کہے، وہ شاعر ہوتا ہے اور تخلص بھی رکھتا ہے۔ میرے تایا سید بوعلی شاہ خانیوال کے مشہور شاعر تھے اور ان کا تخلص طاہر امروہوی تھا۔ ایک دن میں

Read more

منظر بھائی امیتابھ سے بڑے فنکار ہیں

منظر بھائی انچولی میں ضرور رہتے ہیں لیکن ان کا تعلق امروہے سے نہیں ہے۔ امروہے میں بھی بڑے بڑے فتنے پیدا ہوئے ہیں لیکن میں ایک بار پھر زور دے کر کہنا چاہتا ہوں کہ منظر بھائی کا تعلق امروہے سے نہیں ہے۔ ان کا تعلق الہ آباد سے ہے۔ امیتابھ بچن کا تعلق بھی الہ آباد سے ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ وہ بھی منظر بھائی جتنا بڑا فنکار نہیں۔ منظر بھائی کو میں نے پہلی بار

Read more

جیو کے ایناکونڈا پروڈیوسر اور دیگر ساتھی

انچولی کے بارے میں سنانے کو بہت کچھ ہے لیکن یہاں ذرا ٹھہر کے جیونیوز کے کچھ دوستوں کے نام یاد کرلیں۔ اتفاق سے جیو میں انچولی کے کئی نوجوان کام کرتے ہیں۔ انھوں نے نام رکھنے کا سلسلہ وہاں جاری رکھا اور دوسروں کی بھی حوصلہ افزائی کی۔ مثلاً نسیم حیدر جیونیوز کے پروڈیوسر ہیں۔ ساری زندگی انچولی میں گزری لیکن کسی نے ان کی اس عادت پر دھیان نہیں دیا کہ وہ گوشت نہیں کھاتے۔ جیو والوں نے

Read more

انچولی میں بہاریوں کی گلی

کراچی کے علاقے انچولی میں ایک گلی بہاریوں کی مشہور ہے۔ کسی ایک بہاری نے وہاں گھر بنایا ہوگا۔ بعد میں اس کے رشتے دار اور احباب قریب پاس کے مکان خریدتے گئے ہوں گے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے گلبرگ بلاک تیرہ میں ایک گلی امروہے والوں کی ہے۔ انچولی میں بہاریوں کی گلی کے ایک کارنر پر ہماری امی کے ماموں یاسین صاحب کا مکان تھا۔ وہ ہمارے نانی اماں کے فرسٹ کزن تھے۔ خود کریم آباد میں

Read more

انچولی کے گیٹو دادا کا سر اور تلوار

انچولی کے لڑکوں میں حس مزاح کا جواب نہیں۔ یہ بلیک ہیومر کے ماہر ہوتے ہیں۔ دوسروں کے بلکہ اپنوں کے بھی نام رکھنے، مذاق اڑانے اور جملے چپکانے میں اپنی مثال آپ ہیں۔ شان حیدر یعنی شانے بھائی بھی بڑے جملے باز تھے۔ وہ پلمبر تھے اور نٹ بولٹ کے ساتھ فقرے کستے جاتے تھے۔ کسی نے ان کا نام پانے بھائی رکھ دیا۔ عرفان بھائی پولیس میں ملازم ہوئے تو محلے والوں نے پہلے دن انھیں ایس پی

Read more

”میں چوزہ ہوں“

کراچی کے علاقے انچولی میں بہت سے امروہے والے آباد ہیں اور بہت سے بہار والے، جنھیں سب بہاری کہتے ہیں۔ دونوں کے گھر کے ناموں کا پیٹرن دلچسپ ہے۔ بہاریوں میں اچھو ہوتا ہے، امروہے والوں میں اچھن۔ وہاں منو، یہاں منن۔ ادھر شبو، ادھر شبن۔ وہاں چھنو، یہاں چھنن۔ لڈن جعفری اگر بہاری ہوتے تو ان کا نام لڈو جعفری ہوتا۔ رئیس امروہوی کو گھر میں اچھن، سیّد محمد تقی کو چھبن اور محمد عباس کو بچھن کہا

Read more

بعض حلقوں کے خیال میں پرانے میڈیا گروپ زیادہ بھاری ہوگئے تھے: کامران خان

کامران خان پاکستان کے نامور صحافی اور اینکرپرسن ہیں۔ وہ چار دہائیوں سے صحافت میں ہیں اور متعدد بڑے اسکینڈل بے نقاب کرچکے ہیں۔ ان کا شمار ایسے چند صحافیوں میں ہوتا ہے جو پرنٹ کے بعد الیکٹرونک میڈیا میں بھی کامیاب رہے۔ ان کا پروگرام عوام میں مقبول ہے اور ان کی رائے کو مقتدر حلقوں میں بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ کامران خان عام طور پر کسی کو انٹرویو دینا پسند نہیں کرتے اور ویسے بھی آج کل

Read more

’میڈیا کو نقصان پہنچانے والا خود نقصان اٹھاتا ہے‘

واشنگٹن — بزرگ صحافی محمد ضیا الدین کے لیے صحافت ”اک نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ ‘‘ انھوں نے 1964 میں ایم اے جرنلزم کے بعد کریئر شروع کیا اور دی مسلم، ڈان، دی نیوز اور ایکسپریس ٹربیون سمیت تقریباً تمام بڑے انگریزی اخبارات میں کام کیا۔ انھوں نے 2014 میں عملی صحافت کو خیرباد کہا۔ لیکن، کالم نگاری جاری رکھی۔ میں نے ضیا الدین صاحب سے دریافت کیا کہ پاکستان میں نیوز چینلوں

Read more

بزرگوں کا تبرک لمبی زندگی دیتا ہے

کسی کے بستر پر بکھری ہوئی کتابیں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو خواب کم دیکھتے ہیں، کتاب زیادہ! اُس بستر پر بھی کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ کمرے میں ایک کرسی تھی اور ایک میز۔ ان پر بھی کتابیں دھری تھیں۔ ایک الماری تھی، وہ بھی کتابوں سے بھری ہوئی تھی۔ مجھے وہ کمرا اپنا اپنا سا لگا۔ لیکن میں اُس کمرے میں گھستے ہوئے جھجھک رہا تھا۔ بڑے صاحب کچھ لکھنے میں مگن تھے۔

Read more

میں کھڑوس بڈھا بننا چاہتا تھا

کراچی یونیورسٹی کے ماس کمیونی کیشن ڈپارٹمنٹ میں کچھ عرصہ قبل ایک سیمنار ہوا جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا۔ اس سے پہلے سر طاہر مسعود صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سر محمود غزنوی کو سلام کیا۔ سر اسامہ شفیق اور سر نعمان انصاری سے اچھی گفتگو رہی۔ طلبہ و طالبات سے سوال جواب کرکے بہت خوشی ہوئی۔ مجھے تقریر کرنی نہیں آتی۔ چنانچہ میں نے سیمنار میں گفتگو کا آغاز اپنے مخصوص بے ڈھنگے انداز میں کیا۔

Read more

قوم میں مزاح کی گنجائش، صابر نذر کے کارٹون اور ایڈیٹر

واشنگٹن — پاکستان کے ممتاز کارٹونسٹ اور مصور صابر نذر تین دہائیوں سے صف اول کے اخبارات اور رسالوں کے لیے کارٹون بنارہے ہیں۔ ان کی مہارت، ذہانت اور سیاسی بصیرت ان کے خاکوں میں جھلکتی ہے۔ بعض اوقات ان کا کارٹون دیکھ کر آہ، واہ اور ہاہا کی آوازیں ایک ساتھ بلند ہوتی ہیں۔ ​​اس کے باوجود صابر نذر کے کارٹون چھپنے سے رہ جاتے ہیں کیونکہ ایڈیٹر انھیں چھاپنے پر تیار نہیں ہوتے۔ صابر نذر نے وائس آف

Read more

کارٹونسٹ جاوید اقبال اور پاکستانی معاشرے کی گھٹتی ہوئی برداشت

پاکستان میں بعض حلقے میڈیا سنسرشپ کی شکایت کررہے ہیں۔ رپورٹروں کی خبریں، تجزیہ نگاروں کے کالم اور اینکرپرسنز کے ٹاک شوز روکے جارہے ہیں۔ چند خاص معاملات پر بات کرنا منع ہے اور سوشل میڈیا کی نگرانی کی جارہی ہے۔ ان حالات میں ایڈیٹوریل کارٹونسٹ کیا سوچتے ہیں اور کیسے کام کررہے ہیں؟ وائس آف امریکا کے لیے مبشر علی زیدی نے چار بڑے کارٹونسٹس سے بات کی۔ یہاں جاوید اقبال سے گفتگو پیش کی جارہی ہے۔ فیکا کا

Read more

محبت کی بچکانہ نظمیں

پاپا، جب آپ سیونتھ گریڈ میں تھے تو لڑکیوں کو چھیڑتے تھے؟ نہیں۔ کیوں؟ لڑکیوں سے دوستی کرتے تھے؟ نہیں۔ کیوں؟ لڑکیوں کو شعر سناتے تھے؟ نہیں۔ کیوں؟ تو کیا بچپن میں صرف حمد کہتے رہے۔ محبت کی کوئی نظم نہیں کہی؟ محبت کی نظمیں کہی تھیں۔ لیکن کسی کو سنائی نہیں تھیں۔ افسوس! کیا مطلب؟ کیا آپ وہ نظمیں مجھے دے سکتے ہیں؟ ہاں۔ کیوں؟ میں انگریزی میں ٹرانسلیٹ کروں گا۔ لیکن وہ تو بالکل بچگانہ نظمیں ہیں۔ تو

Read more

اماں رخصت ہونے کے لیے عاشور گزرنے کی منتظر تھیں

میں نے جب ہوش سنبھالا تو اماں کا چہرہ اس وقت بھی جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہم اپنی نانی کو اماں کہتے تھے۔ ان کے زمانے میں ماں کو اماں ہی کہا جاتا تھا۔ پھر امی کہا جانے لگا۔ آج کل بچے ممی اور ماما کہتے ہیں۔ اماں کا نام تحسینہ خاتون تھا۔ چہرے پر جھریاں، دائیں گال پر جلد کے رنگ کا مسّا یا دانہ، سر سفید اور گھر میں بچوں کے سامنے بھی ہر وقت ڈھکا ہوا۔

Read more

کربلا میں دو بار قتل کیا گیا شہید

چھٹی محرم کربلا کے ننھے شہید علی اصغر کا دن ہے۔ وہ چھٹی محرم کو شہید نہیں کیے گئے تھے۔ کربلا کی جنگ دس تاریخ کو ہوئی تھی اور سب شہادتیں بھی لیکن عزاداروں نے کچھ دن کئی شہیدوں کے نام سے مخصوص کردیے ہیں۔ چھٹی محرم کو مجالس اور جلوسوں میں خاص طور پر جھولے نکالے جاتے ہیں اور علی اصغر کو یاد کیا جاتا ہے۔ میں پہلی بار کربلا گیا تو میرا خیال تھا کہ وہاں جنگ کا

Read more

خون کا ماتم جگر لے گیا

بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی تمھارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے ایسا لگتا ہے کہ فیض نے یہ شعر کربلا والوں کے نام کہا تھا۔ ادھر کسی نے حسین کا نام لیا، ادھر عزادار جمع ہونے لگے۔ گریہ و ماتم شروع ہوگیا۔ کراچی میں بہت سی ماتمی انجمنیں ہیں، ہر شہر میں ہوتی ہیں، جنھیں لوگ مجالس اور جلوس میں بلاتے ہیں۔ ان میں ایک یا کئی نوحہ خواں ہوتے ہیں جنھیں صاحب بیاض

Read more

علامہ ضمیر اختر نقوی کی جادوئی پیشکش

اپنے بچپن میں خانیوال کی دیکھی ہوئی مجلسیں مجھے یاد ہیں۔ سوز و سلام کے بعد پہلے کوئی ذاکر پنجابی میں خطاب کرتا تھا۔ ایسے ذاکر منبر پر نہیں بیٹھتے۔ کھڑے ہوکر مصائب سناتے ہیں۔ اس خطاب کے دوران امام بارگاہ بھرا رہتا تھا۔ خوب گریہ ہوتا تھا۔ اس کے بعد اردو میں حدیث غم بیان کی جاتی۔ لیکن اس کے سننے والے نسبتاً کم ہوتے۔ میرے تایا مولانا بوعلی شاہ بھی مجلس پڑھتے تھے۔ کراچی آکر پہلی مجلس علامہ

Read more

کربلا کی ڈائری سے ایک صفحہ

میں پہلی بار عمرہ کرنے گیا تو مدینے کی زیارت بھی کی۔ وہاں جنت البقیع کے باہر ایک اجنبی ملا جس نے پوچھا، ’’کیا تمھارا کبھی کربلا جانے کا ارادہ ہے؟‘‘ میں نے کہا، ’’ایک بار جاچکا ہوں اور دوسرے بار جانے کی خواہش ہے۔‘‘ اس نے ایک لفافہ دیا اور کہا کہ یہ بھی لے جانا۔ میں نے وہ لفافہ جیب میں ڈال لیا۔ جب کوئی کربلا جاتا ہے تو لوگ اسے عریضے دیتے ہیں۔ ان میں وہ اپنی

Read more

کربلا میں شب عاشور اور خضر سے گفتگو

تین سال پہلے آج کے دن میں کربلا میں تھا۔ مغرب سے کچھ پہلے میں نے اپنے بیٹے حسین سے کہا کہ چلو، تمھیں کربلا کی شب عاشور دکھاتا ہوں۔ چودہ صدیاں پہلے اسی مقام پر یہ رات امام حسین کے قافلے پر بھاری تھی۔ اس رات کربلا والے نہیں سوئے۔ کربلا والوں کو ماننے والے آج بھی نہیں سوتے۔ حسین اس وقت بارہ سال تھا۔ میں اس کا ہاتھ تھام کر ہوٹل سے نکلا۔ اگر آپ کبھی کربلا نہیں

Read more

ندیم سرور کی نوحہ خوانی

میں نے تہائی صدی پہلے کراچی میں پہلا محرم کیا اور اسی سال ندیم سرور سے تعارف ہوا۔ تب وہ انجمن گلزار حیدری کے نوجوان نوحہ خواں تھے اور عالمگیر شہرت نہیں رکھتے تھے۔ یہ 1985 کا ذکر ہے۔ ہمیں کراچی منتقل ہوئے چند ماہ ہوئے تھے اور انچولی میں قیام تھا۔ محرم کا پہلا عشرہ ختم ہوا تو شب عزا اور شب بیداریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ خانیوال میں صرف شب عاشور کو کچھ لوگ امام بارگاہ میں نوحہ

Read more

سرکاری زمین برائے فروخت!

واشنگٹن — پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوئیٹس کے ذریعے قوم کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان کی 34 ہزار کنال دیہی اور 17 ہزار کنال شہری زمین منجمد سرمایہ بنی ہوئی ہے۔ سرکار کی نوے فیصد شہری زمین اور عمارتوں کی مالیت تین سو ارب روپے ہے۔ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ پاکستان کو قرضوں پر یومیہ پانچ ارب روپے سود ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس طرح انھوں نے اشارہ دیا کہ شاید حکومت سرکاری

Read more

نہ ملنگ بچا نہ استاد

اختر کا قد مجھ سے بھی چھوٹا تھا۔ اس پر کچھ موٹا سا بھی تھا۔ چوڑی کمر، سانولا رنگ اور ایک نمبر کا جملے باز۔ کرکٹ کھیلنے کا شوقین تھا۔ ٹینس اور ٹیپ بال سے تو سبھی کھیل لیتے ہیں۔ میں نے اسے ہارڈ بال سے بھی کھیلتے دیکھا تھا۔ پانچ فٹ کا آدمی چھ فٹ کے فاسٹ بولر کو ایسے چھکے لگاتا تھا کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے تھے۔ اختر کی بہت سے لوگوں سے دوستی تھی، مجھ

Read more

مرزئی ہو یا زیدی، مکان نہیں ملتا

بشارت صاحب بھاری بھرکم آدمی تھے۔ میانہ قد، چندیا صاف، گول مٹول چہرہ۔ پیٹ بھی گول مٹول تھا۔ میں نے انھیں ایک دو بار ہی دیکھا ہوگا۔ یہ میرے بچپن کا ذکر کا ہے لیکن ان کی صورت اچھی طرح یاد ہے۔ وہ خانیوال کے بلاک چودہ کی پہلی گلی میں رہتے تھے۔ اسی گلی میں میرے بڑے ماموں کا گھر تھا۔ میں ماموں کے ہاں آتے جاتے اس مکان کو دیکھتا تھا جس میں بشارت صاحب رہتے تھے۔ بشارت

Read more

نیا بحران: حکومت مدارس کا نصاب بدلنا چاہتی ہے

واشنگٹن — شدت پسندی میں اضافے کا ایک سبب بعض مدارس کے نصاب کو قرار دیا جاتا ہے۔ ماضی میں جنرل پرویز مشرف اور ان کے بعد آنے والی حکومتیں مدارس کا نصاب بدلنے کی تجویز پر غور کرتی رہی ہیں۔ یہ نکتہ نیشنل ایکشن پلان میں بھی شامل تھا۔ موجودہ حکومت اس تجویز کو عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کئی طرح کے تعلیمی

Read more

جیو کے اینکر اور تلفظ کا بلنڈر

میرا خیال ہے کہ میں پاکستان کے پرائیویٹ ٹیلی وژن دور کا سب سے زیادہ بلیٹنز کرنے والا پروڈیوسر ہوں۔ میرے سامنے کئی جونئیر آئے اور سینئر ہوگئے۔ کئی نے بلیٹن چھوڑ کر کوئی ڈھنگ کا کام پکڑ لیا۔ بہت سے دوسرے چینلوں میں جاکر ترقی کرگئے۔ میں کچھوا بن کر نیوزروم میں رینگتا رہا۔ عمر قید کے مجرم کو چودہ سال سزا ہوتی ہے۔ میں نے چودہ سال ہنسی خوشی بلیٹنز کیے ہیں۔ ان برسوں میں کم و بیش

Read more