میں نے اس کا نام مون کیوں رکھا تھا؟

میں اس سے پہلے قائداعظم پبلک اسکول میں پڑھتا تھا جو خانیوال کا پہلا انگلش میڈیم اسکول تھا۔ شہر میں کوئی انگلش میڈیم ہائی اسکول نہیں تھا۔ چھٹی جماعت میں داخلے کے لیے صرف تین آپشن تھے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول، اسلامیہ ہائی اسکول اور کمیٹی اسکول جو صرف مڈل تک تھا۔ میرے بیشتر کلاس فیلوز نے گورنمنٹ ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔

مون کا اصل نام وقار امین تھا۔ وہ ڈاکٹر امین کا چھوٹا بیٹا تھا۔ ڈاکٹر امین میرے بڑے ماموں کے کلاس فیلو اور گہرے دوست تھے۔ ان کے بڑے بیٹے فہیم میرے ماموں زاد تہور بھائی کے کلاس فیلو تھے۔ مون نے پانچویں سرسید پبلک اسکول سے پاس کی تھی۔

Read more

خانیوال کی چند یادیں

بے بی باجی سے آج چھبیس سال بعد فون پر بات ہوئی۔ خانیوال میں وہ ہماری پڑوسی تھیں۔ دونوں مکانوں کی دیوار ملی ہوئی تھی۔ اس میں ایک کھڑکی کھول کر پٹ لگادیے گئے تھے۔ ہمیں دُسراتھ میسر آگئی۔ بابا کبھی ریاض آباد، کبھی میلسی کی نیشنل بینک برانچ میں تعینات رہے۔ وہ ہفتہ بھر وہیں رہتے اور جمعرات کی رات گھر آتے۔ جمعہ کو چھٹی گزار کے ہفتے کی صبح چلے جاتے۔ کئی سال یہی معمول رہا۔

میں چار پانچ سال کا تھا۔ کھڑکی کھول کر بے بی باجی کے گھر چلا جاتا۔ نیر بھائی سب سے بڑے تھے۔ پھر بے بی باجی، پھر واجد بھائی، پھر رانی۔ وہ میری ہم عمر تھی اور ہم ایک ہی دن قائداعظم پبلک اسکول میں داخل ہوئے۔ لیکن میری دوستی واجد بھائی سے تھی جنھیں سب پپو کہتے تھے۔ مجھ سے دو تین سال بڑے ہوں گے۔ ذہین اور شرارتی تھے۔ لوگوں کے مزے مزے کے نام رکھتے تھے۔ میری چھوٹی بہن کا نام انھوں نے گڈبین رکھا۔ اب مجھے یاد نہیں کہ اس کا سبب اور مطلب کیا تھا۔

Read more

جاوید بھٹو: ایک ضیافت جس کا افسوس رہے گا

کاش میں نے اس دعوت میں جانے سے معذرت کرلی ہوتی۔ میں عام طور پر دعوتوں میں نہیں جاتا۔ محفلوں میں شرکت نہیں کرتا۔ تقریبات میں شریک ہونے سے گھبراتا ہوں۔ پاکستان میں جھجک ختم ہوگئی تھی لیکن واشنگٹن آنے کے بعد پھر وہی حال ہوگیا ہے۔ کوئی مدعو کرتا ہے تو بہانے بناتا ہوں۔…

Read more

لائف از بیوٹی فل اور یہودی

ایک عام پاکستانی ہرگز اندازہ نہیں کرسکتا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں پر کیا بیتی۔ کتابوں میں کچھ واقعات پڑھنے اور فلمیں دیکھنے سے احساس کیا جاسکتا ہے، مکمل تصویر ہمارے سامنے نہیں آتی۔ فلسطین، کشمیر اور برما میں مسلمانوں پر ظلم کیا جارہا ہے لیکن اس کا موازنہ ہولوکاسٹ سے نہیں کیا جاسکتا۔

یورپ میں یہودیوں کی آبادی 1941 میں 90 لاکھ تھی۔ دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو 30 لاکھ یہودی باقی بچے تھے۔ دو تہائی یہودی نوجوان، بزرگ، خواتین، بچے مارے جاچکے تھے۔ کسی قوم کی کبھی ایسی نسل کشی نہیں کی گئی۔ روانڈا کے قتل عام میں کچھ جھلک دیکھی جاسکتی ہے جہاں 100 دن میں ایک قبیلے کے دس لاکھ افراد مار دیے گئے تھے۔

Read more

دماغ کا دہی بنایا یا دہی بنائی؟

وائس آف امریکہ کے واشنگٹن آفس میں جمعرات کو حلیم کی دعوت ہوئی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ آج ہم نے حلیم کھایا۔ کچھ نے کہا، حلیم کھائی۔ کراچی اور پنجاب کے صحافیوں میں خوب بحث ہوئی۔ ایک صاحب کا تعلق نہ کراچی سے تھا اور نہ پنجاب سے۔ انھوں نے فرمایا کہ یہ بحث کر کے آپ لوگوں نے دماغ کا دہی بنا دیا۔

اس کے بعد نئی بحث شروع ہوئی کہ دہی ہوتا ہے یا ہوتی ہے۔ اس بحث میں پستول ہوتا ہے، پستول ہوتی ہے، ٹکٹ ہوتا ہے، ٹکٹ ہوتی ہے، تار ہوتا ہے، تار ہوتی ہے اور فوٹو ہوتا ہے، فوٹو ہوتی ہے جیسے مسائل بھی سامنے آئے۔

Read more

میں امریکہ میں چودھری کیسے بنا؟

پرسوں رات سے بادل برس رہے ہیں۔ آغاز ڈھائی تین گھنٹے کی برفباری سے ہوا۔ اس کے بعد سے موسلادھار بارش ہورہی ہے۔ مزید پندرہ سترہ گھنٹے کی پیش گوئی ہے۔ سردی ہے لیکن قابل برداشت۔ درجہ حرارت صفر اور دس کے درمیان رہے تو مناسب ہے۔ صفر سے نیچے سسکیاں، منفی پانچ کے بعد کراہیں اور ساتھ میں ہوا چلے تو چیخیں نکلنے لگتی ہیں۔

منہ اندھیرے کار چلانا کوئی مسئلہ نہیں لیکن اندھیرا اور بارش ہو تو گڑبڑ ہوجاتی ہے۔ سڑک پر سفید لائنیں نظر نہیں آتیں۔ پتا نہین چلتا کہ کون سی لین میں ہوں۔ شکر ہے کہ میٹرو اسٹیشن بہت دور نہیں۔ کار وہاں پارک کرکے ٹرین میں دفتر جاتا ہوں۔

زندگی کا بیشتر حصہ شام کو کام، رات بھر جاگ کر مطالعہ کرنے اور منہ اندھیرے سونے والے شخص کا رات کو اول وقت سونا اور منہ اندھیرے گھر سے نکلنا کتنا عجیب واقعہ ہے، آپ نہیں جانتے۔ سچ یہ ہے کہ صبح کو اندھا بھینسا بنا ہوا ہوتا ہوں۔ ٹرین میں بیٹھتے ہی سو جاتا ہوں۔ آدھے گھنٹے میں منزل آجاتی ہے۔ میں سوتا رہ جاتا ہوں۔ کئی بار آخری اسٹیشن پر پہنچ کر آنکھ کھلی۔ لیکن کوئی فکر کی بات نہیں۔ وہی ٹرین واپس چل پڑتی ہے۔ میں کچھ تاخیر سے دفتر پہنچ جاتا ہوں۔

Read more

مبشر بھائی موقع ملتے ہی ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے

مبشر بھائی خانیوال میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔ بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد والد کی طرح بینک میں ملازم ہوگئے۔ تحریک جعفریہ سے وابستہ رہے۔ نوے کی دہائی میں خانیوال میں فرقہ وارانہ قتل کی واردات میں مارے گئے۔
۔
مبشر بھائی خانیوال میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔ بورڈ میں اوّل پوزیشن آئی۔ والد کی خواہش پر ڈاکٹری پڑھی۔ کراچی شفٹ ہونے کے بعد اپنا کلینک کھولا۔ ٹارگٹ کلنگ کی واردات میں مارے گئے۔

Read more

خانیوال کے دکاندار سے امریکہ کی سوپر مارکیٹ تک

جب میں چار پانچ سال کا ہوا تو ہم لوگ خانیوال کے بلاک گیارہ سے بلاک چودہ منتقل ہوگئے۔ بلاک گیارہ میں ہمارا قیام دادی اماں کے ساتھ تھا جو امام بارگاہ کے احاطے میں موجود مکان میں رہتی تھیں۔ اس مکان میں پھپھو اور چچا بھی ان کے ساتھ تھے۔

میں اور بچوں کی طرح بچپن میں چیز کو چجی کہتا تھا۔ چاچا چجی کا نعرہ لگاتا تو چچا عزادار مجھے نیک محمد کی دکان پر لے جاتے اور ٹافی یا مرونڈا یا لولی پوپ دلاتے۔ پرچون کی وہ دکان اہلحدیث مسجد کی بیرونی جانب تھی۔ ادھیڑ عمر نیک محمد دروازے کے ساتھ چوکی پر بیٹھے رہتے تھے۔ سفید قمیص اور چوخانے والی لنگی پہنتے اور بالوں میں خضاب یا مہندی لگاتے۔ داڑھی بھی تھی۔

میں 2009 میں خانیوال گیا تو امام بارگاہ میں حاضری کے بعد مجھے خیال آیا کہ نیک محمد کی دکان کا حال دیکھوں۔ بے اختیار اس جانب قدم اٹھ گئے۔ یہ دیکھ کر میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ نیک محمد تیس سال بعد بھی اسی طرح دروازے کے ساتھ چوکی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ سفید قمیص اور چوخانے والی لنگی باندھی ہوئی تھی۔ بالوں میں خضاب لگا ہوا تھا۔ داڑھی بھی ویسی ہی تھی۔

Read more

امروہے کے ماموں اچھن

محلے والے انھیں میر صاحب کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ اماں اچھن پکارتی تھیں۔ امی بھجان یعنی بھائی جان کہتی تھیں۔ ہم ماموں کے بجائے ڈیڈی ڈیڈی کرتے تھے۔
ان کا نام امام نذر تھا اور وہ میرے بڑے ماموں تھے۔ امی سے اٹھارہ انیس سال بڑے۔ امروہے میں آٹھویں تک وہ جون ایلیا کے کلاس فیلو رہے۔ اتفاق سے دونوں کی تاریخ ولادت بھی ایک تھی۔ 14 دسمبر 1931۔

مجھے امروہے کے بارے میں تھوڑا بہت جو معلوم ہے، وہ یا تو اماں یعنی میری نانی نے بتایا یا ڈیڈی نے۔ اماں پردے دار خاتون تھیں اور گھر سے نہیں نکلتی تھیں۔ ڈیڈی ہجرت کے وقت سولہ سترہ برس کے تھے اس لیے ان کی یادداشت میں بہت کچھ محفوظ تھا۔

Read more

ثاقب نثار متنازع اور ناکام چیف جسٹس کے طور پر ریٹائر ہوئے: علی احمد کرد

علی احمد کرد پاکستان کے ان ممتاز وکلا میں سے ایک ہیں جو لگی لپٹی رکھے بغیر صاف صاف بات کرتے ہیں۔ وہ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر ہیں اور عدلیہ بحالی تحریک میں پیش پیش رہے۔ لیکن جب تحریک کامیاب ہوگئی اور معزول جج واپس عدالت میں آکر بیٹھ گئے تو چند دن…

Read more