بلاول بھٹو زرداری، سبز یونیورسٹی اور زرد تنقید
پاکستان بننے کے بعد، پاکستان کے کئی علاقوں بشمول سندھ میں، اسلام کی معتدل شکل موجود تھی۔ جنرل ضیا نے افغان انقلاب کو ناکام بنانے کیلے امریکی ایجنڈے کے مطابق پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں مذہبی مدرسےبنائے جن کا مقصد سعودی وہابی شدت پسندی کومعصوم اذہان میں انڈیل کر ان مدرسوں کے شاگردوں کو افغان انقلاب کے خلاف استعمال کرنا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ مدرسے منفعت بخش جہادی فیکٹریوں میں بدل گئے جن میں تیار شدہ افراد کو ایک مخصوص سوچ کے حامل افراد اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔ مختلف بین القوامی ذرائع سے لے کر بن لادن تک سے ان مدرسوں کی ترویج کے لیے لی گئی رقوم سے ان مدارس کا دائرہ کار بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ حال ہی میں حقانیہ مدرسے کو کے پی کے کی حکومت کی جانب سے ایک خطیر رقم دی گئ ہے ۔ یہ قدم اس حقیقت کا غماز ہے کہ انتہا پسندی کے رخ کو درست سمت موڑنے کے لئے کسی بھی کارنر سے اصلاحی عملی پروگرام کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان مدرسوں میں پڑھایا جانے والا نصاب اور اساتذہ کا علمی معیار ایک بہت بڑا سوال ہے۔
سندھ پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے جواب تک تکفیری، خارجی اور عسکریت پسند دہشت گرد قوتوں کے ہتھے مکمل طورپر نہیں چڑھا اور اس کا سبب اس کا ہزاروں سالہ پرانا صوفی تشخص ہے۔ مگر تیزی سے بگڑتی ہوئی اس صورتحال کو کیسے سنبھالا جائے۔ اب جب شدت پسندی کا جن بوتل سے باہر آ ہی گیا ہے تو اس جن کو قابو کرنے کی کوئی واضح اور ہوش مند تدبیر کسی کے پاس ہے؟ یا صورتحال کو ایڈریس نہ کیا جائے؟ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے اور یقیناً یہ صوبائی حکومت کی اہم ذمے داری ہے۔ سندھ سیکریٹیریٹ سے نکلنے والے ایک نوٹیفیکشن (جس پر یہ بھانبھڑ جلا) میں”دعوت اسلامی” جماعت کے حوالے سےایک یونیورسٹی کے قیام کی سفارش کی گئی ہے۔ جس کے قیام کےحوالے سے ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس میں کدو، کیلے اورانار درست سمت میں رکهنے کے طریقے سکھائے جائیں گے۔ بھلے لوگو! طریقےتو سکھائے جا رہے ہیں، اور جن کے سکھانے یا نہ سکھانے پرمیرا اور آپ کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ آپ اور میں اپنے بچوں کو مدرسے نہیں بھیجنا چاہتے، یہ ہمارا حق ہے مگر آپ مدرسے سے فارغ التحصیل بچوں کوان کی مطلوبہ یونیورسٹی جانے کے حق سے محروم بھی نہیں کر سکتے۔ ہمیں مدرسوں کا متبادل تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہو گا ورنہ یہ سلسلہ دراز سے دراز ہوتا چلا جائے گا۔
کیا ہمیں یہ ماننے میں تامل ہےکہ وہ بچے اور نوجوان جو مس گائیڈ اور برین واشڈ کیے گئے یا ہو رہے ہیں اس کی ذمےدارسٹیٹ ہے۔ ریاست نے تعلیم کا حق ہر بچے کو دینے کا وعدہ کیا تھا وہ اپنا وعدہ ایفا نہ کر سکی۔ کیا سرکاری اسکولوں کے دروازے بند کرنے سے، شدت پسندی کا بیج تناور درخت کی شکل اختیار نہیں کر گیا؟ کیا ان بچوں کو یکساں اور مفت تعلیم دینا ریاست کا فرض نہیں تھا/ہے؟ ہم متبادل بیانئے کی بات کیوں نہیں کرتے۔ دار المدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کا خیال اور تصور آپکے ذہن میں ہیجان کیوں برپا کرتا ہے۔ کیا آپکے خیال سے یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ صرف دہشت پسندی کو فروغ دیں گے؟ کیا مشال کا سفاک اور بے رحمانہ قتل کسی اسلامک یونیورسٹی میں ہوا تھا؟ اورکیا پاکستانی جامعات کے تحصیل یافتہ تمام افراد روشن خیال ، تجزیاتی سوچ کے حامل اور تنقیدی شعور سے مالا مال ہیں اور انکی اکژیت مدرسوں سے نکلنے والے اذہان سے مختلف ہے؟
رومی، یونانی، ساسانی اور یوروپیئن تاریخ کا مطالعہ کیجئے۔ مذہبی سفاکیت کے معاملے میں وہ ہم سے کم تو نہیں رہے۔ مگر پھر عیسائیت، بغیر پاپائیت کا انقلابی نعرہ بھی ان جامعات ہی کی دین تھا جن کی تعمیر میں کلیسا کا کردار نمایاں رہا ہے۔ کیا کبھی ہم غور کریں گے کہ گیارہویں صدی میں جب آکسفورڈ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی تو اسکے خطوط کیا تھے؟ اور”ریزننگ“ کی بنیاد پر تیرھویں صدی عیسوی میں کیمرج یونیورسٹی کی ضرورت کیوں پیش آئی اور پھر برطانیہ میں گلی گلی یونیورسٹیاں کیسے کھلیں اور انکا دائرہ کار پورے یورپ میں کیونکر پھیلا اور اس میں چرچ کا کیا کردار رہا ہے اورآکسفورڈ یونیورسٹی کا عظیم الشان قانون کا اسکول” کرائسٹ چرچ“ کیوں ہے؟ اورآج بھی تمام مذاہب کے منکر اور انکاری اپنے بچوں کےداخلوں کے لئے کیتھولک اسکولوں میں کیوں فارم بھرواتے ہیں؟ اس لئے کہ یورپ نےشدت پسندی کی انرجی کو ریسٹورکرنے اور چینلائز کرنے کا ہنرسیکھ کے ریشنلائزیشن اورمنطق کی بنیاد پر سلیبس ڈیزائن کیا اور مختلف النوع ٹیچنگ میتھاڈولوجیز متعارف کروائیں جہاں ہر موضوع پر سوال کی آزادی اور جواب کے بے شمار امکانات کھلے۔
علم، شعور،آگاہی، تنقید اوراختلافِ رائے سب ایک چیز کے متقاضی ہیں اور وہ ہے مسلسل سیکھنے کا عمل۔ مکالمے کا در بند نہ کیجئے۔ تعفن یہیں سے پھوٹتا ہے نفرتوں کے پودے یہیں سے توانا ہوتے ہیں ، جنگوں کا نقشہ یہیں پہ بنتا ہے۔ جبر کی پیوند کاری یہیں سے ہوتی ہے اورفساد کی بنیاد یہیں سے اٹھتی ہے۔ کسی بھی نئے خیال یا موضوع پر غور و فکر کیے بغیر فوراً فیصلہ صادر کر دینا قابلِ تعریف عمل نہیں. ہمیں جوسٹین گارڈر کے ناول ”سوفی کی دنیا” کا پھر سے مطالعہ کرنا ہو گا اس حوالے سے کہ پروفیسر صاحب نے اس ناول میں بار بار ایک بات دہرائی ہے اور وہ یہ کہ ہمیں نتیجے تک پہنچنے کیلئے جلدی نہیں کرنی چاہیئے۔ تقریباً اسی بات کو سر حیدر علی لغاری ذرا مختلف انداز سے دہرایا کرتے تھے کہ پڑھو، تفکر کرو اور پھر تحمل سے معاملے کو دیکھو ۔ پی پی پی کی نوجوان قیادت جب مندروں اور گرجا گھروں میں جاتی ہے تو ہم جیسے انسان دوست اس عمل پر سکھ کا سانس لیتے ہیں جبکہ مذہبی، ریاستی اور صنفی امتیازات کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے طنز و دشنام کا سہارا لیتے ہیں۔ مگرجب یہی قیادت کسی مخصوص مذہبی کمیونٹی کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے تو ہم جو کہ اس کے اقلیت کے ساتھ کھڑے ہونے پہ خوشی کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں اچانک رویہ بدل لیتے ہیں ۔ کیا ہم اسلام کو کبھی بحیثیت ایک علم/سبجیکٹ پڑھنے کے اہل ہو سکیں گے؟ اگر نہیں تو ہمارے ہاں جاوید احمدغامدی صاحب جیسے اسکالرز ملک چھوڑنے پر مجبور رہیں گے۔
مجھ جیسی ادبیات اور سماجیات کی ایک ادنٰی طالب علم کے لئے پیپلزپارٹی کے یہ اقدامات ایک مشکل اورسینکڑوں فرقوں میں بٹے ہوئے معاشرے میں برداشت اور باہمی رواداری جیسی اعلٰی انسانی اقدار کے فروغ کے لئے اٹھنے والے مستحسن قدم ہیں۔ مدرسوں کےحوالے سے اینٹی تھیسس پر سنجیدہ کام کرنا حکومتوں کی ترجیح ہونی چاہئے۔ یونیورسٹی کے سلیبس اور معیار اساتذہ کا اصولی فیصلہ توحکومت کو ہی کرنا ہوتا ہے اوریہ فیصلہ کن مرحلہ بہت کچھ بہتر کر سکتا ہے۔ میں نے مضمون کے آغاز میں تمہید باندھی تھی کہ بھٹو صاحب کے بعد بلاول بھٹو نے مذہبی رواداری کے احترام میں صوفیوں کے مزاج جیسے رمزیہ رنگوں کے دھاگوں کو اپنی کلائی پر محسوس کیا ہے۔ یہ دھرتی صوفیوں کی دھرتی رہی ہے۔ بلاول کے پاس یہ عظیم موقع ہے کہ اس سرزمین کو اس کا کھویا ہوا تشخص واپس ہونے تک، ان رنگوں کو ان کا احترام دلانے تک جدوجہد کرے۔ تینوں کافر کافر آکھدے توں آہو آہو آکھ ۔

