تیسری بیٹی

عذرا خالہ پہلے باجی اور آپا بنیں، پھر بھابھی کہلائیں اور اب ہر چھوٹے بڑے کی خالہ تھیں۔ ہلکے سوبر رنگوں اور نفیس سلائی والے سادہ لباس پہنا کرتیں۔ شاید ہی کسی نے ان کے سر سے دوپٹہ گرا ہوا دیکھا ہو۔ ہمیشہ جارجٹ کا دوپٹہ اوڑھتیں، جس کے اطراف کروشیا کی حسین بیلیں بنی ہوتیں۔ اور ان دوپٹوں کے ہالے میں ان کا کھلا کھلا چہرہ بہت خوبصورت لگتا۔ مرد و عورت کی تخصیص کے بغیر باوقار انداز میں

Read more

بے حیا لڑکی

میں پہلی بار اس چھوٹے سے دیہات سے کراچی آیا تھا جسے اب تو شہری لوگ بھی گوٹھ کہتے ہیں۔ وہ گوٹھ جہاں پچیس تیس سال کی عورت کو بوڑھی کہا جاتا ہے اور دس بارہ سال کی بچی کو عورت۔ اور شادی کے اگلے دن سے ہی پندرہ سولہ سالہ جوان بیوی کو بوڑھی کہنے کا روایتی حق اس کے شوہر کو حاصل ہو جاتا ہے۔ جہاں لباس کی تراش خراش کے حوالے سے معمولی سے معمولی جدت کو

Read more

ری ہیبیلیٹیشن سینٹر

یہ پہلا موقع تھا کہ اس ری ہیبیلیٹیشن سینٹر میں اس قدر سناٹا تھا۔ گو کہ گزشتہ دو ہفتوں سے ہم میں سے ہر ایک اس خط کا منتظر تھا مگر آج جب خط آیا تو گویا سب کو چپ لگ گئی۔ آنکھوں میں بار بار اترتی نمی کو ایک دوسرے سے چھپانے کی غرض سے ہر کوئی ایک دوسرے سے آنکھیں چرا رہا تھا۔ اس خط کو، جو کہ دو ہفتے پہلے لکھے گئے خط کا جواب تھا، باری

Read more

جھونک ڈالا جیون سارا آتش میں

یہ مضمون برطانیہ میں سکونت پذیر محمد سلیم کی کتاب ”زندگی، کرائے کی سائیکل“ کے متعلق ہے۔ ہم سب کے پاس ایک کرائے کی سائیکل ہے جس کا کرایہ عمر کی نقدی ہے۔ اس سائیکل والے دکاندار کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ نہ سائیکل دیتے ہوئے نہ لیتے ہوئے۔ سائیکل کب چھن جائے، کب واپس دینی پڑ جائے، کوئی اس سے بھی باخبر نہیں۔ ہر سائیکل چلانے والا خود کو طفل تسلیاں دیتے ہوئے سفر کے نام پر مقدر

Read more

چندا

ساری زندگی اس نام نے دکھ دیا۔ یہ نام رکھا کس نے تھا اور کیوں رکھا تھا۔ ذلیل کرنے کے لیے یا پھر دھوکہ دینے کے لیے، یہ بات اسے کبھی سمجھ میں نہیں آئی۔ مگر نفرت تھی اسے اپنے آپ سے منسوب اس نام سے۔ جب بھی کسی نے نام پوچھا۔ چندا۔ اس نے حلق سے گولی کی طرح اپنا نام اسے دے مارا مگر اب جوں جوں عمر بڑھتی جا رہی تھی اس نے اپنے نام کی توہین کرنے کا مہذب طریقہ اپنا لیا تھا۔ کسی سوال پوچھنے والے کو اپنا نام بتا کر اسی سانس میں کہتی۔ ہے بھلا کوئی تک۔ یہ منہ اور متھا اور یہ نام۔ پتہ نہیں ماں باپ نے محرم کا چاند دیکھا تھا یا اماوس کا ۔

نہ دنیا میں آنے میں اس کا دوش، نہ معاشرے کے بنائے گئے حسن کے تصورات پر پورا نہ اترنے میں اس کا قصور، اس کے باوجود بھی بدصورت کہلانے کی سزائیں خوب بھگتیں اس نے۔ تین بڑے بھائی بہن اور سب سے چھوٹی چندا۔ سب سے دبتا ہوا رنگ اور نہایت گیا گزرا ناک نقشہ، تو توجہ بھی اسی حساب سے ملی۔ یعنی سب سے کم۔ بچپن میں تو ماں باپ اور بہن بھائیوں کی محبت پانے کی آرزو میں ان کے آگے پیچھے پھرتی رہتی۔ کسی کے کپڑے استری کرتی اور کسی کے جوتے صاف کرتی۔ بہن بھائیوں کے سارے کام بھاگ بھاگ کر کرتی۔ مگر کسی کو اس سے کبھی کوئی دلچسپی پیدا نہیں ہوئی۔ آپا تو صاف صاف کہا کرتی تھی کہ کھرچن ہے، ہزاروں میں کوئی ایک بھوکا کھا کر پیٹ بھرتا ہے ورنہ پھنکتی ہے۔ پتہ نہیں کمبخت کس پر چلی گئی۔ ماں بڑبڑاتی۔

Read more

فیض احمد فیض:عشق بن یہ ادب نہیں آتا

فیض صاحب کے شاعرانہ انداز فکر کی ایک دنیا اسیر ہے۔ ان سے محبت کرنے والوں کے کئی درجے ہیں۔ ایک تو ان کی شاعری کے مداح ہیں۔ ان کے لب و لہجہ کے اسیر، فارسی، عربی و ہندی کی آمیزش سے بنی اردو زبان کے رسیا۔ دوسرے ان کے فکری و فنی رعنائیوں سے سجے رومانوی تصور عشق کے عاشق اور تیسرے فیض کی شاعری میں موجود انسانی آزادی اور سیاسی اور انقلابی شعور کے قصیدہ گو اور ثناخواں۔

Read more

مشرف عالم ذوقی

وہ جو ہواؤں سے باتیں کرتا تھا اور فضاؤں سے دکھ سکھ کہتا تھا۔ جسے راستوں، دیواروں اور گھروں اور مجلسوں کے قصے کہنا اور پرندوں کے نغمے سننا اچھا لگتا تھا۔ وہ جو گزشتہ زمانوں کے ملبے سے داستانیں اکٹھی کیا کرتا تھا اور زمین میں مدفون حروف پڑھ کر آنے والی صدیوں کا بیان کر سکتا تھا۔ وہ جب چاہتا بادلوں کے رتھ پر سوار ہو کر سیاروں ستاروں اور کہکشاؤں کی سیر کو نکل جاتا تھا اور آسمانوں میں چھپی ابتلاؤں سے مکالمہ کیا کرتا تھا۔

ایک طرف وہ مذاہب کے سیاق و سباق کا مطالعہ کرتا تھا تو دوسری جانب تاریخ کے چوراہے پر بیٹھ کر تہذیبوں سے مکالمہ کرتا تھا۔ جسے کردار نگاری میں ملکہ حاصل تھا اور جو پیدا ہی کہانیاں سننے اور کہنے کے لئے ہوا تھا۔ جس کی تحریروں میں ماضی کے سارے کردار قرنوں کی گرد جھاڑتے آن موجود ہوتے اور جلال و جمال سے دہکتی صورتیں اس کے قلم کے جادو کے تابع ہو جاتیں۔

Read more

انانیت اور انحصاری کی کشمکش

یاد نے اپنا عنکبوت میرے اندر پہلی بار کب بنا۔ کچھ کہنا بہت مشکل ہے میرے لئے۔ پہلی سب سے پرانی بات۔ یہ ہے کہ ایک لجلجی تھیلی میں مجھے کسی نے رکھ دیا یا ڈال دیا اور اسی تھیلی میں کوئی مجھے بناتا گیا۔ کون؟ اتنی مشکل بات ابھی تک نہیں سمجھا ہوں۔

دوسری مدہم سی لو، یاد کا سرا تھماتی ہے۔ ماں کا لہو پی رہا تھا میں۔ اس کے اندر کی توانائی اپنے دونوں ہاتھوں سے نچوڑ کر خود کو دنیا میں لانے کے لیے تیار کر رہا تھا اور وہ مجھے اپنا آپ دیے چلی جا رہی تھی۔ ایسے جیسے میں اس پر کوئی احسان کر رہا تھا۔ اس کے وجود کی ساری طاقت، توانائی اور جرأت میں اوک بھر بھر پی رہا تھا اور وہ تھکی ماندی سیراب ہو رہی تھی۔ شاید دینا اس کی خصلت اور سرشت میں تحریر تھا۔ لیکن یہ کیا؟

Read more

زندہ ہے، بھٹو زندہ ہے

4اپریل کے ابھرتے سورج کی کرنیں گڑھی خدا بخش کے درودیوار کومذید اداس کر دیتی ہیں۔ آج کے دن پاکستان کے شہروں، گوٹھوں اور کٹڑیوں میں رہنے والے غمزدہ افراد کو یوں لگتا ہے گویا ان کے آنگن میں سینٹرل جیل راولپنڈی سے آئی وہ میت رکھی ہے جسے دیکھ کر انہیں اپنے بے یار و مددگار ہونے کا دکھ کھا گیا تھا۔ وہ اس آواز کو یاد کرتے ہیں جس نے کہا تھا کہ میں ہراس غریب کے گھر میں رہتا ہوں جس کی چھت بارش میں ٹپکتی ہے۔

Read more

لکھنوٴ سے آئی نظمیں

ماسٹر صاحب نے تو آوٴ دیکھا نہ تاوٴ۔ تسلیم کو سامنے بلایا اور دو تین چھڑیاں اس کے دائیں بائیں بازو پہ جڑ دیں۔ اور غصے میں بولے، ”گندی بچی۔ ایک ایک بال میں دس دس جوئیں ہیں تمہارے۔ پہلے وہ تو نکلواؤ پھر اس بچی کے قریب بیٹھنا اور خبردار جو آئندہ زارا کو ڈرانے کی کوشش کی، ورنہ تمہارے ناناجان سے شکایت کروں گا پھر دیکھنا کیا حشر کریں گے وہ تمہارا۔“ تسلیم نے کینہ پرور نظروں سے اس کو دیکھا۔ ماسٹر صاحب نے پیار سے زارا کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور بولے۔ ”اب ہم خود اپنی بیٹی کو روزانہ چھٹی میں گھر تک چھوڑ کر آئیں گے تاکہ یہ تسلیم پگلی ہماری بیٹی کو تنگ نہ کر سکے۔“

Read more

منہ دکھائی بے رونمائی

”اوئی“ اس کی آنکھیں پھیل کر پورے جسم پر محیط ہو گئیں۔ منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، بالوں نے چہرے کو ڈھانپ لیا اور آنچل قدموں کو ڈسنے لگا۔ انور نے آج پہلی بار اپنی آنکھوں کی میخیں اس کی ہرنی جیسی آنکھوں میں گاڑ رکھی تھیں اور وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو گئی تھی۔ ۔ ۔ صائمہ کا ہاتھ۔ ۔ ۔ اس کے ہاتھ میں تھا اور ہاتھ بھی کتنا؟ ایک چھنگلی۔ ۔ ۔ اور ایک چھنگلی پر پانچ انگلیوں کی گرفت۔ ۔ ۔

دھم دھما دھم دل کی ڈھولک بج رہی تھی۔ شاید معاملات سیکنڈ کے تھے۔ ۔ ۔ مگر ایسے وقت کا حساب کتاب کون رکھ سکتا ہے۔ دوپٹہ سنبھالنا۔ ۔ ۔ چھنگلی کی دھڑکن کو وجود کے زیروبم سے ہم آہنگ کرنا۔ ۔ ۔ قیامت کی ساعت بن گیا۔

دفعتاً صائمہ۔ ۔ ۔ بدحواسی سے ننگے پاؤں دوڑتی ہوئی اپنے کمرے تک آئی اور دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ کسی نامانوس دستک اور اجنبی قدموں کی آہٹ کے انتظار میں۔ ۔ ۔

Read more

نفسیاتی عدم توازن کا کرب

شاید تین یا چار سیڑھیاں باقی تھیں کہ ساس کی بوڑھی مکروہ کھانسی کی آواز سے اس کا دماغ بج اٹھا۔ سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے قدم رک گئے۔ کھانسی کی بوڑھی جادوگرنی نے پھر دانت بجائے۔ اوپر چڑھنے والے قدم واپسی کے لیے مڑ گئے۔ آہٹ کم ہونے لگی۔

شبانہ کا خوش گوار احساس سے دھڑکتا دل۔ ۔ ۔ زور زور سے اتھل پتھل کرنے لگا۔ دماغ میں نفرت اور غصے کا سیاہ دھواں بھر گیا۔ دل چاہا، دو چھال مارکر یہ گیارہ سیڑھیاں عبور کرے اور بڑھیا کا گلا دبا کر۔ ۔ ۔ قصہ ہی پاک کر دے لمحے بھر میں۔ پھر اس کے منحنی سے، دبلے پتلے بیٹے کو نیچے سے اوپر اٹھا کر دو چار گھمیریاں، پٹخنیاں دے کر، اس کی چھاتی پر چڑھ کر بیٹھ جائے۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ اور

Read more

صاحب جی

”او۔۔۔ دوپٹہ سر پہ رکھ۔۔۔ کتے کی نسل۔۔۔“ اماں نے پیچھے سے زور کی آواز لگائی۔ ”دوپٹہ۔۔۔ دوپٹہ۔۔۔ مصیبت ہو گئی ہے۔۔۔“ اس نے دوپٹے کی بکل مارتے ہوئے مڑ کر اماں کو خشمگیں نظروں سے دیکھا۔۔۔ ”یہ آنکھیں کس کو دکھاتی ہے مردار۔۔۔ منحوس۔۔۔“ اماں آگ بگولہ ہو رہی تھی۔ وہ چپ چاپ آگے چلتی رہی۔ اماں بکتے جھکتے پیچھے آ رہی تھی۔۔۔ ”کبھی سکھ سے کوئی گھڑی نہیں گزری۔ ماں باپ کے گھر تھی دو وقت کی روٹی

Read more

کارو کاری

”ادا۔ ۔ ۔ ادا۔ ۔ ۔ ادی زرینہ کی شادی ہو رہی ہے۔“ دس، گیارہ سالہ شاہدہ جو دوڑتی ہوئی ایک سمت سے آ رہی تھی، اسے روک کر بتانے لگی۔ شاہدہ کا سانس پھولا ہوا تھا، مراد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ”تو نے کیا دیکھا؟“ ”ادی زرینہ دلہن بنی ہوئی تھی۔ ادا۔ ۔ ۔ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ ’ادی سارہ‘ سے بھی زیادہ اچھی۔“ ”ہوں“ مراد نے ہنکارا بھرا۔ ”اور کون کون تھا اس کے

Read more

رانی باجی

’’رانی باجی، کیا نام ہے واہ واہ ۔۔۔اور شکل دیکھو ذرا۔۔۔ یہ نام اماں اور ابا میں سے کس نے رکھاہو گا۔ "ُبھتنی باجی‘‘ کتنا موزوں نام ہے۔ نہ شکل نہ صورت، نہ آنکھ جگہ پر نہ دانت اور اس پر ناک ایسی جیسے سانس کی نلکی، گنتی کے چند بال سر پر تیل سے چپکائے ہوئے۔ بغیر دوپٹے کے تو بالکل آٹے کی بوری لگتیں۔ تھل تھل کرتا گوشت، چیختا چلاتا ہوا پھٹے ڈھول کی طرح بجے جاتا۔ صبح

Read more

باؤلی

”چل نکل ادھر سے۔ کمبخت ماری، نیستی، بدبخت“
”چلی جاؤں گی جی۔ ۔ ۔“
”کب جائے گی؟“
”بس تھوڑی دیر کے لیے بیٹھنے دیں۔“
”تیری تھوڑی دیر تو گھنٹوں میں بھی ختم نہیں ہوتی۔“
”میں بس ایک گھنٹے کے لیے بیٹھوں گی۔“
”ایک گھنٹہ کیا ایک منٹ بھی نہیں۔ ۔ ۔ چل اٹھ۔ ابھی نکل۔ ابھی کے ابھی نکل۔“

Read more

من کی ملکہ

گزشتہ چار دن کی بارش نے پورے شہر کو جل تھل کر دیا تھا۔ آسمان غریب کی چادر کی طرح جگہ جگہ سے پھٹا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ آج پہلا دن تھا کہ آسمان کے چھید رفو ہوتے محسوس ہوئے۔ آج صبح بھی بارش ہوئی تھی مگر مختصر سے وقت کے لیے۔ پھر سورج نے پلکیں جھپکائیں تو گویا زندگی جاگ اٹھی۔ روز بہ روز پرانے ہوتے شہر کہاں اتنی شدت کی تاب لا سکتے تھے۔ شہر کی ہر گلی میں نکاسی کا مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے پانی کھڑا تھا۔

”بھائی صاحب ذرا سنبھل کے، اس طرف سامنے گڑھا ہے، اس میں نہ سائیکل سمیت گر جائیں۔ اس طرف سے آئیے راستہ صاف ہے۔“ آسمانی کپڑے پہنے، کمر سے نیچے تک سیاہ لچھے دار بال پھیلائے، قدرے دل پذیر نقوش والی لڑکی ایک دروازے سے نمودار ہوئی۔ ایک پٹ کھلا، دوسرا بند۔ دونوں سائیکل سواروں نے اس پر ایک نگاہ ڈالی۔ سانولی کی سنجیدگی کو دیکھ کر ذرا زیادہ ہی ٹپ ٹاپ لڑکے کو خود کو مہذب ثابت کرنے کا خیال آیا اور سائیکل ہاتھ سے تھامے، مڑ کر بولنا چاہا۔ ۔ ۔ ”بہت شکریہ میڈم“

مگر صرف میڈ ہی منہ سے نکل سکا ”م“ کچھ سے کچھ بن گیا۔ کیونکہ اگلے ہی لمحے دونوں لڑکے سائیکلوں سمیت غڑاپ سے۔ ۔ ۔ پانی کے اندر تھے۔ نہ جانے کہاں کہاں چھپی ہوئی لڑکیوں کی ہنسی کے جلترنگ پانی بھری گلی میں بجنے لگے۔ دونوں لڑکوں کی حالت قابل دید تھی۔ کیچڑ میں پھنسی سائیکلیں نکالیں۔ خود ان کا اپنا حال بھی برا تھا۔ ذرا دیر پہلے کی رنگارنگ ستھری شرٹس اور نہائے دھوئے چہرے کچھ سے کچھ ہو چکے تھے۔ واپسی کا سفر بھی وہی گلی تھی کہ آگے جانے کا کوئی راستہ نہ تھا۔

لڑکیاں حلق پھاڑ پھاڑ کر ہنس رہی تھیں۔ نسبتاً صاف رنگت والے لڑکے نے گھور کر آفت کی پرکالہ کی طرف دیکھا۔

Read more

سندھی جاہل اور گورنر سندھ

نہیں ایسا نہیں ہو سکتا، مجھے ماننے میں تامل ہے۔ مجھے لگتا ہے کسی میڈیا ہاوٴس نے ریٹنگ کے چکر میں ایک ایسی خبر بریک کردی ہے جو غلط ہے اور جس کی بھرپور تردید آ جائے گی۔ پاکستان کے کسی صوبے کا گورنر اور وہ بھی صوبہ سندھ کا گورنر؟ یعنی محبتوں، امن کے حامیوں اور بقائے باہمی کے علمبردار صوفیوں کی سرزمین سندھ کا گورنر بھلا ایسی بات کہہ سکتا ہے؟ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ آپ کوئی

Read more

لا اِکراہ فی الدین

وہ دن ابھی سب کو یاد ہی تھے، جب بابری مسجد کا تنازِع زور پکڑ گیا اور ہندو مسلم منافرت پھوٹ پڑی تھی۔ اندھے انتقام کی سیاہ آندھی نے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ہر مسلمان کا دل تڑپ اُٹھا تھا۔ ہر گھر میں اشتعال تھا۔ اللہ کے گھر کو مسمار کرنے والوں کے خلاف دِلوں میں بڑا نفرت انگیز جذبہ بھڑک گیا تھا۔ دھڑا دھڑ مندر جلنے لگے۔ نوجوان موقِع کی تاڑ میں تھے کہ کسی

Read more

زندہ ہے، بھٹو زندہ ہے – ویڈیو کالم

چار اپریل کے ابھرتے سورج کی کرنیں گڑھی خدا بخش کے درودیوار کومذید اداس کر دیتی ہیں۔ آج کے دن پاکستان کے شہروں، گوٹھوں اور کٹڑیوں میں رہنے والے غمزدہ افراد کو یوں لگتا ہے گویا ان کے آنگن میں سینٹرل جیل راولپنڈی سے آئی وہ میت رکھی ہے جسے دیکھ کر انہیں اپنے بے یار و مددگار ہونے کا دکھ کھا گیا تھا۔ وہ اس آواز کو یاد کرتے ہیں جس نے کہا تھا کہ میں ہراس غریب کے گھر میں رہتا ہوں جس کی چھت بارش میں ٹپکتی ہے

Read more

قدرت کے بچّے

ہیلو، نمبراجنبی تھا مگر آواز مانوس۔ سارہ کے پور پور میں رچی بسی آواز، جیسے اس کی اپنی کھوئی ہوئی آواز، جس کی تلاش میں سارہ کا پل پل آزردہ تھا۔ خوشی تھی، غم تھا، کسک تھی، خوف یا جھجک۔ کچھ تھا جس نے یوں خنجر گھونپا کہ سسکی آہ میں بدل گئی۔ ”How are you“ وہی صدیوں پرانا رٹا رٹایا سوال۔ ”I am good“ وہی اس کا پرانا گھسا پٹاجھوٹ۔ لہجے کے اِرتعاش نے جسم کی رگ رگ کو

Read more

گم شدہ

ڈاکٹر این، ان دنوں ہمیں شیلے جیکسن کا لکھا ہوا سنسنی خیز مواد پڑھنے کے لئے دے رہی تھیں اور ہر نیا مضمون یا اقتباس پڑھتے ہی، ہم مخصوص ذہنیت کے حامل ایشیائی ریسرچرز پسپائی اختیار کرنے کا سوچ لیتے تھے۔ مگر ڈاکٹر این بضد تھیں کہ تلاش کیا جائے کہ آخر کیوں یہ محترمہ اپنے زنانہ اعضائے غریبہ و رئیسہ سے یکساں طور پر، ایک ہی نوعیت کا کام لینے پر بضد تھیں۔ یہی نہیں بلکہ جب ڈاکٹر این نے ایک پھڑکتا بلکہ تڑتڑ کر کے جلتا سلگتا ناول مختلف رنگوں سے نشان زدہ کر کے میرے شوقِ اشتیاق اور کئیوں کے شوق اشتہا پر پہ در پے جملے کیے تو یقین مانیں کہ ساؤتھ ایسٹ ایشین شاگردوں کی گھگھی بندھ گئی۔

Read more

کئی چاند تھے سرِآسمان

اس بے پناہ داستان کا مرکزی کردار محمد یوسف سادہ کار کشمیری کی تیسری اور سب سے چھوٹی بیٹی وزیرخانم عرف چھوٹی بیگم ہے۔ محمدیوسف سادہ کار کی پیدائش غالِباً 1793 میں ہوئی۔ اس کے والد کا نام محمد یعقوب بڈگامی تھا اور چچا کانام یعنی محمد یعقوب بڈگامی کے بھائی کا نام محمد داؤد بڈگامی تھا۔ محمد یعقوب اور محمد داوٴد کے والد کا نام محمد یحیٰی اور دادا کا نام مخصوص اللہ تھا جو میاں مخصوص اللہ مرقع

Read more

کارپوریٹ دنیا

کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے کمرے کے وسط میں رکھی مستطیل بھورے رنگ کی میز کے اِردگرد بیٹھنے والوں پر نظر دوڑائی۔ تقریباً سبھی چہرے شناسا تھے۔ اسی کنڈومنیم بلڈنگ کے رہائشی۔ یہ تمام افراد اپنے اپنے سیوٹ کے مالک تھے۔ کرایہ دار اس بلڈنگ میں رہ سکتے تھے، مگر اس اجلاس میں شرکت کا حق صرف مالکان کو حاصل تھا۔ میز کے آخری کونے پر بیٹھے جارج نے مجھے دیکھتے ہی اپنے برابر والی کرسی کی طرف

Read more

لوگ، لفظ اور انا

مجھ پرسب سے بُرا وقت اس وقت آیا جب میری مکمل ارینجڈ میرج کے دو ہفتے بعد ہی میری پڑوسن نے اپنے شوہر سے ”طلاق“ جیسے قبیح فعل کی فرمائش کردی۔ یہ بات میرے علم میں قطعی نہیں آ پاتی اگر ایک تپتی ہوئی دوپہرمیں (جس میں، میں اپنی بنیان پہنے، پنکھے کے نیچے لیٹا دن بھر کی مصروفیت کے بارے میں سوچ رہا تھا) دروازے پہ اتنی دستک نہ ہوتی، جتنی کہ کسی شہنشاہ کو معزول کرتے وقت فوجی

Read more

بچپن کے کھرنڈ

تحریر: جیسمین جیک مین  ترجمہ ڈاکٹر شہنازشورو ہم انگلستان سے کینیڈا پہنچنے والے وہ امیگرنٹس تھے جو کینیڈا کی ”نسلی تفاوت کے بغیر“ یعنی ”ریس فری امیگریشن پالیسی“ کے پہلے ہلّے میں آئے تھے۔ میرے والدین نے مڈل کلاس کے علاقے میں گھر ڈھونڈا۔ رئیل سٹیٹ ایجنٹ کی تمام تر کوششوں کے باوجود جو اس نے میرے والدین کو یہ سمجھانے میں صرف کیں کہ انہیں اس علاقے میں گھر لینا چاہیے جہاں کی آبادی ان ہی کی طرح کی

Read more

مشرف عالم ذوقی اور "مرگِ انبوہ”

مرگِ انبوہ، فا شزم اور کیپٹلزم کے تانے بانے سے بُنے، آج کے سیاسی، سماجی، اقتصادی، مذہبی، ثقافتی اور اخلاقی سسٹم کو سمجھنے کی ایک بھرپور کوشش ہے، جہاں نیکی اور بدی کے درمیان فاصلہ ختم ہو چکا ہے، پیسہ خدا، انٹرنیٹ کائنات اور گوگل گرو ہے۔ اور ان تینوں نے مل کر خون و نفرت سے لتھڑی گالیوں، اور آنکھوں میں اجنبیت اور بے گانگی کی دہشت لئے، ڈیتھ گیم کے گمنام سکواڈ میں شامل، ”ینگستان“ کی ایک ایسی

Read more

دادی بکھوڑی

رسی جل گئی بل نہ گیا۔ نہ وہ باغات رہے کہ آم اور شہتوت کے ذائقوں کے گن گاتے اور گاجروں کی رنگت، خوشبو اور صحت مندی کے مقابلے کرتے شامیں گزرتیں۔ نہ وہ زمینیں رہیں، جن پر گھوڑے دوڑ دوڑ کر تھک جاتے تھے اور رقبہ ختم ہونے کو نہ آتا تھا۔ نہ وہ گودام رہے جن میں رکھی گندم سالوں کے لیے کافی سمجھی جاتی تھی اور نہ اعلیٰ نسل کے وہ مویشی رہے، جن کی قیمتیں لگانا بھی خاندانی لوگ توہین سمجھا کرتے تھے۔ انگریز سرکار کا لگان کا نظام بڑا سخت تھا۔ جب تک سمجھ میں آتا، پانی سر سے گزر چکا تھا۔ اب پچھتاوے کیا ہوت؟ زمینداریاں خاک ہوئیں۔ کچھ زمینیں سرکار نے ضبط کر لیں، کچھ نازو ادا اور غمزؤں و عشوؤں کی نذر ہوئیں۔

Read more

صوفی اور بولتی مورتیاں

ماں نے گرما گرم پراٹھے کے اوپر تازہ نکلے مکھن کی چمکتی ہوئی ٹکیا رکھی اور ساتھ میں اسٹیل کی چھوٹی سی کٹوری میں تھوڑا سا شہد ڈال کر پلیٹ آگے کو سرکائی، جہاں باورچی خانے کے دروازے کے بالکل سامنے زمین پہ بچھی چھوٹی سی دری پر صوفی روز کی طرح ناشتہ کر نے کے لئے بیٹھا تھا۔ ماں بیٹا کا برسوں سے یہی وتیرہ تھا۔ صوفی دانت مانجھ کر، نہا دھوکر، عبادت سے فارغ ہوکر ناشتہ کرنے آتا تھا اور ماں باورچی خانے میں چوکی پہ بیٹھی اس کے لیے گرماگرم پراٹھا تیار کرتی تھی۔

Read more

اشفاق حسین، اُردو شاعری کا ایک تہذیبی ورثہ

(کینیڈا میں مقیم اُردو کے ایک اہم شاعر اشفاق حسین کی شاعری پر ایک نظر) تحریر : ڈاکٹر شہناز شورو اکیسویں صدی کی بساطِ ادب پہ بھی مصروف ہیں ہم اہلِ قلم واہ واہ میں چند شعرا کو چھوڑ کر جب سے اردو شاعروں کی اکثریت نے مشاعرے لوٹنے ہی کو کمالِ شاعری اور حاصلِ زندگی سمجھ لیا ہے اور داد طلب نظروں سے ناظرین کی جانب دیکھنا شروع کردیا ہے تب سے شاعری کچھ پریشان سی لگنے لگی ہے۔

Read more

تیسری جنس ہونے کی اذیت سہتی ایک ہستی کی کہانی

”شانی بیٹا ماموں کے لئے چوکی رکھ دو۔ “ امی مجھے پکارتیں۔

ماموں نے سفید ململ کا دوپٹہ بڑے سلیقے سے اوڑھا ہوتا اور چھینٹ کے سادہ سے سوتی کپڑے پہنے ہوئے ہوتے۔ مگر ان کے بڑے بڑے پھولوں والے چھینٹ کے کرتے میں ہلتے دو بھاری بھرکم غبارے، میری آنکھوں اور دماغ کا امتحان لینے پر تل جاتے تھے۔ ماموں ہے نہ۔ تو آدمی ہونا چاہیے اورآدمی ہے تو پھر اس کے پاس دودھ کیسے؟ مرے پاس زنانہ چھاتیوں کے لئے ایک ہی لفظ تھا ”دودھ“۔ میرا ننھا ذہن خود سے اُلجھتا رہتا۔ وہ چوکی پہ بیٹھا یا بیٹھی امی سے باتیں کرتا رہتا، ان کی گفتگومیرے پلے نہیں پڑتی تھی۔

Read more

مابین: ضیا حسین ضیا کا ناول

اس خاک بہ سر، ایک عجیب شخص کا ماجرا جو بہت ”خاص“ ہونے کے باوجود خود کو ”عام“ کہنے پر مصر تھا۔ جسے کائنات کے ذرّے ذرّے نے اپنے ہر نقش میں یوں ضم کر لیا تھا کہ وہ خود ہی زمان ومکان ہو گیا، لا متناہی اور بے حساب ہو گیا۔ کرۂ ارض پہ تھا تو تصویرِ ازل رہا اور جب بالا نشین ہوا تو تصورِ ابد کا نقشِ اول ٹھہرا۔ عقل ووجدان کی ہم رکابی شیوۂ ذات ہوئی تو کلامِ قدرت سے لے کر ذوقِ تسکینِ قدرت کا رقیب بن بیٹھا۔ خود سے کیا ڈرتا کہ زمین کی مٹی اور خاک سے عشق کرتا کرتا آسماں ہو چکا تھا اور پھر اس کے جذب وکشف نے کیف سرور کے ہر جذبے کی سمفنی سے ساتھ عشق و مستی کی ایسی دھمال ڈالی کہ ارض وسما کے مفہوم ہی بدل ڈالے اور سماں کچھ یوں بدلا کہ اِک نقش ادنی، نقش گرازل کی سلطنتِ ہمہ گیر کے نقوشِ دل پذیر کی ماہیت وہیت پر خندہ زن ہو بیٹھا۔ جسے اِذنِ معرفت بھی ہوا تو یوں کہ گکہ گریہ شبِ تار ہوا اور سوچیں پر توِ ُخر۔

Read more

جلتی ہوا کا گیت

سچ تو ہے کہ میرے لیے یہ کہنا نہایت مشکل ہے کہ اعلیٰ شاعری، آفاقی شاعری اور عالمگیریت کی وسعت کہاں تک ہے؟ لان جینس جسے Sublimityکہتا ہے اس کی وصف کیا ہے؟ اور کیسی شاعری زندہ رہے گی یا کس شاعری کو آنے والا زمانہ دریافت کرے گا یا کون سی شاعری ہماری نسل کے ہاتھوں بے اعتنائی کا عذاب سہہ رہی ہے۔ مگر ایسا ضرور ہے کہ آج جب کہ بعض اوقات ایک نشست میں شاعر کی پوری کتاب ختم کر کے قاری ہاتھ جھاڑ کر بے زاری سے کھڑا ہو جاتا ہے وہاں اگر کوئی شعر، کوئی مصرعہ، کوئی اچھوتی بات چونکا دے تو شاید یہی اچھی شاعری ہے، جو Elevateیا Upliftکرے، جسے آپ لمحوں میں نہ گزار لیں بلکہ اس کے ساتھ بار بار جینا چاہیں، اسے زندگی کے کئی رنگوں، حادثوں اور گزرگاہوں میں شامل سمجھیں۔

Read more

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

گزشتہ چالیس منٹوں سے وہ ڈاکٹر محمد علامہ اقبال، ان کی فکر، سوچ اور شاعری کے حوالے سے بلا تکان بول رہا تھا۔ اس کے ساتھی بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائے جا رہے تھے۔ وہ اقبال کے کلام کو چربہ اورسرقہ قرار دیتے دیتے دینے لگا۔ پھر ان کی شاعری ک کے سقم بیان کرنے کے بعد بولا۔ ”وہ مفکر تھا نہ دانشور، وہ ایک کنفیوزڈ آدمی تھا۔ جس کا ہیرو کبھی مارکس تھا تو کبھی مسولینی۔ وہ ملکہ و کٹوریہ کے قصیدے لکھتا تھا۔ اس نے جارج پنجم سے نائٹ ہڈ کا خطاب لیا تھا، سر کا خطاب حاصل کرنے کے لئے انگریزوں کی منتیں کیں۔ مسلمانوں کی جنگی فتوحات کو عظمت کہتا تھا اور ان کے زوال کو نشاط ثانیہ کا آغاز۔ خود تنقیدی اس کے مزاج میں نہیں تھی۔ شراب پیتا تھا مگر اندر سے کٹر مولوی تھا، آج کے جہادی اس کی وجہ سے دہشتگرد دبنے ہوئے ہیں۔ “

Read more

اکیسویں صدی میں خواتین کا کردار

دُنیا مجموعی طور پر تین بڑے ادوار سے گزری ہے۔ پہلے قبیلوں کی صورت میں لوگ منظم ہوئے۔ اِن میں احساسِ ملکیت پیدا ہوا اور پانی وزمین کے علاوہ اِنسانوں کی ملکیت کا احساس بھی انسان میں اُجاگر ہوا۔ چراگاہوں اور پانی کے حصول کے سلسلے میں دنگے، فساد، قتل و غارت گری ایک پیشہ تھا۔ پھر جاگیردارانہ تمدن پیدا ہوا۔ زمین داری اور زرعی سماج میں عورت اور مرد کی مختلف جسمانی ساخت کی وجہ سے، صنفی طاقت کا

Read more

دی الکیمسٹ: تحیّرِ عشق

برازیل کے شہرہٴ آفاق ناول نگار پاوٴلو کوئلہو کا ناول ”دی الکیمسٹ“ اب پڑھ کر مکمل کیا ہے۔ 1988 ء میں پرتگیزی زبان میں لکھے گئے اور بعد ازاں انگریزی میں ترجمہ شدہ ناول کو 2019 ء میں پڑھنا، خود کو ادب کے نالائق شاگردوں میں شمار کرنے لائق ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ وقت آپ کو اپنی من مانی نہیں کرنے دیتا، لہاذا مجھے بھی وقت نے اس ناول کے سبق کو یاد کرنے کی چھٹی دیر سے

Read more

جمیل الدین عالی اوران کی بیگم طیّبہ

جمیل الدین عالی جو اَب ایک عہد، ایک تہذیب اور ایک تاریخ کا نام ہے، اور شاید ایسی ہی معتبر شخصیات کے لیے سرور بارہ بنکوی نے لکھا تھا کہ: جن سے مِل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ آپ نے دیکھے نہ ہوں شاید، مگر ایسے بھی ہیں جمیل الدین عالی صاحب بلاشبہ اِتنی ہمہ گیر و ہمہ جہت شخصیت تھے کہ ان کی شخصیت کے علاوہ، ان کی شاعری و انشاء پردازی کے حوالے سے بہت

Read more

میاں نواز شریف کا برساتی نظریۂ انقلاب

آخرکار میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی پاکستان تشریف لے ہی آئے۔ یہ ”آنی“ بڑی بامعنی تھی/ہے۔ سیاست سے دلچسپی رکھنے والا ایک طبقہ انہیں، ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بےنظیر ثانی ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھا۔ اس حوالے سے وجاہت خان نے جب آصف علی زرداری سے سوال پوچھا کہ کچھ لوگ نواز شریف اور مریم نواز میں بھٹوشہد اور بی بی شہید سے مسابقت اور مطابقت تلاش کر رہے ہیں تو

Read more

پیر، میر، سردار اور بھوتار کسی کے نہیں ہوتے

میرا تعلق اس بد نصیب نسل سے ہے جن کے بچپن کو ضیا نامی آسیب کی دہشت چاٹ گئی۔ غالباً یہ 1977ء یا 1978ء کا زما نہ تھا۔ اسکولوں میں منادی ہوچکی تھی کہ تمام لڑکیاں سروں پہ اسکارف باندھ کر یا چادریں لپیٹ کر آئیں۔ بڑی سراسیمگی کا عالم تھا۔ چادر کون اوڑھے گا؟ میں اسکول کی ایک طالبہ اس احمقانہ، ظالمانہ اور اچانک ٹوٹنے والی افتاد پر دل گرفتہ تھی۔ بہت کچھ پراسرار لگنے لگا تھا۔ اچانک ٹیچرز

Read more

نیلی بار: میرا دیس نیلوں نیل

کہانی نے آبِ حیات چکھی ہوئی ہے۔ وہ ازل سے زندگیوں کے ساتھ ہونے والی وارداتوں کی امانت دار ہے…. کہانی کرنے والے، کہانی لکھنے والے …. اور کہانی ہونے والے سارے کردار مرتے رہتے ہیں مگر کہانی جیتی رہتی ہے۔ قریہ قریہ، کوچہ کوچہ، یُگ یُگ پھرنے والی کہانی نے بے شمار روپ بدلے۔ ان میں موجود نت نئے کردار وقت، زمانے اور حالات کے ساتھ مطابقت و مسابقت کی کاوشوں میں جتُے، اپنی جون اور چولے ادلتے بدلتے،

Read more

بلاول بھٹو زرداری، سبز یونیورسٹی اور زرد تنقید

ذوالفقار علی بھٹو صاحب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا (برکلے) اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں پولیٹیکل سائنس، تاریخ اور قانون کے طالب علم تھے اور یونیورسٹی آف ساؤتھ ہیمپٹن میں قانون کے استاد۔ رہے۔ ان کے لکھے ہوئے خطوط، سوشلزم پر دئے گئے لیکچرز کی سیریزاور کتابوں میں انگریزی ادبیات کا وسیع مطالعہ جھلکتا ہے ۔ بھٹو صاحب نے اپنے خلاف بنائے جانے والے قتل کے مقدمے کا دفاع کرتے ہوئے، لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف، سپریم کورٹ میں اپیل

Read more

محبت، بغاوت اور نظمیں پرانی نہیں ہوتیں

اگر آپ سامراجی ہتھکنڈوں اور مظلوم و محکوم عوام کے غضب شدہ حقوق کا مطالعہ کرتے رہے ہیں تو آپ نسیم سیّد کی کتاب ’’یوروپئین نوآبادیات کے ایبوریجنل ادب پر اثرات‘‘ کو نئے دور کا وہ صحیفہ کہیں گے جس کا لفظ لفظ خود کو ، آپ سے بار بار پڑھوائے گا۔ آپ اِس کتاب کو ازبر کرنا چاہیں گے کہ الیکٹرونک میڈیا نے آپ سے تفکر اور تدبر کی جو صلاحیت چھینی ہے، اس کتاب کا مطالعہ آپ کو

Read more

ایک سندھی علی نواز چانڈیو کا خط

میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میرا نام علی نواز چانڈیو ہے اور میں ضلع دادو کے ایک گوٹھ میں رہتا ہوں۔ بہت زمانے پہلے ہمارے بزرگ ہجرت کر کے سندھ آ گئے تھے اور پھر سندھ کی محبت نے کہیں جانے نہ دیا۔ اب میرا جینا مرنا سندھ دھرتی کے ساتھ ہے۔ میرے پانچ بچے ہیں دو بیٹیاں اور تین بیٹے اور ایک بیٹا فوت ہو گیا ہے (جو کہ ایک بہت درد بھری کہانی ہے، جس کا تذکرہ ابھی

Read more