مشرف عالم ذوقی اور “مرگِ انبوہ”

مرگِ انبوہ، فا شزم اور کیپٹلزم کے تانے بانے سے بُنے، آج کے سیاسی، سماجی، اقتصادی، مذہبی، ثقافتی اور اخلاقی سسٹم کو سمجھنے کی ایک بھرپور کوشش ہے، جہاں نیکی اور بدی کے درمیان فاصلہ ختم ہو چکا ہے، پیسہ خدا، انٹرنیٹ کائنات اور گوگل گرو ہے۔ اور ان تینوں نے مل کر خون و…

Read more

دادی بکھوڑی

رسی جل گئی بل نہ گیا۔ نہ وہ باغات رہے کہ آم اور شہتوت کے ذائقوں کے گن گاتے اور گاجروں کی رنگت، خوشبو اور صحت مندی کے مقابلے کرتے شامیں گزرتیں۔ نہ وہ زمینیں رہیں، جن پر گھوڑے دوڑ دوڑ کر تھک جاتے تھے اور رقبہ ختم ہونے کو نہ آتا تھا۔ نہ وہ گودام رہے جن میں رکھی گندم سالوں کے لیے کافی سمجھی جاتی تھی اور نہ اعلیٰ نسل کے وہ مویشی رہے، جن کی قیمتیں لگانا بھی خاندانی لوگ توہین سمجھا کرتے تھے۔ انگریز سرکار کا لگان کا نظام بڑا سخت تھا۔ جب تک سمجھ میں آتا، پانی سر سے گزر چکا تھا۔ اب پچھتاوے کیا ہوت؟ زمینداریاں خاک ہوئیں۔ کچھ زمینیں سرکار نے ضبط کر لیں، کچھ نازو ادا اور غمزؤں و عشوؤں کی نذر ہوئیں۔

Read more

صوفی اور بولتی مورتیاں

ماں نے گرما گرم پراٹھے کے اوپر تازہ نکلے مکھن کی چمکتی ہوئی ٹکیا رکھی اور ساتھ میں اسٹیل کی چھوٹی سی کٹوری میں تھوڑا سا شہد ڈال کر پلیٹ آگے کو سرکائی، جہاں باورچی خانے کے دروازے کے بالکل سامنے زمین پہ بچھی چھوٹی سی دری پر صوفی روز کی طرح ناشتہ کر نے کے لئے بیٹھا تھا۔ ماں بیٹا کا برسوں سے یہی وتیرہ تھا۔ صوفی دانت مانجھ کر، نہا دھوکر، عبادت سے فارغ ہوکر ناشتہ کرنے آتا تھا اور ماں باورچی خانے میں چوکی پہ بیٹھی اس کے لیے گرماگرم پراٹھا تیار کرتی تھی۔

Read more

اشفاق حسین، اُردو شاعری کا ایک تہذیبی ورثہ

(کینیڈا میں مقیم اُردو کے ایک اہم شاعر اشفاق حسین کی شاعری پر ایک نظر) تحریر : ڈاکٹر شہناز شورو اکیسویں صدی کی بساطِ ادب پہ بھی مصروف ہیں ہم اہلِ قلم واہ واہ میں چند شعرا کو چھوڑ کر جب سے اردو شاعروں کی اکثریت نے مشاعرے لوٹنے ہی کو کمالِ شاعری اور حاصلِ…

Read more

تیسری جنس ہونے کی اذیت سہتی ایک ہستی کی کہانی

”شانی بیٹا ماموں کے لئے چوکی رکھ دو۔ “ امی مجھے پکارتیں۔

ماموں نے سفید ململ کا دوپٹہ بڑے سلیقے سے اوڑھا ہوتا اور چھینٹ کے سادہ سے سوتی کپڑے پہنے ہوئے ہوتے۔ مگر ان کے بڑے بڑے پھولوں والے چھینٹ کے کرتے میں ہلتے دو بھاری بھرکم غبارے، میری آنکھوں اور دماغ کا امتحان لینے پر تل جاتے تھے۔ ماموں ہے نہ۔ تو آدمی ہونا چاہیے اورآدمی ہے تو پھر اس کے پاس دودھ کیسے؟ مرے پاس زنانہ چھاتیوں کے لئے ایک ہی لفظ تھا ”دودھ“۔ میرا ننھا ذہن خود سے اُلجھتا رہتا۔ وہ چوکی پہ بیٹھا یا بیٹھی امی سے باتیں کرتا رہتا، ان کی گفتگومیرے پلے نہیں پڑتی تھی۔

Read more

مابین: ضیا حسین ضیا کا ناول

اس خاک بہ سر، ایک عجیب شخص کا ماجرا جو بہت ”خاص“ ہونے کے باوجود خود کو ”عام“ کہنے پر مصر تھا۔ جسے کائنات کے ذرّے ذرّے نے اپنے ہر نقش میں یوں ضم کر لیا تھا کہ وہ خود ہی زمان ومکان ہو گیا، لا متناہی اور بے حساب ہو گیا۔ کرۂ ارض پہ تھا تو تصویرِ ازل رہا اور جب بالا نشین ہوا تو تصورِ ابد کا نقشِ اول ٹھہرا۔ عقل ووجدان کی ہم رکابی شیوۂ ذات ہوئی تو کلامِ قدرت سے لے کر ذوقِ تسکینِ قدرت کا رقیب بن بیٹھا۔ خود سے کیا ڈرتا کہ زمین کی مٹی اور خاک سے عشق کرتا کرتا آسماں ہو چکا تھا اور پھر اس کے جذب وکشف نے کیف سرور کے ہر جذبے کی سمفنی سے ساتھ عشق و مستی کی ایسی دھمال ڈالی کہ ارض وسما کے مفہوم ہی بدل ڈالے اور سماں کچھ یوں بدلا کہ اِک نقش ادنی، نقش گرازل کی سلطنتِ ہمہ گیر کے نقوشِ دل پذیر کی ماہیت وہیت پر خندہ زن ہو بیٹھا۔ جسے اِذنِ معرفت بھی ہوا تو یوں کہ گکہ گریہ شبِ تار ہوا اور سوچیں پر توِ ُخر۔

Read more

جلتی ہوا کا گیت

سچ تو ہے کہ میرے لیے یہ کہنا نہایت مشکل ہے کہ اعلیٰ شاعری، آفاقی شاعری اور عالمگیریت کی وسعت کہاں تک ہے؟ لان جینس جسے Sublimityکہتا ہے اس کی وصف کیا ہے؟ اور کیسی شاعری زندہ رہے گی یا کس شاعری کو آنے والا زمانہ دریافت کرے گا یا کون سی شاعری ہماری نسل کے ہاتھوں بے اعتنائی کا عذاب سہہ رہی ہے۔ مگر ایسا ضرور ہے کہ آج جب کہ بعض اوقات ایک نشست میں شاعر کی پوری کتاب ختم کر کے قاری ہاتھ جھاڑ کر بے زاری سے کھڑا ہو جاتا ہے وہاں اگر کوئی شعر، کوئی مصرعہ، کوئی اچھوتی بات چونکا دے تو شاید یہی اچھی شاعری ہے، جو Elevateیا Upliftکرے، جسے آپ لمحوں میں نہ گزار لیں بلکہ اس کے ساتھ بار بار جینا چاہیں، اسے زندگی کے کئی رنگوں، حادثوں اور گزرگاہوں میں شامل سمجھیں۔

Read more

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

گزشتہ چالیس منٹوں سے وہ ڈاکٹر محمد علامہ اقبال، ان کی فکر، سوچ اور شاعری کے حوالے سے بلا تکان بول رہا تھا۔ اس کے ساتھی بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائے جا رہے تھے۔ وہ اقبال کے کلام کو چربہ اورسرقہ قرار دیتے دیتے دینے لگا۔ پھر ان کی شاعری ک کے سقم بیان کرنے کے بعد بولا۔ ”وہ مفکر تھا نہ دانشور، وہ ایک کنفیوزڈ آدمی تھا۔ جس کا ہیرو کبھی مارکس تھا تو کبھی مسولینی۔ وہ ملکہ و کٹوریہ کے قصیدے لکھتا تھا۔ اس نے جارج پنجم سے نائٹ ہڈ کا خطاب لیا تھا، سر کا خطاب حاصل کرنے کے لئے انگریزوں کی منتیں کیں۔ مسلمانوں کی جنگی فتوحات کو عظمت کہتا تھا اور ان کے زوال کو نشاط ثانیہ کا آغاز۔ خود تنقیدی اس کے مزاج میں نہیں تھی۔ شراب پیتا تھا مگر اندر سے کٹر مولوی تھا، آج کے جہادی اس کی وجہ سے دہشتگرد دبنے ہوئے ہیں۔ “

Read more

اکیسویں صدی میں خواتین کا کردار

دُنیا مجموعی طور پر تین بڑے ادوار سے گزری ہے۔ پہلے قبیلوں کی صورت میں لوگ منظم ہوئے۔ اِن میں احساسِ ملکیت پیدا ہوا اور پانی وزمین کے علاوہ اِنسانوں کی ملکیت کا احساس بھی انسان میں اُجاگر ہوا۔ چراگاہوں اور پانی کے حصول کے سلسلے میں دنگے، فساد، قتل و غارت گری ایک پیشہ…

Read more

دی الکیمسٹ: تحیّرِ عشق

برازیل کے شہرہٴ آفاق ناول نگار پاوٴلو کوئلہو کا ناول ”دی الکیمسٹ“ اب پڑھ کر مکمل کیا ہے۔ 1988 ء میں پرتگیزی زبان میں لکھے گئے اور بعد ازاں انگریزی میں ترجمہ شدہ ناول کو 2019 ء میں پڑھنا، خود کو ادب کے نالائق شاگردوں میں شمار کرنے لائق ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ…

Read more