گزشتہ چار دن کی بارش نے پورے شہر کو جل تھل کر دیا تھا۔ آسمان غریب کی چادر کی طرح جگہ جگہ سے پھٹا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ آج پہلا دن تھا کہ آسمان کے چھید رفو ہوتے محسوس ہوئے۔ آج صبح بھی بارش ہوئی تھی مگر مختصر سے وقت کے لیے۔ پھر سورج نے پلکیں جھپکائیں تو گویا زندگی جاگ اٹھی۔ روز بہ روز پرانے ہوتے شہر کہاں اتنی شدت کی تاب لا سکتے تھے۔ شہر کی ہر گلی میں نکاسی کا مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے پانی کھڑا تھا۔
”بھائی صاحب ذرا سنبھل کے، اس طرف سامنے گڑھا ہے، اس میں نہ سائیکل سمیت گر جائیں۔ اس طرف سے آئیے راستہ صاف ہے۔“ آسمانی کپڑے پہنے، کمر سے نیچے تک سیاہ لچھے دار بال پھیلائے، قدرے دل پذیر نقوش والی لڑکی ایک دروازے سے نمودار ہوئی۔ ایک پٹ کھلا، دوسرا بند۔ دونوں سائیکل سواروں نے اس پر ایک نگاہ ڈالی۔ سانولی کی سنجیدگی کو دیکھ کر ذرا زیادہ ہی ٹپ ٹاپ لڑکے کو خود کو مہذب ثابت کرنے کا خیال آیا اور سائیکل ہاتھ سے تھامے، مڑ کر بولنا چاہا۔ ۔ ۔ ”بہت شکریہ میڈم“
مگر صرف میڈ ہی منہ سے نکل سکا ”م“ کچھ سے کچھ بن گیا۔ کیونکہ اگلے ہی لمحے دونوں لڑکے سائیکلوں سمیت غڑاپ سے۔ ۔ ۔ پانی کے اندر تھے۔ نہ جانے کہاں کہاں چھپی ہوئی لڑکیوں کی ہنسی کے جلترنگ پانی بھری گلی میں بجنے لگے۔ دونوں لڑکوں کی حالت قابل دید تھی۔ کیچڑ میں پھنسی سائیکلیں نکالیں۔ خود ان کا اپنا حال بھی برا تھا۔ ذرا دیر پہلے کی رنگارنگ ستھری شرٹس اور نہائے دھوئے چہرے کچھ سے کچھ ہو چکے تھے۔ واپسی کا سفر بھی وہی گلی تھی کہ آگے جانے کا کوئی راستہ نہ تھا۔
لڑکیاں حلق پھاڑ پھاڑ کر ہنس رہی تھیں۔ نسبتاً صاف رنگت والے لڑکے نے گھور کر آفت کی پرکالہ کی طرف دیکھا۔
Read more