زندہ ہے، بھٹو زندہ ہے

4اپریل کے ابھرتے سورج کی کرنیں گڑھی خدا بخش کے درودیوار کومذید اداس کر دیتی ہیں۔ آج کے دن پاکستان کے شہروں، گوٹھوں اور کٹڑیوں میں رہنے والے غمزدہ افراد کو یوں لگتا ہے گویا ان کے آنگن میں سینٹرل جیل راولپنڈی سے آئی وہ میت رکھی ہے جسے دیکھ کر انہیں اپنے بے یار…

Read more

قدرت کے بچّے

ہیلو، نمبراجنبی تھا مگر آواز مانوس۔ سارہ کے پور پور میں رچی بسی آواز، جیسے اس کی اپنی کھوئی ہوئی آواز، جس کی تلاش میں سارہ کا پل پل آزردہ تھا۔ خوشی تھی، غم تھا، کسک تھی، خوف یا جھجک۔ کچھ تھا جس نے یوں خنجر گھونپا کہ سسکی آہ میں بدل گئی۔ ”How are…

Read more

گم شدہ

ڈاکٹر این، ان دنوں ہمیں شیلے جیکسن کا لکھا ہوا سنسنی خیز مواد پڑھنے کے لئے دے رہی تھیں اور ہر نیا مضمون یا اقتباس پڑھتے ہی، ہم مخصوص ذہنیت کے حامل ایشیائی ریسرچرز پسپائی اختیار کرنے کا سوچ لیتے تھے۔ مگر ڈاکٹر این بضد تھیں کہ تلاش کیا جائے کہ آخر کیوں یہ محترمہ اپنے زنانہ اعضائے غریبہ و رئیسہ سے یکساں طور پر، ایک ہی نوعیت کا کام لینے پر بضد تھیں۔ یہی نہیں بلکہ جب ڈاکٹر این نے ایک پھڑکتا بلکہ تڑتڑ کر کے جلتا سلگتا ناول مختلف رنگوں سے نشان زدہ کر کے میرے شوقِ اشتیاق اور کئیوں کے شوق اشتہا پر پہ در پے جملے کیے تو یقین مانیں کہ ساؤتھ ایسٹ ایشین شاگردوں کی گھگھی بندھ گئی۔

Read more

کئی چاند تھے سرِآسمان

اس بے پناہ داستان کا مرکزی کردار محمد یوسف سادہ کار کشمیری کی تیسری اور سب سے چھوٹی بیٹی وزیرخانم عرف چھوٹی بیگم ہے۔ محمدیوسف سادہ کار کی پیدائش غالِباً 1793 میں ہوئی۔ اس کے والد کا نام محمد یعقوب بڈگامی تھا اور چچا کانام یعنی محمد یعقوب بڈگامی کے بھائی کا نام محمد داؤد…

Read more

کارپوریٹ دنیا

کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے کمرے کے وسط میں رکھی مستطیل بھورے رنگ کی میز کے اِردگرد بیٹھنے والوں پر نظر دوڑائی۔ تقریباً سبھی چہرے شناسا تھے۔ اسی کنڈومنیم بلڈنگ کے رہائشی۔ یہ تمام افراد اپنے اپنے سیوٹ کے مالک تھے۔ کرایہ دار اس بلڈنگ میں رہ سکتے تھے، مگر اس اجلاس میں…

Read more

لوگ، لفظ اور انا

مجھ پرسب سے بُرا وقت اس وقت آیا جب میری مکمل ارینجڈ میرج کے دو ہفتے بعد ہی میری پڑوسن نے اپنے شوہر سے ”طلاق“ جیسے قبیح فعل کی فرمائش کردی۔ یہ بات میرے علم میں قطعی نہیں آ پاتی اگر ایک تپتی ہوئی دوپہرمیں (جس میں، میں اپنی بنیان پہنے، پنکھے کے نیچے لیٹا…

Read more

بچپن کے کھرنڈ

تحریر: جیسمین جیک مین  ترجمہ ڈاکٹر شہنازشورو ہم انگلستان سے کینیڈا پہنچنے والے وہ امیگرنٹس تھے جو کینیڈا کی ”نسلی تفاوت کے بغیر“ یعنی ”ریس فری امیگریشن پالیسی“ کے پہلے ہلّے میں آئے تھے۔ میرے والدین نے مڈل کلاس کے علاقے میں گھر ڈھونڈا۔ رئیل سٹیٹ ایجنٹ کی تمام تر کوششوں کے باوجود جو اس…

Read more

مشرف عالم ذوقی اور “مرگِ انبوہ”

مرگِ انبوہ، فا شزم اور کیپٹلزم کے تانے بانے سے بُنے، آج کے سیاسی، سماجی، اقتصادی، مذہبی، ثقافتی اور اخلاقی سسٹم کو سمجھنے کی ایک بھرپور کوشش ہے، جہاں نیکی اور بدی کے درمیان فاصلہ ختم ہو چکا ہے، پیسہ خدا، انٹرنیٹ کائنات اور گوگل گرو ہے۔ اور ان تینوں نے مل کر خون و…

Read more

دادی بکھوڑی

رسی جل گئی بل نہ گیا۔ نہ وہ باغات رہے کہ آم اور شہتوت کے ذائقوں کے گن گاتے اور گاجروں کی رنگت، خوشبو اور صحت مندی کے مقابلے کرتے شامیں گزرتیں۔ نہ وہ زمینیں رہیں، جن پر گھوڑے دوڑ دوڑ کر تھک جاتے تھے اور رقبہ ختم ہونے کو نہ آتا تھا۔ نہ وہ گودام رہے جن میں رکھی گندم سالوں کے لیے کافی سمجھی جاتی تھی اور نہ اعلیٰ نسل کے وہ مویشی رہے، جن کی قیمتیں لگانا بھی خاندانی لوگ توہین سمجھا کرتے تھے۔ انگریز سرکار کا لگان کا نظام بڑا سخت تھا۔ جب تک سمجھ میں آتا، پانی سر سے گزر چکا تھا۔ اب پچھتاوے کیا ہوت؟ زمینداریاں خاک ہوئیں۔ کچھ زمینیں سرکار نے ضبط کر لیں، کچھ نازو ادا اور غمزؤں و عشوؤں کی نذر ہوئیں۔

Read more

صوفی اور بولتی مورتیاں

ماں نے گرما گرم پراٹھے کے اوپر تازہ نکلے مکھن کی چمکتی ہوئی ٹکیا رکھی اور ساتھ میں اسٹیل کی چھوٹی سی کٹوری میں تھوڑا سا شہد ڈال کر پلیٹ آگے کو سرکائی، جہاں باورچی خانے کے دروازے کے بالکل سامنے زمین پہ بچھی چھوٹی سی دری پر صوفی روز کی طرح ناشتہ کر نے کے لئے بیٹھا تھا۔ ماں بیٹا کا برسوں سے یہی وتیرہ تھا۔ صوفی دانت مانجھ کر، نہا دھوکر، عبادت سے فارغ ہوکر ناشتہ کرنے آتا تھا اور ماں باورچی خانے میں چوکی پہ بیٹھی اس کے لیے گرماگرم پراٹھا تیار کرتی تھی۔

Read more