مابین: ضیا حسین ضیا کا ناول

اس خاک بہ سر، ایک عجیب شخص کا ماجرا جو بہت ”خاص“ ہونے کے باوجود خود کو ”عام“ کہنے پر مصر تھا۔ جسے کائنات کے ذرّے ذرّے نے اپنے ہر نقش میں یوں ضم کر لیا تھا کہ وہ خود ہی زمان ومکان ہو گیا، لا متناہی اور بے حساب ہو گیا۔ کرۂ ارض پہ تھا تو تصویرِ ازل رہا اور جب بالا نشین ہوا تو تصورِ ابد کا نقشِ اول ٹھہرا۔ عقل ووجدان کی ہم رکابی شیوۂ ذات ہوئی تو کلامِ قدرت سے لے کر ذوقِ تسکینِ قدرت کا رقیب بن بیٹھا۔ خود سے کیا ڈرتا کہ زمین کی مٹی اور خاک سے عشق کرتا کرتا آسماں ہو چکا تھا اور پھر اس کے جذب وکشف نے کیف سرور کے ہر جذبے کی سمفنی سے ساتھ عشق و مستی کی ایسی دھمال ڈالی کہ ارض وسما کے مفہوم ہی بدل ڈالے اور سماں کچھ یوں بدلا کہ اِک نقش ادنی، نقش گرازل کی سلطنتِ ہمہ گیر کے نقوشِ دل پذیر کی ماہیت وہیت پر خندہ زن ہو بیٹھا۔ جسے اِذنِ معرفت بھی ہوا تو یوں کہ گکہ گریہ شبِ تار ہوا اور سوچیں پر توِ ُخر۔

Read more

جلتی ہوا کا گیت

سچ تو ہے کہ میرے لیے یہ کہنا نہایت مشکل ہے کہ اعلیٰ شاعری، آفاقی شاعری اور عالمگیریت کی وسعت کہاں تک ہے؟ لان جینس جسے Sublimityکہتا ہے اس کی وصف کیا ہے؟ اور کیسی شاعری زندہ رہے گی یا کس شاعری کو آنے والا زمانہ دریافت کرے گا یا کون سی شاعری ہماری نسل کے ہاتھوں بے اعتنائی کا عذاب سہہ رہی ہے۔ مگر ایسا ضرور ہے کہ آج جب کہ بعض اوقات ایک نشست میں شاعر کی پوری کتاب ختم کر کے قاری ہاتھ جھاڑ کر بے زاری سے کھڑا ہو جاتا ہے وہاں اگر کوئی شعر، کوئی مصرعہ، کوئی اچھوتی بات چونکا دے تو شاید یہی اچھی شاعری ہے، جو Elevateیا Upliftکرے، جسے آپ لمحوں میں نہ گزار لیں بلکہ اس کے ساتھ بار بار جینا چاہیں، اسے زندگی کے کئی رنگوں، حادثوں اور گزرگاہوں میں شامل سمجھیں۔

Read more

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

گزشتہ چالیس منٹوں سے وہ ڈاکٹر محمد علامہ اقبال، ان کی فکر، سوچ اور شاعری کے حوالے سے بلا تکان بول رہا تھا۔ اس کے ساتھی بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائے جا رہے تھے۔ وہ اقبال کے کلام کو چربہ اورسرقہ قرار دیتے دیتے دینے لگا۔ پھر ان کی شاعری ک کے سقم بیان کرنے کے بعد بولا۔ ”وہ مفکر تھا نہ دانشور، وہ ایک کنفیوزڈ آدمی تھا۔ جس کا ہیرو کبھی مارکس تھا تو کبھی مسولینی۔ وہ ملکہ و کٹوریہ کے قصیدے لکھتا تھا۔ اس نے جارج پنجم سے نائٹ ہڈ کا خطاب لیا تھا، سر کا خطاب حاصل کرنے کے لئے انگریزوں کی منتیں کیں۔ مسلمانوں کی جنگی فتوحات کو عظمت کہتا تھا اور ان کے زوال کو نشاط ثانیہ کا آغاز۔ خود تنقیدی اس کے مزاج میں نہیں تھی۔ شراب پیتا تھا مگر اندر سے کٹر مولوی تھا، آج کے جہادی اس کی وجہ سے دہشتگرد دبنے ہوئے ہیں۔ “

Read more

اکیسویں صدی میں خواتین کا کردار

دُنیا مجموعی طور پر تین بڑے ادوار سے گزری ہے۔ پہلے قبیلوں کی صورت میں لوگ منظم ہوئے۔ اِن میں احساسِ ملکیت پیدا ہوا اور پانی وزمین کے علاوہ اِنسانوں کی ملکیت کا احساس بھی انسان میں اُجاگر ہوا۔ چراگاہوں اور پانی کے حصول کے سلسلے میں دنگے، فساد، قتل و غارت گری ایک پیشہ…

Read more

دی الکیمسٹ: تحیّرِ عشق

برازیل کے شہرہٴ آفاق ناول نگار پاوٴلو کوئلہو کا ناول ”دی الکیمسٹ“ اب پڑھ کر مکمل کیا ہے۔ 1988 ء میں پرتگیزی زبان میں لکھے گئے اور بعد ازاں انگریزی میں ترجمہ شدہ ناول کو 2019 ء میں پڑھنا، خود کو ادب کے نالائق شاگردوں میں شمار کرنے لائق ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ…

Read more

جمیل الدین عالی اوران کی بیگم طیّبہ

جمیل الدین عالی جو اَب ایک عہد، ایک تہذیب اور ایک تاریخ کا نام ہے، اور شاید ایسی ہی معتبر شخصیات کے لیے سرور بارہ بنکوی نے لکھا تھا کہ: جن سے مِل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ آپ نے دیکھے نہ ہوں شاید، مگر ایسے بھی ہیں جمیل الدین عالی صاحب…

Read more

میاں نواز شریف کا برساتی نظریۂ انقلاب

آخرکار میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی پاکستان تشریف لے ہی آئے۔ یہ ”آنی“ بڑی بامعنی تھی/ہے۔ سیاست سے دلچسپی رکھنے والا ایک طبقہ انہیں، ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بےنظیر ثانی ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھا۔ اس حوالے سے وجاہت خان نے جب آصف علی زرداری سے…

Read more

پیر، میر، سردار اور بھوتار کسی کے نہیں ہوتے

میرا تعلق اس بد نصیب نسل سے ہے جن کے بچپن کو ضیا نامی آسیب کی دہشت چاٹ گئی۔ غالباً یہ 1977ء یا 1978ء کا زما نہ تھا۔ اسکولوں میں منادی ہوچکی تھی کہ تمام لڑکیاں سروں پہ اسکارف باندھ کر یا چادریں لپیٹ کر آئیں۔ بڑی سراسیمگی کا عالم تھا۔ چادر کون اوڑھے گا؟…

Read more

نیلی بار: میرا دیس نیلوں نیل

کہانی نے آبِ حیات چکھی ہوئی ہے۔ وہ ازل سے زندگیوں کے ساتھ ہونے والی وارداتوں کی امانت دار ہے.... کہانی کرنے والے، کہانی لکھنے والے .... اور کہانی ہونے والے سارے کردار مرتے رہتے ہیں مگر کہانی جیتی رہتی ہے۔ قریہ قریہ، کوچہ کوچہ، یُگ یُگ پھرنے والی کہانی نے بے شمار روپ بدلے۔…

Read more

بلاول بھٹو زرداری، سبز یونیورسٹی اور زرد تنقید

ذوالفقار علی بھٹو صاحب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا (برکلے) اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں پولیٹیکل سائنس، تاریخ اور قانون کے طالب علم تھے اور یونیورسٹی آف ساؤتھ ہیمپٹن میں قانون کے استاد۔ رہے۔ ان کے لکھے ہوئے خطوط، سوشلزم پر دئے گئے لیکچرز کی سیریزاور کتابوں میں انگریزی ادبیات کا وسیع مطالعہ جھلکتا ہے ۔ بھٹو…

Read more
––>