کچھ بچے نچلے کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟


اس مرض کا تدارک نہیں تاہم علاج کے ذریعے علامات کو کم کرکے بچے کی مجموعی کارکردگی کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ علاج میں دوا مختلف قسم کی نفسیاتی تھراپی، تعلیم یا تربیت یا ان سب کا ملاپ شامل ہے۔

دوا:۔ سب سے زیادہ مستعمل دوا کی قسم اسٹیمیولینٹ (Stimulant) کہلاتی ہے جو دراصل بچے میں سکون پیدا کرتی ہے اور جو کئی شکل میں بازار میں ملتی ہیں مثلاً کیپسول، پلز، مائع دوا، اسکن پیچ (Skin Patch) وغیرہ۔

اسٹیمیولینٹ کے علاوہ نان اسٹیبولنٹ دوا مستعمل ہے۔ مجموعی طور پر یہ دوائیں بچوں کو توجہ سے کام کرنے، سیکھنے، ہیجانی، جسمانی سرگرمی کو کم کرنے اور بے قابو رویہ کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ دوائیاں اکثر لمبے عرصے تک کارآمد ہوتی ہیں مثلاً ایک دوا صبح لینے سے پورے دن اس کا اثر رہ سکتا ہے۔

بچے کا معالج منظور شدہ دوا کو کیفیت اور عمر کے حساب سے منتخب کرتا ہے۔ والدین اپنی مرضی سے دوا شروع ہرگز نہ کریں۔ دواؤں کے کچھ مضر اثرات جو دیکھے گئے ہیں وہ کم بھوک یا نیند کا مسئلہ وغیرہ ہیں، اس سلسلے میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

سائیکوتھراپی:۔ مختلف قسم کے نفسیاتی علاج مستعمل ہیں، مثلاً بچے کے رویے کا علاج جس کی وجہ سے وہ اس میں تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے تحت بچے کو اس کے کاموں کو منظم کرنے، اسکول کا کام مکمل کرنے اور اپنے جذبات پر قابو پانے میں مدد دی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہ بچہ اپنے رویے پر کس طرح قابو پائے، مثلاً بے دھڑک بغیر سوچے سمجھے بولنے یا غصے پر کنٹرول کی تربیت بچوں کے لئے واضح قواعد اور کاموں کی لسٹ اور باقاعدہ نظام وضع کرنا ضروری ہے۔

بچے کو سوشل طریقے سے تربیت دینا مثلاً باری کا انتظار کرنا، مل کر کھیلنا، مدد مانگنا اور اگر کوئی تنگ کرے تو کس طرح اس سے نبرد آزما ہو، لوگوں کے چہرے کے تاثرات پڑھنا، آواز کے تاثرات سمجھنے میں مدد کرنا بھی تھراپسٹ کی ذمہ داری ہے۔

والدین کس طرح مدد کرسکتے ہیں؟
بچوں کی تشخیص سے پہلے والدین کا غصہ ایک دوسرے پر الزام اور فرسٹریشن کی سطح پر خاصی زیادہ ہوتی ہے۔ ذہنی صحت کے شعبہ سے متعلق افراد، والدین اور بچوں میں نئی صورت احوال سے متعلق رویے میں تبدیلی کے طریقے اور ایک دوسرے کے ساتھ بہتر تعلقات پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، مثلاً:

1 والدین کی تربیت کہ جس میں وہ بچوں کے لیے انعامات اور سزا کا منظم نظام وضع کریں، جس کی بنیاد بچے کے رویے پر ہو۔ مثبت رویے پر حوصلہ افزائی اور منفی پر نظرانداز کرنے اور توجہ کی دوسری طرف مبذولی، بعض صورتوں میں ہلکی پھلکی سزا بھی تجویز کی جاسکتی ہے۔

2 والدین کا بچوں کے ساتھ تفریح اور سکون بخش سرگرمیوں میں اشتراک جہاں وہ بچوں کی تعریف اور صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کریں۔

3 والدین بچوں کی قابو سے باہر جسمانی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لئے دوستوں کی تعداد میں کمی کرسکتے ہیں مثلاً ایک وقت میں ایک یا دو دوستوں کے ساتھ کھیلنا۔

4 اگر اسکول کا کام بہت زیادہ ہے تو اس کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کردیا جائے۔

5 بچوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی پریشانیوں پر قابو پانے کے لیے کچھ مفید تراکیب پر عمل کیا جائے۔ اس طرح وہ بچوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں اور ان کی مدد کرسکتے ہیں۔ بعض اوقات پورے خاندان کا نفسیاتی علاج ضروری ہوتا ہے۔ تھراپسٹ اپنی گفتگو کے دوران خاندان کے افراد کو ان طریقوں سے آگاہ کرسکتا ہے کہ جو بچے کے تکلیف دہ رویہ کو بہتر کرسکیں۔

6 اسپورٹ گروپس وہ معاون افراد ہوتے ہیں جو خود اس قسم کی صورت احوال سے دوچار ہیں۔ ان افراد سے ملنا، ان سے اپنی پریشانیاں اور کامیابیاں بتانا بہت بہتر رہتا ہے۔ گروپ اپنے اپنے تجربات کی بنیاد پر مفید مشوروں سے بھی آگاہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک بھی رہتے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2