دلوں کا فاتح ۔ شیر شاہ سید

(ڈاکٹر شیر شاہ سید کی سالگرہ ( 26 مارچ) کے موقع پر لکھی ایک تحریر) شیر شاہ سے میری دوستی کی مسافت طویل ہے۔ جس کو برسوں میں شمار کیا جائے تو عدد لگ بھگ اتنا کہ جہاں بالعموم عورتیں اپنی عمر بتانے سے گریز کرنے لگتی ہیں۔ یعنی ساڑھے تین دھائی سے بھی کچھ…

Read more

شکستہ تعبیر

سوانح عمری ادب کی وہ صنف ہے جس نے مجھے ہمیشہ ہی متحیر کیا۔ عظیم شخصیات کی زندگیوں میں حائل رکاوٹوں، آدرشوں کی تکمیل کے لئے ان کی حوصلہ مندی اور استقامت کو میں شوق اور استعجاب کے عالم میں ڈوب کر پڑھتی ہوں۔ بھلا ہیرے کی تراش خراش کا عمل کسے نہیں پسند۔ ایسا نہ ہو تو بھلا کیسے پتہ چلے کہ گوتم بدھ نے شہزادے کا لبادہ تج کے عام لوگوں کے دکھ سکھ سے ناطہ کیوں جوڑا، سچ کے شیدائی، مجسم سوال سقراط نے زہر کا پیالہ کیوں پیا؟انقلابی چی گویرا نے سرمایہ داری اور استحصالی قوتوں کے خلاف بغاوت کی شمعیں کیوں فروزاں کیں؟ مارکس نے دنیا کے محنت کشوں کو یکجائی کا پیغام کیوں دیا؟ یہ تو محض چند مثالیں ہیں۔ میں ان عظیم شخصیات کی جن کی زندگیوں نے ثابت کیا کہ سچ اور حق پہ کھڑی بنیادوں کو ابدیت اور معنویت حاصل ہے۔ زندگی تو سب ہی گزار لیتے ہیں لیکن دوام تو ان کو حاصل ہے جنہوں نے انسانیت کی فلاح کے لئے اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔

Read more

ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے والیدنیا کی پہلی معذور لڑکی ارونیما سنہا

یہ واقعہ بارہ اپریل 2011 کا ہے جب چوبیس سالہ ارونیما سنہا (Arunima Sinha) جو قومی سطح پہ کھیلنے والی والی بال کی چیمپئین بھی تھی، اپنی ملازمت کے امتحان کے سلسلے میں لکھنو سے دلی جانے والی ایک ٹرین میں سوار ہوئی۔ لیکن اس کو علم نہیں تھا کہ اس سفر میں اس کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا امتحان درپیش ہو گا۔ ایک ایسا حادثہ جو اس کی تمام تر ہمتوں اور حوصلوں کو چیلنج کرے گا۔ ہوا یہ کہ رات کے وقت چار پانچ غنڈہ نما چوروں نے اس کے گلے میں پڑی سونے کی زنجیر چھیننے کی کوشش کی۔

Read more

آزادی صحافت سے عورتوں کے حقوق کی جدوجہد تک: مہناز رحمن سے ایک گفتگو

عورت فاؤنڈیشن کیا ہے؟ عورت فاونڈیشن ایک قومی غیر منافع بخش غیر سرکاری تنظیم ہے۔ 1986 میں قائم ہونے والی اس آرگنائزیشن کے بانیوں میں نمایاں نام شہلا ضیا (مرحومہ) اور نگار احمد کا ہے۔ اس کے قیام کا مقصد ملکی سطح پر ہر طبوے میں بالخصوص پسماندہ اور مظلوم خواتین میں آگہی پھیلانا ہے۔…

Read more

نینسی نے رابرٹ کو کیوں قتل کیا؟

تیرہ مئی 2004 کی شام مجھے لونگ ایکڑ ایلیمنٹری اسکول فارمنگٹن ہلز (مشی گن) کی جانب سے فون پہ اطلاع دی جاتی ہے کہ اسکول کی چوتھی جماعت کی ٹیچر نینسی سیمین کے شوہر رابرٹ سیمین کا قتل ہو گیا ہے۔ پولیس کے اندازے کے مطابق یہ قتل دس مئی کو ہوا ہے۔ اور یہ کہ اس وقت نینسی پولیس کی حراست میں ہے۔ یہ اسکول ڈسٹرکٹ کا قاعدہ ہے کہ کوئی بھی اہم اطلاع وہاں کے ملازمین کو ضرور دی جاتی ہے۔ اس وقت میں لونگ ایکڑ ایلیمنٹری اسکول میں ان مہاجر گھرانے کے بچوں کی تعلیم و تدریس میں معاونت کے ذمہ دار عملہ کے طور پر کام کر رہی تھی، کہ جو امریکہ میں نووارد ہونے کے سبب انگریزی سے کم واقف ہیں۔

نینسی سے میرا روز ہی سامنا ہوتا تھا۔ دبلی پتلی، مناسب نقوش رکھنے والی سفید فام پانچ فٹ دو انچ کی عورت۔ ابھی پرسوں ہی کی تو بات تھی۔ جب میں اس کی کلاس کے ایک بچے کو لینے گئی تھی۔ نینسی اپنی کلاس کے بچوں کو سائنسی تجربہ سکھا رہی تھی۔ ہر چیز معمول کے مطابق تھی۔ میں نے سوچا اگر اس نے قتل کیا ہوتا تو وہ کس طرح اسے اطمینان سے پڑھا رہی ہوتی۔ میرا خیال تھا کہ یہ محض الزام ہے۔ نینسی اس قتل کی مرتکب ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ بالکل ناقابل یقین بات ہے۔ تاہم جلد ہی نینسی کا نام رابرٹ کے قاتل کی حیثیت سے ٹی وی اور ریڈیو کی خبروں میں گردش کر رہا تھا۔ کیونکہ نینسی نے اس قتل کے ارتکاب کا اقرار کر لیا تھا۔

Read more

نابینا افراد کے لئے بریل طریقہ تعلیم کا موجد: لوئی بریل

سورج کیوں نہیں نکلا؟ آتش دان میں آگ کیوں نہیں جل رہی؟ پانچ چھ سالہ ننھا لوئی اپنے گھر والوں سے اس قسم کے سوالات کرتا رہتا تھا جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ کیونکہ اس بچے کی دنیا اب بالکل اندھیری ہو گئی تھی۔ وہ مکمل نابینا تھا۔ لیکن کسے خبر…

Read more

معذور افراد کی دیکھ بھال یا تیمارداری کے بارے میں۔۔۔

شادی کے دو سال بعد جب یاسمین کو حاملہ ہونے کی نوید ملی تو وہ اور اس کا شوہر عامر خوشیوں سے سرشار تھے۔ حمل کے زمانے میں اس کی صحت ٹھیک اور الٹرا ساؤنڈ نارمل تھے۔ مگر جب بچی کی پیدائش ہوئی تو اس کے خوشیوں سے بھرپور سپنے چھناکے سے ٹوٹ گئے۔ بچی…

Read more

سفید برف، سرخ کوٹ اور میرا باپ

اس دن خاصی برف پڑی تھی۔ جیل کے آہنی مرکزی دروازہ سے وہ عمارت، کہ جہاں میں بطور تھراپسٹ کام کرتی ہوں، چلتے ہوئے میرے دھنستے پاﺅں برف کی دبیز مگر نرم سفید تہہ پر جوتوں کے نشانوں کی لمبی لکیر بناتے رہے۔ عمارت کی راہداری میں دیکھا تو میری نظر آئی۔ وہ یہاں جیل…

Read more

سماجی تبدیلی کی خواہاں باکمال فنکارہ: ثانیہ سعید

اسٹیج، تھیٹر اور ٹی وی کی دنیا میں فنِ اداکاری کے افق پر کئی ستارے ابھرے، جھلملائے اور پھر شہابِ ثاقب کے مانند ٹوٹ کے گم ہوئے مگر جس ستارے کو ہم تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے مسلسل جگمگاتا دیکھ رہے ہیں اس کی تابناکیوں میں وقت کے ساتھ اضافہ ہی ہوا ہے۔…

Read more

کیا ٹینشن کا اثر شکمِ مادر میں پلنے والے بچوں پہ ہوتا ہے؟

پہلے زمانے میں تجربہ کار بڑی بوڑھیاں حاملہ عورتوں کو خوش رہنے، مثبت سوچنے اور اچھی غذا کا مشورہ دیتی تھیں لیکن ان کی باتوں کی صداقت کی گواہی کے لیے عرصہ تک سائنسی تجربات نہیں ہوئے تھے۔ پچھلے چالیس پچاس سالوں میں علمی میدان میں بے حد ترقی ہوئی ہے۔ اور ان میں ایک شعبہ نیورو سائنس کا بھی ہے جس کا ادراک ہرحاملہ عورت اور متعلقہ افراد کو ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں یہ واقعہ پڑھیں۔

مایا کی کہانی: جب مایا نے اپنے دو ننھے بچوں کے ساتھ پاکستان سے امریکہ نقل مکانی کی تو ایک ننھی روح اس کے بطن میں پروان چڑھ رہی تھی۔ اپنے وطن میں خود مختاری کی پراعتماد زندگی گزارنے والی مایا کے لیے امریکہ ایک قید خانے سے کم نہیں تھا۔ محبت سے بلانے اور ساتھ دینیکا وعدہ کر نے والے بھائی اور بھابی کا رویہ سوہانِ روح تھا۔ حاملیت کے دور میں یوں بھی جذبات کو قابو میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ ان حالات میں آنسؤں کا ایک ریلا تھا جو امڈ پڑتا تھا کہ جس پر بند باندھنا مایا کے اختیار سے باہر تھا۔

Read more