کلٹ گروپس کیوں اور کیسے بنتے ہیں؟

انسانی تاریخ کی یادداشت سے بھلا ایک دن میں ہونے والی نو سو سے زیادہ افراد کی اجتماعی خودکشی کا واقعہ کیسے محو ہو سکتا ہے کہ جب اٹھارہ نومبر 1978 کو اپنے مذہبی پیشوا جم جونز کے کہنے پہ اس کے ماننے والوں نے سائنائڈ ملا مشروب پی کر موت کو گلے لگا لیا۔ کیونکہ وہ ان کے مسیحا اور پیغمبر کا درجہ رکھتا تھا۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے جم جونز کا تعلق ایک ایونجلسٹ گروپ سے تھا، جہاں اس نے چند لوگوں سے اپنے گروپ (جو بعد میں پیپلز ٹیمپل کہلایا) کو شروع کیا اور بتدریج اپنی کرشماتی شخصیت کے بل بوتے پہ ایک قابل تعظیم رتبہ حاصل کر لیا۔

اس کا دعوی تھا کہ وہ ذہنوں کو پڑھتا اور اس پر یقین رکھنے والوں لوگوں کو شفایاب کرتا ہے۔ اس نے انسان دوستی اور رنگ و نسل کی بنیاد پہ انسانی تفریق کو رد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے گروپ میں اکثریت معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے ایفرو امریکیوں کی تھی۔ جم جونز ایٹمی جنگ کے خوف کے پیش نظر یہ گروپ امریکہ سے ساؤتھ امریکہ چلا گیا جہاں جم نے انہیں ”گیانا“ کے جنگلات میں واقع جیمز ٹاؤن میں یوٹوپیا (تصوراتی مقام) کا وعدہ کیا تھا۔

Read more

جبر کے دور میں پھیلی وبا کی کہانی

وہ عجب نوعیت کا مرض تھا کہ جو شہر میں وبا کی صورت پھیلتا ہی جا رہا تھا۔ مزے کی بات تو یہ تھی کہ اس کی علامات اور دوسرے امراض کی طرح نہ بخار تھا نہ کھانسی نہ چکر، وہ تو بس ایک کیفیت تھی جو ہر متاثر کنندہ کے ذہن پہ طاری ہوجاتی…

Read more

مائیں بننے والی حاملہ عورتوں پہ کرونا کی وبا کے اثرات

علینا میری بہت ہی عزیز بھانجی ہے۔ تازہ گلاب کی مانند خوبصورت اور شاداب۔ بائیس سال کی عمر میں شادی کے بعد وہ امریکہ سے کینیڈا اپنے سسرال چلی گئی، جہاں سے کلینکل سائیکالوجی میں ایم اے کے بعد آج کل اپنی زندگی کے اہم مگر پیچیدہ ترین تجربے سے گزر رہی ہے۔ اس کے وجود میں ایک ننھی کلی چٹک رہی ہے یعنی وہ ماں بننے والی ہے۔ خبر مسرت سے بھر پور سہی مگر کرونا وبا نے جہاں عام لوگوں کو ان دیکھے خوف سے آشنا کیا وہاں علینا جیسی پہلی مرتبہ ماں بننے والی لڑکیوں پہ مزید خوف اور پریشانی طاری ہے۔ میں نے اس سلسلے میں علینا سے اس کے نئے تجربہ اور کرونا وبا کے خدشات اور محسوسات سے متعلق کچھ سوالات کیے۔ اس کے جوابات کی تخلیص کچھ یوں ہے۔

Read more

خواتین بہتر حکمران ثابت ہوئی ہیں یا بدتر؟

”عورتیں ناقص العقل ہیں، عقل کے بجائے جذبات سے کام لیتی ہیں۔ عورتوں سے گھریلو کام تو کروا لو مگر اعلیٰ سطح کا انتظام ان کے بس کی بات نہیں“ ۔ یہ اور اس قسم کے اور بھی بہت سے مفروضات ہیں جو مردوں کے ذہن کی ہی اختراع نہیں بلکہ خودعورتیں بھی اپنی صنف کے متعلق ایسے منفی مفروضات سن کر اس پر آمناوصدقنا ایمان لے آئی ہیں۔ یہ سادہ سی نفسیات کی بات ہے کہ آپ کو کوئی مستقل یقین دلاتا رہے کہ یہ کام تمہارے بس کا روگ نہیں تو بالآخر آپ اس پر ایمان لے آتے ہیں اوراس کام کی کوشش کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔

Read more

کتاب کا نام: علم و آگہی کا سفر: قدیم یونیورسٹیوں کی مختصر تاریخ

مصنف: ڈاکٹر شیر شاہ سید مبصر: گوہر تاج مشی گن، ڈیٹرائٹ، امریکہ پچھلے دنوں جو کتاب زیرِ مطالعہ رہی وہ دلچسپ اور متحرکن قسم کی معلومات سے مزین ”علم و آگہی کا سفر“ (قدیم یونیورسٹیوں کی مختصر تاریخ) ہے۔ جس کے مصنف ڈاکٹر شیر شاہ سید ہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ کسی مصنف نے…

Read more

ویت نام نے سپر باور امریکہ کے مقابلہ میں کرونا وبا کی جنگ کیسے جیتی؟

ویسے تو میری کیا مجال کہ میں ایک عظیم سپر پاور امریکہ کا مقابلہ ویتنام جیسے معمولی ملک سے کروں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آج یعنی اٹھائیس اپریل کی رپورٹ کے مطابق کم ترقی یافتہ اور کم وسائل والے ملک ویتنام میں کرونا وبا سے مرنے والوں کی تعداد صفر ہے۔ اس کے 270…

Read more

کرونا کی وبا ’سپر پاور‘ امریکہ کی ترقی بے نقاب کرتی ہے

مجھے یاد ہے کہ جب سوشل ورک میں ایم ایس پروگرام کی ایک کلاس میں پروفیسر نے کلاس کے اختتام پہ پوچھا کہ آخر اس کورس نے ہم طلبا کو کیا دیا تو میرا جواب تھا۔ ”مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے میری آنکھوں کی سرجری ہوئی ہے اور میں پٹی اترنے کے بعد ہر…

Read more

گوہر تاج کا اسلوب: احفاظ الرحمٰن

گوہر تاج ہماری ایک جانی پہچانی لکھاری ہیں۔ پاکستان کے علاوہ امریکا اور کینیڈا میں بھی ان کی تحریریں بہت مقبول ہیں۔ ان کا موضوع ہمارے ”سازِ دل“ کے تار میں نہ صرف غیر معمولی ارتعاش کا سبب بنتا ہے، بلکہ یہ ہمارے احساس کی دنیا پر نقش ہو جاتا ہے، اس لیے کہ وہ…

Read more

احفاظ الرحمن۔ زندگی کو اپنے قلم سے زندہ رکھنے والا جرات مند صحافی سوئے عدم چلا

میں کچھ دنوں سے بہت بے چین تھی۔ ہر کچھ دنوں بعد ایک بے قراری کے سے عالم میں مہناز رحمن کو پیغام بھیجتی۔ ”احفاظ بھائی کیسے ہیں“؟ اور مایوس کن سا جواب سن کر بے چینی بڑھ جاتی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ زندگی کو اپنی جرات مند شاعری سے زندہ رکھنے والا منفرد شاعر…

Read more

قرنطینہ کارنر سے ایک خط … بنام نادرہ مہرنواز

پیاری نادرہ! آپ نے میری بیماری کا سن کر جس پریشانی کا اظہار کیا اس پہ مجھے محبت کے معجزوں پہ یقین کچھ اور بڑھ گیا ہے۔ اور یقیناً یہ معجزہ ”ہم سب“ کی ویب سائٹ کی وجہ سے ممکن ہوا جس نے دنیا میں اردو بولنے والے کتنے ہی لوگوں کو آپس میں جوڑ…

Read more