کیا ”می ٹو“ تحریک مردوں کے ہاتھوں عورتوں کے جنسی استحصال کے خلاف ہی ہو؟

یہ سن ہے 2006ء کا کہ جب پہلی بار نیویارک کے غریب علاقے کی رہنے والی، شہری حقوق کی علمبردار ترانہ برک نے سوشل میڈیا مائی اسپیس پہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف ”می ٹو“ (یعنی میں بھی) کی آواز بلند کی۔ وہ کم عمری میں بار بار جنسی استحصال کے تجربہ سے…

Read more

ایک ملکہ کی سواری واپس جاتی ہے

”امی میری گاڑی کو کیا ہوگیا۔ یہ نہیں چل رہی“۔ میرا چار سالہ بیٹا اپنی خوبصورت آنکھوں میں آنسو بھر کے تازہ بہ تازہ امریکہ سے آئی گاڑی اپنی انتہائی نان ٹیکنیکل ماں کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔ جیسے اس کی ماں کے پاس جادو کی چھڑی ہو۔ اسے تو نہیں لیکن مجھے پتہ…

Read more

جینی کی کہانی

اپنا بھاری بھرکم بیگ سنبھالے جب میں ایجنسی میں داخل ہوئی تو ایک آواز میرا پیچھا کر رہی تھی۔ ”مسز امام کیا تمھارے کیس لوڈمیں مزید کسی کلاینٹ کی گنجائش ہوگی؟ “ میں نے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے ایک اچٹتی سی نظر اس پر ڈالی۔ ایک یوریپین نژادلڑکی، جٹ سیاہ لمبے بالوں کی عین…

Read more

کیا ٹینشن کا اثر شکمِ مادر میں پلنے والے بچوں پہ ہوتا ہے؟

پہلے زمانے میں تجربہ کار بڑی بوڑھیاں حاملہ عورتوں کو خوش رہنے، مثبت سوچنے اور اچھی غذا کا مشورہ دیتی تھیں لیکن ان کی باتوں کی صداقت کی گواہی کے لیے عرصہ تک سائنسی تجربات نہیں ہوئے تھے۔ پچھلے چالیس پچاس سالوں میں علمی میدان میں بے حد ترقی ہوئی ہے۔ اور ان میں ایک شعبہ نیورو سائنس کا بھی ہے جس کا ادراک ہرحاملہ عورت اور متعلقہ افراد کو ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں یہ واقعہ پڑھیں۔

مایا کی کہانی: جب مایا نے اپنے دو ننھے بچوں کے ساتھ پاکستان سے امریکہ نقل مکانی کی تو ایک ننھی روح اس کے بطن میں پروان چڑھ رہی تھی۔ اپنے وطن میں خود مختاری کی پراعتماد زندگی گزارنے والی مایا کے لیے امریکہ ایک قید خانے سے کم نہیں تھا۔ محبت سے بلانے اور ساتھ دینیکا وعدہ کر نے والے بھائی اور بھابی کا رویہ سوہانِ روح تھا۔ حاملیت کے دور میں یوں بھی جذبات کو قابو میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ ان حالات میں آنسؤں کا ایک ریلا تھا جو امڈ پڑتا تھا کہ جس پر بند باندھنا مایا کے اختیار سے باہر تھا۔

Read more

عزم و ہمت کا پیکر: مریم احمد

مجھے نہیں پتہ کہ میری صحیح تاریخ پیدائش کیا ہے؟ کیونکہ جب میں پیدا ہوئی تو میرے جسم پر مکمل ہاتھوں کی بجائے صرف اس کے نشان تھے۔ سب نے میری ماں کو مشورے دیے کہ بچی کو اپنے جسم سے دور رکھو، اپنا دودھ نہ پلاؤ، افیون کھلا دو۔ ان کا خیال تھا کہ…

Read more

انیتا غلام علی

کراچی کے پرہجوم علاقے میں جہاں گاڑیوں کے ہارن، خوانچہ والوں کی پکار اور طوطے کی مدد سے قسمت کا حال بتانے والوں کے باعث کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی، بس اسٹاپ سے کچھ دور پہلے اسٹیل گرے رنگ کی گاڑی رکتی ہے۔ گاڑی چلانے والی خاتون کو پہچان کر آٹھ دس سال کا…

Read more

لفظوں کے بازی گر اردو شاعر ڈاکٹر منیب الرحمٰن سے گفتگو

مجھے ڈیٹرائیٹ میں منعقد ہونے والی شعری نشستوں میں شرکت کا بارہا موقع ملا۔ جہاں اکثر دادِ تحسین اور واہ واہ کے شور و شین میں جب ایک شاعر کے نام کا بصد احترام اعلان کیا جاتا ہے تو ایک لمحہ کو ان کے استقبال میں خموشی طاری ہو جاتی ہے۔ اور تب ایک اکہرے…

Read more

بچے، تتلی، پھول” کے آئینے میں شہر لیاری”

پچھلے دنوں مجھے ایک اہم اور متاثر کن کتاب پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ کتاب چھپی تو 1997 میں تھی مگر میرے ہاتھ حال ہی میں لگی۔ کتاب کا نام ہے "بچے، تتلی، پھول"۔ اور اس کے شاعر کا نام نور محمد دانش ہے کہ جو ادبی دنیا میں نون میم دانش کے نام سے…

Read more

مسرتوں سے بھرپور بڑھاپے کے چودہ اصول

اکثر لوگ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد زندگی سے بیزاری، قنوطیت اور مایوسی کی مالا جپنے لگتے ہیں۔ جیسے خانگی اور ملازمتی ذمہ داریوں کی تکمیل کے ساتھ زندگی کی معنویت بھی اختتام پذیر ہونے کو ہے۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ جاپان سے درآمد شدہ دو الفاظ اپنی گرہ سے باندھ لیں۔ 1۔…

Read more

میدانِ کربلا کا پہلا شہید، حضرت حر ؑبن یزید تمیمی

وہ عجب وقتِ بے اماں تھا، کربلا میں لمحہ لمحہ اترتی تیرگی، پیاسی بنجر زمین پہ محاصرہِ کاروانِ حسینی۔ خیموں سے بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال معصوم بچوں کی العطش العطش کی صدائیں، ٹھاٹھیں مارتے، ایڑیاں رگڑتے بے بس فرات کا بہاؤ اور لیلائے شب پہ تنی بے کراں سوگواری کی چادر۔ ایسے…

Read more