یہ ہم نے کس کو کھو دیا لوگو!

(مشہور عالم، محقق اور استاد سی ایم نعیم کی یاد میں) ابھی ابھی فیس بک پہ رضا رومی کی ایک بہت افسوسناک پوسٹ، شکاگو کی اہم ادبی علمی شخصیت پروفیسر سی ایم نعیم کے انتقال کے حوالے سے پڑھی۔ موت برحق ہے لیکن یقین سا نہیں آ رہا۔ ابھی جولائی کی چھ تاریخ کو ہی تو ان کی مختصر مگر بہت حوصلہ افزا میل موصول ہوئی جو انہوں نے میری بیٹی کی ہارورڈ سے گریجویشن کے وقت فلسطین کے حق

Read more

بڑھاپے کی تنہائی اور ہمارے مشاغل

عرصہ قبل جب میری شادی بھی نہیں ہوئی تھی، میں مانچسٹر اپنے بھائی کے گھر پاکستان سے گھومنے کی غرض سے آئی تھی۔ ایک دن کسی اسٹور میں میرے برابر میں کھڑی ایک بہت بزرگ خاتون، غالباً اسی پچاسی سال عمر ہوگی، شیشے کے اندر رکھی جیولری دیکھ رہی تھیں۔ بڑھاپے سے کمزور اور کمر خمیدہ۔ وہ سرخ لباس میں ملبوس تھیں اور ان کے رخسار گلابی اور لبوں پہ لال رنگ کی لپ اسٹک تھی۔ اس وقت بحیثیت پاکستانی

Read more

سوشل میڈیا کے ”پائیڈ پائیپر

مجھے یقین ہے کہ آٹھ سو سال سے بھی پرانے بچوں کے لیے لکھی جرمنی کی ایک لوک کہانی the Pied Piper of Hamelin (دی پائیڈ پائپر آف ہملین) کے مشہور کردار پائیڈ پائپر سے بہت سے لوگ واقف ہوں گے۔ کہانی کچھ اس طرح ہے کہ جرمنی کے ایک قصبہ ہملین میں 1284 ءمیں چوہوں کی یلغار سے بچنے کے لیے وہاں کے میئر نے ایم پائیڈ (رنگ برنگ لباس میں ملبوس) پائپر کو اجرت پہ چوہوں سے نجات

Read more

آندھی میں دیا کس نے جلایا؟

حساس اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری نے جانے زندگی کے کن تجربات کی بنا پہ یہ شعر لکھا ہو گا۔ آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہو گا ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہو گا لیکن آج مجھے پتہ ہے کہ یہ شعر کوہی گوٹھ کے مستعد، مخلص اور دیانت دار عملہ بالخصوص ممتاز اور مادھوری پہ  صادق آتا ہے، جو الفارابی ہسپتال کی دو مستعد مڈوائفز ہیں۔ یہ ادارہ کوہی گوٹھ ہسپتال کا ایک ذیلی مرکز

Read more

کوہی گوٹھ ہسپتال میں والینٹیر

میں خواب دیکھنے کی عادی ہوں۔ دو سال قبل میرا خواب کوہی گوٹھ میں مڈ وائیفری طالبات کے لیے بحیثیت تھریپسٹ والینٹیر کرنے کا تھا لیکن دوسرا خواب تھا ان طالبات کے ساتھ اپنی دوست پروفیسر فریدہ فیض اللہ کے ساتھ ایک لیکچر کروانے کا۔ فریدہ کالج میں میری ساتھی استاد تھیں۔ میں نے عبداللہ کالج میں بطور مائیکرو بیالوجی استاد دس سال پڑھایا۔ جبکہ فریدہ انگریزی پڑھاتی تھیں۔ پھر میں نے دیار غیر، امریکہ، کی راہ پکڑی اور انہوں

Read more

عورت: خوبصورتی اور غربت کا چکر

صبح نو بجے کا وقت دروازہ پہ دستک ہوتی ہے۔ میں دروازہ کھولتی ہوں۔ دروازہ کے اوپری جالی دار حصے سے ایک بہت دلکش نقوش والی عورت نظر آتی ہے۔ جس کی خوبصورت کٹیلی آنکھیں کسی کو بھی مار سکتی ہیں۔ لبوں پہ مسکان سجائے وہ کہتی ہے، ”باجی میں رضیہ ہوں۔ یہاں کام کرتی ہوں۔ “ اتنے میں میری بہن کی آواز آتی ہے۔ ”ہاں دروازہ کھول دو۔ یہ ہماری کام والی ہے۔“ کراچی میں میرا قیام ہمیشہ اپنی

Read more

ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا بچوں کے لیے کراچی میں ادارہ ’سائنوسا‘ کیا کر رہا ہے؟

میرا تقریباً ہر دو سال پہ پاکستان آنا ہوتا ہے۔ ہر بار اس کی مدت ڈھائی تین ہفتے سے زیادہ نہیں ہوئی۔ کبھی کسی شادی میں شرکت تو کبھی کوئی اور خاص موقعہ لیکن اس دفعہ میرا ہدف ساڑھے تین ماہ قیام کا تھا تاکہ کراچی میں واقع عورتوں کے مفت کوہی گوٹھ اسپتال کی مڈوائفری طالبات کے ساتھ گروپ اور انفرادی تھرپی کا سلسلہ شروع کر سکوں۔ جو ملازمت کو خیر باد کہے بناء ممکن نہ تھا۔ اس دوران

Read more

بھگت سنگھ زندہ ہے

یہ واقعہ ہے 23 مارچ 1931 ء کا کہ جب لاہور کے سینٹرل جیل میں چار بجے دن سے کچھ کھلبلی سی مچی ہوئی تھی۔ وارڈن نے قیدیوں کو اپنی اپنی کوٹھریوں میں جانے کا حکم صادر کر دیا تھا۔ جیل کا نائی، برکت، قیدیوں کے سامنے سے چہ مگوئیوں کے انداز میں اطلاع دیتا ہوا گزرا کہ آج رات بھگت سنگھ، سکھ دیو گرو اور جگدیش کو پھانسی ملنے والی ہے۔ قیدیوں کے لیے یہ فیصلہ غیر متوقع تھا۔

Read more

”کھانا گھر“ کی ڈائریکٹر پروین سعید کی باتیں آخر باسی کیوں نہیں ہوتیں؟

چاہے سچ کی آواز کو لاکھ خاموش کروایا جائے اس کی تلاش کا سفر جاری رہنا چاہیے۔ آج میں صبح سحر کی سپیدی سے قبل رات کی ظلمت کو چاک کرتی، پروین سعید کی آواز سن رہی تھی، جو فون پہ کہہ رہی تھیں ”بھوک کو مٹاؤ، غربت کو مٹاؤ یا پھر غریبوں کو مٹا دو۔“ پہچان تو گئے ہوں گے؟ وہی ”کھانا گھر“ چیریٹی آرگنائزیشن کی بنیاد رکھنے والی پروین سعید جو گزشتہ پینتیس سالوں سے کراچی کی غریب

Read more

غریبِ شہر زمان خان سے گفتگو

اس سال میرا پاکستان دو سال کے بعد آنا ہوا۔ اپنی ملازمت کو خیرآباد کہنا اور کمائی کے چکر سے نکل کر امریکہ سے پاکستان آنے کا ایک مقصد بہت سی ادھوری ملاقاتوں کا قرض چکانا تھا۔ وہ ملاقاتیں جن کے لیے نہ مجھے ادبی میلے ٹھیلوں میں جانے کی ضرورت ہے نہ ہی ہزاروں کا بل بناتے والے نامی گرامی فائیو اسٹارز ریسٹورنٹس میں شہر کے دانشوروں کے ساتھ دعوتیں اڑانے کی۔ اگر قریب کی آنکھ کام کر رہی

Read more

ظلم پہ خاموشی جرم ہے

(جی پی ایم سی کے یورولوجی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ڈاکٹر کے ہاتھوں انٹرن ڈاکٹر کی جنسی ہراسانی کا کیس) ویسے تو بڑے نامور اور معتبر اداروں میں صاحب اختیار افراد کے ہاتھوں بے بس اور کم اختیار رکھنے والی خواتین کی جنسی ہراسانی کے واقعات کا ہونا کوئی انہونی بات نہیں لیکن اگر ان رویوں پہ معاشرہ خاموشی اختیار کر لے تو یہ ایک اجتماعی جرم ہے۔ جس کا ارتکاب ہم اکثر کرتے آئے ہیں۔ اور جس کے لئے ہم

Read more

ڈیٹرائیٹ سے کراچی کا سفر اور چار ہم سفر

آج رات آٹھ بجے شب میری ڈئیٹرائٹ، مشی گن سے پاکستان روانگی کا دن ہے۔ جہاں مقصد کچھ ماہ کے لیے کراچی ملیر کے کوہی گوٹھ ہسپتال میں بطور تھرپسٹ والینٹیر کرنے کاہے۔ ایک خواب جو میری کل وقتی ملازمت کے ساتھ اب تک ممکن نہ ہوسکا تھا۔ ڈیٹرائیٹ ائر پورٹ پہ سامان چیک ان کے بعد میں اپنے ہینڈ کیری کے ساتھ مسافروں کے لاؤنج میں پہنچتی ہوں۔ سیل فون ہاتھ میں ہے جسے چارج کرنے کے لیے میں

Read more

عفت نوید کا افسانوں کا مجموعہ ”ردّی“

”ادب عام لوگوں کے بارے میں کچھ غیر معمولی دریافت کا فن ہے اور عام الفاظ سے کچھ غیر معمولی کہنا ہے۔“ ویسے تو یہ الفاظ ہیں ”ڈاکٹر ژواگو“ جیسی شہرہ آفاق کتاب کے ادیب بورس پاسٹرنک کے، لیکن عفت نوید کے افسانوی مجموعہ ”ردّی“ کو پڑھتے ہوئے مجھے بار ہا اس جملے کی صداقت پہ سر دھننے کا جی چاہا۔ عفت کے سادہ زبان اور عام فہم انداز میں لکھے افسانے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے

Read more

اختر جمال: ایک اہم افسانہ نگار کی یاد میں

چونکہ میں نے کم عمری سے ادبی رسائل پڑھنے شروع کر دیے تھے۔ لہٰذا ابتدا میں علامات اور تجریدی کہانیاں لکھنے کے بجائے نسبتاً عام فہم اور سادہ اسلوب میں لکھے افسانے زیادہ متاثر کرتے تھے۔ ایسے افسانے نگاروں میں ایک نمایاں نام اختر جمال کا تھا۔ جن کی ادبی رسائل میں افسانے کے ساتھ تصویر بھی چھپتی تھی۔ گھنے بالوں کا بہت خوبصورت جوڑا، ساڑھی زیب تن کیے ہوئے، با وقار چہرے پہ نمایاں ذہین گہری مگر اداس آنکھیں۔

Read more

انیتا آپا ( انیتا غلام علی) کا ایک خط

( خط سے پہلے تعارفی مضمون ملاحظہ ہو۔ ) میں نے اپنی کتاب ”سب میرے لعل و گوہر“ انیتا غلام علی کے نام کرتے ہوئے لکھا تھا، سیف (سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن ) کی منیجنگ ڈائریکٹر انیتا غلام علی (انیتا آپا ) کے نام جنہوں نے اپنی انتھک محنت سے منچھر جھیل کی کشتیوں تک میں اسکول قائم کر کے محنت کش بچوں کی آنکھوں میں تابناک مستقبل کے سپنے دیکھنے کی جرات پیدا کی۔ ” اپریل 2012 ء میں اس

Read more

گورے رنگ کا زمانہ، کبھی ہو گا پرانا؟

بہت پرانی بات ہے۔ ہماری عمر سات برس سے زیادہ نہ ہوگی۔ وہ زمانہ نسبتاً محفوظ تھا، جب بچے بے خوفی سے باہر کھیلتے اور گھر والے بنا خوف سے دہلے سکون سے باہر کھیلنے دیتے۔ ایک سہ پہر گھر کے باہر کھیلتے کھیلتے ہم نے خاصی دور سے اپنے ایک رشتہ دار کو اپنے گھر کی جانب آتے ہوئے دیکھا۔ جو ہمیشہ ہی ہمیں بہت پیار کرتے تھے۔ اُدھر انہیں آتا دیکھا اِدھر ہم تیزی سے اپنے گھر دوڑ

Read more

موسیقی کی مسیحائی

(جہاں الفاظ ناکام ہوجائیں، موسیقی کلام کرتی ہے۔ ہانز کرسچن اینڈرسن) وقت ظالم ہے جو ایک گھر آنگن میں جیون بتانے والے بہن بھائیوں کو بیدردی سے دور پھینک دیتا ہے۔ کوئی امریکہ تو کوئی انگلینڈ تو کوئی پاکستان میں۔ دوری کے یہ داغ بہت سوں کی قسمت کا حصہ ہیں۔ لیکن فاصلے اور وقت کی سفاکی دلوں پہ لکھی انمٹ محبت کے گیتوں کو کیسے مٹا سکتی ہے۔ تین سال قبل لیڈز (انگلینڈ) سے بھابی نے بتایا کہ ان

Read more

ماضی کی خوش مزاج جیا امیتابھ بچن اتنی چڑچڑی کیسے ہو گئیں؟

ایک زمانہ تھا جب ہندی فلموں کی خوبصورت، بھولی بھالی، دلکش اور باوقار فلمی ہیروئن جیا بچن فلم بینوں کی جان تھی۔ لیکن اب نرم اور دھیمے مزاج کی جیا ایک چڑچڑی اور غصہ ور عورت میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ اپنی بد مزاجی اور چڑچڑاہٹ کی وجہ سے وہ لوگوں کی تنقید کا موضوع بن گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پہ ان کی وائرل ہونے والی ویڈیو پہ کمنٹس میں انہیں فریسٹریٹڈ، ”گڈی“ کی ہیرؤین سے گھمنڈی اور بد دماغ

Read more

ہیلتھ انشورنس کمپنی کے سربراہ کا قتل: امریکہ کے کرپٹ ہیلتھ کیئر سسٹم کے لیے لمحہ فکریہ

یہ واقعہ کسی خاموش سنسان شہر کا نہیں بلکہ ہمہ وقت جاگتے نیویارک سٹی کے علاقہ مڈ ویسٹ مین ہٹن کا ہے جہاں 4 دسمبر بدھ کی صبح چھ بجکر پینتالیس منٹ پہ ہلٹن ہوٹل سے مشہور ہیلتھ انشورنس کمپنی کا پچاس سالہ سی ای او، برائن تھامسن اپنی کمپنی کے ساتھ ہونے والی سالانہ انویسٹرز کانفرنس میں شرکت کر کے نکل رہا تھا۔ اس کو بھلا کیا خبر تھی کی اس وقت دولت کے بجائے موت اس کے تعاقب

Read more

اردو کا دیوانہ اور من کا سچا خلیل الرحمن چل بسا

خلیل الرحمن اور ان کی اہلیہ انجم خلیل سے میرا غائبانہ تعارف اس وقت ہوا جب مجھے امریکہ میں بسے محض چند ہی سال ہوئے تھے۔ ہر پاکستانی گروسری اسٹور اور پاکستانی ریسٹورنٹس میں اردو ٹائمز رکھے ہوتے۔ یہ اخبار مفت ملتا اور میں کہ ایک بے وطن اور اردو سے بچھڑی ایسے لپک کے یہ اخبار اٹھاتی جیسے کوئی میلے میں گم ہوا بچہ اچانک اپنی ماں کو دیکھ کر اس کے سینے میں ہمک آئے۔ یہ کون ہے

Read more

کچھ باتیں خواب دیکھنے والے آشفتہ سر ڈاکٹر شیر شاہ سید اور کینیڈا میں کوہی گوٹھ ہسپتال کی فنڈ ریزنگ پروگرام کی

آٹھ نومبر 2024 ٹورنٹو، کینیڈا میں واقع آغا خان میوزیم کا ہال، جہاں ماسوا چار پانچ خالی سیٹوں کے پورا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ یہ ایک فنڈ ریزنگ پروگرام ہے جہاں فنڈنگ کے بعد رومیو اور جیولیٹ کے اردو مزاحیہ ورژن ”جنت اور رمضان“ کا بھی اہتمام ہے۔ میں نے غور کیا اس تقریب میں شرکت کرنے والے اتنے سارے لوگوں میں جو بات مشترک ہے وہ ان کا والہانہ انسانی محبت کا جذبہ ہے۔ ان میں سے

Read more

رضیہ فصیح احمد کو نوے برس کا سفر مبارک ہو

رضیہ فصیح احمد کو پہلی ستمبر ان کی سالگرہ کے موقع پہ عمر کی نو دہائیوں کا سفر مبارک ہو۔ رضیہ آپا سے ان کی تحریروں کے حوالے سے واقفیت کا ذکر نہ کرنا تو بے ادبی ہوگی لیکن ان سے باقاعدہ طور پہ ذاتی دوستی کا آغاز محض پانچ سال پہ ہی محیط ہے۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے ان کی تحریروں کے علاوہ انہیں بھی پڑھنے کا موقع ملا۔ ان کی شخصیت نے مجھے کئی حوالوں

Read more

جب میں ایک ہم جنس پسند مرد (gay) کی بیوی بنی

روبی سے میری پہلی ملاقات ایک افطار پارٹی میں ہوئی۔ جاذبِ نظر، چھوٹی چھوٹی باتوں پر معصوم بچوں کی طرح کھلکھلا کر ہنسنے والی، خوش مزاج، ملنسار اور صاف گو سی لڑکی۔ اسکی عمر 31 سال کی تھی۔ پاکستان سے میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ امریکہ میں فیلو شپ کررہی تھی۔ عمر کے تفاوت کے باوجود ہم دونوں کے بیچ یگانگت اور اعتماد کا پل قائم ہوچکا تھا لہٰذا پہلی ہی ملاقات میں اس نے اپنی ناکام

Read more

باتیں مٹھو بھیا کی

یہ جو آپ ”رونق شیریں سویٹ مارٹ“ کی بارونق دکان دیکھ رہے ہیں، جہاں بڑی بڑی کڑھایوں سے گرم گرم جلیبیاں اور لذیذ نمک پارے اتر رہے ہیں۔ بس وہیں الٹے ہاتھ پہ، اس کے عین بغل میں ایک ننھی سی ”رضا اسٹیشنری اور فوٹو اسٹیٹ“ کی دکان ہے۔ جہاں فوٹو کاپی کی ایک کچھ بدہیئت سی پرانی مشین، چند مرتبانوں میں بھری رنگ برنگے مٹھائیاں اور دکان کے شیلف پہ پچھلی جانب رکھی بچوں کی کہانیاں اور اسٹیشنری کا

Read more

اور قفل کھل گیا…

جب میں نے صابرہ جبران کو بطور لائبریرین، یونیورسٹی کی کشادہ لائبریری میں، کتابوں کے متلاشی طلبا کو خوش دلی اور مسکراتے لبوں کے ساتھ مدد کرتے دیکھا تو یقین مانیے مجھے لگا کہ جیسے وہ لائبریری کے کمرہ کی قید میں نہیں کسی جنگل کی آزاد فضا میں پر پھیلائے خوشی سے تھرکتی مورنی ہو یا پھر کسی اونچے درخت کی شاخ پہ چہچہاتی، آزادی کے گیت گاتی چڑیا ہو، جس کے قرب میں بہتی ندی میں بدمست اور

Read more

یہ بیٹی میری نہیں۔

جب وہ ان ٹیک (ابتدائی انٹرویو) کے مرحلے کے دو دن بعد میرے کمرے میں آیا، تو دن کے چار بج رہے تھے۔ یعنی پانچ بجے چھٹی سے قبل میرا آخری کلائنٹ۔ میں منشیات کے عادی افراد کی تھرپسٹ اور وہ وہ میرے کیس کا حصہ تھا۔ وجہ تو پتہ نہیں مگر یہ یاد ہے کہ اسدن میں اتنی تھکی ہوئی تھی کہ اگر کوئی کلائنٹ نہ ہوتا تو شاید اپنے کشادہ آرام دہ کرسی پہ خراٹے لے سکتی تھی۔ لیکن اس کو دیکھ کے میں نے چہرے پہ مصنوعی اخلاق اور بشاشت کا خول چڑھایا اور مسکراتے ہوئے اسے مقابل کرسی پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

اس نے بتایا کہ اس کا نام کارٹر ہے اور وہ دو تین قسم کے منشیات کے استعمال کا عادی ہے۔ جس میں سر فہرست کوکین ہے۔ وہ سیاہ فام، پختہ عمر، پستہ قد اؤر متناسب ڈیل ڈول کا مالک تھا۔ اس کے تین بچے تھے۔ پچیس سالہ بیٹا جو اس کے ساتھ نہ تھا بلکہ بچپن سے ہی ڈیٹرائیٹ کی گلیوں میں کھویا ہوا تھا۔ مشی گن ریاست کا شہر ڈیٹرائیٹ جہاں جرائم کا تناسب، بے روز گاری اور منشیات کا استعمال اپنے زوروں پہ ہے۔ اور جہاں حکومت کی بے توجہی اس لیے بھی رہی ہے کہ اس شہر میں افریقی نسل کالے اور غریب لوگوں کی اکثریت ہے۔

Read more

آپ نے پاکستان کیوں چھوڑا؟

وہ زمین جہاں آپ نے آنکھ کھولی ہو، روز صبح اسکول میں قومی ترانہ پڑھا ہو، بارش کے پانی میں کاغذ کی کشتیاں بنا کے تیرائی ہوں، بیریوں کے پیڑ پہ پتھر مار کے رسیلے میٹھے بیر توڑے ہوں، چلچلاتی گرمی میں چھت پہ چڑھ کے پڑوس کے آم کے درخت سے چوری چھپے توڑ کے کچی کیریاں کھائی ہوں۔ یادوں کے ان گنت ذائقوں کو بھلا کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ نقل مکانی کے بعد یہ یادیں دل و

Read more

”خوشبو میں بسے خط“ اور سماج کا گند

”عدیلہ یہ عورتیں کون ہوتی ہیں، جن کے ساتھ تم مجھے منسوب کرتی ہو؟ مجھ پہ الزام لگاتی ہو۔ کون ہوتی ہیں یہ عورتیں؟ یہ بچاری زمانے کی ٹھکرائی ہوئی لاچار عورتیں ہوتی ہیں۔ محبت کے لفظ کی بھوکی۔ انہیں میں، احمد زریاب، اپنی محبت سے بناتا ہوں، سنوارتا ہوں، سجاتا ہوں، نکھارتا ہوں۔ میں اپنی محبت کے اوکسیجن سے ان کے مردہ وجود میں جان ڈالتا ہوں۔ انہیں زندہ رکھتا ہوں۔ اور تم کیا تھیں۔ تم بھی تو یہی

Read more

کتاب: جراثیم۔ زندگی اور موت کے ساتھی

مصنف : ڈاکٹر نظام دامانی مترجم : ڈاکٹر شیر شاہ سید پچھلے دنوں جس اہم کتاب نے مجھے ازحد متاثر کیا اس کا نام ہے، جراثیم۔ زندگی اور موت کے ساتھی۔ میری دلچسپی جراثیم سے متعلق علم سے ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ میں نے پاکستان میں مائیکرو بیالوجی میں ماسٹرز کے بعد کالج کی سطح پہ تقریباً ایک دہائی طالبات کو مختلف قسم کے جراثیم سے ہونے والی بیماریاں پڑھائیں۔ پھر امریکہ میں سوشل ورک کی ڈگری

Read more

جنگ کے خلاف طلبا تحریکیں

گزشتہ کئی دنوں سے اسرائیل اور حماس جنگ کے خلاف امریکی ٹی وی پہ دکھائے جانے والے طلبا کے احتجاج نے میرے ان آنسوؤں کو پونچھنے میں مدد کی ہے جو سات ماہ پہلے شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی پہ بہنے شروع ہوئے تھے۔ اس طلبا احتجاج سے مجھے اپنی طالب علمی کا دور بھی یاد رہا ہے کہ جب میں نے این ایس ایف (طلبا تنظیم) کے دوسرے طالب علموں کے ساتھ

Read more

خوابوں کے صورت گر احفاظ الرحمن کا شکریہ

ہم پہ بہت سے لوگوں کے احسان ہوتے ہیں جن کی شکرگزاری کا کبھی ہم اظہار کرتے ہیں اور کبھی اپنا حق سمجھ کے نہیں بھی کرتے۔ لیکن جب کوئی آپ کی پہلی کتاب اس وقت چھپوائے جب آپ کو یقین ہی نہ ہو کہ کتاب چھپنے کا یہ خواب کبھی پورا بھی ہو سکتا ہے تو وہ احسان معمولی نہیں ہوتا۔ اور ہم سب کو پتا ہے کہ صحافی احفاظ الرحمن ہر کام غیر معمولی ہی ہوا ہے۔ آخرکار

Read more

جنگ نے آخر کام تمام کیا

گہری رنگت، بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، چوڑی پیشانی، سیاہ، چھوٹے تراشیدہ بالوں کی وگ، قدرے لمبا قد، متوازن جسم اور عمر شاید اڑسٹھ سال کے قریب ہو گی۔ انڈریا کا مسئلہ درد کش دواؤں کا استعمال تھا۔ اب وہ میتھوڈون کلینک میں اپنے علاج کے آخری مراحل پہ تھی۔ ماسوا میتھڈون کی انتہائی قلیل مقدار کے جو اس کے علاج کا حصہ تھی، وہ کچھ ہی دنوں میں میتھوڈون کے استعمال سے بھی آزاد ہو جائے گی۔ الکوحل کو، جو

Read more

دلِ بے تاب: ڈاکٹر شیر شاہ سید کی نئی کتاب

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ شیر شاہ کون؟ تو میں کہوں گی کہ سماج میں بکھرے رنج و الم کو سمیٹنے کا دوسرا نام شیر شاہ سید ہے۔ سالہا سال سے ڈاکٹر شیر شاہ نام و نمود کی طمع سے دور، انسانیت کا بھاشن دیے بغیر مصروف پیکار ہیں ؛کبھی غریب عورتوں کے فیسٹولا کے لیے مفت سرجری کیمپ لگاتے ہوئے تو کبھی سماج میں بکھری، دلوں کو چیرتی کہانیوں کو قلمبند کرتے ہوئے، تو کبھی ہفتہ وار ریڈیو

Read more

بڑے لوگوں کا بچپن: باتیں رضیہ فصیح احمد سے

ویسے تو اردو ادب کی لیجنڈ، ”آبلہ پا“ ناول آدم جی پرائز یافتہ، رضیہ فصیح احمد، جنہیں میں رضیہ آپا کہتی ہوں، میری زندگی میں ابتدائی لڑکپن سے ہی داخل ہو چکی تھیں لیکن صرف اپنی تحریروں کے حوالے سے۔ خوش قسمتی سے اب وہ باقاعدہ میری زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ عمر کے فرق پہ مت جائیے گا۔ ہم دونوں ہی امریکہ نقل مکانی کے تجربے سے آشنا ہوئے اور ہم مزاج لوگوں کے متلاشی رہے ہیں۔ اسی تلاش

Read more

شمالی امریکہ کے نیٹیو امریکن بورڈنگ اسکولوں میں ثقافتی نسل کشی

تصوّر کیجیے آپ کی عمر چھ سات سال کی ہے اور آپ کو کسی دن اپنے والدین سے چھین کے کوسوں دور یورپین تعلیم و تہذیب میں ضم کرنے کی غرض سے کسی بورڈنگ اسکول میں رہنے پہ مجبور کیا جائے۔ جہاں آپ کے والدین کا دیا قبائلی نام بدل کر انگریزی نام اور ایک شناختی نمبر دیا جائے۔ آپ کے حلیہ، لباس اور غذا کو غیر متمدن اور جنگلی قرار دیتے ہوئے یورپی رنگ میں ڈھالا جائے اور آپ

Read more

شمالی ایریزونا کا عجائب خانہ

دو سال قبل میری گرینڈ کینین نیشنل پارک (ایری زونا، امریکہ) دیکھنے کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔ جس کا شمار دنیا کے سات عجائبات میں ہے۔ گہرے اور ہلکے مختلف رنگوں کی چٹانوں، کھائیوں وادیوں اور اس کے بیچ بہتے دریاؤں کو دیکھنا اور ان کے مسحور کن حسن کی ہیبت کو اپنے میں محسوس کرنا اپنے تئیں ایک عجب روح پرور تجربہ ہے۔ جہاں بارہ ہزار قبل رہنے والی انسانی تہذیب کا پتہ چلتا ہے۔ ان تراشیدہ چٹانوں کو

Read more

زمین کی بیٹی آفرین قیومی سے کچھ باتیں

پچھلے سال میری ملاقات اپنی دوست کی بیٹی آفرین سے البامہ میں ہوئی جو اپنی زندگی کے ساتھی رسل کے ساتھٹرنٹن، جارجیا سے بطور خاص ہم سے ملنے آئیں۔ دونوں اپنی ساتھ اپنے بیس ایکڑ رقبہ پہ محیط کھیت میں اگائی ڈھیروں سبزیاں بھی ساتھ لائی۔ درختوں سے اتری مختلف رنگوں کی تازہ اور خوش رنگ سبزیوں کی قوس و قزح اس نوجوان جوڑے کے محبت سے کھلے شاداب اور تر و تازہ چہروں کی مانند مجھے بہت بھلی لگی۔

Read more

سوانح عمری ”گئے دنوں کی یاد“ تحریر ایم اے قوی

تبصرہ نگار: گوہر تاج لندن میں رہنے والے اکثر لوگ ایک ایسے سر پھرے شخص سے واقف ہیں کہ جو خواہ آندھی ہو یا طوفان، برفباری ہو یا موسلادھار بارش، سالوں ہر ہفتے لندن کے پاکستانی ہائی میشن کے سامنے پرویز مشرف کی فوجی اور غیر جمہوری حکومت کے خلاف ہاتھ میں پوسٹر اٹھا کے تنہا کھڑا ہوتے، جو ان کا فوجی اور غیر جمہوری حکومت کے خلاف پر امن احتجاج تھا۔ پوسٹر پہ درج تھا۔ ”پاکستان میں آمریت کا

Read more

اور ”میری“ سوتی رہ گئی

جب میری رچرڈ ہین سے پہلی ملاقات ہوئی اس کی عمر پچیس سال کچھ ماہ تھی۔ اس کے چارٹ پہ یہی درج تھا۔ بھاری بھرکم جسم، گول مٹول چہرہ، دبی ناک، چھوٹی چھوٹی کھنچی ہوئی آنکھیں، جن میں جواں عمری کے باوجود جوانی کی مستی کی رمق تک نہ تھی۔ جھانکو تو لگے جیسے دور تک پھیلا درد کا صحرا ہو، جہاں تا حد نگاہ تنہائی کی خاک اڑ رہی ہو۔ نسبتا پتلے ہونٹ جنہیں وہ بات کرتے دانتوں سے

Read more

فلسطین کی لیلیٰ خالد: آزادی کی متوالی یا دہشت گرد؟

”میں لیلی خالد ہوں۔ میں وہ فلسطینی ہوں جو 75 سال سے ابھی تک پناہ گزین ہے۔ میں پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین کی سینٹرل کمیٹی میں ہوں۔ اس وقت اردن (عمان) میں رہتی ہوں۔“ یہ تعارفی جملے مشہور فلسطینی لیڈر 79 سالہ لیلی خالد نے اپنے حالیہ انٹرویو کی ابتدا میں ادا کیے۔ ان کا یہ انٹرویو حماس کے سات اکتوبر 2023ء کے اسرائیل پر حملے اور اس کے نتیجہ میں شدید بربریت کا مظاہرہ کرنے والے اسرائیلی

Read more

سندھ ہائی کورٹ کی پہلی خاتون جج ماجدہ رضوی سے ملاقات

پہلی بار میری ملاقات پاکستان کی ہائی کورٹ میں نامزد ہونے والی پہلی خاتون جج ماجدہ رضوی سے ”پناہ“ میں ہوئی تھی، یہ ادارہ کراچی میں واقع گھریلو تشدد کی ماری عورتوں اور بچوں کی عارضی تحفظ گاہ ہے۔ ماجدہ رضوی صاحبہ اس ادارے کے بانیوں میں شمار ہیں۔ کیونکہ میرا مقصد ”پناہ“ اور اس میں تحفظ لینے والوں کی تفصیل معلوم کرنا تھا۔ لہٰذا اس دن ماجدہ رضوی صاحبہ سے مختصر سی ہی بات ہو پائی۔ خوش قسمتی سے،

Read more

مخالفین میں گھری بہادر شیرنی: شیما کرمانی

کئی سال قبل کراچی میں شیما کرمانی سے میری پہلی ملاقات دو دوستوں کی مہربانی کا ثمر تھی۔ ایک تو عزیز دوست ڈاکٹر شیرشاہ سید، جنہوں نے پہلے ہی شیما سے میرا غائبانہ مختصر تعارف کروا دیا تھا کہ میری دوست گوہر تاج اردو ٹائمز کے لیے آپ کا انٹرویو کرنا چاہتی ہیں۔ اس زمانے میں امریکہ کا مشہور اخبار اردو ٹائمز میری قلمی مشق کا ہفتہ وار شکار تھا۔ دوسری میری بہت مہربان دوست مہناز رحمان۔ جن کا ہمیشہ

Read more

جنگ سے متاثر بچے اور ان کا نسلی المیہ

سات اکتوبر 2023ء کو فلسطینیوں کی حامی جماعت حماس کے حملے نے دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ اسرائیل کے دعوی کے مطابق اس میں چودہ سو اسرائیلی افراد مارے اور 240 افراد یرغمال بنا لیے گئے۔ اس حملہ کو اسرائیل نے دوسرے ”نائین الیون“ حملہ سے تعبیر کیا۔ اور اپنے دفاع کے نام پہ جو اباً فلسطین کے شہر غزہ پٹی پہ شدید جارحانہ فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔ ہسپتال ہویا

Read more

ناروے پہ نادرہ مہر نواز کی نادر کتاب ”ناروے پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک“

نادرہ مہر نواز سے میں غائبانہ طور پہ اس وقت سے واقف ہوں کہ جب وہ کسی ڈائجسٹ میں افسانے اور انٹرویوز لکھ رہیں تھیں۔ میری بڑی بہن خواتین کے ڈائجسٹ میں چھپنے والے افسانے بڑے شوق سے پڑھتیں تھیں۔ میرا رجحان اور دلچسپی افسانوں کے بجائے انٹرویوز کی حد تک ہی تھی جسے میں عموماً دس پندرہ منٹ میں پڑھ لیا کرتی تھی اور بس۔ لیکن اتفاق سے ایک دن ایک افسانے کی ابتداء نے میری توجہ کھینچ لی۔

Read more

کیا منشیات کی علت کا علاج ممکن ہے؟

( 26 جون منشیات کے استعمال کے خلاف مختص بین الاقوامی دن کے موقعہ پہ لکھی تحریر) یہ دور انٹر نیٹ کا ہے۔ جہاں اکثر محض غلط فہمیاں اور قیاس آرائیاں اس سرعت رفتاری سے پھیلتی ہیں جیسے تیز تند ہوا دور دراز فاصلوں تک پودوں کے بیج پھیلاتی ہے۔ سوچ جو محض مفروضہ کی بنیاد پہ نمو پائے خطرناک ہوتی ہے اور اس کے دور رس اثرات اتنے مضر ہوسکتے ہیں جن کا سوچنا بھی محال ہے۔ منشیات کا

Read more

شہناز احد کی کتاب: مسافتوں کی دھول

کراچی آرٹس کونسل میں ڈاکٹر شیر شاہ سید پہ تالیف میری کتاب ”دل چارہ گر“ کی تقریب رونمائی تھی۔ شیرشاہ نے تقریب میں اپنے متعلق پڑھنے کے لیے جن چند ناموں کا انتخاب کیا ان میں شہناز احد کا نام سرفہرست تھا۔ جب میں نے شہناز کی لگی لپٹی رکھے بغیر سچائی سے لکھی تقریر سنی تو مجھے اندازہ ہوا کہ جو کچھ انہوں نے کہا وہ تو کوئی اور لکھ ہی نہیں سکتا تھا ما سوا اس کے جو

Read more

پارو پگلی مٹی میں کیا ڈھونڈتی ہے؟

ایک دن پارو مجھے یونیورسٹی کی کینٹین میں مل گئی۔ بس اچانک ہی۔ شاید سات آٹھ سال بعد ۔ اب ہم دونوں بچپن کی حدود پار کر چکے تھے۔ میری بارہ تیرہ سال کی عمر تک تو باقاعدہ ان کی امی برقعہ میں لپٹی اپنے تین بچوں کے ساتھ ہمارے گھر آتی رہی تھیں مگر پھر وقت اور بڑھتی مصروفیات کے ساتھ ملنا جلنا منقطع سا ہو گیا۔ لیکن بھئی سب کچھ بھلایا جاسکتا ہے پر پارو کی موٹی کجریلی

Read more

صحت عامہ کے محاذ پہ صف آرا لیڈی ہیلتھ ورکرز

مارچ 2023 ء پاکستان میں گزارے تمام دن ہی یادگار تھے۔ لیکن جب میں نے کراچی کی سڑکوں پہ بینر اٹھا کے ملک کی لیڈی ہیلتھ ورکرز کے حقوق کے لیے نعرے بلند کیے وہ میرا سب سے بہترین دن تھا۔ اس دن تاریخ تھی سات مارچ۔ جب میں پروگرام کے مطابق اپنی پیاری ساتھی اور استاد مہناز رحمن (عورت فاونڈیشن کی ڈائریکٹر) کی سنگت میں کراچی آرٹس کونسل پہنچی۔ مہناز رحمن عورتوں کے حقوق کی علمبردار اور ہمہ وقت

Read more

معیشت دان قیصر بنگالی کی باتیں

”روم جل رہا تھا اور نیرو چین کی بانسری بجا رہا تھا۔“ اب اس فقرہ کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے تاریخ میں جھانکنے کی ضرورت نہیں پاکستان جائیے اور دیکھیے کہ کتنے سیاست دان اور فوج کے اعلیٰ عہدہ دار بے حس نیرو کی شکل میں ملک کو جلتا دیکھ رہے ہیں اور چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت سری لنکا کے راستے پہ چلتے ہوئے بینکرپسی (دیوالیہ) کے دہانے پہ کھڑا ہے۔ اس ملک

Read more

ڈاکٹر شیر شاہ سید کی نئی تالیف: خواجہ غلام عباس کا نیا سنسار

معاف کیجیے گا مجھے عہد ساز لوگوں کی زندگیوں میں تاک جھانک کی کچھ عادت سی ہے۔ اکثر میں ان کی زندگی کی بابت تحقیقی کھدائی میں مصروف عمل رہتی ہوں۔ اس طرح غیر شعوری طور پہ اپنی تحریر کو آئینہ کرنا اور دوسروں کی غیر معمولی شخصیت کے درشن کروانا غالباً میرا فطری رجحان اور شوق ہے۔ تاہم مجھے افسوس ہے کہ اردو کے بڑے ادیب، فلمساز اور کالم نگار خواجہ احمد عباس کے فن سے میری ملاقات خال

Read more

ایوان سلمی اعوان میں دو دن

سلمی اعوان میری فیس بک فرینڈ ہیں۔ ان کی علمیت اور ادبی قد و قامت سے کون واقف نہیں۔ اگر ان کو اردو سفر ناموں کی بے تاج ملکہ کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ وہ سیاحت کے ازلی عشق میں مبتلا ہیں۔ کہسار، دریا، سمندر اور اور دنیا کے ہر خطہ سے کشید تاریخ پہ مبنی کبھی سفر نامے تو کبھی تاریخی فکشن کو اس ماہرانہ انداز میں قلمبند کرتی ہیں کہ آپ حیران ہوجائیں۔ ان کے بلا کے مطالعہ اور مشاہدہ کی صلاحیت سے کون کافر ہے جو منکر ہو۔

وہ لوگ جو سلمی اعوان سے ذاتی طور پہ واقف ہیں انہیں اس کا بھی بخوبی اندازہ ہو گا کہ وہ لکھاری ہی نہیں پیدائشی ماں اور ایک صوفی منش انسان بھی ہیں جن کی پٹاری سے دوسروں کے لیے سوائے دعاؤں اور محبت کے کچھ نہیں۔ ظاہر ہے ایسے خالص انسان سے ازلی رشتہ جڑنا تو ہماری ضرورت ہی نہیں اعزاز بھی ہے۔

Read more

باتیں گل بی بی سے

کراچی کے قیام کے دوران میرا ملاقات کا عمومی تجربہ اونچے متوسط اور متوسط طبقے کے ساتھ رہنے اور وقت گزارنے کا تھا۔ ایسے تمام گھروں میں روزانہ کام کرنے والیاں آتی ہیں۔ جن پہ پورا گھرانا اپنے معمولی سے کام کے لیے بھی انحصار کرتا ہے۔ ان گھروں میں بھی جہاں عورتیں تقریباً فارغ بیٹھی رہتی ہیں۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے پوری عمر نوکری نہیں کی اور وہ بھی جو اب ملازمت سے فارغ ہوکے

Read more

”دل چارہ گر“ رکھنے والے کو دلی تہنیت پیش کرنے کی تقریب

اب کی بار پاکستان جانے میں مجھے چار سال لگ گئے۔ اس عرصے میں میرا ایک خواب مجھے پریشان کر رہا تھا۔ اس خواب کی ایک قسط تو پہلے ہی پوری ہو چکی تھی یعنی تین سال قبل کتاب ”دل چارہ گر“ کی اشاعت۔ اب اس کتاب کی تقریب کا جشن منانے جو دراصل ڈاکٹر شیر شاہ کی انسانی خدمات کے جشن کا خواب تھا ابھی ادھورا ہی تھا۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ کتاب شیر شاہ سید پہ

Read more

دینا جناح: رتی اور جناح کی محبت کا تنہا پھول

رتی اور جناح کی محبت کی ابتدائی داستان کچھ اساطیری سی محسوس ہوتی ہے۔ مگر اس کا انجام کچھ ایسا دردناک کہ جیسے کسی باد سموم نے الفت کے چمن کو نیست و نابود کر دیا ہو۔ بس اس محبت کی شاخ پہ کھلا ایک تنہا پھول ہی رہ گیا۔ جی ہاں جناح اور رتی کی مکمل طور پہ نہ پنپنے والی محبت کی کہانی کی واحد نشانی ان کی بیٹی دینا تھیں جو اپنی ذات میں بھرپور، ماں کی

Read more

خورشید حسنین کی شاعری میں انسانوں کے خواب

میں کوئی شاعر ہوں اور نہ ہی نقاد لیکن میرے ہاتھ میں شاعری کی کتاب ”کنار آب کا خواب“ ہے جس کو پڑھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ شاعر اور مجھ میں کوئی قدر مشترک ہو یا نہ ہو، سماجی ترقی، انصاف پسندی اور انسانی زندگی کی بہتری کے خواب اور ان کی تکمیل کی خواہش ضرور مشترک ہے۔ خورشید حسنین اپنی طالب علمی کے زمانے میں ایک ترقی پسند انقلابی لیڈر کے طور پہ ابھرے۔ شاعر اور افسانہ نگار

Read more

رتی اور جناح: اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا

آج پچیس دسمبر ہے۔ جب پوری پاکستانی قوم اپنے رہبر قائد اعظم محمد علی جناح کی سالگرہ منا رہی ہے۔ مجھے قائد کی ذات سے جڑی ایک جیسی کومل سی حسین لڑکی کا خیال آ رہا ہے۔ جس کو اولوالعزم اور ثابت قدمی سے زندگی گزارنے والے مسلمانوں کے بظاہر سخت دل لیڈر نے اپنا دل دیا تھا۔ اس پھولوں جیسا حسن رکھنے والی کم سن لڑکی کی اپنے محبوب کے ساتھ پریم کہانی کی ابتدا تو بہت تصوراتی پریوں

Read more

کنار آب کا خواب

خورشید حسنین کی شاعری میں انسانوں کے خواب میں کوئی شاعر ہوں اور نہ ہی نقاد لیکن میرے ہاتھ میں شاعری کی کتاب ”کنار آب کا خواب“ ہے جس کو پڑھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ شاعر اور مجھ میں کوئی قدر مشترک ہو یا نہ ہو، سماجی ترقی، انصاف پسندی اور انسانی زندگی کی بہتری کے خواب اور ان کی تکمیل کی خواہش ضرور مشترک ہے۔ خورشید حسنین اپنی طالب علمی کے زمانے میں ایک ترقی پسند انقلابی لیڈر

Read more

میرٹھ چھاؤنی، کیمپ نمبر 28 میں گزارے 22 ماہ ( 1 )

(دسمبر 1971 ء کی جنگ کے بعد کیمپ میں محصور ایک کم عمر شہری جنگی قیدی کی ببتا) جہاں ماہ دسمبر میں چلنے والی سرد ہوائیں آپ کے وجود کو یخ بستہ کرتی ہیں، وہیں ہر سال اسی ماہ لاکھوں پاکستانیوں کے دلوں میں شدید دکھ، ندامت، ہزیمت، اور تاسف کا لاوا بھی آتش فشاں کی صورت پھٹتا ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو اکیاون برس قبل سولہ دسمبر 1971 ء میں مشرقی پاکستان میں بھارت سے جنگ میں شکست

Read more

سقوط ڈھاکہ: ان آنکھوں نے کیا کیا دیکھا

(سقوط ڈھاکہ کے ایک عینی شاہد کی داستان) آج سولہ دسمبر ہے یعنی پاکستان کی تاریخ کا وہ المناک دن جب بننے کے چوبیس سال ملک دو لخت ہوا۔ بنگلہ دیش کے دورے سے واپسی کے بعد فیض صاحب اپنی نظم ”ڈھاکہ سے واپسی پہ“ حزن و ملال کی کیفیت میں لکھا۔ کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد اس نظم کو دکھ اور تاسف کے ساتھ پڑھتے

Read more

نسلوں کا زہر – ایک نیٹو امریکن لڑکی کی دردناک کہانی

جنجر سے میری ملاقات امریکہ کے شہر ڈیٹرائیٹ کی وین اسٹیٹ یونیورسٹی میں ہوئی۔ جہاں ہم دونوں سوشل ورک میں ماسٹرز کر رہے تھے۔ گوری رنگت، ہلکے بھورے بال، لمبا قد۔ دھیما لہجہ، نرم آواز میں بات کرتی، ایثار کا پیکر اور پڑھائی میں میری معاونت کے لئے ہر وقت تیار۔ مجھے اس سے دوستی کرنے میں کچھ وقت نہ لگا۔ اس نے بتایا کہ وہ انگزائٹی، پینک اٹیک اور ڈپریشن کا شکار ہونے کی وجہ سے باقاعدگی سے دوائیاں

Read more

لفظوں کے بازیگر۔ اردو کے نامور شاعر ڈاکٹر منیب الرحمن سے گفتگو

مجھے ڈیٹرائیٹ میں منعقد ہونے والی شعری نشستوں میں شرکت کا بارہا موقعہ ملا جہاں اکثر داد و تحسین اور واہ واہ کے شور و شین میں جب ایک شاعر کے نام کا اعلان کیا جاتا ہے تو ایک لمحہ کو ان کے استقبال میں خاموشی سی طاری ہوجاتی ہے اور تب ایک سیدھے، اکہرے جسم کے ایک شخص پروقار انداز سے مائیک کی جانب محو خرام ہوتے ہیں۔ دفعتا ان کی شاعری کا رعب حسن سامعین کو اپنے سحر

Read more

عورتوں کے حقِ رائے دہی سے جوتا چٹائی تک

امریکہ میں 26 اگست عورتوں کے مساوانہ دن ”ویمنز ایکوالٹی ڈے“ کے نام مختص ہے۔ یعنی اس دن سالہا سال بعد خواتین کی نسلوں پہ محیط جدوجہد رنگ لائی اور بلاخیر امریکہ کے قانون میں انیسویں ترمیم کے بعد 26اگست 1920 میں کانگریس سے بل پاس ہونے کے بعد صنفی تخصیص کے بغیر مساوانہ طور پہ عورتوں کو رائے دہی یعنی ووٹنگ کا حق ملا۔ ابھی میں اس موضوع پہ لکھنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ ہماری ریاست مدینہ،

Read more

”آنسوؤں کی پگڈنڈی“: امریکہ میں نیٹیو (مقامی) امریکنوں کی نسل کشی

”ہم خاصے طویل وقت تک ایک نئے راستے کی جانب چلتے رہے۔ اپنی جگہ (آبائی گھروں ) کو چھوڑنا بہت برا لگتا ہے۔ عورتیں بین کرتیں، اداسی کے نالے۔ بچوں کی آہ و بکا، اور بہت سے مرد بھی روتے، مغرب کی جانب جا رہے ہیں۔ دن گزرتے رہے اور ( راہ میں ) لوگ مرتے رہے۔ جنہیں ہم راستے میں دفناتے رہے۔“ (آنسوؤں کی پگڈنڈی پہ چلنے والے ایک انسان کے الفاظ) شاید ہم سب کی زندگیوں میں بھی

Read more

ثانیہ خان۔ امریکی پاکستانی کمیونٹی میں ایک اور قتل

اٹھارہ جولائی 2022ء کو پاکستانی کمیونٹی میں ایک اور قتل ہوتا ہے۔ اس دفعہ 29 سالہ ثانیہ کا قاتل اس کا 36 سالہ سابق شوہر راحیل احمد ہے۔ جو ٹینیسی سے سات سو میل کا فاصلہ طے کر کے شکاگو، ثانیہ کے گھر آتا ہے اور پہلے ثانیہ اور پھر خود اپنی آپ کو گولی مار کے ہلاک کر دیتا ہے۔ طلاق مکمل ہو جانے کے باوجود اس کے شوہر کو اس کا خواب دیکھنا اور اور آزادی سے زندگی

Read more

جانوروں کی آغوش عافیت میں پلنے والے جنگلی(feral)بچے

ہم میں سے کون ایسا ہو گا جو مشہور زمانہ کردار ٹارزن سے واقف نہ ہو؟ قدیم روم کے دیو مالائی کردار رومیلس اور ریمس، ہو یا جنگل بک کی ماؤگلی ان سب متحیر کن کہانیوں کا مشترکہ موضوع یہ ہے کہ ان انسانی کرداروں کو جنگل کے جانوروں نے والدین بنکر پروان چڑھایا۔ ان حیرت انگیز کرداروں کی حرکات و سکنات میں ایک طرح کا رومانس ہے۔ لطف و دلچسپی کا پہلو ہے۔ لیکن ان تخیلاتی رومانی داستانوں کے

Read more

ایک پناہ گزین کی داستان حیات: ”ریفیوجی“

پچھلے کئی دنوں جس سوانح عمری نے مجھے اپنے سحر میں مبتلا رکھا، وہ کسی ایک فرد یا خاندان کی زندگی کی ہی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی پناہ گزین قوم کی ہجرت کی داستان ہے جسے کبھی مذہب تو کبھی لسانی و نسلی تفریق کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ سفر مسلسل ہے ایک مستقل جائے سکونت کی تلاش کا، یہ داستان ہے درد اور خون کے دریا عبور کر کے ترک سکونت پہ مجبور ہونے والی تین نسلوں کی

Read more

امریکہ میں آباد ایشیائی امریکی: “ماڈل اقلیت”، ذہنی امراض اور خودکشی کا مثلث

یہ واقعہ ہے امریکی ریاست مشی گن کے ایک شہر ٹرائے کی پرسکون اور خاموش بستی کا جہاں مخلوط امیگرنٹ اور مقامی قومیت سے تعلق رکھنے والے کھاتے پیتے گھرانے آباد ہیں۔ اس پرسکون بستی کی فضا میں ارتعاش اس وقت پیدا ہوا جب اس سال مارچ کی پہلی تاریخ کو ایک روح فرسا واقعہ پیش آیا جس نے خاص کر پاکستانی کمیونٹی کو ہلا کے رکھ دیا۔ مختلف ذرائع سے ملنے والی خبروں کے مطابق صبح کے گیارہ بجے

Read more

پاکستان عہد حاضر میں: ایک اہم کتاب

جب انسان ناداری و بیماری سے نبرد آزما ہو تو تکلیف کے عالم میں آئینہ دیکھنا اسے مزید آزار میں مبتلا کرتا ہے۔ ایسا ہی کچھ حال کتاب ”پاکستان عہد حاضر میں“ پڑھتے ہوئے میرا بھی ہوا۔ فکشن کی کسی کتاب کی دلچسپ کہانی اور کردار آپ کو انگلی پکڑ کے اپنے ساتھ نگر نگر کی سیر کراتے ہیں۔ لیکن اگر کتاب کا موضوع خود اپنی ذات بلکہ نسل در نسل بیتے واقعات سے جڑا ہوا ہو تو اندرون ذات کا

Read more

عفت نوید کی خود نوشت: دیپ جلتے رہے

دیپ جلتے رہےاور بوتل کے جن والی عفت نوید میرا عفت سے ناطہ پہلی بار اس کی زندگی کے ایک باب کو پڑھنے کے بعد ہی جڑ چکا تھا۔ عنوان تھا "میرانیس کے گھرانے کی سنی بہو"۔ پھر اس کے مزید چھپنے والے مضامین میں اسکی سچائی،  سماجی مسائل پہ گہری نظر اور انسانوں سے بے لوث محبت۔بناوٹ، دکھاوا اور نام و نمود کی طمع سے کوسوں دوری نےبتدریج  مجھے اس کے مزید قریب کر دیا۔یہ بات تو ہوئ دوستی کے حوالے سے۔ اب جبکہ اسکی سوانحعمری  "دیپ جلتے رہے ” کی کتابی صورت میں شائع ہو چکی ہے میں بطور سوشل ورکر ضروری سمجھتی ہوںکہ ذہنی امراض کے حوالے سے کچھ بات کروں۔ گو اس سوانح میں درج سماجی موضوعات کے تنوع کےاعتبار سے یہ عفت کی کتاب کے ساتھ ذیادتی ہوگی لیکن میری نظر میں جو موضوع اس کتاب کو بہت منفردبنا رہا ہے وہ معاشرے میں ذہنی امراض سے آگہی اور شعور کہ جسکا ہمارے معاشرے میں شدید فقدانہے۔ چونکہ ہمارے سماج میں ذہنی امراض معاشرتی تہمت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان امراض کو پہچاننا، قبول کرنااور ان میں مبتلا مریضوں کو اپنانا اکثر ناممکنات کے زمرے میں آتا ہے۔  عفت نے اپنی جیون ساتھی مشہور شاعر اور دانشور احمد نوید سے محبت کی، انکے مرض کو سمجھا ، بساط بھرعلاج میں کوئ کسر نہ رکھی اور زندگی کی تماتر کٹھنائیوں سے نپٹتے ہوۓ بھی اپنی لازوال محبت کے دیپجلاۓ رکھے۔ عفت کی زندگی کی کہانی  پڑھتے ہوۓ   مجھےاپنے بچپن کی کہانی میں پڑھا  بوتل والا وہ جن  یاد  آتا رہا جو اپنے سرکار کے ہر حکم کا تابع دار تھا۔اور "کیا حکم ہے میرے آقا؟” کہتے ہوۓ وہ  ہر ناممکنکام کو ممکن بنا دیتا۔ عفت نے بھی ایسی زندگی بسر کی کہ جہاں اسکی بے غرض محبت، جفاکشی ، انصافپسندی ، جراتمندی اور حس ظرافت بوتل کے جن میں حلول کر کے مشکل کاموں کو ممکن بناتی رہی اورزندگی کے دیپ جلاتی ہی چلی گئی۔ عفت کی ازدواجی زندگی کی تین دھائیوں کی کڑی مسافت ہچکولوں اور دھکوں کے باوجود میر احمد نوید کےسنگ مزے سے گذری ۔کیونکہ بقول عفت "میری خوش نصیبی کہ وہ میرا بہترین دوست ہے۔" عفت کا تعلق خیرپور سے ہے۔ جبھی اسکی بود و باش میں سندھ کی  مٹی کی مٹھاس ، نرمی ، سادگی اورسچائ ہے۔ لیکن انسانوں سے جڑ ے رہنے اور ان کے دکھوں پہ سراپا احتجاج لکھاری ہونا اسکا اپنےوالدین سے ملا ورثہ۔ تاہم کراچی شہر میں عفت اور نوید کی یکجائ میں مشترکہ ادب پروری کا ہاتھ ہے ۔کراچی کے باسی میر احمد نوید،  میر انیس کے گھرانے کے فرزند اور انہی کے نقش قدم پہ چلنے والے باکمالشاعر ۔  احمد نوید کی الفت کی اسیری میں سرشار عفت کو شادی سے پہلے اپنے محبوب کی طبیعت کی وحشتوں کا علمہو چکا تھا۔ "بےتکان بولتے کبھی بولتے بولتے اچانک غصہ میں آجاتے۔ ”  علامت سے ظاہر ہے کہ وہ بائپولر ڈس آرڈر کا شکار تھے جو ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔کہ جسمیں مریض کا موڈ کبھی یاسیت تو کبھی منیکحالت میں ہوتاہے۔ لیکن انکے مزاج کے بدلتے موسموں ، یاسیت اور وحشتوں کے دوروں ، نروس بریکڈاؤن، ہائ ڈوز دوائیوں ، انجیکشن اور رعشہ سے کانپتے وجود نے عفت کے شادی کے فیصلہ کو متزلزلنہیں ہونے دیا۔ "ہم نے کہا یہ ایک مرض ہے کوئ برائ نہیں۔” ۔ایک ذہنی مرض میں مبتلا شخص وہ بھیشاعرکو اپنانا یقینا آسان نہ تھا ۔ جبھی توعفت لکھتی ہیں” اچھی اداکاری تماشائیوں کو تالی بجانے پر اکساتیہے۔ زندگی کی حقیقی داستان کے موڑ آسانی سے نہیں کاٹے جاتے ۔ اذیت ، مصیبت بلائیں ہر موڑ پر بکلمارے بیٹھی ہوتی ہیں۔" عفت نےازدواجی زندگی میں محض  گھریلو ذمہ داری ہی نہیں ادا کی ، بلکہ ملازمت کے ساتھ ساتھ بچوں کیپرورش کا فریضہ بھی نبھایا۔ خود احمد نوید نے اسکا اعتراف کیا ہے کہ"اس نے اپنے گھریلو ذمہ داری کوتخلیقی عمل پر ہمیشہ فوقیت دی۔ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو ہمارا گھر تباہ ہو جاتا۔ بچے دربدر ہوجاتے اور میںجنون کے ہاتھوں حواس باختہ ہوکر مر جاتا۔” عورت جو تخلیقی ہنر کا منبع ہے کسطرح گھر کی استقامت کےلیے اپنی تخلیقی سیلاب پہ بند باندھتی ہے۔ میں نے مردوں کو اس قسم کی قربانی دیتے نہیں دیکھا۔ اپنی زندگی کے تجربات کا عفت نے ذاتی تکلیف کے چھوٹے کیمرے کی آنکھ سے دیکھنے کے بجاے بڑےسماجی کینوس پہ مشاہدہ کیا۔ اور ان مسائل کا بہت سچائ سے ذکر کیا جن کا غربت سے جھونجتی عوام کوسامنا ہے۔خاص کر غیر تربیت یافتہ دائ کے ہاتھوں بچے کا پیدا ہونا،سرکاری ہسپتال میں زچہ اور بچہ کےوارڈ کی تکلیف دہ تصویر کشی اور ذہنی امراض کے شعبہ میں مریضوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک۔ اپنے زچگی کے تجربہ کی بنیاد پہ انہوں نے ایک سرکاری ہسپتال کے زچہ خانے کو اصطبل سے تشبہہ دیجہاں بکریوں گاۓ بھینسوں کی طرح عورتیں ڈکار رہی تھیں۔ "قیامت کو منظر دیکھنے کے لیے مرنے کیضرورت نہیں۔بس بچہ پیدا ہوتے دیکھ لیجیے۔” ایک ایسے ملک میں جہاں آبادی میں اضافہ بے قابو،  غربتکی شرح شرمناک اور یہ مفروضہ کامل ایمان کہ ہر بچہ اپنا رزق ساتھ لاتا ہے، جسکی نفی میں عفت  لکھتیہیں "۔۔ایسا سنا تو ہے پر مجھ جیسی  ظالم حقیقت پسند کو اسپر یقین بالکل نہیں۔۔۔۔رزق کی فروانی کیوجہ سے امیر حساب نہیں رکھ پاتا اور غریب کا بچہ ماں کا خون چوس کر اسے ذرا چھوٹا کر کے خود ذرا بڑاہو جاتا ہے تو اپنے بہن بھائیوں کے رزق پہ ہاتھ صاف کرنے لگ جاتا ہے"۔ پھر نفسیاتی ہسپتال کے عملہ کے ہاتھوں مریض کا حال بھی لکھا ہے۔"بہت مارا ہے انہوں نے مجھے۔۔۔مجھے ڈھیروں دوائیں دیتے منع کرتا تو مارتے تھے۔پھر جب میں دواؤں کے زیر اثر سو جاتا تو کوئ نہکوئ پاگل مجھے اکثر اٹھا دیتا۔ چلو عفت تم جو کہونگی میں کرونگا۔۔” یہ مریض احمد نوید تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ تین بچوں اور ذہنی مرض میں مبتلا شوہر کے ساتھ زندگی پھولوں کی سیج تھی۔بیماری کی وجہسے  تنگ دستی اور لوگوں کا دوستی سے اجتناب کا سامنا۔تو  کبھی عفت نے خود ترسی کے عالم میں سوچاکہ شاید یہ قدرت کی جانب سے انکی بچپن کی زبان درازی اور ہٹ دھرمی کی سزا ہے ۔ کبھی ان پر انکےاپنے گھر والوں اور بچوں کی جانب سے علیحدگی کا دباؤ تو کبھی احمد نوید کے خود اپنے گھر والوں کی جانبسے طلاق کے  زور کا سامنا تھا۔ مگر ایسے میں عفت کی نظر میں احمد نوید کی ماں کا نفی میں ہلتا سر اورخاموش آنکھوں کی التجا تھی "اسے چھوڑنا مت ۔ اسکا خیال رکھنا"۔ عفت لکھتی ہیں۔” ماں جو پیدا کرنے ، مارنے، رلانے ، ہنسانے، تڑپاُنے اور بھوکا رکھنے پر قدرت رکھتیہے، اسکے بیٹے کو چھوڑ دینے کا مطلب ہوتا ہے کہ ہم اپنی قدرت مٹی میں ملا دیں۔ایک ماں کی قدرت نےدوسری ماں کی قدرت کو جلا بخشی اور معجزہ دکھایا کہ آج ہمارے بچے شجر سایہ دار کی صورت بڑی شان سےزمین پر اپنے قدم جماۓ ہوۓ ہیں"۔ آپ بیتی کا حسن اسکی سچائ میں مضمر ہے۔ مصلحت سے کام لینے سے وہ آپ بیتی کے زمرے سے خارجہوجاتی ہے۔ عفت نے اپنی آپ بیتی کو اپنے حسن بیان اور حس مزاح سے دلچسپ اور رواں ضرور بنایامگر پوری سچائ قلمبند کرنے کی جرات مندی نے اس آپ بیتی کو اہم کتاب کی فہرست میں شامل کردیا ہے پہلے زمانے میں شادی کے موقعہ پہ لوگ بیٹیوں کے جہیز میں بہشتی زیور دیتے تھے  لیکن میں سمجھتی ہوں کہانسانی شعور و آگہی اور بے لوث محبت کا دیپ جلا ۓ رکھنے کے لیے اردو پڑھنے والے ہر فرد کے لیےاس کتاب کو ضرور پڑھنا چاہیے۔  بلکہ ذہنی اور نفسیاتی امراض سے متعلق آگہی کے لیے اسے نصاب کاحصہ ہونا چاہیے۔

Read more

مجرم ہجوم کی نفسیات

دل تو نہیں چاہتا کہ ان واقعات کو دہراؤں کہ جن کو لکھتے ہوئے میرا قلم کانپنے لگے اور میرے دل کی دھڑکن رکنے لگے مگر لکھنا بھی ضروری ہے۔ یہ واقعہ 15 اگست 2010 کا ہے جب سیالکوٹ کے گاؤں بٹار میں سترہ سالہ معز اور پندرہ سالہ منیب (جو دو سگے بھائی تھے) کے لرزہ خیز قتل کی واردات کا ارتکاب ہوتا ہے۔ ان کو مشتعل افراد، بھرے ہجوم کے سامنے مار مار کر بالآخر قتل کر دیتے

Read more

جورڈن اپنے گھر سے کیوں بھاگی؟

  یہ واقعہ ہے امریکی ریاست کیلی فور نیا کے نواحی شہر پیرس کا ۔ اتوار چودہ جنوری 2018ء، کی صبح اور 5:49کا وقت۔ ابھی سورج کا روشن چہرہ نمودار نہیں ہوا تھا۔ ایسے میں تیرہ اور سترہ سالہ دو بہنیں اپنے گھر کی کھڑکی سے لان میں کودتی ہیں۔ دونوں کا جسم کمزور، پیلا ہٹ لیے ہوئے سفید رنگت اور بال براؤن رنگ کے تھے۔ منصوبہ تو دونوں کا ہی ساتھ بھاگنے کا تھا مگر چھوٹی بہن، باوجود بڑی

Read more

صائمہ خود کو زخم کیوں لگاتی ہے؟

صائمہ سے میرا تعارف انٹرنیٹ کے توسط سے ہوا۔ پچھلے دنوں ویڈیو گفتگو کرتے ہوئے جب اس نے مجھے اپنے جسم پر پڑے زخم دکھائے تو میری چیخ نکل گئی۔ پنڈلیوں پر قینچی سےکیے شگاف اور خون کی کھرنڈ بتا رہی تھی کہ زخم بہت باسی نہیں۔ جسم کے وہ حصے کہ جو بآسانی ڈھانپے جاسکیں، یہ زخموں کے نشانات صائمہ کی ”خود ایذا رسائی‘‘ کی تکلیف دہ پوشیدہ مثالیں ہیں۔ صائمہ اکثر اپنے جذبات کی سونامی سے نپٹتی ہے۔

Read more

عظیم لتا کے لئے چند لفظوں کی آرتی

اس بات سے بھلا کس کو انکار ہو گا کہ لتا منگیشکر کی آواز ایک معجزہ ہے۔ سر کا جادو ان کا خونی ورثہ اور موسیقی کی تعلیم اور ریاض ان کی تربیت کا حصہ ہے۔ ان کے گھر مراٹھی بولی جاتی تھی۔ جو بات مجھ جیسے لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے وہ ان کے فلمی گانوں میں اردو الفاظ کا تلفظ اور ان کی ادائیگی ہے۔ کم ہی لوگوں کو معلوم ہو گا کہ ان کے بہترین تلفظ

Read more

جب ایک معذور صدر نے قوم کو کھڑا کیا

ایک لمحے کو سوچیے کیسا محسوس ہو کہ عین اس وقت جب آپ اپنی منزل تک پہنچنے ہی والے ہوں، راستے میں پڑا روڑا آپ کو چاروں شانے چت گرا دے؟ یہاں بات ہو رہی ہے امریکہ کے بتیسویں صدر فرینکلن ڈیلینوروز اویلٹ کی۔ جو اپنی چھٹیوں کے دوران، ایک دن کینیڈا کے ایک جزیرے میں خوب تفریح کرنے کے بعد بالکل ٹھیک ٹھاک سوئے مگر دوسرے دن پولیو کے مرض کی علامات مثلاً بخار، سخت درد اور بالا آخر

Read more

سڈنی پوٹیئر ۔ نسلی تفریق کے خلاف لڑنے والا عظیم اداکار

پوری دنیا بالخصوص امریکی فلمی دنیا ہالی ووڈ کے لیے 6جنوری 2022 ء کا دن یادگار قرار پایا ہے کہ جب 94سالہ عظیم اداکار سڈنی پوٹئیر نے لاؤس انجلس (کیلی فور نیا) میں اپنی آخری سانسیں لیں۔ اس قد آور سیاہ فام اداکار نے امریکہ کی فلمی دنیا میں اس وقت قدم رکھا کہ جب امریکہ میں نسلی تفریق کے لاگو جم کرو قوانین کے خلاف قوم شہری حقوق کی تحریک جاری تھی۔ کالوں کو معمولی بات پہ درختوں سے

Read more

نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر ہر گوبند کھورانہ کون تھے؟

ہم سب نوبل انعام یافتہ عبدالسلام کے کام سے واقف ہیں۔ جنہیں ہم جب چاہتے ہیں ٹھکراتے تو پھر کبھی اپنی مرضی سے اپنا بھی لیتے ہیں کیونکہ ان کا خمیر پنجاب کے شہر جھنگ سے اٹھا۔ لیکن آج نو جنوری کو ہم ایک ایسے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ہرگوبند کھورانہ کی بات کریں گے کہ جن کی پیدائش کو آج ایک صدی گزر گئی ہے۔ اور جنہوں نے تقسیم سے قبل 1922ء میں ملتان کے گاؤں رائے پور میں

Read more

ایک سال کی عمر میں ریپ کا شکار ہونے والی بیتھ تھامس

یہ واقعہ ہے فروری 1984ء کا جب ٹم اور جولیا ٹیننٹ کو ڈیپارٹمنٹ آف سوشل سروسز نے نوید سنائی کہ ان کی بچوں کو گود لینے کی درخواست کے مطابق ان کے پاس دو بچے ہیں جنہیں وہ اپنا سکتے ہیں۔ ٹم امریکہ کی کسی جنوبی ریاست میں واقع چرچ کا نیک دل اور مقبول منسٹر تھا اور جولیا اس کی بہت محبتی اور نیک دل بیوی۔ دونوں اپنی شادی کے بارہ سال بعد بھی اولاد سے محروم تھے۔ دونوں

Read more

”بلیک فرائیڈے“ مشی گن کے بچوں کے لیے سیاہ بخت کیوں ثابت ہوا؟

واقعہ ہے۔ سن 2021، نومبر کی تیس تاریخ کا، دوپہر ایک بجے سے کچھ پہلے کا وقت اور مشی گن ریاست میں واقع آکسفورڈ ہائی اسکول جہاں ابھی معمول کے مطابق پڑھائی جاری ہے۔ یہ ایک کلاس کے دورانیہ کے ختم ہونے کا وقت تھا جب اسکول کی راہداری سے گزرتے ہوئے بچے کلاس روم تبدیل کر رہے تھے۔ کسی کو کیا خبر کہ عین اس لمحہ میں کمرہ ہی نہیں ان کی زندگی کا منظر نامہ بھی ہمیشہ کے

Read more

ستیہ جیت رے: آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی فلم ہدایتکار

2 مئی 1921 ء تا 23 اپریل 1992ء فلمی سیٹ پہ کام میں مصروف، منہ میں سگار دبائے، سوچتی آنکھیں، نپے تلے انداز میں گفتگو کرتے چھ فٹ پانچ انچ کے باوقار ستیہ جیت رے ایک متاثر کن شخصیت کے مالک، منفرد فلم ساز اور ہدایتکار تھے۔ جن کی کامیابی اور فنی قامت کا رمز انسانی دوستی، جراتمندی، روایت شکنی، فن شناسی اور سادگی میں پوشیدہ ہے۔ وہ پہلے ہندوستانی فلم ڈائریکٹر ہیں جنہیں 1991 میں آسکر ایوارڈ سے نوازا

Read more

کم عمر لڑکیوں کے جنسی اعضاء کاٹنے کی بہیمانہ رسم – ایف جی ایم

آج بات تیسری دنیا کے کسی ایسے ملک کی نہیں ہو رہی جہاں سماج میں صنفی امتیاز اور عورتوں کو کمتر مقام پہ رکھنا عام ہے۔بلکہ امریکہ کی ریاست مشی گن میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے کریہہ فعل ایف ایم جی (FMG)کے حوالے سے ہے جوکسی جاہل عطائی یا دائی نہیں بلکہ ایک چوالیس سالہ ڈاکٹر جمانا نگروالا کے ہاتھوں انجام پایا جو شہر کے مشہور ہسپتال ہنری فورڈ کے ایمرجنسی کمرے میں بطور فزیشن کام کرتی

Read more

فطرت کی شیدائی شاعرہ شاہدہ حسن کے جنم دن کے موقع پر

آج 24 نومبر ہماری ایک ایسی صوفی منش دوست کا جنم دن ہے جنہیں آپ شاعرہ شاہدہ حسن کے نام سے جانتے ہیں اور میں انہیں اپنی بہت ہی پیاری دوست گردانتی ہوں۔ میرا ادب سے تعلق واجبی سا ہے بس اردو کو اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی حد تک لہٰذا ان کی ادبی حیثیت پہ گفتگو کی توقع رکھنا ان کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہو گا۔ ان کی بہت اعلی معیار کی شاعری پہ خیال آرائی میں

Read more

سیلیکان ویلی کی ”ڈارلنگ“ ارب پتی عدالت کے کٹہرے تک کیسے پہنچی؟

امریکہ ہو یا پاکستان ابھی بھی عورتیں بہت سے شعبوں میں برابری کی سطح پہ نہیں پہنچیں ہیں۔ کیلی فورنیا کا سیلیکون ویلی بھی اس سے مستثنی نہیں۔ پچاس مربع میل کے رقبہ پہ محیط یہ وہ علاقہ ہے جسے ملٹی بلین ٹیکنالوجی کمپنیوں کا ”مکہ“ قرار دیا جاتا ہے۔ جس کی گود میں ایپل، گوگل، فیس بک یاہو، امیزون اور نیٹ فلیکس وغیرہ جیسی کمپنیاں پروان چڑھیں۔ اور ان کی بنیاد رکھنے والے اربوں ڈالرز کمپنیوں کے مالک بن

Read more

امریکی فوج میں خواتین فوجیوں کا جنسی استحصال

اٹھارہ سالہ ایشیا گراہم کا تعلق امریکہ کی ریاست نارتھ کیرولینا سے تھا۔ وہ ابھی ہائی اسکول سے نکلی ہی تھی کہ اس نے اپنے مرحوم باپ کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے اپنا نام ملٹری میں ملازمت کے لیے درج کروا دیا۔ باپ کے مرنے کے بعد مالی طور پہ جلد از جلد اپنے پاؤں پہ کھڑے ہونے کا مقصد اپنی ماں نکول گراہم کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھ کر اس کی ضروریات زندگی کا خیال رکھنا تھا۔ وہ

Read more

جب میں سات سال کی عمر میں ختنہ کے تجربہ سے دوچار ہوئی!

جب میں انٹرویو کی غرض سے مس رباب (فرضی نام) کے سائیکو تھرپی آفس میں دخل ہوئی تو انہوں نے میرا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ آرام دہ اور کشادہ کرسی پہ بیٹھتے ہوئے میں نے ان کے آفس کا جائزہ لیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ انہیں اپنے مریضوں کی ذہنی صحت کے ساتھ زندگی کی پریشانیوں سے بدحال مریضوں کے جمالیاتی ذوق کی بحالی کا بھی کتنا خیال ہے۔ خوبصورت پینٹنگز اور ہندوستان سے درآمد شدہ آرٹ کی نادر

Read more

رضیہ آپا، ان کے کچھ افسانے اور میں

کہا جاتا ہے کہ اکثر بڑے ادیبوں اور دانشوروں سے دوری ہی بھلی، کیونکہ ان سے قربت پہ ان کی شخصیت کے جو مخفی ناپسندیدہ روپ آشکار ہوتے ہیں وہ آپ کو مایوس کرتے ہیں اور تب آپ سوچتے ہیں کہ اس سے تو بہتر تھا کہ صرف ان کی تحریروں پہ اکتفا کیا ہوتا۔ لیکن اس سلسلے میں میرا تجربہ رضیہ آپا سے ملنے کے بعد مختلف ہے۔ گو رضیہ آپا یعنی رضیہ فصیح احمد، ادبی دنیا کا بڑا

Read more

انیتا غلام علی کی سالگرہ کے حوالے سے ایک تحریر

کراچی کے پرہجوم علاقے میں جہاں گاڑیوں کے ہارن، خوانچہ والوں کی پکار اور طوطے کی مدد سے قسمت کا حال بتانے والوں کے باعث کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی، بس اسٹاپ سے کچھ دور پہلے اسٹیل گرے رنگ کی گاڑی رکتی ہے۔ گاڑی چلانے والی خاتون کو پہچان کر آٹھ دس سال کا بچہ یوں بھاگ کر آتا ہے جیسے صرف اسی انتظار میں تھا۔ آنکھوں میں چمک، ہاتھ میں صفائی کا کپڑا لیے وہ جانفشانی سے گاڑی صاف کرتا ہے اور پھر فخر سے اپنی ننھی ہتھیلی پر اجرت وصول کرتا ہے۔ وہ کہتی ہیں ”ہم یہاں اس بچے کے لئے آتے ہیں۔ بہت محنتی ہے، کام بھی کرتا ہے اور پڑھ بھی رہا ہے۔“ میں برابر کی سیٹ پر بیٹھی ان کے لہجے میں ماں جیسی نرمی، مٹھاس اور گہرے درد کو شدت سے محسوس کرتی ہوں۔ یہ گداز دل رکھنے والی خاتون انیتا غلام علی ہیں اور یہ واقعہ تقریباً چوتھائی صدی ادھر کا ہے۔

Read more

سائرہ بانو اور یوسف خان کی مثالی محبت اور ”ڈیڈی ایشوز“

دلیپ کمار کی موت پہ سائرہ بانو کی مثالی محبت، خدمت اور تیمارداری کے حوالے سے لکھنے والے قلمکاروں کے قلم کی روشنائی اور تعریف کرنے والوں کے لیے الفاظ کم پڑ گئے۔ اپنے شوہر کی صحت یابی کے بعد ایک بار جب سائرہ سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا ”جس کا شوہر کوہ نور ہو وہ ست ساوتری کیسے نہ ہو گا؟ میں تو ان پہ مرتی ہوں۔ میں تو اس سے سو گنا زیادہ (خدمت) کروں۔“ ان

Read more

دلیپ کمار کیا محض ایک عظیم اداکار ہی تھے؟

ان کی سوانح عمری کے مطابق جب دلیپ کمار کو 1951 میں فلم ”دیدار“ کے لیے ایک اندھے کا کردار ملا تو وہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ ایک اندھا کے طور پہ وہ کس طرح کیمرہ کا سامنا کریں گے۔ اس وقت کے مشہور فلمساز محبوب نے انہیں بمبئی سینٹرل ریلوے اسٹیشن میں بیٹھ کر بصارت سے محروم ایک فقیر کے مشاہدے کا مشورہ دیا۔ جس پر دلیپ کمار نے عمل کیا۔ اس فقیر کے مشاہدے کے دوران ایک اور بینائی سے محروم فقیر اس سے ملنے آیا۔ جب دلیپ نے اس سے بات کی تو اس نے دلیپ سے پوچھا ”تم کون ہو؟ تم ایک اداکار لگتے ہو جس کی فلم میں نے حال میں ہی دیکھی ہے۔“ دلیپ حیران ہوئے اور پوچھا ”تم نے کیسے فلم دیکھی؟“ اس پر اس نے جواب دیا۔ ”ہم دیکھ نہیں سکتے لیکن ہم سوچ سکتے ہیں۔ محسوس کر سکتے ہیں۔ رو سکتے ہیں۔“

Read more

آٹزم (Autism) بچوں کی ایک پریشان کن ذہنی کیفیت

تقریباً تین چار سال قبل کا واقعہ ہے، میرے اسکول ڈسٹرکٹ کے ہائی لنگول ڈیپارٹمنٹ سے فون آیا (واضح رہے کہ میں ہائی لنگول ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک ایلیمنٹری اسکول میں ملازمت کرتی ہوں) کل صبح 9 بجے فلاں بچے کے گھر پہنچ جائیں جہاں ایک چھ سال کے آٹسٹک (Autistc) بچے کے رویے کا مشاہدہ ہونا ہے۔ اس مشاہداتی ٹیم میں ایک نفسیاتی دان، اسکول سوشل ورکر، اسپیشل ایڈ کی ٹیچر اور میں بحیثیت پاکستانی اور اُردو بولنے

Read more

جب میں ایک ہم جنس پسند مرد (Gay) کی بیوی بنی

روبی سے میری پہلی ملاقات ایک افطار پارٹی میں ہوئی۔ جاذبِ نظر، چھوٹی چھوٹی باتوں پر معصوم بچوں کی طرح کھلکھلا کر ہنسنے والی، خوش مزاج، ملنسار اور صاف گو سی لڑکی۔ اسکی عمر 31 سال کی تھی۔ پاکستان سے میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ امریکہ میں فیلو شپ کررہی تھی۔ عمر کے تفاوت کے باوجود ہم دونوں کے بیچ یگانگت اور اعتماد کا پل قائم ہوچکا تھا لہٰذا پہلی ہی ملاقات میں اس نے اپنی ناکام

Read more

فطرت کی متلاشی۔ شبنم گل

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں، مگر ایسے بھی ہیں

میری نظر میں سرور بارہ بنکوی کا یہ شعر جس شخصیت پر پورا اترتا ہے وہ کوئی اور نہیں حساس دل و دماغ کی مالک، ادیبہ اور شاعرہ شبنم گل ہیں۔ جن سے میری شناسائی کا دورانیہ گو طویل نہیں مگر گہرا ضرور ہے۔ شبنم کی گفتگو میں سندھ کے لہجہ کی سادگی، مٹھاس اور دھرتی کے انسانوں سے محبت اور درد مندی کی مہکار ہے۔ وہ فطرت کی اتنی دلدادہ ہیں کہ ہر گفتگو کے بعد مجھے ایسا لگتا جیسے میری ملاقات ٹھنڈے شفاف پانی کے بہتے جھرنے، سرسراتی ہوا کی طاقت سے ڈولتے درختوں، حد نظر پھیلے سبزہ زار، پودوں کی شاخوں پہ ڈولتے خوش رنگ حسین پھولوں اور ان پہ گری شفاف شبنم کے قطروں اور فضا میں بسی زمین کی مسحور اور مخصوص مہک سے ہو گئی ہے۔

Read more

ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا؟

(اپنے بہنوئی سید اصغر مہدی رضوی کی پہلی برسی کے موقع پہ) کیا آپ نے کسی ایک شخص میں کئی انسانی رشتوں کی دھنک کا تجربہ کیا ہے؟ یہ سعادت ہمارے حصے میں ضرور آئی۔ پہلے وہ بہنوئی کی صورت ہماری زندگی میں آئے، پھر سرحد پار جا بسنے والے بھائیوں کی غیر موجودگی میں بھائی کی محبت دی اور جب ہمارے ابا مرے تو باپ کا کردار بھی نبھایا۔ وہ تاحیات ان رشتوں کو دل سے نبھاتے رہے۔ پچھلے

Read more

ملالہ بیٹی آخر تم سوچتی ہی کیوں ہو؟

اگرچہ ملالہ کا تعلق ایک ایسی قوم سے ہے جہاں سوچنے اور سوال کرنے پہ پابندی ہے۔ چیلنج کرنے والوں کو طعنوں اور دھمکیوں کی ظالم چابکوں سے خاموش اور اکثر کو تو سوچتے ذہن کے ساتھ زندہ درگور کر دیا جاتا ہے لیکن اس من موجی ملالہ کی چالیں تو شروع سے بے ڈھب اور مستانی تھیں۔ انا الحق کا نعرہ بلند کرتی قابل دار اور معتوب لڑکی، لیکن اس میں اس کا آخر قصور بھی کیا کہ سوات

Read more

فن لینڈ کے بہترین نظام تعلیم کی ”خفیہ ترکیب“ کیا ہے؟

پاکستان میں اپنی بہن کی بہو مہوش سے بات ہو رہی تھی۔ جو روزانہ کی بنیاد پہ زوم پہ اپنے تین بچوں کے ساتھ تعلیمی دنگل سے نبٹتی ہیں۔ وہ تعلیم کہ جس نے وبا کے دور میں انہیں اور ان جیسی بہت سی ماؤں کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں۔ بچوں کو روزانہ کا سبق پڑھانا اور پھر ان کو امتحانوں کے لیے تیار کرنا تاکہ دوسرے بچوں کے مقابلہ میں ان کی اولاد کا شمار بہترین گریڈز حاصل

Read more

آپ کی خوشیوں کی چابی کہاں چھپی ہے؟

اب تو عرصہ ہوا، امریکہ منتقلی کا ابتدائی زمانہ تھا۔ ہمارے پڑوسی اپارٹمنٹ میں تین نسلوں پہ مشتمل ایک پاکستانی خاندان بستا تھا۔ معمر جوڑا، جوان جوڑا اور ان کے دو چھوٹے بچے۔ میں نے محسوس کیا کہ بڑے میاں اکثر بیوی کے پیچھے پیچھے ہوتے اور بڑی بی کے چہرے پہ ایک ناگوار سی اکتاہٹ ہوتی۔ جیسے کہہ رہی ہوں ”چھوڑ بھی دو مجھے“ الفاظ کی ادائیگی ضروری نہیں ان کا جسم اس اکتاہٹ کا اظہار کرتا تھا۔ ایک

Read more

امریکہ کی تاریخ میں جنسی استحصال کا بدترین واقعہ اور اس کے نتائج

سیریل کلر (تواتر سے قتل کرنے والا) کی اصطلاح سے تو آپ آشنا ہوں گے ہی لیکن آج ایک ایسے شخص سے بھی واقف ہوں کہ جو بظاہر ایک مہربان، مقبول اور قابل عزت ڈاکٹر کی شہرت رکھتا تھا لیکن اس شخص کا اصل چہرہ بہت کریہہ تھا۔ اس کا نام ہے لیری نصر۔ جس کی شہرت امریکہ کی جمناسٹک ٹیم کے سب سے مستند اور معتبر ڈاکٹر کی تھی۔ اس کا کام اولمپک جمناسٹک ٹیم میں حصہ لینے والی بچیوں کو جسمانی طور پہ فٹ رکھنا اور چوٹ لگنے کی صورت میں ان کے جسمانی درد کا علاج کرنا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے جو ”ٹریٹمنٹ“ کے نام پہ ان کمسن بچیوں ساتھ کیا اس نے ان بچیوں کی روح کو عمر بھر کے لیے زخمی کر دیا۔

Read more

"پریم چند گھر میں”: ایک فیمنسٹ ادیب کی زندگی کی کتھا

کسی بڑی ادبی شخصیت کا اصل روپ دیکھنا ہو تو اسے گھر میں دیکھیں. اکثر اوقات انسان دوستی اور عورتوں کے حقوق کے دعویدار دانشور جلوت اور خلوت میں بہت مختلف رویہ رکھتے ہیں. ان کا بس نہیں چلتا کہ گھر میں سوال اٹھانے والی بیوی کا منہ کس طرح بند کردیں. جبکہ باہر کی دنیا میں ان کا رویہ بالکل برعکس ہوتا ہے. مگر منشی پریم چند کا شمار ان سچی اور ستھری ہستیوں میں ہے کہ جن کا

Read more

سائنس دان خواتین، جن کا کام صنفی تعصب کی نذر ہوا

یہ زیادہ پرانی بات نہیں، 2015ء کا واقعہ ہے۔ جب فزیالوجی کے نوبل پرائیز یافتہ انگریز سائنس دان ٹم ہنٹ نے سیول، ساؤتھ کوریا میں ہونے والی ورلڈ کانفرنس آف سائنس جرنلسٹس کے کنوینشن میں ایک ایسی بات کہی جس پہ کافی شور مچا۔ انہوں نے کہا، ”میں بتاؤں مجھے لڑکیوں سے کیا مسئلہ ہے۔ تین باتیں ہوتی ہیں جب وہ لیب میں ہوتی ہیں۔ آپ ان سے عشق میں مبتلا ہو جاتے ہیں، وہ آپ سے محبت کرنے لگتی

Read more

ہکلے نواب کی ادھوری کہانی

یقین تو نہیں مگر حقیت تو یہی ہوگی کہ وہ یعنی وصی چچا کب کے مر کھپ گئے ہوں گے۔ آخر کوئی ہمیشہ جینے کے لیے تو آتا نہیں۔ آخری بار انہیں اپنے ابا کے سوئم والے دن دیکھا تھا۔ صوفے کے ایک کونے پہ بیٹھے خاموشی سے آنسو بہاتے ہوئے۔ حسب معمول ان کی آنکھوں پہ اس وقت بھی پہ کالا چشمہ لگا ہوا تھا جو وہ اپنی بینائی سے محروم ایک آنکھ کو جو دوسری آنکھ سے قدرے

Read more

بے مکانی سے ہارورڈ تک

وہ دسمبر 1996ء کی ٹھٹھرتی سردیوں کا ایک زرد دن تھا، جب ساری دنیا کرسمس کے بعد کی خوشیاں سمیٹ رہی تھی، الیزبتھ مرے اپنی دوست کرس کے ساتھ اپنی ماں کے تابوت کو بے نام قبر میں سونپ کر خالی ہاتھ واپس لوٹ رہی تھی۔ آج کا سوگوار دن سولہ سالہ الیزبتھ کے لیے بہت اہم تھا۔ ماں کی زندگی ہارنے اور ایک فیصلے کا دن، اور فیصلہ یہ کہ اس کا انجام ماں کی طرح نہیں ہو گا۔

Read more