گیری نے جھوٹ کیوں بولا؟


گیری کا احساس اپنی جگہ مگر نوکری کے تقاضے الگ تھے۔ مجھے 12 بجے تک کمرہ خالی کروانا تھا۔ میں اوپر گیا۔ گیری کے دروازے پہ دستک دی۔ اندر سے کوئی آواز نہیں آئی۔ تیسری دستک تک کوئی جواب نہ ملنے پر میں دروازہ کھول کے اندرچلا گیا۔ گیری بیڈ کے کنارے پہ بیٹھا تھا۔ شاید میری دستک کے جواب میں وہ اتنی دیر تک صرف بیڈ کے کونے تک ہی پہنچ پایا تھا۔ میں نے حال پوچھا اور بتایا کہ جیمی کا فون آٰیا تھا اور ساتھ ہی فون ملا کے گیری کو دے دیا۔ گیری کہ رہا تھا میری پاس نیڈلز نہیں ہیں۔ غالباً جواب میں کہا گیا ہو گا کہ فارمیسی سے لے آؤتو گیری بولا فارمیسی یہا ں سے دو میل کے فاصلے پہ ہے۔ شاید بیٹی نے اصرار کیا ہو گا کہ خود جا کے لے آؤ تو گیری پھر رستے کی طوالت بتانے لگا۔ بیٹی کو سفر کم لگ رہا تھا۔ باپ میں دروازے تک جانے کی ہمّت نہیں تھی۔ بات کرتے کرتے فون والا ہاتھ بار بار نیچے ڈھلک جاتا تھا اور ایسا ظاہر ہے جسمانی کمزوری کی وجہ سے ہو رہا تھا۔ گیری کا فون کو بار بار بڑی مشکل سے کان تک لانے کی کوشش بیٹی کے بولنے کی رفتار کے سامنے سست پڑ رہی تھی۔ آدھی باتیں کانوں کی بجائے اس کے گال سن رہے تھے۔ ۔ بات ختم ہوئی تو میں نیچے آ گیا لیکن یہ سوچ بھی میرے ساتھ ساتھ سیڑھیاں اتری کہ جو ایک فون نہیں پکڑ سکتا اسے اپنی بیٹی دو میل پیدل چل کے اپنی دوائیاں لانے کے لئے کہ رہی ہے۔ کیا بیٹیاں ایسی بھی ہوتی ہیں؟

میری مروّت گیری کو کمرہ خالی کرنے کا کہنے سے روک رہی تھی۔ میں بار بار جیمی کو فون کر رہا تھا۔ جو کبھی 20 منٹ کا کہتی اور کبھی ٹریفک میں پھنسے ہونے کا بہانا کرتی۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ نہیں آئے گی اس کا نہ آنا مجھے ایک مشکل امتحان میں ڈال سکتا تھا۔ تقریباً 3 بجے میں نے جیمی کو پھر فون ملایا تو اس کا فون بند ملا۔ اب تو واضح ہو گیا کہ وہ نہیں آئے گی۔ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا کہ میں گیری کو سارے معاملے سے آگاہ کرتا اور اسی سے اپنی بیٹی سے رابطہ کرنے کے لئے کہتا۔ میں نے اس کے کمرے کا فون ملایا۔ کوئی جواب نہ ملنے پر میں خود اس کے کمرے کی جانب چل پڑا ۔ اوپر پہنچ کے میں نے دستک دی، کوئی جواب نہ ملا تو میں نے دروازے کو ماسٹر کی سے کھولا۔ دروازہ کھلتے ہی کمرے کے ٹی وی کے شور میں گیری کی کراہ بھری آواز سنائی دی ’’ہیلپ”

میں نے تیزی سے دروازہ کھولا اور تقریباً بھاگتا ہوا گیری کے بیڈ کی طرف بڑا۔ گیری بستر پر کمرے کے فون کا ریسیور ہاتھ میں پکڑے نمبر پنچ کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ اس کے جسم پہ ایک بھی کپڑا نہیں تھا۔ گیری کی بمشکل سنائی پڑنے والی آواز ابھری مجھے سٹروک ہوا ہے۔ پلیز ایمبولنس کو بلاؤ۔ سٹروک کا سن کے میرے اپنے اوسان خطا ہونے لگے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ پہلے گیری کو سنبھالوں یا 911  کو کال کروں۔ ایڈریس یاد نہ ہونے کی وجہ سے میں نے پریا کو فون کر کے ساری صورت حال بتائی اور ایمبولینس بلانے کے لئے کہا۔ میں گیری کی طرف واپس پلٹا۔ وہ کمرے میں پڑی پانی کی خالی بوتلوں کو بار بار منہ سے لگا رہا تھا۔ میں نے پوچھا پانی چاہئے۔ اُس کی ہاں میں نے دروازے تک پہنچتے پہنچتے سنی۔ بھاگتے ہوئے نیچے لابی تک پہنچا اور پانی کی بوتل اٹھائی اور واپس پلٹا۔ بوتل گیری کو تھمانے کے بعد احساس ہوا کہ اسے مشکل ہو گی تو میں نے خود بوتل اُس کے منہ کے ساتھ لگائی اور اسے پانی پینے میں مدد کی۔

وہ بار بار اپنے سر کے دائیں طرف ہاتھ لگا کے بتا رہا تھا کہ مجھے یہاں کچھ محسوس نہیں ہو رہا۔ میں نے حوصلہ دیا کہ ایمبولینس بس پہنچنے ہی والی ہے۔ پانی پی کے گیری بیڈ پہ لیٹ گیا۔ تب مجھے کمرے کی حالت پہ غور کرنے کا موقع ملا۔ کمرے کے فرش پہ جا بجا چیونگ جیلی بکھری پڑی تھی جو جوتوں کے ساتھ چپکتی تھی۔ سینک پہ تین چار قسم کے ماؤتھ واش کی آدھی استعمال شدہ بوتلیں کھلی پڑی تھیں۔ سائیڈ ٹیبل پہ اور دوسرے بیڈ پہ دوائیوں کی شیشیاں اور کپڑے پھیلے ہوئے تھے۔ میں اندازہ لگا سکتا تھا کہ جس کے جسم کو طاقت ور خوراک کی ضرورت تھی وہ کرسپ، جوسز اور کینڈیز پہ گزارہ کر رہا تھا۔ اسے ہوش میں رکھنے کے لئے میں اس سے گاہے بگاہے کوئی بات کر لیتا تھا۔ اچانک اسے خیال آیا کہ اس کے جسم پہ کپڑے نہیں ہیں۔ پلیز مجھے کچھ پہنا دو۔ اس نے مجھ سے التجائیہ لہجے میں کہا۔ مجھے اپنے کچھ عرصہ پہلے کینسر کی وجہ سے وفات پانے والے والد کا خیال آیا۔ آخری دنوں میں نقاہت نے انہیں اپنے حواج ضروریہ کے قابل بھی نہیں چھوڑا تھا۔ میں نے اپنے چھوٹے بھائیوں سے گذارش کی کہ میں سب کر لوں گا مگر اپنے باپ کو بنا کپڑوں کے نہیں دیکھ سکتا۔ ایک بیٹے کے لئے دنیا میں اس سے کٹھن امتحان شاید ہی کوئی ہوتا ہو کہ جس میں اپنے باپ کو اتنا مجبور دیکھے کہ اپنے کپڑے بھی خود نہ بدل سکے۔ وہ باپ کہ جس نے آپ کو مضبوط ہونا سکھایا ہو۔ جو آپ کے پہلے قدم کا سہارا رہا ہو۔ جس نے مشکلوں سے لڑنے کے گر بتائے ہوں۔ اس باپ کے قدموں کو کمزور پڑتا اولاد نہیں دیکھ سکتی۔ میرے لئے بھی مشکل تھا۔ میری با ہمّت ماں اور بھائیوں کا شکریہ کہ انہوں نے مجھے اس امتحان سے نہیں گزرنے دیا۔ لیکن گیری کا تو کوئی اپنا اس کے پاس نہیں تھا۔ آج مجھے ہی کرنا تھا۔ اس کا پاجامہ اس کے ٹخنوں کے پاس اٹکا ہوا تھا۔ میں نے ہاتھ لگایا تو وہ گیلا تھا۔ اس کی بے بسی، لاچارگی کا احساس مجھے تب ہوا جب میں نے سوچا کہ کیسے ایک کمرے میں بے یارومددگار اس نے تکلیف کے پیش نظر اپنے کپڑے اتار پھینکے ہوں گے۔ اس نے مدد مدد پکارا تو ہو گا مگر گلے سے بمشکل نکلتی آوازکو ٹی وی کے شور اور بند کمرے سے باہر کون سنتا۔ یہ تو محض اتفاق تھا کہ میں اپنی مجبوری کے تحت اس کے کمرے میں گیا۔ ورنہ چار دن تک تو کسی کو خبر بھی نہ ہوتی کہ اس کمرے کے اندر کوئی انسان اتنا بے بس ہے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3