ہندوستانی مسلمانوں کی نام نہاد مظلومیت


کون نہیں جانتا کہ جس وقت ہندوستان پر انگریزوں نے بتدریج قبضہ کیا، اس وقت ہندوستان پر مسلم اشرافیہ کی حکومت تھی۔ مختلف نسلوں کے مسلمان (ترک اور ایرانی) اور سلطنت دہلی اور مغلوں کی شکل میں مسلم خاندان گذشتہ چھ سات سو سال سے ہندوستان پر حکومت کررہے تھے۔ کئی علاقوں (جو پاکستان کا حصہ بنے) میں مسلمان ویسے ہی اکثریت میں تھے اور یہاں پر جو ہندو کلچر تھا، اس پر بھی مسلمانوں کی علمی اور ثقافتی چھاپ نمایاں تھی۔ کئی ایسے علاقے بھی تھے جو براہ راست مسلمانوں کے کنٹرول میں نہیں تھے لیکن اس کے باوجود ان پر مسلمانوں کے اثرات تھے کیوں کہ وہاں پر اشرافیہ میں مسلمان بھی شامل تھے اور آبادی میں مسلمان اقلیت کے طور پر بھی موجود تھے جس کی وجہ سے خوراک، فنون لطیفہ، تعمیرات حتیٰ کہ مذہبی فکر میں بھی مسلمانوں کے ملے جلے اثرات شامل تھے۔ تقریباً ایک صدی تک ہندوستان میں مذہبی شناخت تقسیم کا باعث رہی۔

ہندوستان کو اس وقت بیرونی طور پر سلامتی کے جن چیلنجوں کا سامنا ہے، ان کے حوالے سے کسی بھی قسم کی فیصلہ سازی میں مسلمانوں کے اس کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو ان ملکوں کے قیام میں شامل ہے جن پر جنوبی ایشیا مشتمل ہے۔ کیا وجہ ہے کہ مسلمان کبھی دلتوں کے حقوق کے لیے اس طرح اکٹھا نہیں ہوئے، جس طرح، جنتر منتر میں گئو رکھشکوں کی مذمت اور ہندوستانی سرکار سے مسلمانوں کے جان و مال کی ضمانت کو یقینی بنانے کے لیے ”Not in my name“ کے بینر تلے ہندوؤں کا احتجاج نظر آتا ہے؟ خیر، آپ دلتوں کے حقوق کے لیے آواز کیوں اٹھائیں گے، آپ تو خود مسلم اشرافیہ کے نمائندے ہیں۔ آپ کے تمام تعلیمی، سماجی اور سیاسی منصوبے صرف مسلم اشرافیہ کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے رہے ہیں۔ مولانا عبدالماجد دریابادی کی ”آپ بیتی“ کا وہ باب پڑھ لیں جو ”ہمارے آبا و اجداد“ کے عنوان سے شریک اشاعت ہے۔ مزید پڑھنا چاہتے ہیں تو Dr Ambedkar Centre for Exclusion Studies & Tansformative Action (ACESTA) کے ڈائریکٹر خالد انیس انصاری کا مضمون ”It‘s not just religion – it‘s also caste“ پڑھ لیں جو آپ کے مضمون سے ایک ہفتہ قبل اسی ’انڈین ایکسپریس‘ کے 29 مارچ 2018 کے ایڈیشن میں شائع ہوا تھا۔

بہرحال، میں یہ عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ ہندوؤں کے جذبات کو صرف ہندو پاک کے درمیان ہونے والے کرکٹ میچ سے سمجھنا درست نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے آپ کو ہندوستانی مسلمانوں کے تاریخی اور ماضی قریب کے رویوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ آپ گجرات اور بھاگلپور کی جگالی خوب کرتے ہیں، بلاشبہ یہ دونوں سانحے بلکہ بابری مسجد کا انہدام اور اس کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات، سب جمہوریت، انسانیت اور سیکولرازم پر بدنما داغ ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا انسان دوست ہو جو اس کی مذمت نہ کرے لیکن اسے مسلمانوں کی منصوبہ بند نسل کشی سمجھنا غلط ہوگا۔ کیا آپ کو یاد نہیں کہ اسی سرزمین میں تیمور نے کھوپڑیوں کے مینار بنائے تھے؟ کیا آپ کو وہ نادر شاہ یاد ہے جس نے اپنے ہی ہم مذہبوں کے خون سے دہلی کی گلیاں سرخ کردی تھیں؟ محمد غزنوی اور محمد بن قاسم کون تھے؟ آپ کہہ سکتے ہیں جیسا کہ لوگ اکثر صفائیاں پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا موجودہ سیکولر ہندوستان یا آج کے ہندوستانی مسلمانوں سے کیا تعلق؟ لیکن آپ سے بھلا بہتر کون جان سکتا ہے کہ کسی معاشرے کا ماضی اس کے اجتماعی لاشعور کا حصہ ہوتا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔

آج تک آپ خود اس ملک میں 900 سالہ اپنی شہنشاہی بھول نہیں پائے، آج تک آپ کے ہیرو وہی لٹیرے ہیں، آج تک آپ تاریخی حقائق کو جھٹلانے کے لیے ان کا تاویلات سے دفاع کرتے رہتے ہیں، آج تک آپ کی تخلیقات میں اس’ سنہرے ماضی‘ کی بازگشت صاف سنی جا سکتی ہے۔ تو پھر آپ ہندوؤں سے کیوں یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنا ماضی بھول جائیں؟ آپ ان سے کیوں یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے دل سے ان سیاہ یادوں کو کھرچ کر پھینک دیں، جب کہ آپ اپنے شاندار ماضی کی غلام گردشوں کی سیر کرتے رہیں؟

تقسیم ہند یہاں کی اکثریت کے دلوں پر پر ایک بڑا زخم تھی جس کے نشان مٹنے کے لیے صدیاں درکار ہوتی ہیں اور پھر مسلمانوں نے اسے مٹانے کی کوئی خاص کوشش بھی نہیں کی بلکہ اپنی بودی تاویلات سے اپنے بزرگوں کی غلطیاں اب تک چھپا نے کی کوشش کررہے ہیں، جیسا کہ خود فاروقی نے بھی اپنے زیر بحث مضمون میں کوشش کی ہے۔ ہندو ’قیام پاکستان‘ کا کرب آج بھی اسی طرح محسوس کرتا ہے، جس طرح مسلمان ’قیام اسرائیل‘ کے زخم کی ٹیس نہیں بھلا پایا ہے جب کہ قیام پاکستان کے بعد ہندوستان کی یہ کشادہ قلبی تھی کہ اس نے پاکستان کے وجود کو تسلیم کرلیا، اس کے برخلاف اب تک اسرائیل کے وجود کو قبول کرنے سے تمام مملکت ہائے اسلامیہ انکاری ہیں۔

سوال اٹھتا ہے کہ ایک ہی طرح کی عمل جراحی پر دو متضاددو موقف کیوں کر ہوسکتے ہیں؟ اس نفسیاتی اور ثقافتی خلیج میں بتدریج اضافہ کے سبب اگر ایک طبقہ مسلمانوں کو لے کر شبہے کا شکار ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ مسلمان مشترکہ قومی شناخت کی بنیاد پر قائم قومی وحدت کے ساتھ پوری طرح مخلص نہیں ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ جو ہندو احیا پرستی کی آپ بات کررہے ہیں اور آج ہم ہندوستان میں ہندو فرقہ واریت کا یہ جو مکروہ چہرہ دیکھ رہے ہیں، وہ راتوں رات آسمان سے نازل نہیں ہوا، اس کے کئی اسباب میں ایک سبب مسلمانوں کی نرگسیت اور ان میں علیحدگی پسندی کے وہ رجحانات تھے جو آزادی سے کافی پہلے ردعمل کی زمین ہموار کررہے تھے۔ مشیر الحق صاحب کی کتاب ”آزادی کے بعد بر صغیر کے مسلمان“ یا پھر غلام کبریا کی ”آزادی سے پہلے مسلمانوں کا ذہنی رویہ“ آج کی ہندوفرقہ پرستی کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد کرسکتی ہیں۔ یہ موضوع اتنا اہم اور حساس ہے کہ اس پر صرف سنگھ پریوار کا راگ الاپ کر مسلمانوں کو خوش تو کیا جاسکتا ہے لیکن تاریخ سے انصاف نہیں کیا جاسکتا اور نہ اصل مرض کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔

فاروقی صاحب شاکی ہیں کہ جن سیکولر قوتوں کا ہندوستانی مسلمانوں کو کل تک سہارا تھا، وہ اب نہیں رہا۔ یہ تو میرے لیے انکشاف ہے۔ اب فاروقی صاحب ہی میری معلومات میں اضافہ کردیں کہ گجرات سے لے کے گاؤکشی تک کے معاملات میں مسلمانوں کی جانب سے کون لڑ رہا ہے؟ تیستا سیتلواڈ، ہربنس مکھیا یا جنتر منتر میں اکٹھے وہ ہزاروں کی تعداد میں ’Not in my name‘ کے بینر تلے پوری شدت سے احتجاج کرتے لوگ شاید مسلمان بلکہ مرد مومن ہی ہوں گے جن کی آواز سن کر پارلیا منٹ ہل گیا تھا اور ایک عوامی جلسہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو صاف لہجوں میں ’گاؤ رکھشکوں‘ کو ’اسمگلر‘ تک کہنا پڑا تھا۔ لیکن اصل سوال اٹھتا ہے کہ اس پورے منظر نامے سے ہندوستانی مسلمان کیوں غائب ہیں؟ کیا ہندو آپ کی رعیت ہیں کہ وہی آپ کے حقوق کے لیے آوازیں اٹھائیں، آپ کی سلامتی کے لیے فرقہ پرستوں سے پارلیامنٹ سے لے کر عدالتوں تک لڑتے پھریں، آپ کے خودساختہ تحفظات کی پاسبانی کے لیے وہ سڑکوں پر نکل آئیں؟ اس کے برعکس آپ کایہ رویہ کہ خود اپنی لڑائی میں شامل نہ ہوں، دوسروں کے مسائل سے تو خیر آپ کاکچھ لینا دینا ہی نہیں ہے؟ دلتوں اور پچھڑی ذاتوں پر صرف زبانی جمع خرچ کرنے والے آخر ان کے مسائل پر ان کے ساتھ سڑکوں پر کیوں نہیں اترتے؟

ابھی کچھ دنوں قبل مہاراشٹر کے لاکھوں کسانوں نے ناسک سے ممبئی کے آزاد میدان تک اپنے جائز حقوق کے لیے بھوکے پیاسے پیدل مارچ کرکے ریاستی حکومت کو ہلادیا تھا۔ اس مارچ میں عورتیں اور بوڑھے بھی شامل تھے، اتنی لمبی مسافت میں کئی لوگ بیمار ہوگئے، آپ نے بھی اپنے رنگین ٹی وی سیٹ پر یہ سب کچھ دیکھا ہوگا لیکن کیا میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ اس بے مثال احتجاج میں مسلمان کہاں غائب تھے؟ دوسری سب سے اہم بات یہ کہ آخر یہ کسان خود کو ’marginalised‘ کہہ کر پاکستان یا نیپال کی جانب کشش محسوس کیوں نہیں کرتے؟

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے "اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

اشعر نجمی، ممبئی، ہندوستان

اشعر نجمی ممبئی کے سہ ماہی جریدے ”اثبات“ کے مدیر ہیں۔

ashar-najmi has 4 posts and counting.See all posts by ashar-najmi