میں ماہرِنفسیات کیسے بنا؟
ڈاکٹر احمد علی سے ملاقات
میری امی جان کا خواب تھا کہ میں ڈاکٹر بنوں جبکہ میرا خواب تھا کہ میں ماہرِ نفسیات بنوں۔ میں Psychiatry میں ہائوس جاب کرنا چاہتا تھا لیکن پشاور میں اس کی سہولت نہیں تھی۔ چنانچہ میں سارے شہر میں کسی ماہرِ نفسیات کے کلینک کو تلاش کرنے نکل پڑا۔ تین دن کی تلاش بسیار کے بعد جب مجھے ڈاکٹر احمد علی کا کلینک نظر آیا تو میں اندر جا کر ان سے ملا۔ میں نے ڈاکٹر احمد علی سے کہا’ میں نے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کر لیا ہے۔ اب گرمیوں کی چھٹیاں ہیں اور میں تین مہینے کے لیے فارغ ہوں۔ میرا یہ خواب ہے کہ میں آپ کی طرح ایک ماہرِ نفسیات بنوں اور اپنا ایک کلینک کھولوں جہاں میں اپنے مریضوں کا علاج کر سکوں۔ کیا آپ اس سلسلے میں میری مدد کر سکتے ہیں؟‘ ڈاکٹر احمد علی ایک مہربان ڈاکٹر تھے۔ وہ دوسرے کمرے سے ایک کرسی لے آئے اور کہنے لگے کہ تم ہر روز آیا کرو اور میرے ساتھ میرے مریض دیکھا کرو۔ چنانچہ اگلے تین مہینے میں ہر روز ان کے کلینک جاتا‘مریض دیکھتا‘ مریضوں کے نفسیاتی مسائل کے بارے میں کتابیں پڑھتا اور ڈاکٹر احمد علی سے تبادلہِ خیال کرتا۔
Newfoundland Memorial University
تین مہینوں کے بعد جب ڈاکٹر احمد علی ایک ہفتے کے لیے اپنے گائوں اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئے تو مجھے اپنی کرسی پر بٹھا گئے۔ اس تجربے نے میری حوصلہ افزائی کی اور مجھ میں خود اعتمادی پیدا ہوئی کہ میں ایک کامیاب ماہرِ نفسیات بن کر ایک دن اپنا کلینک چلا سکتا ہوں۔
ایران میں ملازمت
پشاور میں ایک سال میڈیسن اور گائنی میں ہائوس جاب کرنے کے بعد میں 1976ء میں ایران چلا گیا۔ وہاں میں ایک سال کام کرتا رہا تا کہ اتنی رقم جمع کر سکوں کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے مغرب جا سکوں۔ میں ہمدان میں جس بچوں کے کلینک میں کام کرتا تھا اس کی کھڑکی سے بو علی سینا کا مزار نظر آتا تھا۔ میں دن کے وقت مریض دیکھتا تھا اور شام کو ساری دنیا کی یونیورسٹیوں کو درخواستیں بھیجتا تھا۔ میں نفسیات میں اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ میں نے چند مہینوں میں سینکڑوں خطوط اور درخواستیں بھیجی ہونگی۔ آخر مجھے خوش خبریاں آنی شروع ہوئیں۔ مجھے آئر لینڈ ‘ نیوزی لینڈ اور کینیڈا کے صوبہ نیوفن لینڈ سے خط آئے کہ انہوں نے مجھے داخلہ دے دیا ہے۔ میں نے کینیڈا کا انتخاب کیا کیونکہ کینیڈا کی ڈگری ساری دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔
کینیڈا میں آمد
میں اکتوبر 1977 میں کینیڈا آیا اور میموریل یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ ان دنوں ڈاکٹر ہونگ نفسیات کے شعبے کے چیرمین ہوتے تھے۔ وہ مجھ سے بہت شفقت سے پیش آتے تھے۔ ایک دن میں نے ان سے کہا’ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے اپنے شعبے میں داخلہ دیا لیکن میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے مجھے انٹرویو کیے بغیر کس وجہ سے داخلہ دیا؟‘ ڈاکٹر ہونگ مسکرائے اور کہنے لگے ’ آپ کے تینوں پروفیدسروں نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ آپ ایک اچھے شاعر ہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر آپ اچھے شاعر ہیں تو آپ ایک اچھے ماہرِ نفسیات بھی بنیں گے‘۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ ڈاکٹر ہونگ کی بیگم ایک آرٹسٹ تھیں اور ڈاکٹر ہونگ کی بہت سے ادیبوں ‘ شاعروں اور دانشوروں سے دوستی تھی۔ وہ فلاسفر کارل جاسپرز کے اتنے مداح تھے کہ ان کی ایک ہزار صفحوں کی کتاب کا جرمن سے انگریزی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔
نیوفن لینڈ میں زمانہِ طالب علمی میں میں نے ڈاکٹر کاٹسوپلس‘ ڈاکٹر لبراکیز اور ڈاکٹر جیمز سے بہت کچھ سیکھا۔ ڈاکٹر یوجین وولف نے مجھے اپنا خصوصی شاگرد بنایا اور مجھے سائیکوتھیریپی کی سائنس اور فن کے رازوں سے متعارف کروایا۔ بعد میں میں نے بہت سی کانفرنسوں میں شرکت کی اور نفسیات کی دنیا کے جن معتبر اور محترم پرفیسرز سے ملاقات کی اور ان کے لیکچر سنے ان مین پیٹر سفنیوس مرے بوون اور وکٹر فرینکل شامل ہیں۔ اس مشاہیر نے نفسیات کی دنیا میں گرانقدر اضافے کیے ہیں۔
گرین زون کلینک
کینیڈا کے مختلف جنرل اور نفسیاتی ہسپتالوں میں کام کرنے کے بعد میں نے 1995 میں اپنی نرس این ہنڈرسن کی مدد سے اپنا کلینک کھولا۔ بعد میں نرس بے ٹی ڈیوس بھی کلینک میں کام کرنے لگیں۔ پچھلے تیس برس میں ہم نے سینکڑوں مریضوں اور ان کے خاندانوں کا علاج کیا۔ اس کلینک میں ہم نے ایک نیا طریقہِ علاج دریافت کیا جو GREEN ZONE THERAPY کہلاتا ہے۔ ہم نے اس اپنی مدد آپ کے فلسفے پر کتابیں بھی لکھیں۔ مریضوں کے علاج سے مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ اسی لیے ہر روز میں بڑے شوق سے اپنے کلینک جاتا ہوں۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے گرین زون کلینک میرے نوجوانی کے خواب کی تعبیر ہو۔ میں ان خوش قسمت انسانوں‘ ادیبوں اور ڈاکٹروں میں سے ہوں جن کے خواب ایک دن شرمندہِ تعبیر ہو جاتے ہیں۔

