12800 روپے ماہانہ آمدنی پر سترہ فی صد انکم ٹیکس


معلوم نہیں پڑھے لکھے لوگ خاص طور پر اساتذہ اپنے استحصال پر کیوں خاموش رہتے ہیں۔ حال ہی میں لاہور کی ایک معروف پرائیوٹ اور فیس کے لحاظ سے مہنگی یونیورسٹی میں پڑھانے کا اتفاق ہوا۔ میرے ساتھ ہفتہ میں دو لیکچر اور 1600 روپے فی لیکچر کے حساب سے معاوضہ طے کیا گیا۔ دو ماہ بعد مجھے 14500 کا چیک دیا گیا جبکہ دو ماہ میں 16 لیکچرز کا معاوضہ 25600 روپے بنتا ہے۔ میرے استفسار پر بتایا گیا کہ یونیورسٹی نے اس قلیل رقم میں سے17 فی صد ٹیکس کے علاوہ میرے چار لیکچرز کی بھی کٹوتی کی ہے جبکہ میں غیر حاضر نہیں تھی اور میں نے وہ چاروں لیکچر لیے تھے۔ دراصل یونیورسٹی میں آن لائن حاضری لگائی جاتی ہے۔ جبکہ میرے اکاؤنٹ سے سسٹم میں لاگ ان کا مسئلہ آ رہا تھا، جس کی میں نے ایڈمن میں نہ صرف بروقت اطلاع دی بلکہ اٹینڈینس شیٹ پر بھی حاضری لگا کر دی۔

اب یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ آن لائن حاضری کی صورت میں ہی لیکچر شمار ہوں گے۔ حالانکہ اگر سسٹم میں کوئی ٹیکنیکل فالٹ تھا تو یہ یونیورسٹی کا مسئلہ تھا۔ میں نے پورے لیکچرز بھی لیے، بروقت اطلاع اور اٹینڈینس شیٹ بھی دی اس کے باوجود پیسے کاٹ لیے گئے ہیں۔ اب رہی ٹیکس کی بات تو کوئی بتائے کہ 12800 روپے ماہانہ (8 لیکچر بحساب 1600 روپے فی لیکچر) معاوضہ لینے والی ٹیچر پر 17 فیصد ٹیکس کیسے اور کس قانون کے تحت لاگو ہوتا ہے؟

اتنی ماہانہ آمدنی تو سرے سے انکم ٹیکس کے زمرے میں ہی نہیں آتی۔ جب یونیورسٹی انتظامیہ سے اس بارے میں بات کی تو جواب ملا کہ یہ ہم نے نہیں گورنمنٹ نے لاگو کیا ہے۔ جن لوگوں کی ماہانہ آمدنی ٹیکس کی مقرر کردہ کم از کم حد میں بھی نہیں آتی ان پر 17 فی صد ٹیکس کس قانون کے تحت، کس مد میں اور کیوں وصول کیا جاتا ہے اس کا جواب کہیں سے نہیں ملتا۔ پھر اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ غریب اساتذہ کی قلیل آمدنی سے کاٹا گیا ٹیکس گورنمنٹ کے کھاتے میں جمع بھی ہوتا ہے یا نہیں۔

چاہیے تو یہ کہ یونیورسٹی، جو ایک طالب علم سے لاکھوں کے حساب سے فیس لیتی ہے اور کروڑوں روپے منافع کماتی ہے، معمولی معوضہ لینے والے اساتذہ سے ٹیکس لینے کی بجائے اپنی آمدنی سے انکم ٹیکس دے۔ مجھے حیرت ہے کہ اس پر نہ کبھی اساتذہ نے احتجاج کیا ہے نہ کسی اور فورم سے آواز اٹھی ہے۔ جب پڑھا لکھا طبقہ بھی اپنے حقوق سے نا آشنا ہو گا تو عام لوگوں کے معاشی استحصال کا کیا عالم ہو گا۔ ٹیکس کا نظام اور قوانین اس قدر پیچیدہ بنا دیے گئے ہیں کہ کم آمدنی والا اور بظاہر ٹیکس نہ دینے والا طبقہ بھی ٹیکس در ٹیکس کے چکر میں الجھا ہوا ہے اور شنوائی کا کوئی طریقہ اور راستہ نہیں۔ یہ انتہائی تکلیف دہ صورت حال ہے۔

Facebook Comments HS