سمندر پار کے صحرائی جزیرے


بوجھل دل کے ساتھ شکاگو سے واپس آیا۔ میں پہلے کون سا اسے بھولا تھا جو اب بھول جاتا۔ اس کی ایک الگ تصویر سی میرے ذہن میں بن گئی تھی جو ہروقت میرے ساتھ ساتھ رہنے لگی۔ فون کرنے کے بارے میں میں کش مکش کا شکار تھا کہ ایک دن شازیہ کا فون آگیا۔

بہت اداس تھی وہ اس نے بتایا کہ صبح اس کی فون پر ناہید سے بات ہوئی تھی۔ ناہید پہلی دفعہ ٹوٹ گئی تھی فون پر۔ اس نے بتایا کہ زندگی آسان نہیں رہی ہے۔ اس کا شوہر ایک عزت دار ڈاکٹر، مانا ہوا کارڈیولوجسٹ اور ایک معزز شہری ضرور ہے مگر ایک ظالم آدمی ہے جو بیوی کو کسی قابل نہیں سمجھتا ہے، اسے تشدد کا نشانہ بناتا ہے، بے عزتی کرتا ہے اس کی حیثیت ایک جنسی خادمہ کی ہے جو اس کے بچوں کی ماں ہے۔ اسے اگر ڈرائیونگ سکھائی ہے تو اس لئے کہ وہ بچوں کو اسکول اور اسلامک سینٹر سے لا جا سکے، باقی کچھ حیثیت نہیں ہے اس کی۔ پہلی دفعہ اس نے تفصیل سے بتایا کہ نادر اس کی تعلیم کے خلاف تھا اور اس کا یہ خیال ہے کہ یہاں کی تعلیم کے بعد لڑکیوں کے دماغ خراب ہوجاتے ہیں۔ پاکستان کی بات اور تھی اور یہاں کی اور ہے، یہاں اس کی آمدنی اتنی ہے کہ وہ سب کو پال سکتا ہے، ناہید کو نہ پڑھنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کام کرنے کی یہی حکم تھا اس کا، اور یہ حکم منوایا گیا۔

مگر شازیہ امریکہ میں یہ کیسے ہوسکتا ہے وہ ڈاؤن سنڈروم تھوڑی ہے۔ اس کا دماغ ہے۔ وہ ذہین ہے کیوں ہونے دیا اس نے ایسا، میں نے سوال کیا۔

میں نہیں پوچھ سکتی یہ بات۔ یہ تو نہ جانے کیسے بتادیا اس نے کچھ ہوا ہوگا۔ ہمیں ہی کچھ کرنا ہوگا اس سے پہلے کہ وہ خودکشی کرلے۔ میں نے کہا تھا نا کہ وہ شخص مجھے عجیب سا لگا تھا۔ میں مطمئن نہیں تھی اس سے، تم فون نہ کرنا ابھی، اس نے کہا، مجھے فی الحال اس سے بات کرنے دو۔

میرا دل چاہا کہ میں اس کے پاس چلا جاؤں، ملوں اس سے، سنوں اس کی، کہوں اپنی، کہ وہ اپنی زندگی کو جہنم نہ بنائے، بغاوت کرے حالات سے، ناہید بن کر بتائے بیگم نادر نہیں، زندگی ایسی نہیں گزرتی اور نہ گزارنی چاہیے مگر میں یہ کر نہیں سکتا تھا۔ وہ شادی شدہ تھی نہ جانے اس کے کیا حالات تھے اس لئے تو مل بھی نہیں سکوں گا۔ فاصلہ کچھ زیادہ نہیں تھا مگر حالات بہت مختلف تھے۔ مجھے شازیہ کے فون کا انتظار کرنا تھا۔

دو دن بعد شازیہ نے بتایا کہ اس دن ناہید کے کھل جانے کی وجہ یہ تھی کہ اس دن ہی اسے پتہ لگا تھا کہ نادر نے پہلے بھی ایک شادی کسی گوری سے کی ہوئی تھی جس سے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں تھیں اس کی۔ اتفاق سے اس کے ہاتھ ایک خط لگ گیا تھا جو شاید نادر کے کاغذات میں سے گرگیا تھا جس میں اس کی سابقہ بیوی کے وکیل کا خط تھا کہ وہ بچوں کے پیسے پابندی سے نہیں بھیج رہا ہے۔ نادر کو جب پتہ چلا کہ اسے پتہ چل گیا ہے تو بجائے شرمسار ہونے کہ اور اپنے جھوٹ پر نادم ہوکر معافی مانگنے کہ اس نے ناہید کو ہی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس نے روتے ہوئے کہا کہ بچوں کے سامنے تھپڑوں اور گھونسوں سے پیٹا ہے اس نے۔ دنیا میں ایسا کیوں ہوتا ہے۔ شازیہ نے مجھ سے سوال کیا۔

میرے پاس کیا جواب تھا کچھ بھی نہیں، دنیا میں ہی ایسا ہوتا ہے مگر مجھے افسوس اس بات کا تھا کہ یہ سب کچھ اس کے ساتھ ہورہا تھا جو میری کلاس کی سب سے زیادہ ذہین لڑکی تھی جو خوبصورتی میں یکتا تھی جو بے باک تھی، نڈر تھی مگر ایک ایسے ملک میں جہاں سب کو حقوق حاصل تھے وہ اپنا حق گنوا بیٹھی تھی۔

میں نے شازیہ سے کہا کہ اس سے کہو کہ وہ 911 کو فون کرے پولیس کو بلائے، نادر کتنا بھی بڑا آدمی ہے اس ملک میں قانون سے نہیں بچ سکتا ہے۔ اسے فیصلہ کرنا ہوگا اس جہنم سے نکلنے کے لئے۔ میں اس کے ساتھ ہوں ہم سب اس کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے۔

کئی دن گزر گئے۔ شازیہ کی ناہید سے کوئی خاص بات نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ ناہید نے کہا تھا کہ وہ سوچ رہی ہے، اسے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہے اس کے بچے ہیں، پاکستان میں خاندان کے کئی گھریلو معاملات ہیں۔ وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی ہے، ایک کش مکش کا عالم ہے مگر وہ اندر سے سوکھی ہوئی لکڑی کی طرح جل رہی تھی اسے یہ غم کھائے جارہا تھا کہ نادر نے اس سے، اس کے خاندان سے جھوٹ بولا تھا۔ اس نے اسے پڑھنے نہیں دیا۔ اسلام کا حوالہ دے کر اسے تقریباً پردے میں بٹھادیا۔ اسے گھر کے معاملات میں الجھا دیا۔ وہ علاقے کے مسجد کمیٹی کا بھی بہت کچھ تھا اور گھر میں ایک جھوٹا ظالم مرد، یہ سب باتیں شازیہ نے مجھے بتائی تھیں۔

”مگر شازیہ یہ کوئی نئی بات تو نہیں ہے، امریکہ میں تو بہت سے لوگ ہیں جن کی دو دنیائیں ہیں ایک دنیا شادی سے پہلے کی اور ایک دنیا شادی کے بعد کی۔ پاکستان واپس جا کرمیں شادی سے پہلے وہ سب کچھ کرتے ہیں، ان کی گرل فرینڈ بھی ہوتی ہیں، وہ شادی کے بغیر بھی ساتھ رہتے ہیں، امریکی سفید، اسپینش، فلی پینو اور ہندوستانی لڑکیوں سے شادی بھی کرلیتے ہیں ان کے بچے بھی ہوتے ہیں پھر طلاق بھی ہوتی ہے، پھر وہ پاکستان جاکر سچ جھوٹ بول کر نئی شادیاں کرلیتے ہیں، انہیں یکایک اسلام اچھا لگنے لگتا ہے، بیویوں کو قید کردیتے ہیں ان کی مرضی کے خلاف ان سے پردہ کراتے ہیں، انہیں وہ قرآنی آیات ازبر ہوتی ہیں جس میں مرد کے حقوق اور شوہر کی برتری کے تذکرے ہوتے ہیں۔ وہ وہ وقت بھول جاتے ہیں جب وہ شتر بے مہار کی طرح آزاد دنیا میں اتنی آزادی سے رہتے تھے کہ وہ آزادی امریکیوں کو بھی میسر نہیں ہوتی ہے۔ امریکیوں کی مور لیٹی میں بھی ایک مورل ہے اور ہمارے لوگوں کی مورلیٹی میں مجھے مورل دور دور تک تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتا ہے۔ ‘‘

”مگر اس قسم کے کام صرف اسلامی لوگ تو نہیں کرتے ہیں۔ ‘‘ شازیہ نے مجھے روک دیا تھا اور سارے پاکستانی بھی ایسے نہیں ہیں تمھاری باتوں سے مجھے تھوڑا اختلاف ہے اس نے احتجاج کیا تھا۔

”میں نے کب کہا کہ یہ کام سارے اسلامی لوگ کرتے ہیں، دوسری مثالیں بھی ہیں۔ بہت سارے ایسے لوگ ہیں جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا انہوں نے بھی یہ سب کچھ کیا ہے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ زیادہ تر ایسے لوگ آخر میں مذہبی ہی ہوجاتے ہیں، خیر چھوڑو اس بات کو یہ بتاؤ کہ ناہید کو اس جہنم سے کیسے نکالا جائے۔ ‘‘

ایک ہفتے بعد شازیہ نے بتایا کہ اگلے مہینے نادر دو دن کے لئے کسی میٹنگ میں دوسرے شہر جا رہا ہے۔ اس نے بکنگ کرائی ہے اور وہ کنساس جاکر ناہید سے ملے گی۔

میں نے کہا کہ میں بھی چلتا ہوں مگر اس نے مجھے منع کردیا کہ ایک دفعہ وہ مل لے تو صحیح حالات کا اندازہ ہوسکے گا، اس کی اپنی خواہش کیا ہے اور وہ خود کیا چاہتی ہے تب ہی ہم لوگ اس کی صحیح معنوں میں مدد کرسکیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ خود اس جہنم سے نہیں نکلنا چاہتی ہے تو ہم لوگ کیا کرسکیں گے

اس کی بات درست تھی۔ میں نے اس سے کہا کہ ”اس سے کہہ دینا کہ وہ اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھے۔ مجھے اپنے ساتھ سمجھے۔ میں سب کچھ کرنے کو تیار ہوں۔ جب وہ کہے گی میں آسکتا ہوں۔ ڈالرز کی ضرورت ہے تو وہ بھی ہے اور بڑے سے بڑا وکیل کرنا ہوگا تو وہ بھی کریں گے۔ اس سے کہنا کہ یہ صرف زبانی باتیں نہیں ہیں میں یہ سب کچھ کروں گا جب بھی ضرورت پڑے گی۔ ‘‘

باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4