کامیاب تخلیق کار کی موت کا منظر

”مار ڈالو سالے کو، حرام زادے کو ابھی پکڑو اور لے چلو“ اور اس کے ساتھ ہی کسی نے مجھے گردن سے اس طرح پکڑ کر اٹھایا کہ میں اس کا چہرہ بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ بڑی بڑی انگلیاں اوربھرابھرا ہاتھ جیسے گلا گھونٹنے کے لئے بالکل تیار۔ آنکھوں سے صرف سیاہ رنگ ہی…

Read more

بارش کی ایک رات اور بے خواب ممتا کے سترہ برس

 ”مجھے پہچان لیا ڈاکٹر! “ اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک عجیب اطمینان کے ساتھ کہا۔ میں اسے سو سال کے بعد بھی پہچان لیتا، ابھی تو صرف سترہ سال ہی گزرے تھے۔ میں کیسے بھول سکتا تھا اُسے۔ اس طرح کے واقعات ہر ایک کی زندگی میں نہیں ہوتے ہیں اور…

Read more

زلیخا بی بی کے 45 برس اور سجدوں کی ایک رات

پچاس منٹ سے بھی کم وقت میں زلیخا بی بی کا آپرشن ختم ہوگیا تھا۔ وکرل کا ایک دھاگہ مالیت دو سو اسی روپے اسپائنل اینستھیسیاجس سے زلیخا بی بی کے جسم کو سُن کیا گیا تاکہ بغیر کسی تکلیف کے اپریشن ہوسکے۔ اسپائنل نیڈل قیمت بائیس روپے بے ہوشی کی دوا کی قیمت آٹھ…

Read more

موت کے منہ سے لوٹنے والی ماں مجھے پانچ سو روپے دینا چاہتی تھی

یہ سیدھا سادھا اسقاطِ حمل کا کیس نہیں تھا۔نواب شاہ کے سول ہسپتال میں اسقاط حمل کے ساتھ بہت سارے مریض آتے ہیں۔ اسقاط حمل ایک عام بات ہے۔ لاکھوں کروڑوں عورتوں کو تو پتہ بھی نہیں چلتا ہے کہ ان کا حمل ضائع ہوگیا ہے۔ قدرت کا نظام ہی اس قسم کا ہے کہ ہونے والے بچے میں اگر ایسی خرابی ہو کہ جس کے ساتھ زندہ رہنا ممکن ہی نہ ہوتو پھر حمل خودبخود ضائع ہوجاتا ہے۔ بچہ خودبخود گرجاتا ہے۔ اس حمل کوضائع کرنے کے لئے، اس بچے کو گرانے کے لئے کسی دائی، نرس، مڈوائف یا ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہوتی ہے

Read more

میں چاہتا تھا کہ مجھے دفن کرنے کی بجائے جلا دیا جائے

ستاون سال کی عمر میں جب میں مکمل طورپر چاق و چوبند تھا، توانائی سے بھرپور اور ایک اچھی زندگی گزار رہا تھا کہ مجھ پر انکشاف ہوا کہ مجھے کینسر ہوگیا ہے۔

اس دن کام سے گھر آتے وقت ریڈیو پر خبر تھی کہ جس ہائی وے پر میں جاتا تھا اس پر ایک بڑا حادثہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہے۔ میں نے فوراً ہی گاڑی چھوٹے روڈ پر ڈال دی تھی۔ امریکا میں ہائی وے پر چلنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ راستے میں کہیں بھی کوئی ٹریفک لائن نہیں ملتی ہے اور سفر بغیر کسی رکاوٹ کے ختم ہوجاتا ہے اور آرام سے بغیر رُکے ہوئے اپنے محلے یا شہر پہنچا جاسکتا ہے۔ پورا امریکا اسی قسم کے ہائی وے کے جالوں میں جکڑا ہوا ہے۔

Read more

وہ ماں جو بیٹوں پر بھاری ہو گئی تھی

اٹھارہ سال سے وہ میری مریضہ تھی۔ ہر کچھ مہینوں کے بعد اس کا شوہر اسے لے کر آجاتا، اسے دیکھتے ہی مجھے سخت تکلیف ہوتی، اندر بہت اندر جیسے کچھ ٹوٹ پھوٹ جاتا، گلے میں خشکی سی ہوتی اور دل زور زور سے دھڑکنے لگتا۔ یہ سمجھتے، جانتے بوجھتے ہوئے کہ میں نے اپنی سی پوری کوشش کرلی تھی۔ جو کچھ ہوسکتا، جو ممکن تھا، کسی طرح سے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی میں نے۔ اسے دیکھ کر اپنی ناکامی، اپنے فن کی ناکامی، سائنس کی ناکامی، طب کی دنیا میں ہوتی ہوئی ترقی کی ناکامی اور سرجری کے ذریعے کیے جانے والے بعض عجیب و غریب آپریشنوں کی کامیابی کے باوجود اپنی سرجری کی ناکامی کا شدید احساس ہوتا تھا مجھے۔

Read more

میٹھی شتابی

کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہوا، سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ عورتوں کی تقریب تھی۔ میٹھی شتابی۔ بہت سی عورتیں تھیں بھی نہیں۔ صرف قریبی رشتہ داروں کو بلایا گیا تھا۔ تقریب ابھی جاری تھی کہ یکایک شور اٹھا اور کسی لڑکی کی زور سے بین کرنے کی آواز آئی، ”مرگئی مرگئی…

Read more

فرعون کی بیٹی کی چیخ

وہ غیر معمولی طور پر عجیب و غریب مقدمہ تھا۔ قاہرہ تو کیا پوری دنیا کی کسی بھی عدالت میں اس قسم کا مقدمہ کبھی نہیں پیش کیا گیا۔ یہاں تک کہ جج اور عدالت کے اہلکار بھی اپنی حیرانی نہیں چھپارہے تھے۔ مقدمے کی نوعیت ایسی تھی کہ صرف قاہرہ اور مصر کے ہی عوام نہیں بلکہ تمام دنیا کے لوگ اس میں دلچسپی لے رہے تھے۔ عدالت کی تاریخ جاننے والے لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے بہت انوکھا اوربالکل منفرد تھا۔

روزنامہ ”الاہرام“ کے مطابق این میری خلیل نام کی اٹھائیس سالہ انگریز عورت فراعینِ مصر کے میوزیم میں چھپ گئی تھی۔ میوزیم کے تمام اہلکاروں کے میوزیم سے چلے جانے کے بعد رات کی تاریکی میں اس انگریز عورت نے فراعین کی ملکاؤں کے کپڑے اُتاردیئے اور تقریباً سب کو ننگا کردیا۔ ہزاروں سال سے پوشیدہ شہزادیوں، ملکاؤں کے ان نسوانی اعضا کی تصاویر کھینچیں جن کا وقت بھی کچھ نہیں بگاڑسکتا تھا۔

ملکہ نفری ٹی ٹی، ملکہ اشاتی، ملکہ احمس، ملکہ طوطخ امن کی بیوی اور دیگرتمام ملکائیں ننگی پائی گئیں۔ اخبار نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے لکھا تھا کہ این میری خلیل نے ملکاؤں کی ننگی تصویریں کھینچیں مگر فلش گن کے چمکنے سے خودکار الارم بج اُٹھے اورمسلح چوکیداروں نے رات کو ہی این میری کو گرفتار کرلیا تھا۔ دوسرے دن سے ہی اخباروں میں اس واقعے کی تشہیر شروع ہوگئی۔ ابتدائی گرفتاری کے بعد سے این میری پولیس کے حوالات میں تھی اور پولیس نے مقدمہ بنا کر عدالت کی ابتدائی کارروائیاں مکمل کی تھیں۔

Read more

زلیخا کا ناسور

لاڑکانہ تو شہر ہی وزیروں، وزیراعلاؤں اور وزیراعظموں کا تھا اور اس کے ساتھ ہی موہنجوداڑو کا رومانس، ہزاروں سال پرانی تہذیب کے آثار جس کے بارے میں، میں نے بہت کچھ سنا تھا اور پڑھا بھی تھا۔ اسی لاڑکانہ آنے کی دعوت نے مجھے یکایک مسحور سا کرکے رکھ دیا تھا۔ سالوں پہلے ڈاکٹر…

Read more

عطر شیشہ اور دوسرے مقامات پر زلزلے کی ضرورت

اسے عطر شیشہ سے لایا گیا تھا۔
ایبٹ آباد سے مظفرآباد کے راستے پر مانسہرہ سے نکل کر جب پہاڑی سلسلے شروع ہوتے ہیں، بڑی بڑی اونچی چوٹیوں کو پھلانگتے ہوئے سرسبزوادیوں سے گزرتے ہوئے جھرنوں، نالوں، نالیوں، ندی کے کنارے سفر کرتے ہوئے ایک چھوٹی سی جگہ عطر شیشہ کے نام سے آتی ہے۔ عطر شیشہ کے پاس کی کسی چھوٹے سے گاؤں سے ایدھی ایمبولینس کے رضاکار اسے لے کر آئے تھے۔

اس کے گھر کا کوئی فرد نہیں بچا تھا۔ نہ باپ نہ ماں نہ بھائی نہ بھابھی اور نہ ہی گھر کے تینوں بچے۔ زلزلہ سب کواپنے ساتھ لے گیا، صرف وہی اس گھر کی زندہ فرد تھی۔ اسے زلزلے نے تو کوئی نقصان نہیں پہنچایا مگر زلزلے کے فوراً بعد جب وہ اپنی پوری قوت سے اپنے ہی گھر کے ملبے کو کوڑ ہی تھی تو گرتے ہوئے گھر کی ایک دیوار کا حصہ اس پر آن گرا اور اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں۔

مانسہرہ کے بی ڈی او ہسپتال میں وہ بستر پر پڑی ہوئی تھی اوراس کا بستر گیلا تھا اور اس کے پاس سے سخت بدبوآرہی تھی۔ میں نے ہی سب سے پہلے اسے دیکھا تھا۔

Read more