محبت کی خاطر

میں نے اس کے سرخ و سفید جاذب نظر چہرے پر چوڑی پیشانی اور دونوں خوبصورت ذہین آنکھوں کے درمیان گولی ماری تھی۔ اس کا خوفزدہ اور پیلا ہوتا ہوا چہرا اب تک میرے سامنے ہے۔ پہلے اس کے چہرے پہ حیرت ہی حیرت نظر آئی اس نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ میں وہاں…

Read more

عبدالسلام کی بچی اٹلی نہ جا سکی

انہیں میں نے انٹرنیشنل فارمرز مارکیٹ میں دیکھا۔ انٹرنیشنل فارمرز مارکیٹ بہت بڑی دکان ہے، یہاں زندہ مچھلی سے لے کر ہر قسم کا گوشت ہر قسم کے لوگوں کے لئے اور دنیا بھر میں اُگنے والی ہر طرح کی سبزی، دنیا کے ہر ملک نسل اور اقوام کے مصالحہ جات اور تقریباً ہر قسم…

Read more

راستہ بھولنے کے بعد خوشی کا سوال کیسا؟

”خوش کیسے ہوسکتی ہوں؟ “ اس نے اپنی بھاری بھاری پلکوں والی آنکھوں سے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ اس کے چہرے کا کرب، اس کے من کا دکھ، اس کے اندر کی بے چینی سب کچھ جیسے میرے سامنے آگیا۔ مجھے شدت سے احساس ہوا کہ یہ سوال مجھے نہیں کرنا چاہیے تھا۔…

Read more

بصرے کی رہنے والی اور امریکی پرچم کا بوسہ

میرا نام مَریّا ہے، مَریا حداد۔ میں بصرے کی رہنے والی ہوں اسی بصرے کی جو ہزاروں سال پرانا ہے۔ اسی بصرے کے ایک ہزاروں سال پرانے خاندان سے تعلق ہے میرا جو یسوع مسیح کے زمانے سے عیسائی ہے۔ جو گرجا گھروں کے اس شہر میں رہتا رہا، زمانے کے الم و غم سہتا…

Read more

پب والی لڑکی سے محبت اور طالبان کا تاوان

حلال گوشت کی دوکان پر اسے دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ ابھی پچھلے ہفتے کی بات ہے کہ بلوھیون پب، میں وہ مختصر ترین لباس میں ناچ رہی تھی۔ مجھے اچھی بھی لگی اور نشے میں نہ جانے کتنے ڈالر میں نے اس کے پین ٹیز اور برا کے اندر اپنے ہاتھوں سے ٹھونسے…

Read more

مجرم کا سچ اور معاشرے کا جھوٹ

”بس جی میں نے سر کو گلے سے کاٹ کر پہلے تو پرانے اخبار میں اچھے طریقے سے لپیٹا پھر ایک پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر اوپر سے باندھ دیا، جسم کے ٹکڑے کرنا کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے جلدی جلدی ٹکڑے کیے پھر ٹرنک میں پہلے دھڑ رکھا اس پر دونوں ہاتھ،…

Read more

سندھ کی بیٹی، بہتا ہوا پیشاب اور فسٹیولا کی بیماری

سندھی لڑکیاں کبھی بھی مجھے اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکیں۔ مجھے وہ خوب صورت لگتی ہی نہیں تھیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بہت دنوں تک میں یہی سمجھتا رہا کہ سندھی لڑکیوں میں ضرور کوئی خرابی ہوتی ہے۔ ان میں کوئی جسمانی نقص ہے یا یہ کچھ ادھوری سی ہیں۔ میں نے کبھی…

Read more

ایک خودکش بمبار اور ایک ڈاکٹر

”میں آٹھ منٹ میں زندہ انسان کی کھال کھینچ لیتا ہوں۔“ اس نے بڑے سکون سے مجھے دیکھتے ہوئے صاف الفاظ میں بتایا۔ دوبارہ سے میری ریڑھ کی ہڈی میں سردلہر دوڑتی چلی گئی، کوشش کے باوجود میں اپنے آپ کو پرسکون نہیں رکھ پایا۔ مجھے اپنے دل کی دھڑکن کی آواز محسوس ہورہی تھی۔…

Read more

ڈنمارک کی دوشیزہ، فلسطینی نوجوان اور اسرائیلی ایجنٹ

میں وہاں صبح سویرے پہنچا۔ ریلوے اسٹیشن سے بس پکڑ کر اس کے اپارٹمنٹ تک پہنچنا کوئی زیادہ مشکل نہ تھا۔ ڈبلن سے اوسلو تک پہنچنا بھی کوئی ایسا مشکل نہ تھا۔ مشکل تو اس کا سامنا کرنے میں تھی۔ نہ جانے وہ کیسی ہوگی، کس طرح سے اس نے حالات کا مقابلہ کیا ہوگا۔ وہ ہنسنے گانے گھومنے گھامنے والی سادہ سی یورپین لڑکی، اتنے بڑے حادثے کو کیسے بھگتایا ہوگا اس نے۔ میں سوچتا رہا اور پریشان ہوتا رہا۔

Read more

کراچی سے نیویارک تک: جالے اور دُھواں

نکاح سے پہلے وہ تحفہ پہنچ گیا، لمبا سا، موٹا سا۔ کپڑے کے ایک لمبے سے اور موٹے سے تھیلے میں لپٹا ہوا۔ قالین کو تہہ نہیں کرتے ہیں گول گول رول کرکے موٹے کپڑے کے تھیلے میں پرودیا جاتا ہے۔ کسی نے دیکھا بھی نہیں کہ کون اس تھیلے کو لے کر آیا ہے۔ اس تحفے کے پہنچتے ہی ہر ایک کی توجہ اس طرف چلی گئی۔ چھوٹے سے گھر کا آنگن ہوتا ہی کتنا بڑا ہے۔ آنگن کے بیچ میں اسے ڈال دیا گیا تھا۔

رات کی جاگی ہوئی، تھکی ہوئی لڑکیاں تیار ہونے کا سوچ ہی رہی تھیں۔ چھوٹے بچے اپنے اپنے کپڑے تھامے کھڑے تھے کہ بارات کے آنے سے پہلے پہن لیں۔ عورتیں بھی سوچ رہی تھیں کہ دلہن کے بیوٹی پارلر جانے کے بعد وہ بھی تیار ہونا شروع کریں گی کہ کسی نے کہا کہ ”اسے کھول کر تو دیکھو بھلا یہ قالین ہے کیسا؟ “

Read more