بنگلہ دیش میں چند دن۔ قسط : 10

تحریر: ڈاکٹر شیرشاہ سید ترجمہ اور تخلیص :گوہر تاج ڈھاکہ کو ضیاء بین الاقوامی ہوائی اڈہ قرار دیا گیا لیکن حسینہ شیخ نے کمال ہوشیاری سے اس کا نام تبدیل کر کے شاہ جلال ہوائی اڈہ رکھ دیا۔ شاہ جلال 1271 ء میں پیدا ہونے والے ایک صوفی بزرگ تھے جن کا تعلق یمن سے ہے۔ شاہ صاحب نے اس علاقے میں اسلام کو پھیلایا۔ حسینہ شیخ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی اس نام کو تبدیل کرنے

Read more

بنگلہ دیش میں چند دن۔ قسط: 8

تحریر: ڈاکٹر شیرشاہ سید ترجمہ اور تلخیص :گوہر تاج ڈھاکہ شہر بہت متاثر کن ہے۔ ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ حکومت نے بنگال کے اس پرانے شہر میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کتنا خرچہ کیا ہے۔ ایک دوست نے مجھے بتایا کہ پارلیمنٹ کی مضبوط عمارت ہماری جمہوریت کی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے۔ ڈھاکہ میں عمارتوں اور اوور ہیڈ اور زیر زمین پلوں کی تعمیر ملک میں دولت کی تفاوت کی نشاندہی کرتی ہے۔ ملک کے

Read more

بنگلہ دیش میں چند دن – قسط :7

تحریر: ڈاکٹر شیرشاہ سید ترجمہ اور تخلیص :گوہر تاج بنگلہ دیش کا تاریک پہلو بنگلہ دیش میں جمہوریت نہیں ہے۔ چونکہ فوج سے آزادی حاصل کرنے والی سیاسی جماعتیں جمہوریت کی قدر کرنے میں ناکام رہی ہیں اور بنگلہ دیش کے لوگوں کو حقوق دینے کے لیے تیار نہیں۔ مجیب اور ضیاء الرحمن کی جماعتیں عوام کے تمام حقوق پامال کر کے ملک پر حکومت کرنے کی قائل تھیں۔ بنگلہ دیش بدترین قسم کی بے رحم سرمایہ داری والا ملک

Read more

بنگلہ دیش میں چند دن: قسط :6

تحریر: ڈاکٹر شیرشاہ سید ترجمہ اور تخلیص :گوہر تاج یہ ڈھاکہ یونیورسٹی ہے جہاں کبھی شیخ مجیب الرحمن کو غیر مشروط حمایت حاصل تھی۔ اب عین اس یونیورسٹی کے مقابل مجیب کے خلاف پوسٹر لگے ہوئے ہیں۔ جس میں اسے فاشسٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ اب اس کی ہر یادگار کو وہی لوگ تباہ کر رہے ہیں جو کبھی ان کی پوجا کرتے تھے۔ اس کی بیٹی حسینہ شیخ نے ڈکٹیٹر بن کر لفافہ (رشوت کھانے والے ) صحافیوں،

Read more

بنگلہ دیش میں چند دن – قسط : 5

تحریر ڈاکٹر شیرشاہ سید: ترجمہ اور تخلیص گوہر تاج میں اپنی عادت کے مطابق سفر کے دوران ٹیکسی ڈرائیوروں کا انٹرویو لے رہا ہوں جو مجھے بتا رہے ہیں کہ ڈھاکہ میں بہت سے پاکستانی، ہندوستانی، نیپالی اور عرب طلباء ہیں۔ پاکستانی طلباء کا انداز کچھ زیادہ دوستانہ ہے۔ اور ہم انہیں پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنی زندگیوں کے بارے میں بھی بتایا۔ مثلاً ان کی شادی کیسے ہوئی۔ ان سبھوں کے دل محبت کے ہاتھوں ٹوٹے ہوئے

Read more

بنگلہ دیش میں چند دن قسط: 4

تحریر ڈاکٹر شیرشاہ سید: ترجمہ گوہر تاج ستتر سالہ فرہاد مظہر ہمارے سامنے صحافیوں کے دو گروپوں سے بات کرنے کے بعد بہت تازہ دم اور اچھے لگ رہے تھے۔ ہمارے بعد طلبہ کا ایک گروپ بھی ان سے ملنے کا انتظار کر رہا تھا۔ ”آپ غالب کے مداح ہیں؟“ میں نے ان سے مصافحہ کرتے وقت پوچھا تھا۔ ”کون نہیں ہے؟“ انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ میں نے انہیں اپنے امریکہ میں رہنے والے دوست شاہ فضل عباس

Read more

بنگلہ دیش میں چند دن ۔ قسط۔ 3

تحریر ڈاکٹر شیرشاہ سید: ترجمہ گوہر تاج پیر 8 دسمبر 2024 ء پیر کی صبح 7 بجے میری ملاقات سونار گاؤں ہوٹل میں بریجٹ سے طے پائی۔ جو UNFPA کے ساتھ تکنیکی ماہر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اور فیسٹولا پروجیکٹ کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جہانگیر نے مجھے صبح چھ بجکر پندرہ منٹ پہ اٹھایا اور ہم چھ بجکر پینتالیس منٹ پہ سونار گاؤں پہنچ گئے تھے۔ ہم نے بدھ کے روز فسٹولا

Read more

بنگلہ دیش میں کچھ دن قسط 2

تحریر: ڈاکٹر شیرشاہ سید، ترجمہ: گوہر تاج ہفتہ سات دسمبر 2024 ء ہفتہ کی صبح کا آغاز صبح ساڑھے پانچ بجے غازی نذر السلام کے حلقے میں اس کے ساتھ ہوا۔ ہم ایک چھوٹی موٹر بوٹ پر اس جزیرے کو دیکھنے گئے تھے جو اچانک غائب ہو جاتا ہے اور 65000 لوگوں کو مرکزی زمین پر آنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر نذرل نے کہا کہ انہوں نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے عمر کے کئی بوڑھے مردوں کو دیکھا کہ

Read more

بنگلہ دیش میں کچھ دن: قسط 1

(دسمبر کے مہینے میں ڈاکٹر شیرشاہ سید دو سال میں ایک بار ہونے والی نویں کانفرنس آف انٹرنیشنل سوسائٹی آف فیسٹولا سرجنز میں شرکت کی غرض سے ڈھاکہ، بنگلہ دیش گئے۔ کانفرنس میں شرکت کے علاوہ انہوں نے بنگلہ دیشی سماج اور نظام کا بغور مشاہدہ بھی کیا۔ وہ باقاعدگی سے دوستوں کے واٹس اپ گروپ کو اپنے تجربات اور مشاہدات پہ مبنی روزنامچہ بھیجتے رہے۔ ”ہم سب“ کے لیے ان کی انگریزی تحریر کا ترجمہ اور تلخیص گوہر تاج

Read more

بھگوان کا گورکھ دھندا

میرا خیال تھا کہ بھگوان سے ملنا بہت آسان ہو گا۔ خاص طور پر اگر آپ کو سورگ میں جگہ مل گئی ہو تو آپ اپنے آپ کو ایک طرح سے وی آئی پی ہی سمجھتے ہیں۔ ایک انتہائی اہم شخص جس پر مرنے کے بعد جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہوں جسے بھگوان کی آشیرباد میسر ہو، جس سے بھگوان سہمت ہو، اسے کیا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ وہ تو چنیدہ ہے جو چاہے کرے، جو سمجھے، اس

Read more

گھمنڈی

چادر میں چھپی ہوئی عورت کی آنکھیں اور چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ ایک خوبصورت اور نازک سی عورت ہے۔ مجھے یقین نہیں آیا کہ اس عورت نے قتل کیا ہے۔ یہ کیسے قتل کر سکتی ہے، وہ بھی کسی مرد کو ۔ اس کا شوہر اپنے دو بچوں کے ساتھ اسے جیل میں ملنے آیا تھا۔ دونوں بچوں کی عمر چار پانچ سالوں سے زیادہ نہیں ہوگی۔ اس نے ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھایا ہوا تھا،

Read more

تم جیو ہزاروں سال

چچا جان کا فون تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ”میں نے اپنی وصیت بہت پہلے لکھ دی تھی۔ اب میں نے اپنے کریا کرم کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھ دیا ہے۔“ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں آہستہ آہستہ بولتے ہوئے بتایا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ فون کے دوسرے سرے پر عادت سے مجبور وہ دھیرے دھیرے سے مسکرا بھی رہے ہوں گے۔ ”کریا کرم یعنی آپ آخری رسومات کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟“ میں

Read more

ایک انگوٹھی

پرویز مشرف سے میری بہت پرانی دوستی تھی، ان کے صدر، سپہ سالار، جنرل اور فوجی بننے سے بھی بہت پہلے۔ ہماری دوستی عہدوں اور اقتدار سے بالاتر تھی۔ اس زمانے کی دوستی جب دوستی میں کوئی غرض نہیں ہوتی ہے، کوئی مفاد وابستہ نہیں ہوتا ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے جو بے غرض ہوتی ہے۔ ان کے سپہ سالار بننے سے سات سال پہلے میں پاکستان کے حالات سے بیزار ہو کر پاکستان چھوڑ کر امریکا آ

Read more

جو تیری طرح جیتے ہیں وہ مرتے کب ہیں

جاوید حیدر سے پہلی ملاقات کی دو باتیں میں آج تک نہیں بھولا۔ ایک تو یہ کہ ان کی قمیض کے اوپر والی جیب سے تھوڑا باہر جھانکتا ہوا سگریٹ کا پیکٹ اور ان کا ہاتھ جن سے ہاتھ ملانے سے مجھے محسوس ہوا کہ وہ گرم ہیں۔ ”آپ کو بخار ہے۔“ میں نے پوچھا تھا۔ ”نہیں تو بالکل نہیں۔“ انہوں نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔ ”میرے ہاتھ گرم ہی رہتے ہیں مگر مجھے بخار نہیں ہے۔“ ہماری پہلی

Read more

عبدالستار ایدھی۔۔۔ جیسا میں نے انہیں دیکھا

(8 جولائی کو عبدالستار ایدھی صاحب کو ہم سے رخصت ہوئےسات برس ہو گئے۔ ایدھی کے بارے میں ڈاکتر شیر شاہ سید کا زیر نظر مضمون یکم ستمبر 2021 کو ہم سب پر شائع ہوا تھا۔ اس عظیم انسان کی یاد میں اشاعت مکرر حاضر ہے) ٭٭٭      ٭٭٭ میں نے فیصل ایدھی سے کہا کہ مجھے ایدھی صاحب کے پہنے ہوئے کپڑوں کا ایک جوڑا چاہیے۔ ایدھی صاحب ہمیشہ ملیشیا کے کپڑے سے سِلا ہوا کالے رنگ کا پاجامہ اور

Read more

کیرم بورڈ

آخری بار جب میں نے انہیں دیکھا تھا تو وہ بہت کمزور ہوچکے تھے۔ اس دن جب میں ان کے گھر پہنچا تو وہ سو رہے تھے یا شاید بے ہوش تھے۔ چہرے کی جھریاں ایک دوسرے کے اوپر سمانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ سرخ ہونٹ کے ساتھ زبان بھی سرخ سرخ سی ہو رہی تھی۔ سر پر کوئی بال نہیں اور ماتھے کے تل کافی نمایاں تھے۔ دھنسی ہوئی آنکھیں اور چہرہ کسی مرے ہوئے آدمی کا چہرہ

Read more

سندھ دیس کی دھرتی پر

محمد بن قاسم اور ذوالفقار علی بھٹو کی تصویریں ساتھ ساتھ لگائی ہوئی تھیں اس نے۔ دونوں تصویروں کے نیچے دو خوبصورت لڑکیوں کی تصویریں تھیں، ماتھے پر بندیا، ہونٹوں پر لالی، کانوں میں بالی، آنکھوں میں کاجل، گالوں پر گلال، ناک میں نتھ، جھکی جھکی نظریں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں تھی کہ یہ ہندو لڑکیوں کی تصویریں ہیں۔ ویسی ہی لڑکیاں جو آج کل کی ہندوستانی فلموں میں ہوتی ہیں۔ لگتا تھا کسی نے ان لڑکیوں کو ماڈل

Read more

کفارہ

لڑکوں نے اسے مار مار کر ادھ مرا کر دیا تھا اور وہ دھڑام سے زمین پر گر گیا۔ ”حرام زادے قائداعظم کو گالی دیتا ہے!“ میں نے اسے پہلی دفعہ قائداعظم کے مزار کے سامنے بری طرح سے پٹتے ہوئے دیکھا تھا۔ میں بندر روڈ سے مڑ کر آغا خان اسپتال جا رہا تھا کہ میری نظر ان لوگوں پر پڑی تھی۔ میں جلدی میں تھا مگر بے ساختہ گاڑی روک کر اتر پڑا۔ اس بے دردی سے میں

Read more

عورت کا سرطان

”بچہ دانی کے منہ کا کینسر مسلمان اور یہودی عورتوں کو بہت کم ہوتا ہے، پتا ہے کیوں؟“ میرے باس نے سوال کیا تھا اور میرے جواب سے پہلے وہ خود ہی بول پڑا تھا۔ ”اس لئے کہ مسلمان اور یہودی دونوں ختنہ کراتے ہیں اور دونوں ہی مذہب کے ماننے والوں میں جنسی بے راہ روی کم ہے۔ تمہیں تو پتا ہے ناں کہ بچہ دانی کے منہ کا کینسر جو ان عورتوں کو ہوتا ہے۔ تیس سے پینتیس

Read more

فیصلے کی گھڑی

تیس ہزار فٹ کی بلندی پر کسی یورپین شہر کے اوپر سے گزرتے ہوئے میری آنکھیں یکایک کھل گئیں۔ میرے برابر وسیم اور سلمیٰ سو رہے تھے۔ ان کے برابر اسما بھی بے خبر سو رہی تھی۔ میں نے غور سے اس کے چہرے کو دیکھا۔ وہی معصوم چہرہ، وہی موٹے موٹے پپوٹے اور ان کے اوپر لانبی سیاہ پلکوں کی آنکھوں پر چھایا۔ آنکھوں کے گرد ہلکے، سیاہ حلقے جو جاکر بھری بھری بھنوؤں کے ساتھ مل جاتے تھے۔

Read more

معمار

بس سے اتر کر تقریباً دو میل پیدل چلنا پڑا تھا۔ ٹوٹی پھوٹی پگڈنڈی، پتھروں اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں پر سے ہوتے ہوئے ٹیلوں اور خود رو جھاڑیوں سے گزر کر یکایک وہ گاؤں سامنے آ گیا تھا اور گاؤں کی پتلی پتلی گلیوں سے گزرتے ہوئے، گندی نالیوں کو پھلانگتے ہوئے، چھوٹے جوہڑوں سے بچتے ہوئے اور چند ٹوٹے پھوٹے مکانوں اور جھگیوں سے گزر کر تقریباً گاؤں کے دوسرے کنارے پر پہنچ کر ایک اونچی سی چٹان کے

Read more

جہیز نہ لانے والی عام سی لڑکی

وہ ایک عام سی لڑکی تھی جیسی اور بہت ساری عام سی لڑکیاں ہوتی ہیں۔ نہ اس کا چہرہ زی ٹی وی پر نظر آنے والی لڑکیوں جیسا تھا نہ اس کے با ان کے انداز میں بنائے گئے تھے، نہ اس کی ادائیں ان کی طرح تھیں، نہ وہ ان کی طرح بات کرتی تھی نہ وہ ان کی طرح چلتی تھی اور نہ اس کی ناف زی ٹی وی پر دکھائی دینے والی لڑکیوں جیسی تھی۔ میں نے

Read more

ایک موت دو شہر

جم مرے بیاسی سال کی عمر میں بھی کافی چاق چوبند تھا۔ بتیس سال کی عمر میں اس نے شادی کی تھی، تین بچوں کا باپ بنا تھا۔ مارگریٹ کے ساتھ زندگی بہت خوب صورت تھی کہ نہ جانے کیا ہوا، بیس سال کے بعد دونوں ہی ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ مارگریٹ نے طلاق لی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے اب جم سے محبت نہیں رہی ہے۔ بہت تکلیف دہ زمانہ تھا وہ۔ وہ مارگریٹ کے ساتھ رہنا چاہتا تھا اور مارگریٹ اس سے دور ہو چکی تھی پھر دونوں نے مل کر ہی فیصلہ کیا تھا کہ علیحدہ ہوجائیں۔

مارگریٹ تھوڑے دن نیویارک میں ہی رہی، پھر اسے پتا لگا کہ وہ شکاگو چلی گئی ہے جہاں اس نے دوسری شادی کرلی ہے اور اب خوش ہے۔ جم نیویارک میں ہی رہا۔ بچے بڑے ہو گئے۔ بڑی بیٹی سوزانہ نے ایک کسان سے شادی کی تھی اور کنساس میں آباد ہو گئی تھی۔ جولین کی پہلی شادی ایک سال میں ہی ختم ہو گئی تھی پھر وہ ڈیوڈ سے شادی کر کے سینٹ انٹونیو ٹیکساس میں رہنے لگی تھی۔ دونوں کے دو خوب صورت اور ذہین بچے تھے۔ جم نے دوسری شادی آسٹن کے گھر چھوڑنے کے بعد کی۔

Read more

خرم بھائی، مولانا رومی اور مرغ گویم

مرغ گویم باہر نکلم چیل جھپٹم جان کھویم مرغ گویم مرغ گویم مرغ گویم مرغ گویم اور مرغ نے کہا، میرے بچو میرے بچو، جوتم باہر نکلو گے تو چیل جھپٹا مار کر تم کو لے جائے گی اور تم اپنی جانوں سے چلے جاﺅ گے، اپنی جانوں کو کھو دو گے۔ لہٰذا باہر نہ نکلا کرو۔ چیلوں سے ڈرا کرو مرغ گویم، مرغ گویم، مرغ گویم۔ مولانا شمسی کی آواز میں مثنوی مولانا روم کی طرز پر بڑے انداز

Read more

شہر برباد کی دھول

بڑی سی واشنگٹن فلائر کی ٹیکسی کے لمبے چوڑے گورے چٹے ڈرائیور نے میرا سوٹ کیس اور بیگ اٹھا کر ڈگی میں ڈالا اور پچھلی سیٹ کا دروازہ میرے لیے کھول دیا۔ مجھے پیچھے بیٹھنے میں ہمیشہ کوفت ہوتی ہے۔ میں آگے کا دروازہ کھول کر آگے ڈرائیور کی سیٹ کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ وہ بھی پچھلا دروازہ بند کر کے فوراً ہی اپنی سیٹ پر آن بیٹھا تھا۔ ”ہاؤ آر یو؟“ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ ”الحمداللہ، فائن

Read more

جلی ہوئی کشتیوں کا سپہ سالار

غضب کی سردی تھی اس دن۔ طوفانی رات کے بعد لندن شہر کے بہت سارے درخت گر گئے تھے۔ طوفان کا زور ٹوٹ چکا تھا مگر ابھی تک سرد ہوائیں سائیں سائیں کر رہی تھیں اور وقفے وقفے سے پھوار بھی پڑتی تھی۔ موسم کی خبریں یہی تھیں کہ یہ ویک اینڈ اس سال کے کر اب ویک اینڈ میں سے ایک ہو گا۔ انگلستان میں جمعہ کی شام سے ویک اینڈ شروع ہوجاتا ہے۔ سارے ہفتے خوب کام کرنے

Read more

گمراہ لڑکی یا بے داغ چاند؟

میں اس کی زندگی میں اٹھائیسواں مرد تھا۔ باپ بھائی اور عام تعلقات والے مرد ان کے علاوہ تھے۔ یہ اس نے مجھے خود ہی بتایا تھا۔ وہ اٹھائیس سال کی تھی اور ایسی خوبصورت لڑکی کم از کم میں نے تو نہیں دیکھی تھی۔ سرخی مائل گھنے بال تھے اس کے اور لانبا قد، چہرہ دودھ کی طرح سفید تھا جس پر بڑی بڑی نیلی آنکھیں ایسے تھیں جیسے دو دیے ٹمٹما رہے ہوں۔ لانبی سی گردن ہونے کے

Read more

بانکے بہاری

راجندر کمار دوبے نام تھا اس کا ۔ اور پہلی ملاقات میں اس نے اپنی زندگی کی کہانی مجھے سنا دی۔ وہ بہاری تھا اور پٹنے کا رہنے والا تھا۔ پرنس آف ویلز میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ایک مسلمان لڑکی سے محبت کر بیٹھا تھا۔ بات کافی آگے چل نکلی۔ جب اس کے باپ کو پتہ لگا تھا تو انہوں نے اسے بلا کر کہا تھا ”بٹوا ہمرے گھر میں اگر رہنا ہے اور

Read more

لیلیٰ

رات حامد کا فون آیا تھا کہ لیلیٰ نے اپنی بچی کے ساتھ خودکشی کر لی، دونوں کی لاشیں گاڑی ملی تھیں۔ گاڑی کے شیشے چڑھے ہوئے تھے۔ نہ کوئی خودکشی کا خط تھا اور نہ کسی کے لئے کوئی پیغام۔ یہ خبر لاس اینجلس ٹائمز میں آئی تھی، جس کو کنفرم کر کے حامد نے مجھے فون کیا تھا۔ آٹھ سال کے بعد مجھے اس کی خبر ملی تھی اور خبر بھی ایسی کہ میں نہ چاہنے کے باوجود

Read more

وجہ بے گانگی نہیں معلوم

برلن سے زاہد کے کئی فون آچکے تھے۔ قادیانی ہونے کے بعد سے وہ وہیں رہ رہا تھا اور میں نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ برلن جا کر اس سے ملوں گا، کئی دفعہ پروگرام بنایا تھا مگر جا نہیں سکا تھا۔ برلن میں ہی انگو برت نارڈ رہتا تھا۔ اس نے بھی کئی دفعہ کارڈ لکھے تھے کہ میں اس سے آ کر ملوں۔ زاہد اور انگو دونوں مجھے لندن میں ملے تھے۔ انگو سے بڑی سرسری

Read more

کڑوی مسکراہٹ

میں نے سات سو سے زائد لوگوں کا قتل کیا ہے۔ میں نے اسے حیرت سے دیکھا۔ یہ بات سن 2042 ء کی ہے جو میں آج سن 2051 ء میں لکھ رہا ہوں۔ رچرڈ گومزے کے مرنے کے چھ گھنٹے بعد جب اس کا جنازہ ہم لوگوں کی مشترکہ رہائش گاہ ہیون لی لیونگ سے جا چکا ہے۔ میں اور سیما ریٹائر ہونے کے بعد جب ہیون لی لیونگ پہنچے تو سب سے پہلے ہماری ملاقات رچرڈ گومزے سے

Read more

نواب سراج الدولہ: خواب اور حقیقت

خواب مرزا محمد سراج الدولہ بنگال کے بگڑتے ہوئے حالات سے واقف تھے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے افواج کے اقدامات سے آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ آنے والے دنوں میں ہونے والی جنگ سے نمٹنے کے لیے پیش بندی بھی کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی چاروں بیویوں لطف النساء بیگم، زیب النساء بیگم، عماد النساء بیگم اور ام زہرہ کو آگاہ کیا کہ حالات خراب ہو رہے ہیں اور لگتا ایسا ہے کہ انگریزوں سے جنگ کرنی

Read more

کھاص بات

”تجھے میں نے پہلے نہیں بتایا تھا، یہ میری امریکن گرل فرینڈ تھی۔ کرسٹی نام تھا اس کا ۔ پانچ سال سے ہم لوگ ساتھ تھے، شادی کرنے والے تھے، مگر بیچ میں میرا بھائی آ گیا، پھر یہ کھاص بات ہو گئی۔ اپنے ساتھ کھاص بات ہوتی ہے، عام بات اوروں کے لیے۔ ویسے نیویارک میں سب عام ہے۔ اس شہر میں کچھ بھی کھاص نہیں ہے سوائے میرے۔“ یہ کہہ کر وہ زور سے ہنسا تھا۔

Read more

مولوی سلمان سے سوشلسٹ ریحان تک

ڈلاس ائرپورٹ بہت بڑا ہے۔ اس کے کئی کون کورس ہیں، ہر کون کورس پر کئی گیٹ اور ہر گیٹ پر جہازوں کی بھرمار، مسافروں کی بھیڑ بھاڑ۔ ایک کون کورس سے دوسرے کون کورس پر جانا ہے تو اس میں بھی اتنا وقت لگتا ہے جس میں کراچی ائرپورٹ کے کئی چکر لگ سکتے ہیں۔ ائرپورٹ بذات خود ایک الگ دنیا ہے۔ ایک کون کورس سے دوسرے کون کورس پر جانے کے لیے ٹرین سروس ہے جو متواتر چلتی

Read more

عبدالستار ایدھی۔۔۔ جیسا میں نے انہیں دیکھا

(8 جولائی کو عبدالستار ایدھی صاحب کو ہم سے رخصت ہوئےسات برس ہو گئے۔ ایدھی کے بارے میں ڈاکتر شیر شاہ سید کا زیر نظر مضمون یکم ستمبر 2021 کو ہم سب پر شائع ہوا تھا۔ اس عظیم انسان کی یاد میں اشاعت مکرر حاضر ہے) ٭٭٭      ٭٭٭ میں نے فیصل ایدھی سے کہا کہ مجھے ایدھی صاحب کے پہنے ہوئے کپڑوں کا ایک جوڑا چاہیے۔ ایدھی صاحب ہمیشہ ملیشیا کے کپڑے سے سِلا ہوا کالے رنگ کا پاجامہ اور

Read more

طوطخ امن کی بہنیں

ڈیوڈ نے کمرے میں آ کر بتایا کہ خلیے جاگ گئے ہیں اس کا چہرہ دمک رہا تھا، سانس پھولی ہوئی تھی، بجائے فون کرنے کے وہ تجربہ گاہ سے خود بھاگتا ہوا میرے کمرے میں آ گیا تھا۔ خلیوں کے جاگنے کی خبر سنتے ہی میں اس کے ساتھ روانہ ہو گیا تھا۔ خبر ہی ایسی تھی کہ میں خود کو جانے سے روک نہیں سکا تھا۔ لیبارٹری میں مکمل خاموشی تھی۔ نیلی روشنی میں لز اور آمنہ ساتھ

Read more

ماسٹر خدا بخش کی نواسی

میں قبر کے سامنے خاموشی سے کھڑا تھا. میری آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب ابل رہا تھا جنہیں میں روکنے کی کوشش بھی نہیں کر رہا تھا. ایک طرح سے جیسے مجھے سکون سا مل رہا تھا پر آنسو جیسے میرے دل سے نکل کر آہستہ آہستہ میری آنکھوں سے گزر کر ٹپک رہے تھے. قبرستان میں اس جگہ پر صرف ان کی قبر سلامت تھی جس کے سرہانے ایک چھوٹے سے پتھر پر بڑے سلیقے سے ان کا نام

Read more

اس ذہین نوجوان کو لڑکیوں سے نفرت تھی

میں اس وقت ایڈنبرا میں تھا جب یہ خبر پہنچی کہ سلیم نے ایک نرس کو تھپڑ مار دیا جس کے بعد اسے ہسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔

ایڈنبرا بھی ایک شہر ہے اسکاٹش تاریخ، ادب اور ثقافت کا ایک عجیب و غریب ترجمان۔ شاہی قلعے، میوزیم، ہرے بھرے میدان اور شہر کی پتلی پتلی گلیوں میں اُگا ہوا شہر جہاں اگر کوئی ایک دفعہ رہ لے تو وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا اور جس نے ایڈنبرا نہیں دیکھا اس نے شاید یورپ میں سب سے اچھی جگہ نہیں دیکھی۔ ایڈنبرا آکر میں ایسا مصروف ہوا کہ کسی کی خبر نہیں رہی کہ کون کیا کررہا ہے۔ جب سال بھر ایڈنبرا میں رہتے رہتے ایک دن ایک دوست کو فون کیا تو اس نے یہ خبر دی تھی۔

Read more

جھوٹا خواب خوارزم شاہ کے ہاتھوں چنگیز خان کی شکست اور سچ

بخارا سمرقند اور ایران تک پھیلی ہوئی مملکت کے سربراہ جلال الدین خوارزم شاہ نے بہت بڑا اجلاس بلایا تھا۔ مشیر، عمائدین، علما اکرام اور چار بڑی مسجدوں کے خطیبوں کے ساتھ مملکت میں آباد اقلیتوں کو بھی بلایا گیا تھا۔ آج تک خوارزم شاہ نے اس طرح کا مشاورتی اجلاس نہیں بلایا تھا۔ فیصلے وہ خود کرتے تھے یا شاہی خاندان کے افراد سے کبھی کبھار مشاورت ہوجاتی تھی۔ مسلمانوں کی یہ حکومت موثر انداز میں حکمرانی کر رہی تھی اور علاقے پر ان کی مضبوط گرفت تھی۔

خوارزم شاہ کے رویے سے پتا چل رہا تھا کہ وہ انتہائی تشویش میں مبتلا ہیں۔

Read more

غلیظ لوگ

اتنا پریشان چہرہ میں نے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا۔ ہمیشہ ہنستی مسکراتی، بھاگتی دوڑتی، گنگناتی لڑکی کو نہ جانے کیا ہو گیا تھا۔ جب وہ ڈاکٹر بنی، کیسا دمکتا ہوا چہرہ تھا اس دن۔ کتنی خوش تھی وہ ڈاکٹر بننے کے بعد پانچ سال کا کورس چھ سال میں ہوا تھا۔ ایک سال کے نقصان کے ساتھ، اس کے ڈاکٹر بننے کے بعد جو خوشی ہمارے خاندان میں آئی اس کا اندازہ کرنا آسان نہیں تھا۔ ہم اپنی بیٹی

Read more

جھوٹا خواب: مسلمانوں کے ہاتھوں منگولوں کی شکست، ہلاکو خان کا قتل، اور سچ

ہلاکو خان نے سوچا بھی نہیں تھا کہ خلیفہ المعتصم با اللہ کی افواج بغداد سے باہر آ کر منگول فوج کا مقابلہ کرے گی۔ ہلاکو اور منگولوں کا جاسوسی کا نظام بہت عمدہ تھا لیکن کسی بھی ذرائع نے معتصم کی اس قسم کی تیاریوں کی خبر نہیں دی تھی۔ خلیفہ المعتصم کے جاسوس گزشتہ کئی سالوں سے منگولوں کی سرگرمیوں کی خبریں لا رہے تھے۔ 1251 عیسوی میں ہلاکو کے بھائی منگولوکی خان کی تاج پوشی کے موقع پر خلیفہ المعتصم کے شاہی وفد کے تحائف کو تو قبول کر لیا گیا تھا مگر منگولوں کے بادشاہ بڑے خان نے المعتصم کے حاضری کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ المعتصم نے حاضر ہونے سے انکار کر دیا تھا مگر ساتھ ساتھ منگولوں کی فوجی اور سیاسی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے قراقرم سے بغداد تک جاسوسی کا ایک جال بچھا دیا تھا کیونکہ اس بات کا اندیشہ تھا کہ منگول فوجیں ایران و عراق کی طرف ضرور آئیں گی۔

Read more

لٹے شہر کی دھول

مرینا لزاریا اس کا نام تھا۔ وہ دوسری ڈچ لڑکیوں سے مختلف تھی، بہت مختلف۔ میں جب لندن سے نکلا تھا تو دوستوں نے کچھ اور ہی افسانے سنائے تھے۔ ”ارے، ایمسٹرڈم جا رہے ہو! موج کرو گے موج۔“ ایمسٹرڈم میں یورپ کا سب سے بڑا طوائفوں کا بازار ہے۔ کئی سو سال سے یہ بازار مقامی اور غیر مقامی، یورپین، ایشین، افریقن، امریکن سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شراب تو خیر ملتی ہی ہے، ساتھ میں

Read more

درد کا رشتہ

عامر تمہارے جانے کے بعد کچھ اس طرح محسوس ہوتا رہا جیسے کوئی چیز، کوئی حصہ میرے دل کا ٹوٹ کر مجھ سے جدا ہو گیا ہے۔ دو دن تو اس طرح بولائی بولائی گھومتی رہی جیسے دیوانی ہو گئی ہوں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کروں۔ ہر اڑتا ہوا جہاز دل میں طرح طرح کے شکوک پیدا کرتا ہوا جاتا تھا۔ سارا گھر، کالج، ہر چیز ویران لگتی تھی، حالانکہ زندگی کے معمولات میں کوئی تبدیلی

Read more

جھوٹا خواب۔ پاکستان میں طبی سہولتیں اور سچ

ہوا یہ کہ پاکستان پہنچنے کے تیسرے دن ہی ابو کے پیٹ میں سخت درد اٹھا تو میں انہیں شام کے سات بجے سول اسپتال کراچی لے کر پہنچ گیا۔ شعبہ حادثات میں اچھے خاصے مریض تھے، مگر ابو کو فوراً ہی ایک ڈاکٹر نے آ کر دیکھا کیونکہ وہ شدید تکلیف میں تھے جس کی خبر اس نرس نے ڈاکٹر کو جا کر دی تھی جس نے سب سے پہلے ان کا معائنہ کیا تھا۔ اس طرح کا نظام تو امریکا میں ہے جہاں ہسپتال پہنچتے ہی فیصلہ ہو جاتا ہے کہ کس مریض کو فوری توجہ کی ضرورت ہے اور کون انتظار کر سکتا ہے۔

اتنے خوش اخلاق اور تمیز دار ڈاکٹر سے ملنے کی توقع مجھے پاکستان میں نہیں تھی۔ انہوں نے تفصیل سے سوالات کیے۔ ابو کا بہت اچھے طریقے سے معائنہ کیا اور مجھے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ انہیں اپنڈکس کا درد اٹھا ہے۔ میں انہیں الٹرا ساؤنڈ کے لیے بھیج رہا ہوں جہاں سے وہ سرجری کے وارڈ میں چلے جائیں گے اور وہاں ڈاکٹر فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے تمام سوالات کا جواب دیا۔ پاکستان میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا، ڈاکٹر سنتے کب تھے، سوال کا جواب تو دور کی بات ہے۔

Read more

بے لوث، بے غرض، غیر مشروط محبت

میں اس زمانے میں برمنگھم میں رہتا تھا۔ برمنگھم انگلستان کا دوسرا بڑا شہر ہے اور لندن کے بعد برمنگھم کا ہی نمبر آتا ہے مگر فرق ایسا ہے جیسے کراچی اور حیدرآباد۔ آبادی اور صنعتوں کی بھرمار کے باوجود برمنگھم ابھی تک لندن کی بے رحمی، بے کسی، تڑپ اور چبھن اپنے اندر نہیں لا سکا ہے۔ لوگ چلتے چلتے رک جاتے ہیں، جیسے کچھ بھول آئے ہوں اور بھولی ہوئی چیز کے لئے لوٹ بھی جاتے ہیں۔ سڑکوں پر کھڑے ہوئے بات کرتے بھی نظر آتے ہیں، لندن جیسی ہلچل، گہماگہمی، بھاگا دوڑی یہاں نظر نہیں آتی لوگ اکثر بے مطلب اور بے غرض بھی بات کر لیتے ہیں، ہیلو کر دیتے ہیں، حال پوچھ لیتے ہیں۔

Read more

پرویز مشرف کی اتاترکی حکومت اور حقیقت

پرویز مشرف کے دور حکومت میں سو سے زیادہ ٹی وی چینل اورریڈیو اسٹیشن کھلے مگر ان چینلوں نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے خوب اشتہارات لیے، تعلیم کے بجائے جہالت کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مذہبی منافرت اور غیر سائنسی سوچ کو پروان چڑھایا۔ میڈیا کے مالکان کروڑپتی سے ارب پتی بن گئے، عجیب و غریب قسم کے اینکروں اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں نے عوام میں جہالت پھیلانے کا کام تندہی سے انجام دیا۔ ایسے پروگراموں کی سرپرستی کی گئی جن میں عورتوں کی تذلیل کی گئی، ایسے مولویوں کی سرپرستی کی گئی جو مذہب کے نام پر علم و آگہی کے خلاف مہم چلاتے رہے۔

Read more

جھوٹا خواب: الطاف بھائی کی حکومت اور حقیقت

مہاجر قومی موومنٹ کی تاریخی کامیابی پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی تھی۔ الطاف حسین نے کراچی میں ہر قسم کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے پرخچے اڑا دیے تھے۔ طلبا تنظیموں میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور اسلامی جمعیت طلبا میں اردو بولنے والے کارکن ٹوٹ ٹوٹ کر ایم کیو ایم کی طلبا تنظیم آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) میں شامل ہو گئے تھے۔ کیا شیعہ، کیا تبلیغی، کیا جماعتی، کیا وہابی،

Read more

دھان منڈی کی مالا اور لندن والا اپارٹمنٹ

پہلا خط امی کا تھا۔ میرے ایم آر سی پی (MRCP) پاس کرنے پر بہت خوش تھیں اور اب میری شادی طے کر دی گئی ہے، کسی جنرل جمال اختر چودہری کی دختر نیک اختر عذرا چوہدری کے ساتھ۔ خط کے ساتھ ایک فیملی گروپ فوٹو تھا جس میں جنرل صاحب اپنی وردی اور تمغوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ساتھ میں ایک خوبصورت سی، معصوم سی چھوٹی سی لڑکی تھی جو عذرا تھی، میری ہونے والی دلہن۔ اور بھی

Read more

جھوٹا خواب اور حقیقت: ذوالفقار علی بھٹو کی بہترین تقریر

بلاشبہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی وہ تقریر ان کی بہترین تقریروں میں سب سے بہترین تھی۔ جذبوں سے بھری ہوئی، محبتوں سے کہی ہوئی اور حوصلوں میں گندھی ہوئی! بھٹو کی گرفتاری اور گرفتاری کے 17 دن کے بعد ضیاء الحق نے راولپنڈی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بٹو اور ان تمام سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک پیشہ ور مسلمان

Read more

کیسی زمیں! کیسا آسماں!

امتیاز کارڈف رائل انفرمری میں بوڑھوں کے وارڈ کا رجسٹرار تھا۔ آج کل جاب کی صورتحال بہت خراب ہے۔ دس سال پہلے پاکستان انڈیا کے ڈاکٹروں کو گھر بیٹھے بیٹھے جاب مل جایا کرتی تھی۔ وہ اچھا وقت تھا۔ نہ کوئی امتحان تھا اور نہ کوئی مقابلہ۔ انگلینڈ کے ڈاکٹر پاس ہوتے تھے تو امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا چلے جاتے تھے اور انگلینڈ کے ہسپتال چلانے کے لیے ایشیا اور افریقہ سے ڈاکٹر آیا کرتے تھے۔ مگر اب صورتحال ہر

Read more

مائی لولی پاپ… مائی لولی پاپ

یو آر مائی ٹیلی ویژن یو آر مائی فریج یو آر مائی آئسکریم یوآر مائی لولی پاپ یو آر مائی مون بار میں جا کر بیٹھا تھا کہ یہ آواز آئی اورمیں سمجھ گیا کہ گلو کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے اور اب وہ یہی کہے گا کہ میرا ٹیلی ویژن مجھے دنیا دکھاتا ہے اور تم نئی دنیا کی طرح ہو، تم فریج اس لئے ہو کہ اس کے سرد خانے میں میں نے اپنا دل رکھ

Read more

جھوٹا خواب اور سچی حقیقت

جنرل یحییٰ خان کے اس اعلان کے بعد کہ مستقبل کے پاکستان کے وزیراعظم شیخ مجیب الرحمان ہوں گے اور قومی اسمبلی کا اجلاس وقت مقررہ پر ڈھاکہ میں ہی منعقد ہو گا، مغربی پاکستان میں کافی کھلبلی مچ گئی تھی۔ پنجاب اور سندھ میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے کراچی کے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں اہم پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا جس میں شرکت کرنے کے لیے صحافی آنا شروع ہو گئے تھے۔ پریس کانفرنس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کے ستر کلفٹن مکان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم اراکین کی ایک اہم میٹنگ ہوئی جو چھ گھنٹے تک چلی تھی۔

میٹنگ کے آغاز میں بھٹو صاحب نے اجلاس میں موجود اراکین کو بتایا تھا کہ جنرل یحییٰ خان نے واضح کر دیا ہے کہ فوج اپنی اپنی بیرکوں میں واپس جانا چاہتی ہے اور آئین سازی کے بعد آئین کے مطابق اقتدار عوام کے منتخب کی ہوئی اسمبلی کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ اقتدار اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو منتقل کر دیا جائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں پیپلز پارٹی کے پاس مرکز میں کسی بھی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہو گا جبکہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں ہم اپنی حکومت قائم کر سکیں گے۔

Read more

آئینے کے پیچھے

پیاری امی جان خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آپ لوگ سب خیریت سے ہیں۔ آج ہی آپ کا خط ملا اور آج ہی آپ کو جواب دے رہا ہوں۔ آج جمعہ کا دن ہے۔ دوپہر کو چھٹی لے کر جمعہ کی نماز پڑنے اسلامک سینٹر گیا تھا۔ واپس آیا تو آپ کا خط میز پر رکھا ہوا تھا۔ جب بھی جمعہ کو چھٹی مل سکتی ہے تو جمعہ کی نماز پڑھنے ضرور جاتا ہوں۔ یہ اچھے لوگ ہیں۔

Read more

پاکستان کی ایک بیٹی امریکہ میں

مجھے اچانک پاکستان جانا پڑگیا۔ امی کا فون آیا تھا، ابو سخت بیمار ہیں، ہسپتال میں داخل ہیں، جتنی جلد آسکتی ہو آجاؤ۔ مجھ سے رہا نہیں گیا، گھبرائی ہوئی اپنے یہودی پروفیسر کے پاس پہنچی۔ میری چھٹیاں تو نہیں تھیں مگر جانا تو تھا، اگر نوکری بھی چھوڑنی پڑجاتی تو میں چھوڑ دیتی۔ اس تمام محنت، عزت، دولت، کمائی کا فائدہ کیا ہے اگر وقت پر ماں باپ بھائی بہن کے اچھے میں نہ ہوں تو کم از کم برے میں تو ہوں۔

پروفیسر مارک شلٹنربرگ میرے پروفیسر تھے۔ غور سے میری بات سن کر بولے، ”شیور وائی ناٹ۔ اگر تمہارے باپ کی طبیعت خراب ہے تو تمہیں فوراً جانا چاہیے۔ تمہاری چھٹی ہے جاؤ۔ جب تک رہنا پڑے رہنا بٹ کیپ می پوسٹڈ ول یو؟ “

Read more

انگارہ آنکھیں سلگتے ہونٹ اور معصوم لڑکی

وہ مجھے گرینڈلیز بینک میں ملا تھا۔ درمیانہ قد، سامنے سے گھنگھریالے بال، جو بڑے سلیقے سے سر پر سجائے گئے تھے۔ گندمی رنگ، سلگتا ہوا چہرہ، بڑی بڑی انگارہ سی آنکھیں اور چہرے پر سب سے نمایاں چیز اس کے ہونٹ تھے، نہ افریقیوں کی طرح مولے موٹے، نہ جاپانیوں کی طرح پتلے پتلے۔ بھرے بھرے ہوئے ہونٹ، سلگتے ہوئے چہرے پر سلگتے ہوئے ہونٹ۔ میں اسے دیکھ کر ٹھٹھک کر رہ گئی تھی۔ خواہ مخواہ ہی دوسری بار دیکھنے کو دل چاہا تھا۔ دل بے اختیار ہو کر دھڑکا، بے چین ہو کر چونکا۔ میں گھبرا کر جلدی جلدی فارم بھرنے لگی تھی۔

کراچی میں بینک میں اکاؤنٹ کھولنا بھی ایک مسئلہ تھا۔ پہلے تو میں ناظم آباد چورنگی پر جو حبیب بینک ہے وہاں گئی، مگر ایک ہفتہ چکر کاٹنے کے بعد بھی اکاؤنٹ کھولنے کا فارم نہیں ملا تھا۔ عبداللہ ہارون روڈ پر موجود یونائیٹڈ بینک میں بھی یہی ہوا تھا۔ میں نے ازراہ تذکرہ فون پہ بہناز کو یہ بات بتائی تھی اس نے کہا تھا کہ کیوں نہ گرینڈ لیز بینک میں اکاؤنٹ کھول لو۔ گارڈن روڈ پر کانڈا والا بلڈنگ میں یہ کراچی کا پرانا بینک پارسیوں کا پسندیدہ بینک تھا۔

Read more

کھیلن کومانگے چاند

ایری زونا. 20، اپریل ڈیئر امجد! خط ملا اور تمہارے پروگرام کا پتا لگا. پاکستان میں تعلیم پھیلانا تو بہت ضروری ہے. تم نے صرف سندھ کی بات کی ہے، میرے خیال میں تو یہ مہم پورے ملک میں چلانی چاہیے کیوں کہ پشاور سے لے کر کیماڑی تک جہالت کا دور دورہ ہے. تم اس کام کے لیے پیسے جمع کر رہے ہو یہ تو اچھی بات ہے. تمہارا خط اور پروگرام کافی طویل ہے. میرے خیال میں تو

Read more

بڈو

وہ کالا بورڈ میں گندے نالے کے پل کے نیچے پیدا ہوا تھا۔ وہی ملیر والا کالا بورڈ، بہت کم لوگوں کو پتا ہے کہ کالا بورڈ کے بس اسٹاپ کا نام کالا بورڈ کیوں ہے۔ بہت پہلے جب لانڈھی اور کورنگی کے صنعتی علاقے نہیں بنے تھے تو ائرپورٹ سے آنے والی پتلی سی سڑک پر جو ملیر سٹی کی طرف جاتی تھی، سعود آباد موڑ پر ایک بڑا سا کالے رنگ کا سیمنٹ کا بورڈ بنایا گیا تھا

Read more

شکارپور سے شکاگو تک

اس نے مجھے بیچ میں ہی روک دیا تھا ”یار تم بالکل امریکن ہو گئے ہو، بھائی وہ دنیا اور ہے یہ دنیا اور۔ تم کیوں بھول جاتے ہو کہ مہاجروں اور پنجابیوں نے مل کر جب پاکستان بنایا تھا تو ہم سندھیوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔ چپراسی تک کی نوکری نہیں ملتی تھی ہم کو۔ کراچی میں اسکول کھلتے تھے، سوسائٹیاں بنتی تھیں، شکارپور اور نواب شاہ میں کیا ہوا تھا؟ بڑی مشکل سے جدوجہد کر کے ہم لوگ بڑے ہیں۔ اب سندھ میں سندھی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہو گی، یہ سائیں جیسے لوگوں کا احسان ہے جو یہ سمجھ رہے ہیں اور مل جل کر کام کر رہے ہیں۔

Read more

ننھے ننھے ہاتھ

ہاشم کا فون تھا امریکا سے۔ میں اس سے ہی بات کر رہا تھا۔ اس کی ماں کی طبیعت خراب تھی اور وہ چاہ رہا تھا کہ اگر میں کچھ کر سکوں تو ضرور کروں۔ میں نے وعدہ کر لیا تھا کہ کل ہی اس کی ماں کو سول ہسپتال میں پروفیسر صاحب کو دکھا دوں گا۔ اس نے بتایا تھا کہ اس کا بھائی ماں کو لے کر صبح صبح میرے پاس آ جائے گا، پھر میں دونوں کو

Read more

وہ دل کہاں سے لاؤں

کون سی پیتے ہو؟ بوڑھے نے جمائی لے کر کہا تھا۔ میری ملاقات اس سے ہیتھرو ائرپورٹ پر ہوئی تھی۔ میں کینیڈا سے لندن کے راستے کراچی جا رہا تھا، وہ لندن سے ہانگ کانگ جا رہا تھا۔ دبئی تک ہم دونوں کی مشترکہ فلائٹ تھی۔ دبئی سے مجھے کراچی چلا جانا تھا اور اس کو ہانگ کانگ۔ ہم دونوں فرسٹ کلاس لاؤنج میں ساتھ بیٹھے تھے۔ مجھے تو میری کمپنی نے ٹکٹ دیا تھا اور ہم لوگ ہمیشہ فرسٹ کلاس میں ہی سفر کرتے تھے۔

فرسٹ کلاس کی عیاشی کا مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا جب تک میں اس کلاس میں بیٹھا نہیں تھا۔ اپنے خرچے پر تو میں ہمیشہ اکانومی کلاس میں ہی سفر کرتا تھا، فرسٹ کلاس کے مقابلے میں ہوائی جہاز کا اکانومی کلاس ایسا ہی تھا جیسے تھرڈ کلاس کا ڈبہ۔ قریب قریب کی سیٹیں اس کے اوپر شوروغوغا۔ فرسٹ کلاس کی سیٹیں کشادہ ہوتی ہیں، آگے پیروں کو پھیلانے کی بے شمار جگہ، کھانا مینو کے چوائس پر ملتا ہے اور بے شمار شراب۔ پوری دنیا کلاسوں میں بٹی ہوئی ہے اور ہر جگہ فرسٹ کلاس کی اور بات ہے۔ اورنگی ہو کہ ڈیفنس، لیاری ہو کہ کلفٹن اور ہوائی جہاز ہو کہ سینما ہال۔ کلاسوں کا یہ نظام بہت جلد میری سمجھ میں آ گیا تھا۔

Read more

اغوا ہونے والی لڑکیاں اور ٹوٹے ہوئے لوگ

روپ چند کو کراچی پہنچ کر امریتا رام پریتم داس روڈ پر عبدالرحمن سومرو کا گھر تلاش کرنا تھا۔ روپ چند کراچی میں ہی پیدا ہوا تھا۔ رحمان سومرو اس کے بچپن کا دوست تھا، دونوں ساتھ ساتھ ہی بڑے ہوئے تھے۔ روپ چند کے باپ خوب چند کی دوستی رحمان سومرو کے باپ الٰہی بخش سومرو سے تھی۔ دونوں شکارپور کے رہنے والے تھے۔ دونوں کی پشتیں شکارپور میں تھیں، دونوں کی زمینیں شکار پور میں تھیں اور دونوں کے مکان کراچی میں بھی تھے۔ خوب چند کا کراچی میں کپڑوں کی آڑہت کا کام تھا اور الٰہی بخش کراچی کے سندھ مدرسے میں سندھی کا استاد تھا۔

پاکستان بننے سے پہلے روپ چند ٹاور کے قریب کٹرک بلڈنگ کے ساتھ دریا لال جیون داس بلڈنگ میں رہتا تھا اور رحمان سومرو امریتا رام پریتم داس روڈ کے ایک مکان میں رہتا تھا۔ اسے تو ایسا ہی لگا تھا کہ جیسے پاکستان یکایک بن گیا، پھر زندگی ایک عذاب ہو کر رہ گئی تھی۔ ہندوستان سے مہاجر کراچی آنے لگے تھے آہستہ آہستہ زندگی کے غیر محفوظ ہونے کا احساس ہونے لگا تھا۔ ایسے ہی وقت میں جب ہندو مسلم فسادات کے فوراً بعد سارا پریوار ہندوستان جانے کو تیار بیٹھا تھا تو اس کی سولہ سالہ بہن کلپنا کا اغوا ہو گیا۔

Read more

مامالوسی پوسی مریا

وہ مجھے عید کی نماز میں مل گیا تھا۔ پہلے تو میں اسے نہیں پہچانا مگر جب اس نے اسکول کے بیتے دنوں کی باتیں کی تو مجھے فوراً ہی یاد آ گیا۔ ہم دونوں ہی بی ایم بی اسکول کے پڑھے ہوئے تھے۔ پانچ سال تک ساتھ رہا تھا ہمارا۔ چھٹی کلاس میں ہم دونوں ساتھ ہی داخل ہوئے تھے۔ میرا تو داخلہ ہی چھٹی کلاس میں ہوا تھا۔ پہلے تو ہیڈ ماسٹر صاحب نے داخلہ دینے سے صاف

Read more

مجبوری

”یار، تم سے اتنا سا کام نہیں ہو رہا ہے۔ میرے باپ کی آنکھوں کا آپریشن نہیں کر سکتے ہو۔ کیٹریکٹ ایسی کیا بڑی چیز ہے۔ آدھے گھنٹے کا کام نہیں ہے۔ اتنا بھی فائدہ نہیں ہے تمہارا۔ ایک بڑے میاں نہیں سنبھلتے ہیں تم سے۔“ فون کی دوسری جاب بہت دور امریکا کے نیویارک سے بھی بہت آگے ٹینی سی کے کسی ہسپتال سے کریم کا فون تھا۔

”ہاں، بڑے میاں نہیں سنبھلتے ہیں مجھ سے۔“ میں نے ہنستے ہوئے کہا تھا ”یار سب کچھ تیار تھا۔ وہ ہسپتال میں داخل بھی ہو گئے تھے۔ رات اچھی گزاری تھی۔ تمہاری امی بھی ہسپتال میں ہی تھیں۔ صبح آپریشن سے پہلے دینے والی دوائیں بھی انہیں دے دی گئی تھیں۔ میں نے ان کے ٹینشن اور گھبراہٹ کو دیکھتے ہوئے رات سے ہی تھوڑا ڈائی زی پام بھی انہیں دے دیا تھا، صبح ہی ان کا آپریشن تھا۔ وہ آپریشن تھیٹر بھی آئے تھے اور آپریشن ٹیبل پر لیٹ بھی گئے تھے لیکن بس بے ہوشی سے تھوڑا سا پہلے نہ جانے کیا ہوا تھا کہ وہ اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور آپریشن کرانے سے انکار کر دیا تھا۔ سخت شرمندگی کا شکار تھے۔ وہ بار بار اس طرح مجھ سے معذرت کر رہے تھے کہ مجھے بھی شرم آ گئی تھی۔ وہ تمہارے بغیر آپریشن نہیں کرائیں گے۔“ فون کے اس طرف کراچی سے میں نے کریم کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔

Read more

جنت نگاہ

گلی کے تیرہویں مکان میں پروفیسر صاحب رہتے تھے۔ اب تو وہ پروفیسر نہیں تھے بلکہ یونیورسٹی میں انتظامی شعبے کے نگراں تھے۔ مگر پروفیسر ان کے نام کا جزو ہو گیا تھا۔ ان کی زندگی اسکول میں تعلیم دینے سے شروع ہوئی تھی۔ اسکول میں پڑھاتے پڑھاتے انہوں نے یونیورسٹی سے ماسٹرز بھی کر لیا تھا اور اس درمیان میں طالب علموں کے لئے کوچنگ سینٹر بھی کھول لیا تھا۔ سرکاری اسکول میں پڑھانے میں کم لیکن سیاست، سازش اور سازباز میں ان کا کمال تھا۔

Read more

نیلوفر کی واپسی

پارسی لڑکیوں کو دیکھنے ہم لوگ ماما پارسی اسکول کے سامنے کھڑے ہو جاتے تھے۔ میں اس وقت سندھ مدرسے میں پڑھتا تھا۔ دادو سے میرے والد نے مجھے کراچی پڑھنے بھیجا تھا۔ سولجر بازار میں بھگوان داس بلڈنگ میں ایک فلیٹ میرے دادا نے خریدا تھا۔ علاقے میں مسلمانوں کی بہت زیادہ آبادی نہیں تھی مگرزمیندار خاندانوں کے مسلمانوں کے گھر تھے۔ میں وہاں اپنے تایا زاد بھائی کے ساتھ رہتا تھا۔ ہم دونوں ہی سندھ مدرسہ میں تعلیم

Read more

باہر کی دنیا بہت خراب ہے

”کتے کے بچے، خنزیر کی اولاد“ یہ کہہ کر انہوں نے میرے منہ پر مکا مارا۔ میں زمین پر گر گیا۔ گرتے گرتے میرا سر دیوار سے ٹکرایا۔ مجھے ایسا لگا تھا جیسے میرا سر دو پہاڑوں کے درمیان کچلا جا رہا ہے۔ مولوی صاحب کا چہرہ کہیں کھو گیا تھا اور مجھے میرے باپ کا چہرہ نظر آیا۔ میرے دل نے جیسے زور زور سے چیخ چیخ کر کہا ایسے باپ سے تو میں بن باپ ہی اچھا رہتا۔ مجھے پیچھے بہت پیچھے مولوی صاحب کے خوف ناک چہرے اور باپ کی کرخت شکل کے بھی پیچھے، چادر میں لپٹی ہوئی ماں کی مہربان صورت نظر آئی جس کا چہرہ میرے خون سے تر تھا۔ سرخ سرخ آنسو آنکھوں سے نکل کر چہرے پر پھیلتے جا رہے تھے۔

سر کے شدید درد کے احساس کے ساتھ مجھے ہوش آیا تھا۔ میرے پاؤں میں زنجیر پڑی ہوئی تھی اور یہ زنجیر چارپائی کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔ درد اتنا شدید تھا کہ میں حرکت بھی نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے سختی سے اپنے ہونٹ بھنچ کر آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تھی کہ میرے کانوں میں مولوی صاحب کی آواز آئی۔ ”دیکھو حرام زادے کو ہوش آیا ہے کہ نہیں۔ اگر ہوش آ جائے تو بھی کھانے پینے کو کچھ مت دینا۔“ میں درد کو بھول کر دوبارہ بے ہوش ہو گیا تھا۔ وہی مولوی صاحب کی صورت، وہی باپ کی شکل، وہی خون کے آنسو والا میری ماں کا چہرہ، سائیں سائیں دھم دھم سائیں سائیں دھم دھم دھم دھم۔

Read more

آگرے کے ماسٹر صاحب

گھر میں احمد کا داخلہ اس دن سے بند ہو گیا تھا جس دن اس نے لوگوں کوجمع کر کے بھڑکایا اور پنجابیوں کے گھر میں آگ لگوائی تھی۔ ماسٹرصاحب تو بہت سیدھے آدمی تھے نہ کسی کے لینے میں نہ کسی کے دینے میں۔ لانبا سا قد دبلے پتلے انسان۔ اردو ایسے بولتے تھے جیسے منہ سے پھول جھڑ رہے ہوں۔ ہرجملہ صاف، بغیر کسی غلطی کے۔

وہ آگرے سے آئے تھے۔ جب اپنے لٹے پٹے خاندان کے ساتھ کراچی پہنچے تھے تو صرف دس جماعتیں پڑھی ہوئی تھیں انہوں نے۔

Read more

وعدہ تو کیا ہوتا

میں شراب پیتا تھا، یہی ایک خرابی تھی مجھ میں۔ ہمارے گھر میں کوئی بھی نہیں پیتا تھا بلکہ اٹھتے بیٹھتے سگریٹ اور شراب کے خلاف ہی بات کی جاتی تھی۔ شاید میں بھی نہیں پیتا اگر کراچی یونیورسٹی میں میری ملاقات شبیر سے نہیں ہوتی۔ ہم دونوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا تھا۔ کراچی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں شراب سے ہمارا تعارف ہوا تھا۔ میں اور شبیر دونوں ہی ہاسٹل میں سلیم سے ملنے گئے تھے۔ سلیم کے کمرے کے ساتھ ہی اگالا وکابی کا کمرہ تھا۔

Read more

نوزائیدہ بچہ اور پتھر کا بینچ

اس کے دو بچے پہلے ہی مر چکے تھے۔ پیدا ہونے سے قبل، جب کچے ہی تھے۔ ایک حمل کے اٹھارہ ہفتے میں اور دوسرا بائیسویں ہفتے میں۔ ”نہ جانے ہماری قسمت میں کیا ہے۔“ اس نے تقریباً روہانسا ہو کر کہا تھا، ”ڈاکٹر صاحب، جو بھی علاج ممکن ہو سکے، کیجیے گا۔ میں بڑی امید لے کر آیا ہوں۔ مجھے آپ کے دوست رفیق نے بھیجا ہے۔“

اسے رفیق ہی نے بھیجا تھا۔ رفیق کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے محکمہ مالیات میں کام کرتا تھا اور وہ بھی ”کے ایم سی“ ہی میں چپراسی تھا۔ اس نے رفیق کو بتایا تھا کہ دو دفعہ اس کی بیوی کو حمل ٹھہرا اور اچھا خاصا وقت گزر گیا، مگر پانچویں چھٹے مہینے میں بچے کچے ہی تھے تو ضائع ہو گئے۔ اب پھر اس کی بیوی کو حمل ٹھہر گیا ہے اور آنے والے خوف سے وہ پریشان تھا۔ رفیق نے اسے اپنا کارڈ دے کر میرے پاس بھیجا تھا۔

وہ دونوں میاں بیوی میرے پاس ساتھ ہی آئے تھے۔ وہ ڈھائی ماہ کے حمل سے تھی اور پریشان تھی۔ پریشانی اس کے چہرے پر صاف عیاں تھی اور ایسی صورت حال میں مریضوں کا پریشان ہونا کوئی غیر معمولی بات تھی بھی نہیں۔ میں نے اسے تسلی دی تھی۔ سمجھایا تھا کہ انہیں اب میرے پاس ہر دو ہفتے بعد آنا ہو گا۔ حمل کو چودہ ہفتے گزر جائیں گے تو پھر فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔

Read more

پیاسوں کو ٹھنڈا پانی پلانے والے پر کیا بیتی

جوڑیا بازار میں دریا لال اسٹریٹ کے بعد بھگوان داس بلڈنگ میں نظامانی صاحب رہتے تھے۔ بہت دوستی تھی ہماری نظامانی صاحب کے خاندان سے۔ وہ سانگھڑ کے رہنے والے تھے اور نہ جانے کب سے کراچی میں رہ رہے تھے۔ جب سانگھڑ سے ان کا خاندان کراچی آیا تو شروع میں آ کر کھارادر میں رہنے لگا تھا۔ میمن مسجد کے پیچھے بمبئی بازار کے بعد کھارادر کی پرانی بلڈنگوں میں سے ایک بلڈنگ میں نظامانی لوگوں کے بھی گھر تھے۔ انہیں میں انہوں نے زندگی شروع کی تھی۔

کسی کو کچھ پتا نہیں تھا کہ انہوں نے سانگھڑ کیوں چھوڑا۔ خاندان کے لوگ ابھی بھی سانگھڑ میں رہتے تھے۔ ہمارے ابا جی نے بھی ایک دن پوچھا تھا مگر نظامانی چاچا بات ٹال گئے تھے۔ کوئی بات تھی ایسی کہ وہ سانگھڑ کی بات کرنا نہیں چاہتے تھے۔ شاید زمینوں کا کوئی مسئلہ ہو گا۔ شاید باپ کے مرنے کے بعد دولت کے بٹوارے کے مسئلے پر بھائیوں سے کوئی رنجش ہو گئی ہوگی یا پھر کسی عورت کا چکر ہو گا۔ موہنجو داڑو کے زمانے سے آج تک زن زر زمین کے چکر نے انسانوں کو چکر میں رکھا ہے۔ یہ میرے ابا جی کا خیال تھا مگر وہ نظامانی صاحب سے پوچھ نہیں سکتے تھے۔ ان کے بڑے احسانات تھے ہمارے خاندان پر۔ ابا جی نے مرتے وقت بھی یہی کہا تھا بیٹے نظامانی صاحب خیال رکھنا، بڑے برے وقت پر کام آئے تھے ہمارے۔

Read more

آصف فرخی: بس دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا

یہ 1978ء کی بات ہے جب میں ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی میں سال آخر کا طالب علم تھا اور طب کی تعلیم حاصل کرنے سے زیادہ ملک میں سوشلزم کے نفاذ میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب میں اور میرے جیسے بہت سے طالب علم دن میں جاگتے ہوئے اور رات میں سوتے ہوئے خواب دیکھتے تھے کہ پاکستان میں ایک انصاف پر مبنی غیر طبقاتی سماج کا ظہور ہونے والا ہے جہاں انصاف کا بول

Read more

دو بار یتیم ہونے والا بچہ اور نفرت کی مار

میں گرینج ولیج نیویارک کے جیفرسن مارکیٹ کی لائبریری کے اندر ایک بینچ پر بیٹھا ہوا احمد کا انتظار کر رہا تھا۔ راستے سے ہی میں نے نیویارک ٹائمز کا تازہ شمارہ بھی لے لیا تھا جس پر اچٹتی ہوئی نظر ڈالتا، پھر لائبریری، اس کا احاطہ اور وہاں آنے جانے والے چہروں کو دیکھتا بھی جا رہا تھا۔ انہیں آتے جاتے چہروں میں مجھے وہ نظر آئی تھی۔ اس نے عبایہ تو نہیں پہنا ہوا تھا مگر اس کا سر ڈھنپا ہوا تھا، جیسے آج کل کچھ مسلمان لڑکیاں اپنے سر اور سر کے بالوں کو چھپا کر رکھتی ہیں۔ جیسے ہی میری نظر اس پر پڑی مجھے لگا کہ میں نے اسے کہیں دیکھا ہے۔ گندمی رنگ، کتابی چہرہ، دبلا جسم وہ لائبریری کے بڑے دروازے سے میری نظروں کے سامنے داخل ہو رہی تھی۔

برسوں پہلے گرینج ولیج کے علاقے پر جنگ کے بعد ولندیزیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ یہ لوگ اپنے ساتھ سیاہ فام افریقی غلاموں کو لے کر آئے تھے اور دریائے ہڈسن کے ساتھ اس زرخیز زمین پر انہیں کاشتکاری کرنے پر لگادیا تھا۔ سونا اگلتی ہوئی وہ زمین آج بھی سونا ہی اگل رہی ہے۔ 1644 میں ولندیزیوں نے گیارہ افریقی غلاموں کو آزاد کر دیا تھا اور زمین کے کچھ حصے انہیں دے دیے تھے۔ 1666 ء میں انگریزوں نے ولندیزیوں کو شکست دے کر یہاں قبضہ کر کے گرینج ولیج کی داغ بیل ڈالی تھی۔

Read more

مرے ہوئے شوہر کا پرس

امی کے چہرے پر بکھرے ہوئے غصے اور نفرت نے ان کی اداسی اور غم کی کیفیت کو مکمل طو پر زائل کر دیا تھا۔ یہ میرے لیے عجیب وغریب تجربہ تھا۔ گزشتہ ایک سال سے میں انہیں مسلسل پریشان، اداس اور مغموم دیکھ رہی تھی۔ ہم دونوں بہنوں کو اندیشہ ہوگیا تھا کہ خدانخواستہ انہیں کچھ ہونہ جائے، ہر وقت روتے رہنا۔ آنسوؤں کی جھڑی تھی جو بہتی ہی رہتی تھی۔ پانی کا سمندر تھا جو ابلتا ہی رہتا

Read more

محبت ایسے ہوتی ہے!

”تمہاری ماں کو مجھ سے محبت نہیں تھی“ انہوں نے میرے ہاتھ تھامے ہوئے آہستہ سے کہا تھا۔ ان کی آنکھوں کے دونوں کونے بھیگے ہوئے تھے، ان کے چہرے پر جو درد تھا وہ کوئی بیٹی ہی محسوس کر سکتی تھی۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنے آنسوؤں کو اپنے آنکھوں میں روکنے کی کوشش کی تھی مگر آنسو تو چھلک ہی جاتے ہیں، وہ تو بے درد ہوتے ہیں اور بے رحم بھی۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا۔

Read more

محمد عمر میمن: کچھ یادیں

شاہ فضل عباس کا فون واشنگٹن سے آیا۔ آپ عمرمیمن صاحب کو کتنا جانتے ہیں؟ انہوں نے سوال کیا۔ شاہ فضل عباس حلقہ ارباب ذوق واشنگٹن کے سرگرم کارکن ہیں، ادب، موسیقی، ثقافتی، سماجی اور ہر قسم کی سیاسی و انقلابی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں، غالب کے عاشق ہیں۔ دیوان تقریباً ازبر ہے، گاہے بگاہے مرزا کے شعر سناتے ہیں اورایک الگ تشریح کے ساتھ اپنا بھی سر دھنتے ہیں اور دوسروں کو بھی سر دھننے پر مجبور کردیتے

Read more

گائتری کی خوشبو

وہ مکمل طور پر گائتری تھی۔ وہی دبلا پتلا جسم وہی کتابی چہرہ، وہی چوڑی پیشانی اور وہی لمبے لمبے بالوں کی چٹیا جو کمر سے نیچے تک پہنچی ہوئی تھی اور چہرے پر دو بڑی بڑی روشن آنکھیں، میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ نہ جانے کیوں میرے دل سے زیادہ میری روح نے اس کا استقبال کیا تھا۔ ایک خاص قسم کی انسیت سی محسوس ہوئی تھی ایک شدید خواہش کے ساتھ کہ اس سے بات کروں، میں نہ چاہنے کے باوجود بار بار اس کی طرف دیکھنے پر مجبور سا تھا، میری نظر مسلسل اس کا تعاقب کر رہی تھی، کوئی بات تھی ایسی کہ میں اس کی جانب مستقل طور پر متوجہ ہو گیا تھا، میں نے محسوس کیا کہ اس نے بھی مجھ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈالی تھی پھر اپنے ساتھی کے ساتھ کھانے کی ٹرے لے کر میرے سامنے سے گزرتی ہوئی اپنے دوسرے ساتھیوں کی میز پر بیٹھ گئی تھی۔ یہ ہسپتال میں آنے والے نئے ڈاکٹر تھے۔ جوان، مسکراتے ہوئے طاقت سے بھرپور تھوڑا ڈرے ہوئے بھی، ذرا سہمے ہوئے بھی، خود اعتمادی کے ساتھ ہر سال آنے والے بیج کو دیکھ کر جہاں اپنے سینئر ہونے کا احساس ہوتا تھا وہاں زندگی کی مسکراہٹوں اور جوانی کے جذبوں کا بھی جیسا دوبارہ جنم ہوجاتا تھا مگر اس دفعہ بات کچھ اور تھی۔

Read more

طالبان بیٹے کی ماں

وہ میرے آفس میں کام کرنے آیا تھا۔ لانبے قد کا دبلا پتلا خوبصورت سا لڑکا تھا وہ۔ عمر بائیس تیئس سال سے زیادہ نہیں رہی ہوگی۔ آفس میں اوپر کا کام کرنے کے لیے ایک پھرتیلے بندے کی ضرورت تھی، صفائی ستھرائی، کپڑا مارنے کے لیے، چائے بنانے کے لیے، باہر سے سموسے، جلیبی اورپھل لانے کے لیے اور اسی قسم کے دوسرے روزمرہ کے کام کرنے کے لیے، وہ پھرتیلا ہی ثابت ہوا تھا اور بہت پھرتی کے

Read more

ریڈ انڈین آنسوؤں کی پگڈنڈی

آیوکی اس کا نام تھا پہلے دن ایسا لگا جیسے یہ نام کچھ جانا پہچانا سا ہے۔ وہ ریڈ انڈین تھی اور میڈیکل کالج میں اس کا داخلہ ریڈ انڈین لوگوں کے لیے مخصوص نشست پر ہوا تھا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ امریکا کے میڈیکل کالجوں میں بھی مختص سیٹیں ہوتی ہیں اور ان سیٹوں پر مخصوص لوگوں کو کم نمبر کے باوجود داخلہ دیا جاتا ہے۔ میرے ڈیڈی کا تعلق پاکستان سے تھا، وہ ڈاکٹر بن کر امریکا آ گئے تھے۔ میری تو پیدائش بھی امریکا میں ہوئی اور یہیں پلا بڑھا تھا میں۔ کولوراڈو کے جس ڈسٹرکٹ میں ہم لوگ رہتے تھے وہاں کا اسکول بہت اچھا تھا، یہیں تعلیم حاصل کی میں نے اور اتنے اچھے نمبروں سے ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا کہ مجھے کالج جانے کے لیے وظیفہ مل گیا تھا۔

Read more

وقت بے درد مسیحا ہے

میں اس بات پر بالکل بھی راضی نہیں تھا کہ اس سے ملوں کیوں کہ اس وقت میں بالکل بھی نہیں چاہتا تھا کہ میری بیٹی اس سے شادی کرے۔ میرا خیال تھا کہ ایک دفعہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرلے پھر عملی زندگی میں کسی عملی قسم کے آدمی کوپسند کرکے اس سے شادی کرے۔ یہ تو مجھے اندازہ تھا کہ وہ کسی بھی ایسے شخص سے شادی نہیں کرے گی جو صرف میری پسند کا ہو۔ ارینج میرج

Read more

میں، گرونیا اور اس کا شوہر

میں ڈبلن پہنچ کر اس سے فوراً ملنا چاہتا تھا مگر ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ اسے فون کروں۔ وہ میری عزیز از جان دوست، میری سب کچھ، میری محبوبہ، ہم دونوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو جانے والی، میری جنم جنم کی ساتھی گرونیا کا شوہر تھا۔ اس نے ہی مجھے گرونیا کے موت کی خبر دی تھی، میں نے اسے آنسوؤں سے بھرا ہوا جواب دیا اور نہ جانے کیوں میرے اندر ایک زبردست قسم کی خواہش جاگ اٹھی تھی کہ میں اس سے ملوں۔ آخر کار وہ میری گرونیا کا شوہر تھا۔

گرونیا نے اس کی بانہوں میں جان دی ہوگی۔ اس نے اسے پکڑ کر بٹھایا ہوگا، اس کے بالوں کو سنوارا ہوگا، درد کی شدت میں وہ تڑپی ہوگی اور اس وقت وہ اس کا سہارا ہوگا۔ نہ جانے کیوں میں اس کے ساتھ بیٹھ کر اس سے اس کے بارے میں، گرونیا کے بارے میں باتیں کرنا چاہتا تھا۔ اسی لیے خبر سننے کے ساتھ ہی میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ڈبلن پہنچ گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہوٹل کے اس اداس کمرے میں بیٹھا ہوا گرونیا کے بارے میں سوچتے ہوئے سشمیش اوڈینو کو فون کرنے میں کچھ عجیب سی ہچکچاہٹ سی ہو رہی تھی۔

Read more

ڈرٹی نیلی کی گیبریلا اور مردوں کی محبت

ڈرٹی نیلی سڈنی یونیورسٹی سے زیادہ دور نہیں ہے۔ اس سے میری دوسری ملاقات ڈرٹی نیلی میں ہوئی تھی۔ ڈرٹی نیلی سڈنی کا مشہورآئرش پب ہے۔ آئرلینڈ کا ماحول، آئرش طرز پر بیٹھنے کا انتظام، آئرلینڈ کی مشہور سیاہ گنیز بیئر اور ساتھ میں آئرلینڈ کی ہی باغی اور لوک موسیقی۔ روز شام کے وقت یہاں کوئی نہ کوئی آئرلینڈ کے گانے سنایا جا رہا ہوتا ہے، آئرش لوک گانے اور آئرش باغی ترانے ان کا اپنا ایک مزا اور

Read more

آصف فرخی: کیا آدمی تھے وہ، کیسے چلے گئے!

سوموار یکم مئی 2020 شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے میں نے آصف صاحب کو فون کیا تو فون ان کے چھوٹے بھائی طارق نے اٹھایا۔
”ڈاکٹر صاحب آصف بھائی کی تو طبیعت بہت زیادہ خراب ہے۔“ طارق کی گھبرائی ہوئی آواز آئی تھی۔

”گزشتہ چند دنوں سے ان کی طبیعت خراب تھی۔ آٹھ دن قبل انہوں نے کچھ کھایا تھا جس سے ان کا پیٹ خراب ہوگیا تھا۔“ ہمارے مشترکہ دوست عرفان خان صاحب نے مجھے فون کر کے بتایا کہ ”آصف صاحب کو متلی ہو رہی ہے اور پیٹ خراب ہے۔“

میں نے فوراً ہی ان کے بھی دوست اور بہت اچھے جنرل پریکٹشنر ڈاکٹر سجاد کو فون کر کے کہا کہ وہ آصف کو فون کر لیں اور انہیں فوڈ پوائزنگ کے لیے کوئی دوا بتائیں۔ سجاد نے فوراً ہی فون کیا اور انہیں پیٹ میں درد اور ہاضمے کی خرابی کی دوا فون پر ہی بتائی اور ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ پینے والے نمکیات ( او آر ایس ) کے ساشے منگوا لیں ا ور دن میں کم از کم تین ساشے پئیں۔

Read more

زخمی عورت کا پیشاب

وہ بری طرح سے زخمی تھی۔ دانت ٹوٹے ہوئے، ہونٹ پھٹے ہوئے، دونوں آنکھوں کے گرد خون جمع ہوا۔ ایک طرف کا کان نیچے سے کٹا ہوا، ناک سے خون بہہ کر ہونٹوں پر جم کر پپڑی سا بن گیا تھا، گردن پر زخموں کے نشان، چھاتیوں کو بڑی بے دردی سے شاید گھونسے مارے گئے تھے، پیٹ، کمر، رانوں اور کولہوں کو شاید جوتے والی لاتوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ وہ شدید تکلیف میں نیم بے ہوشی کے

Read more

تبلیغی جماعت اور نور کی چادر

وہ مجھے تبلیغی جماعت کے اجتماع میں لے جانا چاہتے تھے تبلیغ اور تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں بنیادی طور پرایک غیر مذہبی قسم کا انسان ہوں۔ جب چھوٹا تھا تو گھر قرآن بھی پڑھایا گیا، نماز بھی سکھائی گئی۔ اسکول میں بھی نماز پڑھتا تھا اور گھر میں دادی جان ہمیشہ نماز کے وقت ٹوک دیا کرتی تھیں کہ نماز پڑھ لو۔ جب تک وہ زندہ رہیں میں پابندی سے نماز پڑھتا رہا۔ ان کی موت کے بعد بھی کافی دنوں تک نماز میں بے قاعدگی نہیں ہوئی مگر کالج آکر کچھ ایسا ہوا کہ ظہر کی نماز پابندی سے چھوٹنے لگی۔ پھر نہ جانے کیسے میں نے پانچ وقت نماز پڑھنی چھوڑ دی تھی۔

Read more

ڈاکٹر شیر شاہ کا خط پی آئی اے کے سربراہ مسٹر ارشد ملک کے نام

فلائٹ نمبر 8303 کے حالیہ حادثے کے سانحہ پہ مہربانی کر کے ان جان سے ہاتھ دھو نے والوں کو شہید مت کہیں کیونکہ نہ وہ جہادی تھے اور نہ وہ زیارات یا تبلیغی دورے سے واپس آرہے تھے اور نہ ہی اسلام کے دشمنوں سے لڑنے یا وطن کے لیے لڑنے کے بعد واپس آرہے تھے۔ وہ تو عام سے معصوم شہری تھے اور انتہائی نارمل انسان جو لاہور سے کراچی ایک ہوائی جہاز سے واپس آرہے تھے۔

Read more

دنیا ہے ماں تیرے آنچل میں

بھائی صاحب کا فون تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ممی کو نرسنگ ہوم میں شفٹ کردیا جائے۔ یار تم سمجھتے نہیں ہو اورخواہ مخواہ میں جذباتی ہورہے ہو۔ ہم لوگ اب ان کا خیال نہیں رکھ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اب نرسنگ ہوم میں ان کا خیال رکھا جائے، وہاں تو پروفیشنل نرسیں اور دیکھ بھال کرنے کے ماہرہوتے ہیں۔ ہر وقت خیال رکھا جاتا ہے کوئی بھی مسئلہ ہو

Read more

سورج کی موت

سورج اچانک یکایک کسی لمحے اور سیکنڈ کے کسی حصے میں بجھ گیا۔ کروڑوں میل دور عظیم سورج پر ایک ایسا شدید دھماکہ ہوا کہ پورا شمسی نظام ہل کر رہ گیا تھا۔ دھماکہ اس قدر شدید اور اتنا طاقتور تھا کہ سورج خود اس دھماکے کو نہیں سہہ سکا اور فوری طور پر شدید آگ کے لاکھوں بڑے بڑے گرم ترین گولوں میں تقسیم ہوکر ہزاروں میل کی رفتار سے اپنے ہی شمسی نظام کو چھوڑ کر ہماری کہکشاں

Read more

اونٹوں والے اور میری پرنانی

اونٹ عید سے تین دن پہلے لا کر گلی میں باندھ دیا گیا، یہ یہاں ہر سال ہوتا تھا۔ گلی والے اجتماعی طور پر عید کے موقع پر اونٹ کی قربانی کرتے تھے۔ بڑا سا صحت مند اونٹ لایا جاتا، اس کے گلے میں رنگین کپڑا ڈال دیا جاتا، پیروں میں بچے گھنگرو ڈال دیتے، گلے میں گھنٹی لٹکادی جاتی۔ گلی کے ہر گھر کے بچے، لڑکیاں لڑکے، چھوٹے بڑے آکر اونٹ کو دیکھا کرتے، اسے چارہ دیتے، ایک دائرہ

Read more

میری بیوی پھر سے جہنمی کیسے ٹھہری؟

ہوا یہ کہ میں نے لز سے شادی کرلی۔ نام اس کا ایلزبتھ تھا مگر وہ لز کے نام سے جانی اور پکاری جاتی تھی، خوبصورت تو وہ تھی ہی مگر خوبصورتی سے زیادہ اس کا انداز تھا، رکھ رکھاؤ کا طریقہ، بات کرنے کا سلیقہ، اور دنیا کے بارے میں اس کا رویہ بھی میرے جیسا تھا۔ جس نے مجھے اس کا دیوانہ بنادیا تھا۔ اس سے ملاقات آفس میں ہوئی تھی۔ ہم دونوں ہی کمپیوٹر ڈویژن میں کام

Read more

جب سانتا ہار (بوگرا) میں شفق ڈھلی

نہیں میری زندگی میں تم کسی بنگالی سے شادی نہیں کروگی۔ انتہائی غصے اور سختی کے ساتھ میں نے اپنی بیٹی سے کہا تھا ایسی بیٹی کو جو مجھے جان سے زیادہ پیاری تھی جس پر آج تک میں نے غصہ نہیں کیا تھا۔ کیسے کرسکتا تھا غصہ اس پر۔ اس کے علاوہ میرا کچھ تھا بھی تو نہیں وہی تو تھی سب کچھ میرے لیے! اس کا فون نہیں تھا دھماکہ تھا وہ طفیل سے شادی کرنا چاہتی تھی۔

Read more

آخری عورت نے اماں حوا بننے سے انکار کیوں کیا؟

دنیا بہت ترقی کر چکی تھی، وہی ترقی جس کے خواب وہ طاقتور لوگ دیکھتے رہے تھے جن کی دنیا تھی اور جنہوں نے دنیا پر حکومت کی اور کر رہے تھے اور شاید کرتے رہیں گے۔ دنیا بھر کی دولت، وسائل اور طاقت ان خاندانوں کے ہاتھ میں تھی جو نظر نہیں آتے تھے لیکن ہر طرف موجود تھے کسی نہ کسی شکل میں. ان کا وجود محسوس نہیں کیا جاسکتا تھا مگر ہر طرف، ہر عمل میں ان

Read more

پانچ دریاؤں کی بیٹی

مردہ خانے میں پتھر کی بڑی ساری سل پر اس کی لاش پڑی ہوئی تھی جس کی شناخت کے لیے مجھے بلایا گیا تھا۔ میں نے فوراً ہی اسے پہچان لیا، وہی بھولا بھالا چہرہ اس کا، مگر بے جان۔ بڑی بڑی سیاہ آنکھیں بند تھیں۔ آنکھوں کے چاروں طرف سیاہی سی تھی۔ ستواں ناک اسی طرح سے ستواں تھی او ربے جان چہرے پر ایک ناقابل بیان سکون سا تھا۔ بے چاری آخر مرگئی۔

جس وقت وہ ہمارے گھر آئی تو مشکل سے اس کی عمر تیرہ سال ہوگی، کھیلنے کودنے کی عمر، بھاگنے دوڑنے کی عمر، لنگڑی پالا اور لپّا چھپّی کی عمر بننے سنورنے کی عمر، بگڑنے اور جھگڑنے کی عمر، مچلنے اور الجھنے کی عمر۔ مگر وہ اپنے عمر کے ان تمام چونچلوں کو پھلانگ کر ہمارے گھر نوکرانی بننے آئی تھی۔

Read more

ماں مر گئی، مادر وطن زندہ ہے

میری ماں بانوے سال کی ہے۔ میں اسی کے پاس جارہا ہوں، اس نے آہستہ سے کہا تھا ”یوآر اے لکی مین، تم خوش قسمت آدمی ہو، تمہاری ماں زندہ ہیں۔ میں نے جواب دیا۔ ہاں یہ بات تو ہے ہم لوگ تین بھائی ہیں اورایک بہن۔ ہم تین بھائی سال کے تین تین مہینے ان کے پاس رہتے ہیں اور ہماری بہن چھ مہینے ان کے ساتھ رہتی ہے کیونکہ اب تہران میں کوئی نہیں ہے ہم میں سے۔

Read more

کافر ممتا

میری شادی کیتھرینا سے نہیں کوثر سے ہوئی۔
قسمت میں یہی لکھا تھا۔ کوثر میری چچا زاد بہن تھی۔ ابا جان کو ان کے چھوٹے بھائی دل وجان سے عزیز تھے۔ ان دونوں کا خیال تھا کہ گھر کی بات گھر میں طے ہوجانی چاہیے۔ ہمارے جیسے خاندانوں میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور شاید ایسا ہی ہوتا آئے گا اور شاید ایسا ہی ہونا صحیح بھی ہے۔

وہ چچا جان کی اکلوتی بیٹی تھی۔ چچا جان کا کاروبار زبردست تھا اور وہ مسلسل ترقی ہی کررہے تھے۔ بنیادی طور پر درآمد وبرآمد کا کام تھا ان کا جو آہستہ آہستہ پھیلتا چلاگیا تھا۔ کئی چیزوں کے ڈسٹری بیوٹر بھی تھے وہ ساتھ میں بہت زیادہ محنتی بھی۔ بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ابا جان کے پارٹنر بھی تھے۔ دونوں بھائیوں نے کام کو بڑھا کر کہیں سے کہیں پہنچادیا تھا۔ دولت کی فراوانی تھی اور سب کچھ میسر تھا ہم لوگوں کو۔

Read more

ڈراؤنے خواب کا قلم

وہ مجھ سے اکیلے میں ملنا چاہتی تھی۔ چھوٹا قد اور معصوم سی صورت تھی اس کی۔ ڈھیلی ڈھالی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی اس نے اور اس پہ ڈھیلا ڈھلا سا ایپرن ٹائپ کا کوٹ جو نیچے پیروں تک آیا ہوا تھا۔چہرے کے علاوہ تمام جسم چھپا ہوا تھا اس کا۔ وہ میری سیکریٹری کے ساتھ اندر آگئی تھی۔ مگر میں کبھی بھی اپنے خاتون مریضوں سے اکیلے نہیں ملتا ہوں۔ میں نے اس سے خشک لہجے میں کہا

Read more

بے اولاد جوڑا، آرٹی فیشیل ان سیمینیشن اور شاہ بابا کا مزار

دیکھیں آرٹی فیشیل ان سی می نیشن دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک آرٹی فیشیل ان سی می نیشن شوہر کے ذریعے یا آرٹی فیشیل ان سی می شین کسی ڈونر کے ذریعے۔ میں اس کی اور وضاحت کرتا ہوں۔ میں نے ان دونوں کو غور سے دیکھتے ہوئے سمجھانے والے انداز سے کہا۔

دیکھیں مسئلہ یہ ہے اگر شوہرمیں خرابی ہو یعنی شوہر کے جرثُومے بہت کم ہوں یا بالکل نا ہوں تو ان طریقوں سے علاج کیا جاسکتا ہے۔ اگر شوہر کے جرثومے یعنی اسپرم اگر کم ہیں تو ہم لوگ ان جرثوموں کو جمع کرلیتے ہیں۔ جمع کرنے کے بعد انہیں لیبارٹری میں اس قابل کیا جاتا ہے کہ وہ زیادہ اچھی طریقے سے عمل کرسکیں۔ اس عمل سے گزارنے کے بعد ایک بہت ہی پتلی سی نالی کے ذریعے مہینے کے بارہویں تیرہویں دن ان تمام جرثوموں کو بچہ دانی میں ڈال دیا جاتا ہے اور اس طرح سے اُمید کی جاتی ہے کہ حمل ٹھہرجائے۔

Read more

یادوں کا زہر

عالیہ فائنل ایئر میں تھی کہ ہماری شادی ہوگئی۔ ہنی مون کے لیے ہم دونوں سری لنکا گئے۔ احتیاط کے باوجود پہلے مہینے میں ہی عالیہ حمل سے ہوگئی، ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ ایسا کیسے ہوگیا مگر شاید قسمت کو یہی منظور تھا۔ ابھی حمل کے چھ سات ہفتے ہی گزرے تھے اور ہم نے کسی کو بتایا بھی نہیں تھا کہ یکایک عالیہ کے پیٹ میں درد اُٹھا اور اسے ہسپتال لے جانا پڑا۔ جہاں پتہ چلا

Read more

میں وہی بکی ہوئی لٹی ہوئی سندھی بیگم ہوں

”تم سندھی بیگم کو جانتی ہو۔“ اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے عجیب سے لہجے میں پوچھا۔
”نہیں میں نے نہیں سنا یہ نام، کون تھی وہ؟“ میں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔

”وہ پریوں کی طرح خوبصورت، لانبی اس کی گردن جیسے ایران کی کوئی منقش صراحی اورآنکھیں جیسے کسی سہمی سہمی غزال کی ہوتی ہیں، بڑی بڑی گہری گہری اور چہرہ ایسا کہ بار بار دیکھنے کو دل تڑپے اور سیاہ بال جو کمر سے بھی نیچے تک لہریں مارتے ہوئے چلے جاتے، وہ خوبصورت تھی، سندھ دھرتی میں ایسی خوبصورت لڑکی شاید پیدا نہیں ہوئی ہوگی۔ اس کا نام سندھی بیگم تھا۔ سندھ کی بیٹی تھی وہ میری طرح۔“

Read more

ناٹک

وحید اور شہناز دونوں میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ شش و پنج میں، گھبرائے گھبرائے، اُداس اُداس، پریشان پریشان سے، اس سے پہلے میں نے کبھی انہیں ایسا نہیں دیکھا تھا۔ وہ ہمیشہ ہنستے ہنساتے ہوئے آتے۔ ہمیشہ مسکراتے ہوئے، ایک دوسرے کو ستاتے ہوئے، ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے، دونوں میاں بیوی سے زیادہ دو شریر دوست لگتے تھے۔ یہ ایک عجیب بات تھی کہ جب بھی وہ میری کلینک میں آتے، میری کلینک جیسے روشن ہوجاتی، ایک عجیب

Read more

جو کیڑی سو کائی

وہ لمبا آدمی لمبی سی گندی قمیض پہنے ہوئے تھا، گندی سی شلوار، گندی سی قمیض کے نیچے پھنسی ہوئی تھی۔ سر پر گندی سی پگڑی ٹکی ہوئی تھی۔ قمیض اور شلوار پر بہت سارے دھبّے لگے ہوئے تھے لگتا تھا کہ پہننے کے بعد سے شلوار اور قمیض دھوئی نہیں گئی ہے۔ آنکھوں پر موٹے موٹے شیشوں کا چشمہ لگا ہوا تھا۔ سر داڑھی اور مونچھوں کے بال سفید تھے۔ اُسے دیکھ کر لگتا تھا کہ اس نے زندگی

Read more