زلیخا کا ناسور

لاڑکانہ تو شہر ہی وزیروں، وزیراعلاؤں اور وزیراعظموں کا تھا اور اس کے ساتھ ہی موہنجوداڑو کا رومانس، ہزاروں سال پرانی تہذیب کے آثار جس کے بارے میں، میں نے بہت کچھ سنا تھا اور پڑھا بھی تھا۔ اسی لاڑکانہ آنے کی دعوت نے مجھے یکایک مسحور سا کرکے رکھ دیا تھا۔ سالوں پہلے ڈاکٹر…

Read more

عطر شیشہ اور دوسرے مقامات پر زلزلے کی ضرورت

اسے عطر شیشہ سے لایا گیا تھا۔
ایبٹ آباد سے مظفرآباد کے راستے پر مانسہرہ سے نکل کر جب پہاڑی سلسلے شروع ہوتے ہیں، بڑی بڑی اونچی چوٹیوں کو پھلانگتے ہوئے سرسبزوادیوں سے گزرتے ہوئے جھرنوں، نالوں، نالیوں، ندی کے کنارے سفر کرتے ہوئے ایک چھوٹی سی جگہ عطر شیشہ کے نام سے آتی ہے۔ عطر شیشہ کے پاس کی کسی چھوٹے سے گاؤں سے ایدھی ایمبولینس کے رضاکار اسے لے کر آئے تھے۔

اس کے گھر کا کوئی فرد نہیں بچا تھا۔ نہ باپ نہ ماں نہ بھائی نہ بھابھی اور نہ ہی گھر کے تینوں بچے۔ زلزلہ سب کواپنے ساتھ لے گیا، صرف وہی اس گھر کی زندہ فرد تھی۔ اسے زلزلے نے تو کوئی نقصان نہیں پہنچایا مگر زلزلے کے فوراً بعد جب وہ اپنی پوری قوت سے اپنے ہی گھر کے ملبے کو کوڑ ہی تھی تو گرتے ہوئے گھر کی ایک دیوار کا حصہ اس پر آن گرا اور اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں۔

مانسہرہ کے بی ڈی او ہسپتال میں وہ بستر پر پڑی ہوئی تھی اوراس کا بستر گیلا تھا اور اس کے پاس سے سخت بدبوآرہی تھی۔ میں نے ہی سب سے پہلے اسے دیکھا تھا۔

Read more

زلزلہ، مال پانی اور ادھوری خوشی

چیف ہیلتھ افسر کی نئی پوسٹ تھی جو موجودہ چیف ہیلتھ افسر کے لئے خصوصی طور پر تخلیق کی گئی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ چیف ہیلتھ افسر صاحب جب ریٹائر ہوئے تو وہ محکمہ صحت میں ڈپٹی سیکریٹری ہیلتھ کے عہدے پر فائز تھے۔ ڈاکٹر بننے کے بعد انہوں نے صحت کے محکمے میں ہر عہدے پر کام کیا، انہیں پہلی دفعہ ایک بیسک ہیلتھ یونٹ میں تقرری دی گئی اور کام وہ پشاور کے سرکاری ہسپتال میں کرتے رہے تھے۔ جب کہ تنخواہ انہیں بیسک ہیلتھ یونٹ سے ہی ملتی تھی۔

وہ بیسک ہیلتھ یونٹ نہیں گئے کیونکہ بیسک ہیلتھ یونٹ میں نہ کوئی سہولت تھی اور نہ ہی کوئی اور اسٹاف۔ محکمہ صحت میں کام کرتے کرتے ان کی ترقی بھی ہوتی رہی، انہیں ایک رورل ہیلتھ سینٹر کا انچارج بنا کر کوہستان کے علاقے میں پوسٹ کردیا گیا لیکن کام کے لئے انہیں پشاور کے پولیس ہسپتال میں رکھ دیا گیا تھا۔ پولیس ہسپتال تھوڑے دن کام کرنے کے بعد وہ میڈیکولیگل افسر بن گئے۔

کہتے ہیں میڈیکولیگل افسر کے طور پر کام کرتے کرتے انہوں نے کافی دولت کمائی۔ پشاور کے فیشن ایبل علاقے میں بنگلے بنائے، دکانیں خریدیں اور بینک بیلنس میں خاطر خواہ اضافہ بھی کیا۔ میڈیکولیگل افسر کے عہدے سے فارغ ہوکر وہ فیملی پلاننگ کے ڈائریکٹر ہوگئے۔ فیملی پلاننگ کے پروگرام کے تحت انہوں نے نئی عمارتیں بنوائی تھیں۔ ہیلتھ سینٹروں میں فیملی پلاننگ کے دفتروں کی تعمیر کروائی۔ بہت ساری بلڈنگیں اور عمارتیں بنوانے میں انہوں نے خود بھی کافی کچھ بنایا تھا۔ اپنے جیسے لوگوں کو نوکریاں دلوائی تھیں، تعلقات بنائے تھے اور جب انہیں فیملی ہیلتھ پروجیکٹ کا ڈائریکٹر بنایا گیا تو وہ مزید دو شادیاں بھی کرچکے تھے۔

Read more

اس کے پیکج میں خیرات شامل نہیں تھی

”یہ بی بی سی لندن ہے“
یہ آواز جیسے زندگی کا تحفہ لے کر آئی تھی، اندھیرا تو پانچ بجے ہی ہوگیا تھا۔ صبح گیارہ بجے میں نے گاڑی سے اُتر کر دو کمبل اور تقریباً پانچ کلو چاول اپنے کاندھے پر رکھا، پانی کی بوتل اور دوسرے ضروری سامان کے ساتھ ان پہاڑیوں پر چڑھنا شروع کردیاتھا۔ پہاڑوں کو سر کرنا میرا بہترین مشغلہ تھا۔ سرحد اور کشمیر کے پہاڑی سلسلوں کو عبور کرتے ہوئے نہ جانے کتنی دفعہ ان پہاڑوں کی بھول بھلیوں میں کھویا، راستے ڈھونڈے اور پھر دوبارہ ساتھیوں سے ملا تھا۔ عام طور پر موسم بہار کے زمانے میں جب نیچے زمین پر گرمی پڑرہی ہوتی تو ہم لوگ پہاڑوں کو سر کرنے نکل کھڑے ہوتے۔ عام طور پر گرمی میں ٹھنڈے پہاڑوں پر چڑھنے کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

پہاڑوں پر بسنے والے گاؤں دیہات کے لوگوں کی اپنی ہی زندگی تھی۔ ان کے لئے ہمارے جیسے پہاڑوں پر چڑھنے والے لوگ ایک طرح سے عجوبہ ہی ہوتے تھے۔ ان کی زندگی کا تو معمول تھا۔ ایک پگڈنڈی سے اُتر کر درختوں، جھاڑیوں کو پھلانگتے ہوئے، کسی چشمے سے پانی پینا ہے تو کسی آبشار، جھرنا، ندی نالے کے ساتھ ساتھ اپنے بھیڑ بکری چرانی ہے۔ پہاڑیاں جنگل، کھائیاں، غار، آبشار، دراڑیں ان کے لئے ایسا ہی ہی ہیں جیسے ہمارے لئے صدر کا گھنٹہ گھر، گھنٹہ گھر کے سامنے کا چوک، چوک کے ساتھ پوسٹ آفس، پوسٹ آفس کے پیچھے اسکول، اسکول سے آگے پولیس اسٹیشن اور پولیس اسٹیشن کے ساتھ ہسپتال۔

Read more

بیچ کا آدمی

وہ مجھے چکلالہ ایئرپورٹ پر ملا تھا۔

بہت دنوں بعد اسے دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی، میں بچپن سے اسے جانتا تھا، ہم دونوں ایک ہی اسکول میں زیرتعلیم رہے تھے۔ پرائمری، سیکنڈری اسکول تک ایک کلاس میں ساتھ ہی رہے۔ اسکول کے بعد میں ڈی جے سائنس کالج میں داخل ہوکر پری میڈیکل پڑھنے چلا گیا جہاں سے مجھے میڈیکل کالج میں داخلہ آسانی سے مل گیا تھا۔ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد میں ہڈیوں کی بیماری کا ماہر بننے کے لئے انگلینڈ چلا گیا۔ انگلینڈ سے واپس آکر میں ایک رفاہی ادارے سے وابستہ ہوکر ان کے ہسپتال میں کام کررہا تھا۔

پہلے میں نے سرکاری ملازمت ہی کی تھی۔ میرا تقرر لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج میں ہوا، وہاں میں کام نہیں کرسکا بڑی مشکل سے ٹرانسفرکراکر کراچی کے سول ہسپتال میں آیا تو یہاں کام کرنے کا انداز میری سمجھ سے بالاتر تھا۔ میں خاموشی سے سرکاری نوکری چھوڑ کر اس رفاہی ادارے سے منسلک ہوگیا تھا۔ اس کے علاوہ میرا پرائیویٹ کام بھی اچھا چل نکلا تھا اور کافی آرام سے زندگی گزررہی تھی۔ میڈیکل کے پروفیشن میں شروع کے چند سال ہی مسائل ہوتے ہیں لیکن ایک بار کام آجائے تو پھر نہ کام کی کمی ہے اور نہ ہی روپوں کی۔ یہاں تک کہ اگر ایمانداری سے بھی کام کیا جائے تو عزت کی زندگی گزاری جاسکتی ہے۔

Read more

کنکریٹ کے مقبرے اور ایک بلڈر کی لاش

زلزلے والے دن وہ مظفر آباد میں تھا۔ اپنے خاندان کے ساتھ۔ سوائے اُس کے کوئی بھی نہیں بچا تھا اس دن۔ بیوی اور تینوں بچے ٹنوں کنکریٹ کے نیچے اس کے سامنے، دفن ہوگئے اور اب خود اس کی لاش نیٹی جیٹی کے پل کے نیچے ملی تھی۔ اخباروں کی خبر کے مطابق اس نے خودکشی کرلی تھی۔ سیٹھ رزاق بھائی جو مانی۔ مجھے یقین تھا کہ اخباری خبر غلط ہے۔ ایک دن پہلے تو میری ملاقات ہوئی تھی۔ بہادر آباد میں نمکو کی دوکان کے پیچھے چھوٹی گلی میں۔ پٹھان کی چائے کی دوکان پر۔ میں نے اسے چائے کی کئی پیالیاں پلائی تھیں۔ اس کی باتیں سنی تھیں۔ وہ خطرناک باتیں کررہا تھا مگر خودکشی کی کوئی بات نہیں کی تھی۔ مجھے نہیں لگا تھا کہ وہ خودکشی کرے گا۔ وہ پریشان تھا، جس کی بیوی اور تین بچے یکا یک مرگئے ہوں وہ پریشان نہیں ہوگا تو کون پریشان ہوگا؟ہم دونوں کا بچپن ساتھ گزرا تھا۔ ایک اسکول میں پڑھا تھا ہم دونوں نے، کراچی کے پرانے این جے وی اسکول میں۔ وہ رہتا بھی اسکول کے پیچھے ہی تھا پارسی کالونی کے بالکل پیچھے ایک گندی سی گلی کے کنارے پر ہندوؤں کی بنائی ہوئی ایک خوبصورت بلڈنگ میں جس کو وہاں سے رہنے والے باسیوں نے بالکل خراب کردیا تھا۔ تین منزلہ بلڈنگ پر غیر قانونی طور پر دو اور منزلیں بن گئی تھیں۔ فلیٹوں کی خوبصورت بالکونیوں پر دیواروں کھیچ کر ہوا کاراستہ بند اور خوبصورتی تباہ کردی گئی تھی۔ ان میں ہی ایک فلیٹ میں اس کا بھی گھر تھا۔

Read more

زلزلے کے انتظار میں

”اپنی تو بس لاٹری نکل گئی، “ اس نے مری بیئر کی بوتل کو ہونٹوں سے ہٹا کر بڑے مست انداز میں کہا تھا۔ ”اُٹھائیس لڑکیاں مل گئی ہیں ابھی تک اور ابھی تو صرف شروع کا معاملہ ہے اوربھی مل جاتیں اور بھی ملیں گی پر مسئلہ یہ ہے کہ ساری دنیا ادھر گھوم…

Read more

وکٹر بازینوف کی ووڈکا اور ڈاکٹر زینب کا جذبہ

مظفرآباد کے روسی کیمپ ہسپتال میں اچھی طرح سے گرم گرم پانی سے نہانے کے بعد وکٹر بازینوف مجھے ڈاکٹروں کے ڈائننگ روم میں لے گیا۔ کیمپ ہسپتال کے وارڈ کی طرح یہ بھی شاندار جگہ تھی۔ بہترین کھانا، صاف پانی اور چار پانچ قسم کی شراب کی بے شمار بوتلیں۔ اس نے رشین گوشت…

Read more

تلور کے شکاری اور اونٹ پر بندھا پرندہ

اتنی گہری، سیاہ اُداس ذہین آنکھیں میں نے آج تک نہیں دیکھی تھیں۔ وہ مجھے ائیرپورٹ پر ملا تھا۔ ایمریٹس ائیر کے بزنس لاؤنج میں اچھا سا کھانا کھا کر میں شیمپئن کی چسکیاں لے رہا تھا اور کراچی جانے والے جہاز کے انتظار میں بیٹھا تھا کہ وہ خود چلتا ہُوا میرے پاس آگیا۔…

Read more

بالاکوٹ کی اصرا خان کی گڑیا

مجھے بالا کوٹ جانے دو۔ مجھے بالا کوٹ جانا ہے مجھے بالا کوٹ چلنا ہے۔ مجھے بالا کوٹ لے جاؤ۔ میرا دل وہاں ہے میرا دل وہاں ہے۔ میرا سب کچھ اُدھر ہے۔

اس نے میرا ہاتھ پکڑلیا۔ اس کے اُجڑے ہوئے خوبصورت چہرے پر آنسوؤں کی لکیریں بہہ رہی تھیں۔ اُس کی سبز سحرزدہ آنکھوں میں ویرانی دور تک پھیلی ہوئی تھی۔وہ زمین پر ایک اسٹریچر پر پڑی ہوئی تھی جسے صبح ہی بالاکوٹ سے لایا گیا تھا۔

مانسہرہ کا کیمپ ہسپتال کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ ہر طرف عورتیں بچے جوان بوڑھے پڑے ہوئے تھے۔ کسی کاہاتھ ٹوٹا ہوا، کسی کے پیر ٹوٹے ہوئے تھے، کسی کے سر پر زخم تھا کسی کے بدن کے ہر حصے پر زخم تھا۔ آہ و بکا ایسی تھی جیسے قیامت کا سماں ہو۔ الامان والحفیظ

ایدھی کی ایمبولینس کے رضاکاروں نے اسٹریچر کو اُتار کر زمین پر رکھ دیا اور فوراً ہی دوسرے مریضوں کو لینے کے لیے بالاکوٹ روانہ ہوگئے تھے۔ خبریں آرہی تھیں کہ بالا کوٹ تباہ ہوگیا ہے۔ پورا شہر زمین کے اندر دھنس گیا ہے، بڑے بڑے ہوٹل، چھوٹے بڑے گھر، انسان، مویشی سب چندلمحوں میں زلزلے کی نذر ہوگئے تھے۔ پہاڑوں سے پتھر، ٹیلے اور چٹانیں لڑھک لڑھک کر گرے تھے اور سڑکوں، راستوں، پگڈنڈیوں کو بند کردیا تھا۔

Read more