پانچ دریاؤں کی بیٹی

مردہ خانے میں پتھر کی بڑی ساری سل پر اس کی لاش پڑی ہوئی تھی جس کی شناخت کے لیے مجھے بلایا گیا تھا۔ میں نے فوراً ہی اسے پہچان لیا، وہی بھولا بھالا چہرہ اس کا، مگر بے جان۔ بڑی بڑی سیاہ آنکھیں بند تھیں۔ آنکھوں کے چاروں طرف سیاہی سی تھی۔ ستواں ناک اسی طرح سے ستواں تھی او ربے جان چہرے پر ایک ناقابل بیان سکون سا تھا۔ بے چاری آخر مرگئی۔

جس وقت وہ ہمارے گھر آئی تو مشکل سے اس کی عمر تیرہ سال ہوگی، کھیلنے کودنے کی عمر، بھاگنے دوڑنے کی عمر، لنگڑی پالا اور لپّا چھپّی کی عمر بننے سنورنے کی عمر، بگڑنے اور جھگڑنے کی عمر، مچلنے اور الجھنے کی عمر۔ مگر وہ اپنے عمر کے ان تمام چونچلوں کو پھلانگ کر ہمارے گھر نوکرانی بننے آئی تھی۔

Read more

ماں مر گئی، مادر وطن زندہ ہے

میری ماں بانوے سال کی ہے۔ میں اسی کے پاس جارہا ہوں، اس نے آہستہ سے کہا تھا ”یوآر اے لکی مین، تم خوش قسمت آدمی ہو، تمہاری ماں زندہ ہیں۔ میں نے جواب دیا۔ ہاں یہ بات تو ہے ہم لوگ تین بھائی ہیں اورایک بہن۔ ہم تین بھائی سال کے تین تین مہینے…

Read more

کافر ممتا

میری شادی کیتھرینا سے نہیں کوثر سے ہوئی۔
قسمت میں یہی لکھا تھا۔ کوثر میری چچا زاد بہن تھی۔ ابا جان کو ان کے چھوٹے بھائی دل وجان سے عزیز تھے۔ ان دونوں کا خیال تھا کہ گھر کی بات گھر میں طے ہوجانی چاہیے۔ ہمارے جیسے خاندانوں میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور شاید ایسا ہی ہوتا آئے گا اور شاید ایسا ہی ہونا صحیح بھی ہے۔

وہ چچا جان کی اکلوتی بیٹی تھی۔ چچا جان کا کاروبار زبردست تھا اور وہ مسلسل ترقی ہی کررہے تھے۔ بنیادی طور پر درآمد وبرآمد کا کام تھا ان کا جو آہستہ آہستہ پھیلتا چلاگیا تھا۔ کئی چیزوں کے ڈسٹری بیوٹر بھی تھے وہ ساتھ میں بہت زیادہ محنتی بھی۔ بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ابا جان کے پارٹنر بھی تھے۔ دونوں بھائیوں نے کام کو بڑھا کر کہیں سے کہیں پہنچادیا تھا۔ دولت کی فراوانی تھی اور سب کچھ میسر تھا ہم لوگوں کو۔

Read more

ڈراؤنے خواب کا قلم

وہ مجھ سے اکیلے میں ملنا چاہتی تھی۔ چھوٹا قد اور معصوم سی صورت تھی اس کی۔ ڈھیلی ڈھالی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی اس نے اور اس پہ ڈھیلا ڈھلا سا ایپرن ٹائپ کا کوٹ جو نیچے پیروں تک آیا ہوا تھا۔چہرے کے علاوہ تمام جسم چھپا ہوا تھا اس کا۔ وہ میری سیکریٹری…

Read more

بے اولاد جوڑا، آرٹی فیشیل ان سیمینیشن اور شاہ بابا کا مزار

دیکھیں آرٹی فیشیل ان سی می نیشن دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک آرٹی فیشیل ان سی می نیشن شوہر کے ذریعے یا آرٹی فیشیل ان سی می شین کسی ڈونر کے ذریعے۔ میں اس کی اور وضاحت کرتا ہوں۔ میں نے ان دونوں کو غور سے دیکھتے ہوئے سمجھانے والے انداز سے کہا۔

دیکھیں مسئلہ یہ ہے اگر شوہرمیں خرابی ہو یعنی شوہر کے جرثُومے بہت کم ہوں یا بالکل نا ہوں تو ان طریقوں سے علاج کیا جاسکتا ہے۔ اگر شوہر کے جرثومے یعنی اسپرم اگر کم ہیں تو ہم لوگ ان جرثوموں کو جمع کرلیتے ہیں۔ جمع کرنے کے بعد انہیں لیبارٹری میں اس قابل کیا جاتا ہے کہ وہ زیادہ اچھی طریقے سے عمل کرسکیں۔ اس عمل سے گزارنے کے بعد ایک بہت ہی پتلی سی نالی کے ذریعے مہینے کے بارہویں تیرہویں دن ان تمام جرثوموں کو بچہ دانی میں ڈال دیا جاتا ہے اور اس طرح سے اُمید کی جاتی ہے کہ حمل ٹھہرجائے۔

Read more

یادوں کا زہر

عالیہ فائنل ایئر میں تھی کہ ہماری شادی ہوگئی۔ ہنی مون کے لیے ہم دونوں سری لنکا گئے۔ احتیاط کے باوجود پہلے مہینے میں ہی عالیہ حمل سے ہوگئی، ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ ایسا کیسے ہوگیا مگر شاید قسمت کو یہی منظور تھا۔ ابھی حمل کے چھ سات ہفتے ہی گزرے تھے اور…

Read more

میں وہی بکی ہوئی لٹی ہوئی سندھی بیگم ہوں

”تم سندھی بیگم کو جانتی ہو۔“ اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے عجیب سے لہجے میں پوچھا۔
”نہیں میں نے نہیں سنا یہ نام، کون تھی وہ؟“ میں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔

”وہ پریوں کی طرح خوبصورت، لانبی اس کی گردن جیسے ایران کی کوئی منقش صراحی اورآنکھیں جیسے کسی سہمی سہمی غزال کی ہوتی ہیں، بڑی بڑی گہری گہری اور چہرہ ایسا کہ بار بار دیکھنے کو دل تڑپے اور سیاہ بال جو کمر سے بھی نیچے تک لہریں مارتے ہوئے چلے جاتے، وہ خوبصورت تھی، سندھ دھرتی میں ایسی خوبصورت لڑکی شاید پیدا نہیں ہوئی ہوگی۔ اس کا نام سندھی بیگم تھا۔ سندھ کی بیٹی تھی وہ میری طرح۔“

Read more

ناٹک

وحید اور شہناز دونوں میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ شش و پنج میں، گھبرائے گھبرائے، اُداس اُداس، پریشان پریشان سے، اس سے پہلے میں نے کبھی انہیں ایسا نہیں دیکھا تھا۔ وہ ہمیشہ ہنستے ہنساتے ہوئے آتے۔ ہمیشہ مسکراتے ہوئے، ایک دوسرے کو ستاتے ہوئے، ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے، دونوں میاں بیوی سے زیادہ…

Read more

جو کیڑی سو کائی

وہ لمبا آدمی لمبی سی گندی قمیض پہنے ہوئے تھا، گندی سی شلوار، گندی سی قمیض کے نیچے پھنسی ہوئی تھی۔ سر پر گندی سی پگڑی ٹکی ہوئی تھی۔ قمیض اور شلوار پر بہت سارے دھبّے لگے ہوئے تھے لگتا تھا کہ پہننے کے بعد سے شلوار اور قمیض دھوئی نہیں گئی ہے۔ آنکھوں پر…

Read more

ایک پُرانی غلطی

میں نے ساجدہ کو غور سے دیکھا۔ تھکی ہوئی کسی دیوی کی طرح معصوم لگ رہی تھی وہ۔ چہرے پر تھکن کے ساتھ ساتھ ایک عجب طرح کا اطمینان تھا۔ وہ بے حس، بے ہوش، بے خبر سورہی تھی۔ دنیا و مافیہا سے لاعلم گہری نیند میں نہ جانے کن خوابوں کی نگری میں کھوئی…

Read more