بند چمنیاں، ممی اور اپنی ذات فنا کر ڈالنے کی غلطی
”فاطی نہا لے! نہا لے!“
ایک بار کہا، دس بار، فاطمہ ہلتی نہیں۔ میں بول بول تھک جاتی ہوں۔ کبھی جا کر اس کے سر پر کھڑے ہو جاتی ہوں ڈانٹ ڈپٹ کر، دھمکیاں دے کر ڈرا دھمکا کر گھسیٹ کر باتھ روم میں لاتی ہوں جہاں سے وہ چند منٹ میں نہا کر نکل آتی ہے، ڈھنگ سے نہاتی تک نہیں۔ سکول سے آ کر نائٹ پاجامہ پہنے سارا دن پھرتی ہے، بغیر کنگھی کے، بغیر منہ دھوئے۔ اپنے تصورات میں شاید وہ فخر سے اپنی ماں کی کاپی کرتی ہے اور ماں۔ سوچ سوچ کڑھتی ہے کہ میری بیٹی ناز انداز کب سیکھے گی؟
اس بیٹی کو کیسے سجا سنوار کر رکھتی تھی جو اب کنگھی بھی ڈھنگ سے کر نہیں پاتی۔ یہی حال آمنہ کا۔ وہ خوبصورت پیارے پیارے بچے بڑے ہوتے جاتے ہیں اور میلے کچیلے رہنے لگتے ہیں بالکل ہم ماؤں کی طرح۔ پھر ہم مائیں چیختی چلاتی ہیں کبھی اپنا سر پیٹتی ہیں کبھی بچوں کی شامت بلاتی ہیں۔ تو پھر چلا چلا کر پاگل کیوں نہ ہوں۔ بلڈ پریشر اور شوگر کیوں نہ بڑھے۔ اپنی دانست میں گلاب بوئے تھے پر کاٹنے کے وقت سب خار نکلے۔ ہمیں جو اک بنیادی بات کوئی سمجھا دیتا کہ سب سے پہلے اپنے آپ کا خیال رکھنا ہی بہترین تربیت ہے تو زندگی کتنی خوبصورت ہوتی۔ نہیں!
ہمیں تو کہا جاتا ہے “مائیں تو اپنا آپ وار جاتی ہیں، مائیں تو کھانا پینا بھول جاتی ہیں“۔ ”ہائے ہائے۔ وہ تو بچوں کو چھوڑ کر پہلے خود کھانے بیٹھ جاتی ہے، اتنی ندیدی ہے“۔ وغیرہ وغیرہ جیسے سو طرح کے سو زبانوں اور لہجوں میں ایک ہی مفہوم والے فقرے جو کہتے ہیں چل قربانی کی گائے سُولی چڑھ! اور ایسا کہتے کسی کو ادراک بھی نہیں ہوتا کہ اک ماں کو سولی چڑھا کر آپ نے اپنی پوری نسل کا بیڑہ غرق کر دیا۔
خود کو کاموں میں کھپا دینا، تابعداری میں جوت دینا، مٹی مٹی کر لینا جتنا آسان ہے اتنا ہی کٹھن بھی ہے، خصوصا آپ کے میرے جیسی پڑھی لکھی ماؤں کے لئے، جنہوں نے اک لمبے عرصے تک زندگی برتنے کے روایتی حساب نہ سیکھے ہوں، جن کی آنکھوں نے اجلے اجلے رنگ برنگے خواب دیکھے ہوں، ، جن کے تخیل نے تتلیوں اور جگنوؤں کو سوچا اور بارشوں کو چاہا ہو اور زندگی کے ہر خوبصورت موسم سے جی بھر کر محبت کی ہو۔ ہم ماؤں کے مسائل ہماری ان ماؤں سے مختلف ہیں جنہیں گھروں کے اندر اک محدود سی دنیا کے اندر محدود سوچ کے ساتھ پروان چڑھایا گیا تھا۔ ہم تو باغوں میں پھرنے والی تتلیاں تھیں جنہوں جارمیں بند کر کے کچن کی شیلف پر دھر دیا جاتا ہے اس آس میں کہ یہ اب اڑنا چھوڑ کر رینگنا سیکھ لیں گیں۔ اور آفریں ہے ہماری ساری عقلوں اور کتابوں پر کہ ہم سیکھ بھی جاتی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ آج بھی ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ اصغری اکبری کی داستان میں سے اصغری کی کہانی ہی ہر لڑکی کا آئیڈیل اور ہر گھر کی ملکہ کو ہونا چاہیے۔
گھسے پٹے رستے پر چل کے پھر وہی گھسی پٹی منزل! دنیا کو سمجھانے سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا خود اپنے دماغوں کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ میرا مسکرانا، ہنسنا بولنا، خود سے پیار کرنا میرا حق اور فرض ہے خود غرضی نہیں۔ مجھ پر میری زندگی کا بھی قرض ہے جو مجھے بھی چکانا ہے۔ اور یہی وہ سب سے بہتر تربیت ہے جو میں اپنی نسل کو دے سکتی ہوں۔ میں نے بھی خود کو زندگی کی ہر روایتی چکی میں پیس کر دیکھا ہے، ساری کتابوں کو چھان پھٹک کر ان کے علم کو آزمایا ہے اور دیکھا ہے کہ کہی سنی باتوں اور اصل زندگی کے حقائق میں کس قدر گھمبیر فرق ہے۔
ہم پیرنٹنگ کے علم سے عاری لڑکیاں مائیں بنتی ہیں تو ہر علم آزماتی ہیں جو ہمیں ہر گلی ہر نکڑ پر پڑا مل جائے، کوئی بتا دے، کہیں سے سن لیں حالانکہ اس میں سے بہت کم مفید ہوتا ہے باقی سب چھان بورا ہوتا ہے۔ اب یہ جو بلاگ لکھنے کا اک سلسلہ ہے یہ میرے پیرنٹنگ کے دنوں کا پہلا خواب ہے جس کو گھسیٹ گھسیٹ کر میں آخر میں لے آئی ہوں۔ دیر کر دی میں نے بھی زندگی سے یہ اخذ کرتے کرتے۔ اب چاہتی ہوں کوئی اور ممی اسی دریا کو پار کرنے میں اتنے کٹھن مراحل سے نہ گزرے۔

