مصافحہ سے لونڈی تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"siftain_khan\"گھمسان کی جنگ دیکھنے کے بعد تازہ دستوں کی کمک لیے حاضر ہوں۔ ایک طرف عمار ناصر تنہا اور دوسری طرف تمام روایت پرست متحد۔ عمار ناصر سستانے کے لیے تیار نہیں اور میں اپنی کمان کے سارے تیر برسانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر یہ تیر دل زخمی نہیں کرتے بلکہ نفرتوں کو چیرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے کھلے مباحثہ کو آسان کر دیا ہے اور اس سے ذہنوں پر پڑے اندھی عقیدت اور تقلید کے پردے سرک رہے ہیں۔

میرے خیال سے اس پوری بحث میں دونوں طرف سے کچھ ایسی باتیں سامنے آئیں جن سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ جو بنیادی نکتہ تھا وہ زیر بحث ہی نہیں آیا اور وہ قرآن کا تصور حجاب ہے۔ روایت پرستوں نے بنیادی نکتہ کو نہ سمجھنے کی اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے شہوت کی بنیاد پر مصافحہ کے تصور کا مذاق اڑایا۔ معانقہ اور بوس و کنار تک اس کو لے جایا گیا۔ حتیٰ کہ زنا تک سے تعبیر کیا گیا۔ حکم کی علت اور حکمت کی بحث چھیڑی گئی۔ ردعمل میں فکر غامدی کے جلیل القدر نام کی طرف سے صحابہ کی لونڈیوں کے ساتھ سلوک کی ایسی روایات نقل کی گئیں جو قرآن کے تصور غلامی کے خلاف ہیں۔ قرآن نے مکی دور میں ہی اس پر پابندی لگا دی تھی اور لونڈی سے نکاح کے بغیر تعلق کو پسندیدہ قرار نہیں دیا تھا۔ بلکہ ایک رائے کے مطابق ممنوع تھا۔ اس کے بعد یہ ممکن نہیں کہ وہ سر عام اور سر بازار خرید و فروخت کے نام پر ایسی واہیانہ حرکات کرتے۔

آئیے ذرا قرآنی آیات اور کیل ٹھوکنے جیسی روایات نقل کرتے شدت پسندوں سے ذرا بات ہو جائے۔ قرآن کے تصور حجاب کو سمجھنا ہو تو سورہ نور کو دیکھیں۔ ایک بات واضح رہے کہ قرآن خود اپنے حکم کی علت واضح کر دیتا ہے اسلوب بیاں میں اگر سمجھنے والی بصیرت موجود ہو۔ بعض دفعہ علت اور حکمت مترادف ہوتی ہیں۔ جیسا کہ عدت اور بعض دوسرے احکام میں کیا ہے۔ غور کریں تو صرف ان اعضا کو نمایاں نہ کرنے کا کہا جو جنسی کشش رکھتے ہیں۔ سینے پر دوپٹہ کی ہدایت دینے کے بعد ایسی خواتین جن کے سینے جسمانی کشش کھو چکے ہوں ان کو دوپٹہ اتارنے کی اجازت دی گئی۔ کیوں ؟ اس لیے کہ یہاں شہوت کے اس جذبے کا کوئی امکان نہیں جو ان ہدایات کی بنیاد تھا۔ اسی طرح اضافی اخلاقیات کے تصورات تہذیبی بنیادیں رکھتے ہیں اور ان میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ مگر اس کی کم سے کم سطح برقرار رکھنے کا تعین فطرت کرے گی۔ وہ سطح جسمانی اتصال کی ایسی صورت ہے جو لازماََ کسی بھی نارمل انسان میں شہوانی جذبات مہمیز کرے۔ اور مصافحہ کبھی بھی انسانی تاریخ میں اس تعریف پر پورا نہیں اترا۔ معانقہ اور بوس و کنار کا معاملہ مختلف ہے۔ اس میں اس بات کا زیادہ امکان پایا جاتا ہے۔ اسی لیے جتنی بھی روایات مرد و عورت کے معمولی اتصال کی شدت کو بیان کرنے کے لیے سامنے لائی گئیں وہ سب شہوت پرستانہ لمس پر مبنی تھیں۔ آیات اور روایات کو ان کے پس منظر کے بغیر سمجھا اور بیان نہیں کیا جاتا۔

اب اپنے نظریاتی دوستوں کی طرف آتے ہیں۔ ایک دلیل فقہا کی قانونی مجبوری کو قرار دیا گیا۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے مگر انھوں نے بھی قانونی ضروریات کو تو بیان کیا مگر یہ نہیں دیکھا کہ اس کا اطلاق کرتے ہوئے خود ماخذ دین کی روح تو مجروح نہیں ہو رہی۔ ایک غلطی جو ان سے ہوئی وہ غیر ضروری طور پر قانونی معاملات میں تفصیلی طوالت ہے۔ اگرچہ یہ قانونی مجبوری بھی ہوتی ہے مگر اس کو کھینچ تان کر پورا کرنا بعض دفعہ غلط تاثر پیدا کرتا ہے، انہیں زیادہ بہتر طریقہ سے بیان کیا جا سکتا ہے۔

پھر حیرت لوگوں کی بصیرت پر ہوئی کہ لونڈی کے مسائل کو مصافحہ کی دلیل کے طور پر لینے لگے۔ یہ حال ہے ہمارے مذہبی طبقہ کی عقلی سطح کا اور یہ لوگ دنیا میں خلافت لانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ دلائل کو شخصیات کے تناظر میں دیکھنے والے، علمی موقف کے بیان کو شیطنیت سے تشبیہ دینے والے، سنجیدہ علما نے بھی اس باب میں مایوس کیا۔

جہاں تک معاملہ ہے اس دور کے تمدنی حالات کے جبر کا تو یہ بات پیش نظر رہے کہ مسلمان اس دور کی غالب تہذیبی و تمدنی قوت تھے اور غالب اپنی اقدار پیدا کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔ مسلمانوں نے جہاں باقی بہت سے معاملات میں اپنے اثرات مرتب کیے اور غلط رسوم کو ختم کیا، اس میں بظاہر ناکام رہے۔ لہذا ثقافتی حوالے سے توجیہ قوی نہیں رہتی۔ اس لیے یہ دلیل بھی کمزور ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
4 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments