انتخاب، سپریم کورٹ اور بے یقینی
سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کی طرف سے نئے کاغذات نامزدگی کے اجرا کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم کو معطل کرنے کے بعد ایک بار پھر الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے لئے تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔ اور یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لاہو ہائی کورٹ کے اچانک حکم کے باعث پیدا ہونے والی بے یقینی ختم ہونے کے بعد انتخابات کا باقی شیڈول متاثر نہیں ہو گا۔ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ جتنا اچانک او غیر متوقع تھا، اس پر رد عمل بھی اتنا ہی سریع الاثر تھا۔ الیکشن کمیشن اور تحلیل ہونے والی قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے علاوہ نگران وزیر اعظم جسٹس (ن) ناصر الملک نے بھی ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ان درخواستوں پر فوری غور کرتے ہوئے انتخابات کے انعقاد کی راہ میں ایک غیر ضروری رکاوٹ کو دور کیا ہے جو ایک مستحسن اقدام ہے۔ اس موقع پر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی منعقد ہوں گے ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر انتخابات کے شیڈول کے مطابق انعقاد میں کوئی تاخیر ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوگی۔ چیف جسٹس کا یہ تبصرہ غیر ضروری ہے اور انتخابات کے انعقاد کے واضح اعلان کے باوجود شبہات پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کی طرح الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی ایک خود مختار آئینی ادارہ ہے اس لئے چیف جسٹس کو مساوی اہمیت کے حامل ادارے کی نیک نیتی کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہئے۔
لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ کا فوری اقدام اگرچہ خوش آئیند ہے لیکن اس ایک حکم سے ملک میں انتخابات کے حوالے سے بے یقینی اور شبہات ختم نہیں ہو سکتے اور نہ ہی الیکشن کمیشن پر کسی التوا کی ساری ذمہ داری ڈال کر آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ ابھی نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیوں کے کئی معاملات پر مختلف ہائی کورٹس نے حکم جاری کئے ہوئے ہیں۔ ان پر کوئی تصفیہ نہ ہونے کی صورت میں انتخابات کے انعقاد میں مزید الجھنیں سامنے آسکتی ہیں۔ اس لئے اس بارے میں الزام تراشی اور ذمہ داری سے گریز کی بجائے حقیقت احوال کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ جن کاغذات نامزدگی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے حکم جاری کیا تھا، وہ کاغذات قومی اسمبلی میں گزشتہ برس منظور ہونے والے الیکشن ایکٹ کے مطابق تیار ہوئے تھے اور قومی اسمبلی کی پارلیمانی امور کی کمیٹی نے ان کی منظوری دی تھی۔ ایاز صادق گزشتہ روز یہ بات کہہ چکے ہیں کہ دسمبر 2017 میں دائر ہونے والی اس اپیل پر قومی اسمبلی تحلیل ہونے اور نگران حکومت قائم ہونے کے بعد اچانک فیصلہ سامنے آیا تھا۔ اس حوالے سے یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ اس معاملہ پر اسلام آباد ہائی کورٹ چند ہفتے قبل درخواست مسترد کرچکی تھی۔ لیکن اسی درخواست گزار کی اپیل پر فیصلہ کرتے ہوئے لاہور کورٹ کے ایک رکنی بنچ نے بالکل مختلف نوعیت کا حکم جاری کیا۔ اس سے ملک کے عدالتی نظام میں جاری کھینچا تانی اور مختلف عدالتی اداروں کے درمیان رائے اور مواصلت کا اختلاف بھی عیاں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اپنی رائے کو مسلط کرنے کے لئے بعض نامعلوم اور طے شدہ امور کو متنازعہ بنانے والے عناصر شہری آزادیوں کے نام پر عدالتوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کا آئین نگران حکومت کے قیام، مدت اور انتخابات کے انعقاد کے بارے میں واضح طریقہ کار وضع کرتا ہے لیکن اس پر اعتبار کی فضا موجود نہیں ہے۔ اسی آئین کے تحت کام کرنے والی ایک صوبائی اسمبلی ایک آئینی طریقہ کو تبدیل کرنے کی بات کرتی ہے اور ملک میں آئیندہ حکومت بنانے کے لئے پر جوش پاکستان تحریک انصاف انتخابات میں التوا کے بارے میں نرم لب و لہجہ اختیار کرتی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انتخابات کے بروقت انعقاد کے لئے ذمہ داری سے گریز کا ماحول پیدا کرنے کی بجائے پوری صورت حال کو مانیٹر کرنے اور ایسا عدالتی نگرانی کا طریقہ وضع کرنے کی کوشش کریں کہ مختلف ہائی کورٹس کے مختلف احکامات سے بچنے کی صورت پیدا ہو سکے۔ بصورت دیگر کسی بھی عدالتی فیصلہ سے تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود کوئی بھی ناگہانی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اگر اب بھی صورت حال کی نزاکت کو سمجھنے کی کوشش نہ کی تو کسی ایسے وقت میں کوئی ایسا حکم بھی سامنے آسکتا ہے جو سپریم کورٹ کی خواہش اور کوشش کے باوجود انتخابات کے لئے خطرے کی گھنٹی بن جائے گا۔
اس وقت ملک میں سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کے درمیان ہی رسہ کشی کا ماحول نہیں ہے بلکہ مختلف ادارے بھی ایک دوسرے کی کارکردگی اور نیک نیتی کے بارے میں بدگمان ہیں۔ اسی کا اظہار چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے انتخابات کے التوا کی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈالنے کے رویہ سے ہوتا ہے اور لاہور ہائی کورٹ کا حکم بھی بد اعتمادی کی اسی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بد اعتمادی کی اس فضا کو ختم کرنا سپریم کورٹ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو غیر ضروری طور پر پھیلایا ہے جس سے صرف ملک کی حکومتوں کی کارکردگی اور مختلف محکموں کے کام کرنے کا طریقہ ہی متاثر نہیں ہؤا بلکہ الیکشن کمیشن جیسے آئینی اور خود مختار ادارے کو بھی عدالتوں کا ذیلی ادارہ بنانے کی کوششیں دیکھنے میں آتی رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کے حوالے سے صورت حال غیر واضح اور مشکوک بنا دی گئی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ ملک میں شفاف اور بروقت انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے یا عدالتیں اس بارے میں حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ملک میں انتخابات کے انعقاد کے بعد جب نئی پارلیمنٹ وجود میں آتی ہے تو نئے منتخب ہونے والے ارکان کو اس بارے میں غور کرکے کنفیوژن ختم کرنا ہوگا تاکہ الیکشن کمیشن کی خود مختاری واضح ہو سکے اور سپریم کورٹ یا ہائی کورٹس مختلف آئینی درخواستوں کی آڑ میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر اثر انداز نہ ہو ں۔ الیکشن کمیشن کے بااختیار اور طاقت ور ہونے کی صورت میں ہی ملک میں انتخابی عمل شفاف اور قابل بھروسہ ہو سکتا ہے۔
اسی حوالے سے اپریل کے آخر میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کا بھی حوالہ دیا جاسکتا ہے جس میں مختلف درخوستوں پر غور کرتے ہوئے ملک کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو قومی اسمبلی کی نشست سے محروم کرکے تاحیات نااہل قرار دیاگیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ میں طے کئے گئے اصول پر استوار تھا۔ تاہم چند روز پہلے سپریم کورٹ کے ایک نئے بنچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے خواجہ آصف کو انتخاب میں حصہ لینے کا حق واپس کردیا ہے۔ اس معاملہ میں پہلی بات تو یہ ہے کہ جب کوئی عدالت ملک کے وزیر خارجہ کے خلاف اچانک حکم جاری کرکے اسے نااہل قرار دیتی ہے تو دنیا بھر میں ملکی نظام اور طریقہ کار کے بارے میں چہ میگوئیاں پیدا ہوتی ہیں۔ دوسرا اہم اصول یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو امیدواروں کی اہلیت کی چھان پھٹک کا اختیار حاصل ہے۔ اس اختیار میں عدالتوں کی غیر ضروری مداخلت سے جمہوری عمل مستحکم ہونے کی بجائے اس کے بارے میں شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ ابھی تک اس کج روی کے منفی اثرات کو سمجھنے سے قاصر رہی ہے۔ اس لئے کسی مرحلہ پر ملک کے الیکشن کمیشن کو بااختیا ربنانے کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی۔
بے یقینی اور شبہات کی کیفیت کے باوجود شاید اب یہ کسی کے بھی اختیار میں نہیں کہ وہ ملک میں انتخابات کو غیر ضروری طور پر معطل یامؤخر کروانے کا اقدام کرسکے۔ تاہم اس وقت ملک کے جمہوری عمل کے سر پر بے یقینی کی تلوار ضرور لٹک رہی ہے۔ نگران وزیر اعظم نے ضرور اس بارے میں دوٹوک بات کی ہے لیکن نگران کابینہ کی تشکیل اور بعض اہم امور طے ہونے تک انتخابات کا انعقاد زیر بحث رہے گا ۔ اسی طرح سیاست دان اس موضوع پر طبع آزمائی کرتے ہوئے مختلف ریاستی اداروں پر انگلیاں بھی اٹھاتے رہیں گے۔ تا آنکہ انتخابات مکمل ہو جائیں اور اب کے بارے میں ہر کس و ناکس یہ کہنے پر مجبور ہو کہ یہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں کی طرف سے پارٹی چھوڑنے کے لئے دباؤ کی خبریں براہ راست انتخابات کو مشتبہ بنانے کا سبب بن رہی ہیں۔ ان شبہات کو ختم ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ کے علاوہ الیکشن کمیشن کو ایسی خبروں پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے اپنا مؤقف سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ تاثر برقرار رہا کہ اسٹبلشمنٹ بہر صورت مسلم لیگ (ن) کو شکست دلوانا چاہتی ہے تو انتخابات بروقت ہونے کے باوجود متنازعہ رہیں گے او ر سیاسی انتشار اور بے یقینی میں اضافہ کریں گے۔
انتخابات کے بروقت انعقاد کے حوالے سے سینیٹ کے سابقہ چئیرمین رضا ربانی کی یہ وارننگ قابل غور ہے کہ ’ اگر آئین کی شق 224 کے تحت قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے 60 روز کے اندر انتخابات منعقد نہ ہوسکے تو یہ وفاق پر سیاہ سائے کی مانند ہوگا‘۔ یہ سیاہ سایہ اس صورت میں بھی اس قوم کا پیچھا کرے گا اگر انتخابات میں خاص دھڑوں کو جتوانے اور بعض کو ہروانے کے لئے سرگرم قوتوں کو لگام نہ دی جاسکی۔


