کیا خواتین میں شوہروں کو دوسرا موقع دینے کا رجحان بڑھ چکا ہے؟


عام تاثر ہے کہ بیویاں کسی بھی صورت اپنے شوہر کی بے وفائی کو برداشت نہیں کرتیں لیکن اب قانونی ماہرین نے اس حوالے سے ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ سن کر خواتین ہی نہیں، مرد بھی دنگ رہ جائیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق قانونی ماہرین نے بتایا ہے کہ حالیہ چند سالوں میں طلاق کے کیسز کی شرح میں حیران کن طور پر 45فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے اور خواتین کی طرف سے طلاق کی درخواست دائر کرنے کی شرح میں اس سے بھی زیادہ کمی آ گئی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اب خواتین اپنے شوہروں کی بے وفائی پر چشم پوشی کرنے لگی ہیں اور ان میں شوہروں کو دوسرا موقع دینے کا رجحان بڑھ چکا ہے۔ پچیس سال پہلے کی نسبت اب وہ اپنی شادی کو بچانے کے لیے زیادہ جتن کرنے لگی ہیں۔

برطانیہ کے محکمہ قومی شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق 2006ءمیں ملک میں 90ہزار 375بیویوں نے طلاق کے لیے درخواست دائر کی تھی جو 2016ءتک کم ہو کر 65ہزار 290رہ گئی ہے اور اس میں مزید تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ ہال براﺅن فیملی لاءکی قانونی ماہر ایلن واکر کا کہنا تھا کہ ”خواتین تب تک اپنے شوہر کے دیگر خواتین کے ساتھ معاشقوں، مالی مسائل اور گھریلو تشدد کو برداشت کرتی ہیں جب تک باقی لوگ اس سے آگاہ نہ ہو جائیں۔ جب وہ دیکھیں کہ ان کی زندگی باقی لوگوں کے سامنے تماشا بن چکی ہے تب ان کا صبر جواب دے جاتا ہے اور وہ طلاق پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ خواتین کی اسی برداشت کی وجہ سے ان کی طرف سے طلاق کی درخواست دائر ہونے کی شرح کم ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہماری تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ طلاق کے لیے خطرہ بننے والے عوامل سے نمٹنے میں خواتین مردوں کی نسبت زیادہ باصلاحیت ہوتی ہیں، حتیٰ کہ وہ اپنے شوہر کی بے وفائی سے بھی چشم پوشی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے شوہر کا یہ عمل ان کی شادی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔“

Facebook Comments HS