پیپلزپارٹی اور سندھ


وہ قصہ اب ماضی کا حصہ بن کے رہ گیا ہے جب کہا جاتا تھا کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو کسی کھمبے کو بھی اپنی پارٹی کا ٹکٹ دیں تو  وہ بھی فاتح ہوگا لیکن اب نہ تو ذوالفقار علی بھٹو جیسے نظریاتی سیاسی رہنما رہے اور نہ  وہ کھنبے جو جاندار نہ ہو کر بھی اپنے اندر عوامی خدمت کا جذبہ سجائے انتخابات کی غرض سے ایسے محاوروں کی زینت بنتے تھے۔ وقت کی ستم ظریفی نے ایسی کروٹ بدلی کہ اب تو جاندار بھی اپنی سیاست کو ان سیاسی پیشواؤں کا طواف کروانے میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ جنہوں نے اپنی حیات کو نظریاتی سیاست سے مکمل طور پر ناآشنا رکھا ہوا ہے۔

ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں شمار ہونے والی قائدِعوام کی پیپلزپارٹی کا تویہ عالم بن کے رہ گیا ہے کہ اب سیاست پر زرداری بھاری پڑ گیا اور عوام کی ترجمانی کرنے والا بچارہ بھٹو محظ سیاسی نعروں تک ہی محدود رہ گیا جس کے باعث پیپلزپارٹی ایک جماعت کی حیثیت سے تو بہت امیر جماعت بن گئی لیکن قاعدِعوام کا وہ جمہور جو اس جماعت کی بیساکھی کے طور پر جانا جاتا تھا، اس کا بیڑہ غرق ہو گیا اور دورِ حاضر کا  اگر کوئی مورخ اسی پیپلزپارٹی کے میں رائج الوقت ”سیاسی“ چالوں و ”آشیرواد“ سے بچ نکلا تو وہ یہ بات ضرور لکھے گا کہ کس طرح پاکستان میں ماضی کی واحد عوامی جماعت ملک کے اعلی ایوانوں سے سفر طئہ کرتی ہوئی اپنی کارکردگی و عوامی خدمت کی بدولت ملک کے تین صوبوں سمیت کشمیر و گلگت بلتسان حتی کہ اپنے آبائی صوبہ سندھ کے دارالخلافہ کراچی کی گلیوں سے بھی اوجھل ہو کر اندرونی سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی۔

اس بات کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی اب بھی عوام کی نمائندہ جماعت ہے کیونکہ سیاسی جماعتوں کے لئے یہ بہت ہی ضروری ہے کہ عوام میں اپنی جڑوں کو مضبوط و مربوط رکھنے کے لئے وہ اپنے نظریے پر کس حد تک عمل پیرا ہو رہی ہیں؟ اگرچہ کسی بھی جماعت کا نظریہ اس جماعت کی قیادت کو اپنے طابع لانے میں کامیاب رہتا ہے تو اس جماعت کو عوامی امنگوں کی ترجمان جماعت کا سہرا اپنے سر سجانے سے دنیا کی کوئی بھی قوت روک نہیں سکتی لیکن اس کے برعکس اگر کوئی جماعت اپنے نظریے کو محظ دعووں، نعروں اور باتوں تک ہی محدود رکھ کر عمل کے میدان میں اس نظریے کو قیادت کے طابع لایا جائے تو اس جماعت کا مقدر موجودہ پیپلزپارٹی سے مختلف نہیں ہوگا۔

بدقسمتی سےگذشتہ کچھ برس کے دوران  سندھ کے عوام کو بھی ایسی ہی سیاست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس سے زیادہ  زیادتی سندھ کے عوام کے ساتھ ان حلقوں نے کر رکھی ہے جو زمینی حقائق سے کوسوں دور کھڑے حالات کو اپنے تجزیوں کا لبادہ اوڑھ کر اسی پیپلزپارٹی کو سندھ کی نمائندہ جماعت ٹھہراتے آتے ہیں کہ جس کے لئے آج 2018ع کے انتخابات کے لئے سندھ کے بیشتر علاقوں میں سے امیدوار ملنا بھی ایک بہت بڑا چیلینج بن چکا ہے۔ عوام کو طاقت کا سرچشمہ سمجھنے والی جماعتوں کے لئے کیا یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ان کا پرچم کسی غریب کی جھونپڑی پر لہرائے، تب وہ عوام کی نمائندگی کی دعوی کا حقدار بن سکتی ہے؟ لیکن سائنس اور منطق کے اس دور میں اگر کوئی جماعت عوام کی نمائندگی کا بھی دعوی کرے اور اس کا پرچم یا تو کسی جاگیردار، سردار، وڈیرے، پیر کے محل یا انہی کی گاڑی کے بانٹ کی زینت بنا ہوا ہو تو میرے خیال میں اسے زیادہ مضحکہ خیز کوئی اور لطیفہ ہو ہی نہیں سکتا۔

 چلیں مان لیا کہ ان باتوں کا پیپلزپارٹی کی موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ سب باتیں فقط انتخابات میں پیپلزپارٹی کے خلاف سازش کے طور پر ہی لکھی، کہی اور سوچی جا رہی ہیں لیکن پھر 2012ع کے اس دوہرے نظام کا کیا جو اسی پیپلزپارٹی کا کارنامہ تھا جس کو سندھ کی نمائندہ جماعت بھی تصور کیا جاتا ہے اور اسی سندھ اور سندھ کے عوام کے خلاف یہ قانون بنا کر عوام کی امنگوں کا بری طرح مذاق اڑایا گیا تھا۔ یہ تو بھلا ہو عوامی جدوجہد اور مزاحمت کا جس نے پیپلزپارٹی کے ایسے سندھ دشمن اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے مفادات کی سیاست میں یقین رکھنے والی اس جماعت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر لیا اور یہ قانون ایک افسانہ بن کر رہ گیا۔

سندھ کی نمائندہ جماعت تو اپنے دس برس کے اقتدار میں اس فضیلہ سرکی کو جاگیرداروں کے شکنجہ سے بازیاب نہ کروا سکی جو ایک غریب اور بے سہارہ مزدور کی بیٹی تھی اور ایک سردار نے اس کو اپنی منشا کا ایندھن بناتے ہوئے اغوا کروایا تھا اور آج کی پیپلزپارٹی کی طاقت کا سرچشمہ بنے اسی جاگیردار نے قائدِعوام کی جماعت کے منشور کو مسلسل دس برس تک للکارا اور اقتدار پورا کرکے چل دیا۔ اس فضیلہ سرکی کی بوڑھی ماں آج بھی اپنی بیٹی کی بازیابی کے لئے سڑکوں پر پھر رہی ہے لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت اس ماں کے آنسو پونچنے بھی نہ پہنچ سکی۔ سندھ کی اسی نمائندہ جماعت کے دور میں سندھ کا ایک ایسا  وزیرِاعلی بھی رہا جس کے اس منصب پر فائض رہنے کے دوران اس کے  آبائی شہر کے 23 شہری اغوا تھے لیکن ان کی فوری بازیابی کے لئے حکمراں جماعت کچھ بھی نہیں کر پائی تھی جو کہ بعد میں ایک ایسے پولیس افسر کی کاوشوں سے آزاد ہو پائے تھے جس نے ذرائع کے مطابق اپنی ذمہ داری سنبھالنے سے قبل اسی وزیرِاعلی اور اس کی سینیٹر بیٹی سے یہ بات طے کی تھی کہ وہ اپنا کام کرنے کے دوران ان کے ہاؤس کا کسی بھی قسم کا کوئی دباؤ برداش نہیں کریگا۔

پیپلزپارٹی اپنے دس برس کے اقتدار میں سندھ کے اندر کوئی صنعتی ذرائع پیدا نہیں کر پائی۔ ہاں البتہ اتنا ضرور کیا کہ بیوا عورتوں کو بینظیر کارڈ ہاتھوں میں تھما کر اے ٹی ایم مشینوں کی دہلیز پر تماشا بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کیا اور پھر اسی بینظیر کارڈ کا پولنگ سٹیشنز کے اندر بھی سہارا لیا گیا۔ دیہی عورتوں کو پولنگ کے دوران ایسے کیمروں کا جھانسہ دے کر ووٹ ڈلوایا گیا کہ جن کی مدد سے ووٹ نہ دینے کی صورت میں بینظیر کارڈ میں رقم کے ترسیل بند بتائی جاتی تھی۔ سندھ بھر میں آزادیِ اظہار پر اس طرح  ڈاکا ڈالا گیا کہ سندھ کے سوچنے والے ذہن، مصنف، لکھاری و سیاسی کارکنان کو ماورائے قانون و عدالت لاپتہ کیا گیا لیکن اقتدار میں رہتے ہوئے بھی پیپلزپارٹی سندھ کے ایسے مسائل پر آواز اٹھانے میں ناکام رہی۔

  بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائے گی کیونکہ تحریر مختصر اور سندھ کی اس نمائندہ جماعت کے کارنامہ دس برس کے طویل تاریخ پر محیط ہیں۔ قصہ مختصر، کہ پیپلزپارٹی کو سندھ کی نمائندہ جماعت تصور کرنا نہ صرف سندھ کے عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی بلکہ قائدِعوام کے نظریے کے ساتھ بھی سنگین مذاق ہوگا۔ چنانچہ پیپلزپارٹی سندھ کے اندر اس دن تک پروان چڑھتی رہیگی جب تک پاکستان کے عوام کا شفاف انتخابات کا سپنا سچ نہیں ہو پاتا۔ اگر 2018ع کے انتخابات میں شفاف انتخابات کا حادثہ پیش آتا ہے (جو ماضی کے تجربات کی روشنی میں ممکن نہیں لگ رہا)، تو یقینی طور پر سندھ اپنے ووٹ کی مدد سے یہ بات ثابت کرنے میں کامیاب رہیگا کہ پیپلزپارٹی اب صرف گڑھی خدا بخش کے اس شہیدوں کے قبرستان تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے جہاں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی روح آج بھی اپنی جماعت کی موجودہ حالت دیکھ کر اشکبار ہوتی ہوگی اور اگر ایسا نہ ہوا اور معمول کے مطابق انتخابات ہوئے تو سندھ کے عوام کا یہی مقدر ہوگا کہ وہ پیپلزپارٹی کو یہ دہائی دے:

ساحل پے کھڑا ہوں تمہیں کیا غم چلے جانا،
میں ڈوب رہا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں،
اے واعدہ فراموش میں تجھ سا تو نہیں ہوں،
ہر ظلم تیرا یاد ہے بھولا تو نہیں ہوں،
چپ چاپ سہی مصلحتن وقت کے ہاتھوں،
مجبور سہی وقت سے ہارا تو نہیں ہوں،
ساحل پے کھڑا ہوں تمہیں کیا غم چلے جانا،
میں ڈوب رہا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں۔ !

Facebook Comments HS