چھوٹے دماغ کو صرف پاکستان کی فکر ہے اور بڑے کو کل عالم کی
مجھے کوئٹہ میں بہت سے کام تھے۔ محکمہ تعلیم کے سیکریٹری سے ملنا تھا۔ کوئٹہ کے دو اسکولوں کے پرنسپل سے ملاقات کرنی تھی۔ کوئٹہ کے لڑکوں اور لڑکیوں کے کالج کی لائبریری کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے محکمہ تعلیم کو ایک خطیر رقم دی گئی تھی جس سے نئی لائبریری بنائی گئی اور ہزاروں کتابیں خریدی گئیں تھیں۔ انہیں دیکھ کر اس کی بھی رپورٹنگ کرنا تھی۔ یہ سارے کام دو دن میں کرکے مجھے خضدار اور گوادر جانا تھا وہاں بھی اسی قسم کے کام تھے۔
میں ہمیشہ خاموشی سے آتا اور سیرینا ہوٹل میں رک جاتا تھا۔ ہوٹل کے باہر سے ہی دن بھر کے لئے ٹیکسی مل جاتی۔ جس کے ڈرائیور راستوں سے آشنا ہوتے اور کم ازکم وقت میں زیادہ تر جگہوں کا دورہ مکمل ہوجاتا تھا۔ ساتھ ساتھ ان سے گپیں لگاتے ہوئے، بہت سی باتوں کا بھی پتہ لگتا۔ گوکہ محکمہ تعلیم و صحت کے افسران کہتے کہ میں سرکاری گاڑی منگوالیا کروں جو میرے دورے کے دوران میرے ساتھ ہی رہے گی مگر میں ہمیشہ اپنے ہی طریقے کو اپناتا تھا۔ سرکاری لوگوں سے مدد لینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ سرکاری لوگوں کے ناجائز کاموں میں بھی ان کی ہم نوائی کی جائے۔ ہمارے کام میں اس کی گنجائش نہیں تھی۔
اس دن بھی سیرینا ہوٹل کے باہر مجھے ٹیکسی مل گئی۔ عبدالحق ڈرائیور تھا۔ اس نے مجھے بڑے تپاک سے ٹیکسی میں بٹھایا۔ میں نے اسے بتایا کہ مجھے شام تک ٹیکسی درکار ہوگی جس کے میں اسے دو ہزار روپے دوں گا زیادہ تر وقت اسے انتظار کرنا ہوگا۔ مجھے پہلے بولان میڈیکل کالج کے اسپتال جانا تھا پھرمحکمہ صحت کے سیکریٹری سے ملنا تھا جس کے بعد لڑکیوں اور لڑکوں کے کالج میں رکنا تھا۔ وہ فوراً ہی راضی ہوگیا۔
سیرینا ہوٹل سے بولان میڈیکل کالج اسپتال کا بہت زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔ راستے میں ہی افغان مہاجرین کا کیمپ بھی پڑتا ہے۔ میں نے معمول کے مطابق عبدالحق سے گپ شپ شروع کردی۔ عبدالحق پٹھان تھا اور کوئٹہ سے ہی اس کا تعلق تھا۔ عبدالحق نے بتایا کہ اس کے چھ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ دو بڑے بیٹے افغانستان کے جہاد میں شہید ہوگئے ہیں ایک بیٹا ابھی بھی افغانستان میں ملا عمر کے فوجیوں کے ساتھ لڑرہا ہے جبکہ بقیہ تین بیٹے مدرسوں میں پڑھ رہے ہیں۔
افغانی مہاجروں کے کیمپ کے قریب سے گزرتے ہوئے اس نے مجھے دکھایا اور بتایا کہ سینکڑوں مہاجرین یہاں پر رہ رہے ہیں اور اب نہ جانے کب واپس جائیں گے۔ وہ جنگ کے بارے میں باتیں کرتا رہا تھا کہ باتوں باتوں میں گاڑی بولان میڈیکل کمپلیکس پہنچ گئی۔ میں اسے ٹیکسی میں ہی چھوڑکر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے ملنے چلا گیا۔
ملاقات میں دیر بھی ہوئی اور مایوسی بھی، جن دس ڈاکٹروں اور دس مڈوائفوں کو ٹریننگ کے لئے بولان میڈیکل کمپلیکس بھیجا گیا تھا اور جنہیں تربیت کے لئے خصوصی الاؤنس بھی دیا گیا ان میں سے آدھوں نے بیسک ہیلتھ یونٹ میں کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔ یہ ایک عجیب و غریب صورتحال تھی۔ ملک میں ماؤں کے مرنے کی شرح اموات کم نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی گاؤں دیہاتوں میں نہ ڈاکٹر تھے اور نہ نرس مڈوائف۔ ہماری حکومتوں کو اس مسئلے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی باہر کی حکومتیں مدد کرنا چاہ رہی تھیں تو ا ن کی دی ہوئی امداد کے ساتھ یہ ہورہا تھا۔ میں بڑی مایوسی کے ساتھ جھنجلایا ہوا واپس آیا۔
عبدالحق میرے چہرے کی جھنجلاہٹ سے سمجھ گیا تھا کہ میں غصے میں ہوں اس نے ہی سوال کیا۔ ”کیا ہوا صاحب کام نہیں ہوا ہے کیا؟ ‘‘
”نہیں کوئی اس ملک میں کام نہیں کرنا چاہتا ہے صرف پیسہ چاہئیے بڑی تنخواہ مگر کام سے کوئی مطلب نہیں ہے عجیب حال ہے نہ جانے کیا ہوگا اس ملک کا۔ ‘‘ پھر تھوڑی دیر خاموش رہ کر میں نے اس سے پوچھا کہ اس کے تین بیٹے مدرسوں میں ہیں، تو بیٹیاں کیا کررہی ہیں۔ کیا انہوں نے کچھ پڑھا ہے۔
” نہیں صاحب ہم لوگ لڑکیوں کو نہیں پڑھاتے ہیں دونوں کی شادی کردی ہے اور دونوں اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ خوش گوار زندگی گزار رہی ہیں۔ ‘‘ اس نے بتایا۔
”ان کے شوہر کیا کرتے ہیں۔ ‘‘ میں نے سوال کیا۔
”دونوں کراچی چلے گئے ہیں یہاں کے حالات کا کچھ پتہ نہیں ہے کب کیا ہوجائے کسی کو پتہ نہیں ہے وہ لوگ کراچی میں ٹھیک ہیں، خوش ہیں، کام کرتے ہیں، کھاتے ہیں۔ ‘‘ عبدالحق نے جواب دیا۔ ”اوپر والے کی بڑی مہربانی ہے۔ ‘‘
”خان صاحب آپ کو پتہ ہے پاکستان میں ہر سال 30ہزار عورتیں مرجاتی ہیں اور ہزاروں عورتیں صرف اس لئے ناکارہ ہوجاتی ہیں کہ ان کو دیکھنے کے لئے نرسیں اور مڈوائف نہیں ہوتی ہیں ادھر کے ڈاکٹروں اور نرسوں کو ہم نے تربیت دی ہے اب وہ کہتے ہیں کہ کام نہیں کریں گے۔ ‘‘ میں نے نہ جانے کیوں عبدالحق سے یہ بات کہی۔
عبدالحق سگنل پر گاڑی روکے کچھ سوچ رہا تھا۔
”خان صاحب آپ نے اپنے تینوں بیٹوں کو مدرسے بھیجا ہوا ہے آخر ایک دو کو نرس کیوں نہیں بنایا آج کل تو مردبھی نرس بنتے ہیں یا پھر پیرامیڈیکس کی تعلیم دے دیتے وہ کم ازکم آپ کے افغان مہاجرین کے کیمپ میں ہی کام کرتے کچھ عورتوں کی جان بچالیتے۔ اگر ہم سب مل کر کام کریں تو ہمارے ملک میں بھی بچے بغیر ماں کے زندگی نہ گزاریں اور نہ ہی مائیں مریں۔ ‘‘
”نہیں وہ زیادہ ضروری کام کررہے ہیں جہاد کی تیاری کررہے ہیں پھر جہاد لڑیں گے کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ ‘‘ اس نے جواب دیا تھا۔
”خان صاحب جہاد اپنی جگہ پر مگر زندگی کے بھی تو مسائل ہیں پہلے ان کا بھی تو کچھ کرنا چاہئیے۔ آپ کے دو بیٹے شہید ہوچکے ہیں ایک بیٹا افغانستان میں لڑرہا ہے اور باقی تینوں کو بھی آپ نے اسی کام میں لگایا ہوا ہے جبکہ نرس اور مڈوائف نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں عورتیں مرجاتی ہیں کیا اچھا ہوتا کہ آپ کا کم ازکم ایک بچہ توان عورتوں کو بچانے کے لئے کچھ کرتا۔ ماؤں کی موت کے خلاف جہاد کرتا۔ ان کی جانیں بچاتا تاکہ بچوں کے سروں پر ماں کا سایہ ہوتا‘‘ میں نے چھوٹی سی تقریر کردی تھی۔
”نہیں وہ زیادہ ضروری کام کررہے ہیں۔ اس وقت ہم سب کا مسئلہ ہے کہ اسلام پھیلایا جائے اور کافروں کا خاتمہ ہو اور اللہ کی مددسے انہیں نیست و نابود کیا جائے۔ ساری دنیا میں یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے خلاف جنگ کررہے ہیں اگر ہم یہ جنگ نہیں کریں گے تو ختم ہوجائیں گے‘‘ اس نے جواب دیا۔
”مگر یہ کام بھی ضروری ہے خان صاحب۔ آخر ان عورتوں کو کون بچائے گا، یہ تو کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ جوان بچیاں نو عمری میں جان دے دیں اوران کے بچے بغیر ماں کے پلیں، یہ تو کوئی زندگی نہیں ہوتی ہے خان صاحب۔ ‘‘ میں نے پوچھا۔
”مسلمانوں کو کون بچائے گا؟ تم کو عورتوں کا فکر ہے ادھر ہمارا ایمان خطرے میں ہے گورے لوگ یہودی اور عیسائی ہم کو ختم کررہے ہیں، پوری اُمت کو برباد کرنا چاہتے ہیں، پوری دنیا میں شیطان کے ساتھ مل کر حکومت کرنا چاہتے ہیں اگر ان کو چھوڑدیا تو یہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو ختم کردے گا، ان سے لڑنا ضروری ہے۔ ‘‘ خان صاحب نے بڑے آرام سے جواب دیا تھا۔
”یہ آپ کی بات صحیح ہے خاں صاحب مگر ہمارے ملک کا بھی تو ایک مسئلہ ہے ہماری عورتوں کو تو نہیں مرنا چاہئیے اگر آپ سب لوگ گوروں سے لڑیں گے تو یہاں کا کیا ہوگا۔ ‘‘ میں نے تقریباً جھنجلاکر کہا تھا۔
خان صاحب ہنس دیا تھا۔ مجھ پر بھرپور نظر ڈالی اور بولا کہ ”مسئلہ یہ ہے کہ آپ کا دماغ بہت چُوٹا ہے زیادہ سوچتا نہیں ہے میں دنیا کا سوچتا ہوں آپ پاکستان کا سوچتے ہو۔ مجھے سارے مسلمانوں کا فکر ہے۔ آپ کو صرف عوروتوں کا فکر ہے۔ مجھے اسلام ختم ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ آپ کو پاکستان کے چند ہزارعورتوں کا خیال ہے میں پوری دنیا میں مسلمانوں کومرتا دیکھ رہا ہوں۔ آپ کو صرف پاکستان میں مائیں مرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ بہت چُوٹا خیالات ہے آپ کا اور بہت چُوٹا دماغ ہے آپ کا۔ آپ کو ہمارا بات سمجھ میں نہیں آئے گا۔
میں حیرت سے اس کے چہرے کودیکھتا رہ گیا تھا۔

