میری عید کہانی، میرے پاپا کی زبانی
عید پر اکثر بچے اپنے والدین کے ساتھ پارکوں وغیرہ میں جا کر کھیلتے ہیں اورخوب مزے لیتے ہیں لیکن ان پارکوں میں معذوروں کے لیے میری ریاست کی جانب سے کوئی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے میرا یہاں بھی داخلہ بند ہی سمجھیں۔ ان میں سب سے بنیادی سہولت ایک صاف ستھرا ٹائیلٹ کا ہونا لازمی ہے جو کہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا اور غلطی سے اگر کسی عوامی جگہ پر مل بھی جائے تو اندر جاتے ہی ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ کے عملی مظاہرے دیکھتے ہی انسان بمشکل خود کو بے ہوش ہونے سے بچا پاتا ہے۔
اس کے علاوہ نارمل بچے میرے ساتھ گھل مل جانے کی بجائے مجھ سے دور رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ میرے حوالے سے معاشرے کے رویے اپنی انتہاؤں پر ہیں۔ ایک طرف تو ان رویوں کی یہ انتہائی شکل ہے کہ اکثر والدین اپنے بچوں کو میرے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتے کیونکہ میں ان کے نزدیک ایک ’منحوس مخلوق‘ ہوں اور خداناخواستہ میری نحوست کا سایہ ان کے ’نارمل‘ بچے پر نہ پڑ جائے اور دوسری جانب رویوں کی انتہا یہ ہے کہ اکثر قریبی احباب میری معذوری کی وجہ سے مجھے حد سے زیادہ پیار کرتے ہیں جو کہ بذات خود ایک نارمل رویہ نہیں ہے جس سے بجائے کسی مسرت کے احساس کے مجھے اور میرے والدین کو مزید احساس شرمندگی ہوتا ہے بلکہ چند ایک تو مزید ہمت کرکے میرے والدین کو یہ مبارک باد بھی دیتے ہیں کہ آپ بڑے خوش نصیب ہیں کہ اللہ نے آپ کو اس آزمائش کے لیے منتخب کرلیا ہے، اللہ آپ کو آخرت میں ضرور اس کا اجر دے گا اور یوں اس پیچیدہ مسئلے کی حساسیت کو سمجھے بغیر نہ رکنے والا ’’مفت دُعاؤں‘‘ کا ایک سمندر بہنے لگتا ہے۔
یہاں پر مجھے یہ بات بالکل سمجھ نہیں آتی کہ چلو فرض کر لیا کہ میرے والدین کو تو ’نیک‘ ہونے کی وجہ سے (یعنی جو بچے معذور نہیں، ان کے والدین بھی نیک نہیں؟) اس کڑی آزمائش کے لیے منتخب کیا گیا ہے لیکن قدرت نے مجھے کس کردہ و ناکردہ گناہ کی اتنی بھیانک سزا دی ہے کہ میں ساری زندگی ہر وقت زمین پر بیٹھ کر آنکھوں میں حسرت کے آنسو بہاتا رہوں۔ اگر اللہ ہر چیز پر قادر ہے تو پھر مجھے ایسا معذور پیدا کرنے میں اس کی کیا حکمت پوشیدہ ہے جس کی بناء پر مجھ سے تمام نارمل انسانوں والی خوشیاں چھین لی گئی ہیں؟ یہ سوال بار بار میرے دل و دماغ کو بے چین کرتا رہتا ہے۔ پاپا میری نم آنکھوں میں ایسے سوالات دیکھ کر بڑے پیار سے سمجھاتے ہیں کہ ان کفریہ سوالات کا اس ظالم سماج میں اٹھانے پر مکمل پابندی ہے لیکن میں بھی بڑا اکھڑ مزاج ہوں جب تک کسی ٹھوس عقلی دلیل کے ساتھ میرے جواب کا تسلی بخش جواب نہیں ملے گا، میرا سوال بھی رہتی دنیا تک اپنی جگہ قائم رہے گا۔
اچھا تو بات پارکوں میں بچوں کے کھیلنے کی ہو رہی تھی چونکہ میں کھڑا نہیں ہوسکتا اس لیے مجھے فٹ بال کھیلنے کا بہت شوق ہے اور چونکہ میں چل نہیں سکتا اس لیے میرا دوڑ لگانے کا بھی بہت من کرتا ہے یعنی جو کھیل میرے لیے ناممکنات کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کو کھیلنے کے لیے ہی میں ہر وقت بے چین رہتا ہوں لیکن ظاہر ہے مجبور ہوں کچھ نہیں کر سکتا، اس لیے اپنے گھر کے لان میں اپنے گھر والوں اور کزنز کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر ہی فٹ بال کھیلتا ہوں اور یوں اپنی دیرینہ خواہش پورا کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ اس کے علاوہ پاپا عزیز و اقارب کے ساتھ عید پر ملنے کے لیے جہاں بھی جاتے ہیں، میں ان کے ساتھ ہی جاتا ہوں لیکن کسی نئی جگہ پر پھر وہی پرانی روایتی کہانی شروع ہو جاتی ہے کہ بھئی یہ کیوں، کب اور کیسے ہوا اور آئندہ اس کا کیا مستقبل ہو گا؟ ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق مشوروں کی برسات شروع کر دیتا ہے کہ فلاں پیر کے پاس چلے جاؤ، فلاں متبرک جگہ سے دَم کراؤ، فلاں عامل سے تعویذ لےلو، فلاں حکیم سے علاج کراؤ یا فلاں ڈاکٹر کو ابھی تک کیوں نہیں دکھایا؟ اس کے فلاں فلاں ٹیسٹ کرائے ہیں یا ابھی تک آپ سوئے ہوئے ہیں۔ پاپا ان جیسے سوالات سے بڑی مشکل سے جان چھڑا کر موضوع بدلنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ دوست نما دشمن بھی جب تک میرا مکمل ایکسرے نہیں کر لیتے، اُنہیں سکون نہیں ملتا۔ بہرحال جیسے تیسے میں عید کے دن اپنے پاپا کے ساتھ گزار کر پھر اپنے معمول پر آ جاتا ہوں اور ٹی وی پر سارا دن Doremoon اورShinchain کے کارٹون دیکھ کر اپنے وقت کو اچھے طریقے سے گزارنے کی کوشش میں مصروف ہو جاتا ہوں۔
میری زندگی سے متعلق مزید بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کو میں وقتاً فوقتاً آپ لوگوں سے شئیر کرتا رہوں گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ لوگ میرے ساتھ محض زبانی ہمدردی کرکے میرے دکھوں میں اضافہ کریں۔ میرا مقصد تو اپنی ریاست کے بے حس حکمرانوں کو اپنے جیسے بچوں کی حالتِ زار سے آگاہ کرنا ہے اور اپنے معاشرے کے ان لوگوں کو شعور و آگہی دینی ہے جن کے ’ہمدردانہ تبصرے‘ اور نامناسب رویے نشتر بن کر میری روح کو مجروح کردیتے ہیں۔ آپ لوگ اگر عملی طور پر ہماری بھلائی چاہتے ہیں تو معاشرے میں موجود ان معذوروں کی مدد کیجئے جو غربت کی وجہ سے اپنی بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہیں۔ میرے والدین تو اللہ کے فضل وکرم سے متمول ہیں، وہ میری ہر خواہش پوری کرتے ہیں اور میرا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں لیکن میں اپنے جیسے ان بچوں کے لئے زیادہ پریشان رہتا ہوں جن کے والدین غربت کی وجہ سے ان کا خیال نہیں رکھ سکتے۔
میرے پاپا کہتے ہیں کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے۔ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ان سپیشل بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی سہولتوں کا خصوصی خیال رکھے۔ ان کے لئے گھر سے باہر ہر عوامی جگہ پہ خصوصی جگہیں بنائے۔ ان کے علاج معالجہ، تفریح اور آمد و رفت میں آسانی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر سہولتیں فراہم کرے لیکن اس کے لئے جس دردِ دل کی ضرورت ہے، ہماری ریاست اور معاشرہ شاید ابھی اس سے خالی ہے لیکن اگر اپنی ذمے داریوں کا احساس کیا جائے تومعاشرہ اور ریاست مل کر ہم جیسے لوگوں کی کھٹن زندگی کی مشکلات کو کم کرسکتے ہیں۔


