میں اپنے ابو سے دس برس بڑی ہوں
ایک مرتبہ اپنا قد دیوارسے ناپ کر میں بھاگی بھاگی اپنے ابو کے پاس گئی اور ان سے کہا کہ ابو میں بڑی ہوگئی۔ وہ گھبرا گئے، نہیں نہیں گڑیا، تم بڑی مت ہونا ورنہ میں بوڑھا ہو جاؤں گا۔ میں بڑی ہوگئی لیکن وہ کبھی بوڑھے نہیں ہوئے۔ جب لوگ اپنے والدین اور خاص طور پر اپنے والد کا ذکر کرتے ہیں تو ان کو دانش، سمجھ بوجھ اور بزرگی کا منبع محسوس کرتے ہیں۔ میرے ابو ہمیشہ کے لیے ایک جوان آدمی ہیں۔ وہ برٹش راج کے دور کے ہندوستانی تھے جن کا اٹھنا بیٹھنا، پہناوا، چلنا پھرنا اور ان کی زبان انگریز سے متاثر تھی۔ میرے ابو اسٹائلش تھے اور ان کو اپنے وقت کے فیشن کی سمجھ تھی۔ ہماری فیملی فوٹو میں جس میں امی ابو، میں اور علی ساتھ میں صوفے پر بیٹھے ہیں، ان کے 70 کی دہائی کے پاپولر نوکیلے کالر صاف دکھائی دیتے ہیں۔
اپنے امی ابو کی بہت ساری باتیں مجھے یاد ہیں۔ کس طرح وہ مالی سے کہہ کر امی کے لیے موتیے کے گجرے اور ہار بنواتے تھے، ان کے لیے اچھے کپڑے سلواتے اور گھمانے پھرانے لے جاتے۔ وہ دونوں آپس میں لڑتے بھی تھے۔ مجھے ان لوگوں کا شور شرابا اور مارکٹائی اب بھی یاد ہے اور اسی وجہ سے مجھے جھگڑوں سے شدید گھبراہٹ ہوتی ہے۔ کئی بار ابو نے امی سے کہا کہ میرے گھر سے نکل جاؤ۔ ایک مرتبہ ان کی لڑائی کے بعد امی ہمیں لے کر لکھی گاؤں چلی گئیں جہاں ان کی خالہ رہتی تھیں۔ جب ہم لوگ چلے گئے تو کچھ ہی گھنٹوں میں ابو کا غصہ اتر گیا اور وہ پریشان ہوکر اپنے بیوی بچے ڈھونڈنے نکلے۔ مشکلوں سے پتا کر کے لکھی پہنچے اور امی کو سمجھا بجھا کر واپس گھر آنے پر راضی کرلیا۔ ہم لوگ سو رہے تھے۔ مجھے سوتے میں اسکوٹر کا چلتا ہوا پہیہ اور گذرتی ہوئی سڑک آج بھی یاد ہے۔ جب ہم گھر پہنچے اور امی مجھے بستر پر لٹا رہی تھیں تو میری آنکھ کھل گئی اور میں نے دیکھا کہ ہم اپنے گھر واپس پہنچ چکے ہیں۔ میں نے ناراض ہوکر اپنی امی سے کہا کہ "آپ ہمیں کیوں واپس لے آئی ہیں؟ ابو ہمیں پھر سے نکال دیں گے!” یہ سن کر ابو دکھی ہوگئے اور امی سے بولے کہ تم میرے بچوں کو کیا سکھا رہی ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کچھ نہیں سکھایا، وہ خود سیکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد ابو نے کہا کہ آج کے بعد جب بھی مجھے غصہ آئے تو میں ہی دور چلا جاؤں گا، تم لوگ یہاں ہی رہو۔ لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔
میرے ماموں فوج میں میجر تھے اور ان دنوں کھاریاں میں رہتے تھے۔ انہوں نے ان جھگڑوں سے دور لے جانے کے لیے امی اور ہم تین بچوں کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم لوگ کھاریاں میں کل نو مہینہ رہے جہاں ہماری چھوٹی بہن پیدا ہوئی۔ ان نو مہینوں میں ابو روز میرے نانا کے گھر جاتے اور ان سے درخواست کرتے کہ ان کے بیوی بچوں کو واپس بلالیا جائے۔ ان کے رونے دھونے سے آخر کار سب خاندان نے مل کر فیصلہ کیا کہ ہمیں واپس چلے جانا چاہئیے۔ وہ ہمیں لینے کراچی آئے تھے۔ نو مہینے میں میں اپنے ابو کی شکل بھول چکی تھی اور میں نے انہیں نہیں پہچانا۔ ابو نے سارے بچوں کو آئس کریم دلائی جس کے ساتھ دھاگے سے بندھے کیریکٹر تھے جن کے ہاتھ پیر کٹھ پتلیوں کی طرح ہلائے جاسکتے تھے۔ یہ دھاگے بار بار الجھ جاتے اور ابو سب کے دھاگے باری باری سلجھانے میں لگے رہے۔ ابھی سکھر پہنچے ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ ابو کا ایکسیڈنٹ ہوگیا اور ایک مہینے بعد وہ چل بسے۔
ابو فرشتہ نہیں تھے، محض ایک انسان تھے۔ ان کی کمی کو میں نے تمام زندگی محسوس کیا۔ ان کی زندگی سے، ان کی غلطیوں سے، ان کی کامیابیوں سے بہت سارے سبق سیکھے۔ ایک مرتبہ میں ہاسٹل کی سیڑھیوں پر بیٹھی پڑھ رہی تھی۔ ایک لڑکی بھاگی بھاگی ہمارے پاس سے گذری اور سندھی میں بولی، "اڑی منجھو پی آیو تھی” وہ بہت خوش لگ رہی تھی کہ اس کے ابو اس کو اپنے ساتھ گھر لے جانے آئے تھے۔ اس لمحے نے مجھے اس بات کی یاددہانی کرائی کہ میرے ابو کبھی مجھے لے جانے نہیں آسکتے۔ زندگی نے ان کو مجھ سے وقت سے بہت پہلے چھین لیا تھا۔ میری آنکھوں سے آنسو نکلے اور کتاب پر ٹپک گئے۔ وہ میرے ساتھ نہیں تھے لیکن میں سمجھتی تھی کہ اگر وہ صرف گیارہ سال کی عمر میں انڈیا سے اکیلے ہجرت کرکے ایک نئے شہر میں آکر کامیاب ہوسکتے تھے تو میں بھی اپنی زندگی میں ایسا کرسکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے کبھی اپنا نام نہیں بدلا۔ صرف نام ہی تو رہ گیا تھا۔
برطانیہ جنوبی ایشیا کو چھوڑ گیا، انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش الگ ہوگئے، 1993 میں ہم لوگ امریکہ شفٹ ہوگئے۔ وقت نے سب کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ 2015 میں پہلی بار انڈیا جا کر اپنے کزنز سے ملنے کا موقع ملا۔ جب میں چھوٹی تھی تو اپنے لیے دکھی ہوتی تھی لیکن اب سوچتی ہوں کہ ابو کی زندگی کتنی مختصر ہوگئی اور ان کے ساتھ بھی انصاف نہیں ہوا۔ آج وہ زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ سب بچے بڑے ہوگئے، سب اپنی زندگیوں میں کامیاب ہیں، خوش ہیں۔ وہ ایکسیڈنٹ کے بعد اپنی زندگی کے لیے لڑ رہے تھے اورانہیں ہماری فکر تھی لیکن آخر میں سب ٹھیک ہوگیا۔ ابو میں حس لطیف تھی اور وہ آرٹ کو پسند کرتے تھے۔ جب وہ انڈیا واپس گئے تو فلم کبھی کبھی ایک ہی دن میں تین مرتبہ دیکھی۔ ان کو موسیقی سے لگاؤ تھا۔ مجھے یاد ہے کہ وہ یہ گانا بار بار سنتے رہتے تھے، "ہم تمہیں چاہتے ہیں ایسے، مرنے والا کوئی زندگی چاہتا ہو جیسے!”


