اقبال مہدی، عظیم مصور جو نہ رہا
16 سال کی عمر میں ان کا ایران جانا ہوا جہاں ان کی ملاقات ایک آرٹسٹ لالہ رشید سے ہوئی جنہوں نے اس نوجوان کے فن کے سرمایہ کو دیکھتے ہوئے نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ دو برس کام بھی سکھایا۔ اقبال مہدی نے دلجمعی سے کام کیا اور بعد میں جب پاکستان آئے تو اپنے رشتہ دار صادقین، صف اوّل کے فنکار کے اسٹوڈیو میں کام شروع کیا۔ اس وقت تک اقبال مہدی کی کوئی باقاعدہ آرٹ کی تعلیم نہیں تھی۔ یہی وہ زمانہ ہے کہ جب وہ ادب اور مغربی فنونِ مصوری کی طرف مائل ہوئے۔ صادقین نے انہیں عظیم شاعر فیض احمد فیضؔ سے متعارف کروایا جنہوں نے اس نوجوان ہونہار فنکار کو اپنے ہفت وار رسالہ ”لیل و نہار‘‘ میں ملازمت دیدی جو ان کی پہلی باقاعدہ تنخواہ دار نوکری تھی۔ بعدازاں انہوں نے سب رنگ ڈائجسٹ اور اخبارِ جہاں میں بھی کام کیا۔
خداداد صلاحیتوں سے مالامال فنکار کی پہلی نمائش 23 سال کی عمر میں 1969ء میں ہوئی۔ نہ صرف ملکی بلکہ باہر کے اداروں نے بھی ان کی فنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا، مثلاً ہیوسٹن بیسٹ ہوٹلز کی جانب سے سونپے ہوئے منصوبہ کہ جس میں انہوں نے 1800 اسکوائر فٹ میورلز پر کام کیا۔ انسانی جسم، جانور اور چیزوں کی ہوبہو یا حقیقی تصاویر بنانے میں ان کو مہارت حاصل تھی۔ وہ رمبر رانٹ، پکاسو اور لیونارڈو کے کام سے متاثر تھے۔ روزمرہ کی زندگی اور پس منظر کی جزئیات میں کمال رکھتے تھے۔ جانوروں خصوصاً گھوڑے کے اجسام بنانے میں مہارت میں ان کے بچپن کی یادداشتوں کا حصہ ہے کہ جب وہ اپنے ابا کے ساتھ شکار پر گئے جہاں شکار کے بجائے تمام وقت چلتے پھرتے جانوروں کی تصاویر بناتے رہے۔
ہوٹل پرل کانٹی نینٹل میں ان کا بنایا ہوا ایک میورل ایشیا کا سب سے بڑا میورل کہلایا جاتا ہے کہ جس کے مکمل ہونے میں 10 ماہ کا عرصہ لگا۔ گو ان کا کام چارکول، پین سے اسکیچ بنانے سے شروع ہوا مگر 1985ء میں ان سفید و سیاہ خانوں میں رنگ بھرنے شروع ہوئے۔ فن کے ہر میڈیا میں وہ اپنے کمال کو پہنچے۔ چاہے کاغذ ہو یا کینوس، برونز یا آئل پینٹنگ، پاکستان کے علاوہ غیرممالک میں بھی ان کی تصاویر کی نمائش ہوئیں جن میں ٹوکیو (جاپان)، نیویارک، واشنگٹن ڈی سی (امریکہ)، پیرس، میونخ (جرمنی) اور ہانگ کانگ شامل ہیں۔ اپنے ملک کی علاقائی ثقافت کے رنگوں کو انہوں نے بڑی خوبصورتی سے پیش کیا۔ ملکی اور غیرملکی سربراہان مملکت کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق شخصیات کے خاکے بنائے۔ تاریخی شخصیات میں قائداعظم کے 500 اور علامہ اقبال کی 40 تصاویر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار افراد ہیں جو ان کی ذاتی دوستی کے حوالے سے ان کی محبتوں کے مقروض ہیں۔
مجھے یاد ہے جب میں پاکستان سے مستقلاً امریکہ منتقل ہورہی تھی اس زمانے میں ہماری عزیز انیتا آپا (انیتا غلام علی) کی سالگرہ قریب تھی۔ میں انہیں ایک یادگار تحفہ دینا چاہتی تھی۔ اتفاق سے انتیا آپا نے کچھ ہی عرصے قبل اپنی ایک بہت خوبصورت سی تازہ تصویر دی تھی۔ میں نے سوچا ان کے پورٹریٹ سے اچھا بھلا کیا تحفہ ہوگا۔ اقبال بھائی سے ذکر کیا ”کیا آپ یہ تصویر بنا دیں گے؟ ‘‘ انہوں نے اس کام کے لئے اپنے والہانہ شوق کا اظہار کیا ”ارے بھئی ہم تو خود ان کے بڑے فین (مداح) ہیں، ہمیشہ سے ان کی آواز میں خبریں سنیں، یہ تو ہمارا اعزاز ہوگا‘‘۔
اب بھلا یہ ان کی انکساری نہیں تو اور کیا تھی کہ بام پر پہنچ کر بھی شہرت کا نشہ نہیں چڑھا تھا۔ وہی بچوں جیسی معصومیت، عجز و انکساری، انہوں نے عین دیے ہوئے وقت پر ایک بہت بڑے سائز کا پورٹریٹ بنایا، دکھاتے وقت کہنے لگے ”عمر سے کچھ سال کم کردیا ہے، عورتیں اس میں خوش رہتی ہیں‘‘ ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ پھر بڑی محبت سے کہا کہ ”یہ تحفہ جب دیں تو ہمارا بھی سلام کہہ دیجئے گا‘‘ گو اس تحفے کا کوئی مول ہو ہی نہیں سکتا تھا مگر میں نے انہیں ایک پرفیوم اور لکھنؤ کا سفید کڑھا ہوا کرتا بھی پیش کیا کہ یہی وہ لباس تھا کہ جس میں میں نے انہیں ہمیشہ ملبوس پایا۔
کون ہے وہ ذات جو خامیوں اور غلطیوں سے پاک ہے۔ اقبال بھائی میں ایک فنکار تھا جو معصوم تھا اور بآسانی دھوکا کھا سکتا تھا، اتنے دھوکے کہ خود کو مٹا ہی دیا۔ بقول جون ایلیا
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں
تاہم میں شرطیہ کہہ سکتی ہوں کہ ان کا نازک حساس دل بہت صاف اور شفاف تھا، بالکل ان کے سفید براق کرتے کی طرح۔ کاش ہمیں اس فنکار کے دنیا سے اٹھ جانے کا احساسِ زیاں ہوجائے کہ جس کا اندر باہر ایک تھا، شفاف شیشے کی طرح، کاش!

