ڈاکٹر عافیہ صدیقی کس حال میں ہیں؟
جیل سٹاف البتہ یہ سمجھتا ہے کہ عافیہ کی ذہنی حالت درست نہیں اور خدشہ رہتا ہے کہ وہ خود کو نقصان نہ پہنچا لیں۔ عافیہ ایسی صورت میں الزام جیل عملے پر عائد کرتی ہیں۔ عافیہ نے قونصل جنرل کو مزید بتایا کہ انہیں ایک طویل عرصے سے کھانے میں فاسفیٹ، فاسفورک ایسڈ اور ریڈیو ایکٹو زہر ملا کر دیا جاتا ہے۔ البتہ کمشنری سے ملنے والا کھانا ان عناصرسے پاک ہوتا ہے۔
عافیہ کو اپنے بینک اکاوئنٹ کے بارے میں بھی کوئی علم نہیں، ان کی بہن ان کے اکاونٹ میں ہر ماہ کچھ رقم جمع کراتی ہیں لیکن عافیہ اس کے بارے میں لاعلم ہیں۔ عافیہ کو جیل میں تعینات عملے کے ایک رکن پر خاصا اعتماد ہے لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ بار بار اس شخص سے مدد لے گئی تو حکام کہیں اس کو تبدیل نہ کر دیں۔ عافیہ کو اپنی ای میل بھی درست طور پر نہیں مل پاتیں کیونکہ اصلی ای میلز تک ان کی رسائی نہیں ہو پاتی۔
قونصل جنرل نے جب ان سے پوچھا کہ کیا انہوں نے اپنی سزا کے خلاف دو ہزار گیارہ میں اپیل نہ کرنے کا فیصلہ خود لکھ کر دیا تو عافیہ نے اثبات میں جواب دیا کہ انہوں نے بالکل ایسا کیا تھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں یہاں اب انصاف کی توقع نہیں رہی، انہیں لگتا ہے کہ امریکی سپریم کورٹ میں بھی وہ اس لئے ہار گئیں کیونکہ ان کے وکلا کی ٹیم نے کیس کو درست طریقے سے پیش نہ کیا۔ عافیہ سمجھتی ہیں کہ ان کے خلاف ہوا ٹرائل ایک بہانہ تھا اور انہیں غیرقانونی طور پر سزا دیتے ہوئے جیل بھیجا گیا۔
عافیہ نے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے پی اے آصف حسین پر الزام عائد کرتے ہوئے بیان دیا کہ ان کی دانست میں آصف حسین نے ان کی قانونی معاونت کے لئے مختص دو ملین ڈالرز ہڑپ کر لئے۔ یہ رقم پاکستانی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بھیجی گئی تاکہ ان کی قانونی معاونت کی جا سکے۔ انہیں شک ہے کہ آصف حسین کے ساتھ حسین حقانی بھی رقم ہڑپ کرنے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
عافیہ نے شکایت کی دو ہزار دس میں حسین حقانی اور سفارتخانے نے ان کی مناسب طریقے سےمعاونت نہ کی۔ اس کے بارے میں حسین حقانی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے راقم سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ کے اس الزام کی یکسر تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اس رقم سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ حسین حقانی کے مطابق فقیر آصف حسین فارن سروس کے سینئر افسر تھے جنہیں سفارتخانے میں منسٹر کی ذمہ داریاں سونپیں گئیں۔ آصف حسین نے عافیہ صدیقی کیس کو احسن طریقے سے نمٹانے کی بھر پور کوشش کی۔ یہی آصف حسین بعد میں نیو یار ک کے قونصل جنرل کے طور پر ریٹائر ہوئے۔
عافیہ نے وکلا کی جانب سے دی گئی تجاویز پر عمل نہ کرتے ہوئے عدالت میں ایسا بیان دیا جو بعد میں غلط ثابت ہوا اور اسی وجہ سے ان کا کیس بگڑ گیا۔ حسین حقانی کے مطابق حکومت پاکستان نے یہ یہ رقم عافیہ کی قانونی معاونت کے لئے ادا کی، رقم دفتر خارجہ کے ذریعے ہینڈل کی گئی جس کا تمام تر آڈٹ موجود ہے۔ اس رقم سے سفیر کا کوئی تعلق نہ تھا۔ آصف حسین اور وکلا نے انہیں قانونی طور پر ریلیف دلوانے کی کوشش کی لیکن عافیہ نے ان کے مشورے کے برعکس عدالت میں بیان دیا کہ انہیں بندوق چلانا نہیں آتی۔ اس بیان کے جواب میں پراسیکوشن نے عدالت میں ان کا بوسٹن رائفل کلب کا لائسنس اور ممبرشپ نمبر پیش کر دیا جس سے عافیہ کا کیس خراب ہوا۔
قونصل جنرل کی رپورٹ میں مزید درج ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے تعلق کے تاثر کی نفی کرتی ہیں۔ اہل خانہ کی تسلی کے لئے جب انہیں کہا گیا کہ کیا ان کی ایک تصویر لی جا سکتی ہے تو عملے نے انہیں تصویر لینے سے روک دیا، خود عافیہ بھی تصویر بنوانے سے گریزاں دکھائی دیں۔ عائشہ فاروقی نےپوچھا کہ کیا آپ کو یاد ہے آپ کے اہل خانہ آپ کو پیار سے کس مخصوص نام سے پکارا کرتے تھے تو عافیہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ان کے اہل خانہ انہیں پیار سے ‘عافو رانی’ کے نام سے پکارتے تھے۔
عائشہ فاروقی نے عافیہ صدیقی کا ایک خصوصی آڈیو مسیج اور ہاتھ سے لکھی تحریر بھی اس رپورٹ کے ساتھ نتھی کر رکھی ہے۔ قونصل جنرل لکھتی ہیں کہ پہلی تین ملاقاتوں کے برعکس عافیہ چوتھی ملاقات میں مختلف تھیں، اس ملاقات میں وہ مسکرائیں، کھل کر ہنسیں اور پہلی ملاقاتوں میں بدمزگی پر معذرت خواہ تھیں۔ عافیہ کو یقین ہے کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست ہیں اور انہیں کسی قسم کی طبی سہولت یا ٹیسٹ کی ضرورت نہیں۔
رپورٹ کے آخر میں قونصل جنرل نے سفارشات میں لکھا ہے کہ عافیہ کے الزامات اور ان کو لاحق خطرات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اگر ممکن ہو تو کوشش کی جائے کہ ان کی باقی ماندہ سزا پاکستان لا کر پوری کی جائے۔ قونصل جنرل نے عافیہ کے بارے میں تحفظات پر مبنی ایک نوٹ امریکی لا اینڈ جسٹس ڈیپارٹمنٹ کو بھی بھیجنے کی سفارش کی ہے کہ ‘رامیریز’ نامی شخص کو دوبارہ اس جیل میں تعینات نہ کیا جائے اور امریکی حکومت اس جیل میں جسمانی اور جنسی تشدد کی شکایات کی انکوئری کرے۔
قونصل جنرل لکھتی ہیں کہ اس سب کے باوجود انہوں نے عافیہ صدیقی کو پرعزم اور پر امید پایا۔ عافیہ کا اللہ کی ذات اور پاکستان پر اعتماد غیر متزلزل ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ عوام کی کوششوں سے وہ ایک دن ضرور اس جیل سے رہا ہوں گی۔



