بچے کی پیدائش کے بعد کس چیز کے فیصلے پر میاں بیوی کو گھر میں الیکشن کروانا پڑے؟

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بچے کے نام کے انتخاب کے لئے منعقد ہونے والا یہ الیکشن کسی حقیقی الیکشن سے کم ہنگامہ خیز نہیں تھا۔ متھوں کا خاندان بہت وسیع ہے لہٰذا الیکشن کے انعقاد کے لئے خصوصی انتظامات کرنا پڑے۔ کل تین نام شارٹ لسٹ کئے گئے جن میں سے ایک نام کا حتمی انتخاب کیا جانا تھا۔ سینکڑوں بیلٹ پیپر چھپوائے گئے جن پر تین نام درج تھے اور ووٹ ڈالنے والے ہر شخص نے اپنی پرچی پر دئیے گئے تین ناموں میں سے ایک نام کا انتخاب کرناتھا۔ عام انتخاب کی طرح ووٹ ڈالنے کے لئے ڈبے بھی رکھے گئے تھے اور اس موقع پر حکمران پارٹی بی جے پی کے ایک مقامی رہنما کو بھی دعوت دی گئی تھی۔
اس الیکشن کا انعقاد 15 جون کے روز ہوا جس میں متھوں کے خاندان کے 192 افراد نے ووٹ ڈالے جن میں سے 92 ووٹ ’یووون‘ نام کے حق میں پڑے۔ یوں اس الیکشن کے نتیجے میں بچے کا نام یووون رکھ دیا گیا اور یہ معاملہ بخیر وخوبی انجام کو پہنچا۔

