بین الاقوامی دن برائے انسداد منشیات
26 جون کو دنیا بھر میں بین الاقوامی دن برائے انسداد منشیات منایا جاتا ہے۔ آیندہ آنے والی کچھ سالوں میں پاکستان کو درپیش مسائل میں سے سب سے گمبھیر مسئلہ جو ہماری نوجوان نسل کو گھیر لے گا وہ منشیات کا استعمال ہوگا۔ یہ وہ ٹائم بم ہے جو جلد ہی ہماری نوجوان نسل کی تباہی کا موجب بنے گا۔
پاکستان میں 800000 سے زائد لوگ نشے کی لت میں مبتلا ہیں جن کی عمریں 15سے 64 سال کے درمیان ہیں پاکستان میں سالانہ 44 ٹن ہیروئن استعمال کی جاتی ہے۔ جس کی شرح امریکا سے 2 گنا زائدہ ہے۔ پاکستان کو ساؤتھ Asia میں منشیات کے گڑھ کے طور پر مانا جاتا ہے۔ پاکستان میں 6.7 ملین لوگ نشے کے عادی ہیں۔ جن میں زائدہ تر کا تعلق اسکول، کالجز، اور یونیورسٹیز سے ہے۔ مردوں میں 78 % اور خواتین میں شرح %22 فیصد ہے۔ لیکن حالیہ تناظر میں خواتین کی تعداد میں روز بروز خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے
سب سے پہلے اس امر کو سمجھنے کی ضرورت ہے نشہ ایک ذہنی بیماری ہے جو کے انسان کو نفسیاتی، جذباتی، جسمانی، طور پر نقصان پہنچاتی ہے لیکن ہم اور ہمارا سماج اس کو بیماری سمجھنے کے لیے تیار نہیں کے یہ ایک بیماری ہے جس کا علاج ممکن ہے۔ پاکستان میں نشے سے متعلق آگہی کی اشد ضرورت ہے لیکن المیہ یہ ہے کے ہمارے سلیبس میں نہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اس سے متعلق شعورو آگہی پر توجہ نہیں دی جاتی۔
نشہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جس میں نشے کے عادی فرد کو خود پر کنٹرول نہیں رہتا اور وہ اپنے نشے کے آگے خود کو بے بس محسوس کرتے ہوے جانتے بھوجتے اسی راستے پر چل نکلتا ہے جس کا راستہ صرف موت ہے نشے کے استعمال کے پیچھے بہت محرکات ہیں جن میں ذاتی وجوہات، معاشرتی، جذباتی وجوہات شامل ہیں لیکن مریض کا چونکہ خود پر کنٹرول نہیں ہوتا تو اس کے کسی عزیز یا پیارے کو اس کے لیے اقدام اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرا اس امر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کے نشہ ایک ایسی بیماری ہے جیسے شوگر یا بلڈ پریشر کے جب تک آپ چینی سے دور راہیں گے بیماری دور رہے گے۔ نشے کا علاج بھی پرہیز ہے یہ ایک بار بار ہونے والی بیماری ہے اس لیے بہت سے لوگ علاج کو ترجیح نہیں دیتے لیکن علاج ہی وہ واحد راستہ ہے جو مریض کو بچا سکتا ہے۔
پاکستان میں ایڈز کے پھیلاؤ میں پہلا سبب منشیات کا بذریعہ انجکشن استعمال ہی ہے۔ لیکن ابھی تک منشیات کا تدارک ممکن نہیں ہوا تو ایڈز تو بہت دور کی بات ہے۔ پاکستان میں اس سے متعلق کوئی خاطر خواہ طریقہ کار وضح نہیں کیا گیا ہے جس کی بنا پر نشے کے مریضوں میں دن با دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
والدین سے گزارش ہے کے وہ اپنے بچوں کو بے جا آزادی اور پیسے دینے سے اجتناب کریں بچوں پر نظر رکھیں اگر بچا تنہائی پسندی کا شکار ہو رہا ہے تو فوراً ماہر نفسیات سے رجوع کریں
اساتذہ، یونیورسٹی اسکول کالجز انتظامیہ سے درخواست ہے ایسی کمیٹیاں بنائیں جو کے منفی عناصر کی نشان دہی کریں اور طلبہ کو وہاں پے روکا جانے۔ کیمرے کی مدد سے نگرانی کی جانے اور جو لوگ اس کام میں شامل ہے اور ان کے خلاف بروقت کارروائی کی جانے تا کے طلبہ کو بچایا جا سکے۔
حکومتی سطح پر تعلیم میں ایک باب اس مد میں ڈالا جانے جس میں بچوں کی ذہنی سطح ملحوظ خاطر رکھتے ہوے نشے سے متعلق آگہی دی جانے۔ اینٹی نارکوٹک فورس کو طاقتور کیا جانے۔ منشیات فرشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جانے اور ناقابل معافی سزائیں تجویز کی جائیں۔ پرنٹ سوشل الیکٹرانک میڈیا پر نشے کے نقصانات سے متعلق مواد ڈالا جانے۔ آگہی سیمینار ورکشاپ کروائیں جائیں۔ پرائیویٹ اور گورنمنٹ اداروں میں نئی تکنیک متعارف کروائی جائیں اور ان کی استعداد بڑھائی جانے۔ ادارے بند کرنے کی بجانے بہتری پر توجہ دی جانے۔ (نشے سے انکار۔ کل نہیں آج )
مصنفہ ماہر نفسیات ہیں اور اپنا ادارہ منشیات و نفسیات چلا رہی ہیں۔


