لفٹ لو گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دل کیا، کاش میں سروس لین کی بجائے مین سڑک پر ہوتی تو اسے گاڑی سے ٹکر مار دیتی۔۔۔ پھر سوچا ہر کام میں اللہ کی بہتری ہوتی ہے۔۔ میرے ساتھ ماں کی دعا تھی تو میں نے گاڑی کا رخ موڑ کر سروس لین میں کیا۔۔۔ اور وہ بھی تو کسی ماں کا لعل ہے اس کی ماں نے بھی تو اسے گھر سے نکلتے چند آیات پڑھ کر پھونکا ہو گا کہ جا بیٹا اللہ کے حوالے۔۔۔ پر شاید اس کی ماں اسے یہ بتانا بھول گئی کہ جس اللہ کے حوالے اسے کیا ہے اس نے تمام عورتوں کی حرمت ایسے ہی مقدم رکھی ہے جیسے اس کی اپنی ماں اور بہن کی۔۔۔

ہوا کچھ یوں کہ جیسے ہی گاڑی کا رخ سڑک سے موڑ کر فٹ پاتھ کے بائیں جانب کیا تو بیک ویو مرر میں دو سے تین موٹر سائیکلیں پیچھے آتی دکھائی دیں جن پر کچھ کالج یا پھر اسکول کے نوجوان سوار تھے۔ سب کے سب باآواز بلند قہقہے لگا رہے تھے۔ مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ دانت کسی شکار کو دیکھ کر ہی باہر نکلے ہیں۔ فٹ پاتھ پر دو نوجواں بچیاں سر ڈھانپے بس کے انتظار میں کھڑی تھیں۔۔۔ موٹر سائیکل سواروں میں سب سے آگے والے نے پہلے تو زور سے سیٹی بجا کر پہلے اپنی تربیت کا اور پھر تین بار ‘لفٹ لو گی، آؤ چھوڑ دوں کہیں” کا پوچھ کر اپنی نام نہاد مردانگی کا مظاہرہ کیا۔ وہ دونوں بچیاں فٹ پاتھ پر سکڑ کر رہ گئیں۔۔۔ اس لمحے وہاں سے گزرتے ہر پیدل اور کار سوار سے منہ چھپانے لگیں جیسے یہ بدذاتی لڑکوں کی بجائے انہوں نے خود کی ہو۔

ویسے یہ پہلی بار نہیں تھا کہ میں نے سڑک کے بیچ و بیچ ایسا کچھ ہوتے دیکھا ہو۔ سکول وکالج کے زمانے میں جب وینوں یا بسوں میں سفر کرنا پڑتا تھا تو کئی بار اپنے شہر لاہور کے بھوکے مردوں کی نظروں سے اپنی چیر پھاڑ کروائی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اپنے زمانے میں ہم اتنے سادہ تھے کہ ڈر کے مارے کسی کو کچھ بتاتے ہی نہیں تھے۔ منہ جھکا کر نظریں زمین میں گاڑ کر چلنا سکھایا تھا امی نے مجھےاور میرے بھائی کو، پھر بھی اکثرچلتے چلتے پیچھے سے آنے والا کوئی مرد جس کو ماں نے مردانگی کی تعریف سے متعارف نہیں کروایا کبھی کمر پر ہاتھ پھیر جاتا اور مجھے یوں لگتا کہ راہ پر چلتا میرا وجود چھونا اس کا حق ہے اور اسے کچھ نہ کہنا میرا فرض۔ ہمیں تو ماں نے گالیاں بھی نہیں سکھائیں تھہیں کہ ایک آدھ نکال کر دل کی بھڑاس نکال لیتے۔۔۔ امی کہتی تھی گالی دینے والے کی دعا چالیس دن تک قبول نہیں ہوتی بس دل میں ایسا ڈر بیٹھا کہ کبھی تصور میں بھی گالی دینے کا سوچ کر روح کانپ جاتی تھی۔

آخر میری ماں میں ایسی کیا خاص بات تھی جو اس نے اپنے بچوں کو یہ تربیت دی؟ میں نے بھائی کو ہمیشہ عورتوں کی دل سے عزت کرتے دیکھا پھر چاہے وہ گھر کی ہویا راہ چلتی یا اس کے دفتر میں کام کرنے والی۔ یہی وجہ ہے کہ میں آج جس مقام پر ہوں اس میں میرے بھائی کا سب سے زیادہ تعاون حاصل رہا مجھے۔ ہاں یہ ضرور یاد ہے مجھے کہ جب میں گھر سے باہر نکلتی تھی تو وہ ایک نظر مجھ پر ڈالتا۔ خاموشی سے امی کو کہتا “اسے بولیں دوپٹہ صحیح سے لے۔” مگر بھائی کبھی میری راہ کی رکاوٹ نہیں بنے۔ ایک دن بڑے پیار سے پاس بٹھا کر بس انہوں نے ایک بات کی” میں مرد ہوں، باہر گھومتا ہوں مجھے معلوم ہے کہ ایک مرد عورت کے بارے میں کیا سوچتا ہے پھر چاہے وہ چادر یا برقع میں ہی کیوں نہ ہو، میں نے اگر تمہیں بتا دیا تو یقین مانوتم خود ہی باہر نکلنا چھوڑ دو گی۔”

آخر ہمارے معاشرے کا مرد اتنا بھوکا کیوں ہے؟ میں سب مردوں کی بات نہیں کر رہی کیونکہ میں ایسے بےشمار مردوں کو جانتی ہوں جن کی عزت کرنے کا دل چاہتا ہے، جن کے ساتھ بیٹھ کر خوف یا خطرہ محسوس نہیں ہوتا، جن کے وجود اور سوچ سے گھن نہیں آتی۔ مگر یہ مرد جو سڑکوں پر یوں گھومتے ہیں جس طرح ان کے گلے کا پٹہ کھل گیا ہو یہ کون ہیں؟ کن گھروں سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں جننے والی کون ہیں، کیا ان کی مائیں ان کی تربیت کرنا بھول گئی ہیں اور یا پھر ان کی ماؤں کی اوقات بھی ان کے گھروں میں وہی ہے جو ان کے لئے راہ چلتی کسی بھی عورت کی؟ تربیت کا تو یہ حال ہے کہ چاند رات ہو، جشن آزادی یا نئے سال کی شادمانی، ایسا طوفان بدتمیزی اور بے غیرتی دیکھنے کو ملتا ہے کہ آپ فیملی کی عورتوں کے ساتھ سڑک پر نہیں آسکتے۔

ہمارے ہاں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ لڑکیاں چھوٹے کپڑے پہن کر باہر نکلتی ہیں تو ہمارے مردوں کے کمزور جذبات قابو میں نہیں رہ پاتے۔ چلیں مان لیا، تو جناب وہ مرد ہی کیا جو اپنی کمزوری نہ چھپا سکے۔ ویسے یہاں میرے ذہن میں ایک بات اور آئی کہ آخر یہ مردانگی ہے کیا؟ عورت کے جسم کو راہ چلتے چھو جانا، اس پر آوازے کسنا، اسے دیکھ کر سیٹیاں بجانا، غیرت کے نام پر اپنی بہن،  بیٹی یا ماں کو مار دینا، اس پر تیزاب پھینک اس کا چہرہ بگاڑ دینا، اسے پٹرول سے جلا دینا، پانچ سال کی بچی کو نوچ ڈالنا، یہ سب مردانگی کے زمرے میں آتا ہے؟ تو میرے خیال میں رال ٹپکاتا باہر گھومتا ہر وہ مرد جس کی ایسی مردانگی ہے جو سنبھالے نہیں سنبھل رہی جو خود کو کنٹرول نہیں کر پا رہا۔ میرے خیال میں اسے نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے۔ مجھے یوں بھی لگتا ہے کہ شاید سب مردوں کی خصلت ایک جیسی ہوتی ہے بس کچھ اسے اپنی سمجھ اور گھر کی تربیت سے کنٹرول کر لیتے ہیں او کچھ نہیں کر پاتے۔

سروسز ہسپتال کی ماہر نفسیات ڈاکٹر سمیرا بخاری کہتی ہیں کہ ایسے مرد کسی ذہنی خلجان میں مبتلا ہوتے ہیں، وہ انہیں اینٹی سوشل بھی قرار دیتی ہیں جو نارمز سے ہٹ کر حرکتیں کرتے ہیں اور کبھی کبھار وہ پئیر پریشر میں بھی آکر ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ ان کے خیال میں ان کا دوست لڑکیوں کی عزت اچھال کر ان سے زیادہ مرد ہونے کی زمرے میں آگیا ہے تو انہیں بھی ایسا کرنا ہوگا تاکہ لوگ انہیں بزدل یا نامرد نہ سمجھ بیٹھیں۔

آفس میں ہی ایک صاحب نے مجھ سے کچھ روز پہلے راہ چلتے ایک خاتون کا تذکرہ بڑے بے باک طریقے سے کیا کہ ان کی ان کے ساتھ کوئی سیٹنگ چل رہی ہے، میں نے انہیں آگے کا پلان پوچھا تو بڑی بے باکی سے انہوں نے کہا کہ میڈم ایسی لڑکیا ں شادی کے لئے نہیں ٹائم پاس کے لئے ہوتی ہیں اور میں اسے بتا چکا ہوں کہ میں نے شادی وادی کوئی نہیں کرنی اس کے ساتھ۔

اس کی اس بات پر یہ سوچ بھی ذہن میں آئی کہ کیا صرف ہمارے معاشرے کا مرد ہی بھوکا ہے عورت نہیں؟ کیا عورت دودھ کی دھلی ہے پاک باز ہے؟ تو میں نے اپنے ایک کولیگ محمد سلمان (جن کا شمار میں ان مردوں میں کرتی ہوں جن کی نظر میں حیا اور شرم ہے) سے ان کی رائے جاننی چاہی تو ان سے معلوم ہوا کہ بہت سی لڑکیاں ان سے مراسم بنانا چاہتی ہے اور ان کے انکار پر وہ انہیں نامرد ہونے کا سرٹیفیکیٹ تھما کر چل دیتی ہیں۔

یہی سوال میں نے ہمارے مشہور اینکر سلمان حیدر کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ خود انہوں نے تو نہیں مگر انہیں بہت سی لڑکیوں نے بہکانے کی کوشش کی مگر اس کا ذمہ دار بھی وہ مردوں کو قرار دیتے ہیں، کہتے ہیں کسی نہ کسی مرد کے جھانسے نے ہی ان کی جھجک ختم کی ہو گی جو وہ اتنی کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •