سیاسی لوٹوں کے نئے وکیل عمران خان "نیا پاکستان” نہیں، "اپنی باری” مانگتے ہیں


اب ان لوگوں کی اہمیت اور ضرورت کے لئے دلائل دیتے ہوئے جمہوری انقلاب برپا کرنے کے دعوے دار عمران خان ان داغدار دامن والے سیاسی عناصر کی پرجوش وکالت پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اور جب شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین اپنے دھڑوں کو مضبوط کرنے کے لئے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں ایک دوسرے پر پارٹی اور عمران خان سے ’غداری‘ کا الزام لگاتے ہیں تو وہ انہیں خاموش کروانے یا ان کے خلاف پارٹی ڈسپلن لاگو کرنے کی بجائے بے بسی سے انہیں دیکھتے ہیں اور پھر خاموشی سے اجلاس چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ اپنے دو ساتھیوں کے سامنے لاچار ہوجانے والا عمران خان وزیر اعظم بن کر کیوں کر با اختیار اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں کامیاب ہو گا۔ وہ جادو کی جس چھڑی کو گھما کر حالات کو تبدیل کرنے کا دعویٰ کررہا ہے، اس پر تو ان الیکٹ ایبلز کا قبضہ ہوگا جن کے کاندھوں پر سوار ہو کر عمران خان اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ جب یہ لوگ پارلیمانی بورڈ میں عمران خان کے قبضہ قدرت میں نہیں ہیں تو پارلیمنٹ میں ان کی پرواز کو کیسے روکا جا سکے گا۔

تبدیلی کے لئے نیا خون اور نئے ولولے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمران خان خود کو سیاسی قوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے اس نعرے کا سہارا لیتے رہے ہیں۔ اسی لئے انہوں تحریک انصاف میں انتخاب کروانے اور پھر منتخب پارلیمانی بورڈ کے ذریعے پارٹی امیدواروں کا فیصلہ کرنے کی روایت ڈالنے کی کوشش ضرور کی لیکن ان کی جلد بازی نے ان میں سے کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ اب اگر وہ یہ عذر تراشتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں یہ سب طریقے کامیاب نہیں ہو سکتے تو وہ یہ کیسے یقین دلا سکتے ہیں کہ پاکستانی سیاست کے آزمودہ مہروں کے ذریعے منتخب ہو کر وہ ان کی مرضی و منشا کے بغیر کوئی اہم فیصلہ کرسکیں گے۔ یوں بھی ملک کے موجودہ جمہوری نظام میں منتخب ہونے والی سیاسی جماعت کو فیصلے کرنے کا محدود اختیار ہی حاصل ہوتا ہے۔ ملک کے طاقتور ادارے اہم فیصلوں پر اثر انداز ہونا اور ان کو اپنی ضروریات اور حکمت عملی کے مطابق طے کروانا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اس وقت جمہوری حکومتوں کے اس حق فیصلہ پر نقب لگانے والی طاقتوں کے خلاف گفتگو قومی سیاسی ایجنڈے کا اہم نکتہ ہے۔ عمران خان اس بحث میں اداروں کی بالادستی کے حامی رہے ہیں تاکہ وہ کسی طور وزیر اعظم بن سکیں اور اب وہ انہی اداروں کے پروردہ الیکٹ ایبلز کی وکالت کرتے ہوئے یہ بتا رہے ہیں کہ وہ موجودہ انتظام میں کوئی تبدیلی لانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ ایسے میں نیا پاکستان کیا ہوا میں تعمیر ہو گا یا لوگوں کے خوابوں میں ہی محفوظ رہے گا۔

عمران خان کو جمہوریت کے ذریعے انقلاب برپا کرنے کا ایک سنہرا موقع 2013 کے انتخابات میں قابل ذکر کامیابی کے بعد حاصل ہؤا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف ملک کی تیسری بڑی پارلیمانی پارٹی کے طور پر سامنے آئی تھی۔ پیپلز پارٹی کے سیاسی کردار کی وجہ سے بہت سے لوگ تحریک انصاف کو حقیقی اپوزیشن پارٹی قرار دیتے تھے۔ لیکن عمران خان اور ان کے ساتھی اپوزیشن کے طور پر اپنا پارلیمانی کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔ عمران خان نے پارلیمنٹ میں جا کر اپوزیشن لیڈر کے طور پر حکومت کی کمزوریوں کو سامنے لانے اور اصلاح کے لئے کام کرنے کی بجائے سڑکوں کی سیاست اور ٹاک شوز میں دشنام طرازی کو شعار بنایا۔ جو مغربی جمہوریتیں عمران خان کی آئیڈیل ہیں وہاں اپوزیشن لیڈر بھی لیڈر آف دی ہاؤس کی طرح اہم ہوتا ہے۔ عمران خان نے اسمبلی میں جا کر پارلیمانی نظام کے طریقے سیکھنے کی بجائے اس پارلیمنٹ کو مطعون کرکے نظام کو گرانے کی کوشش کی ۔ انہیں یہ جوا ب تو دینا پڑے گا کہ جب وہ جب موجودہ نظام میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر اپنا کردار نبھانے میں کامیاب نہیں ہوئے تو وہ اکثریت حاصل کرنے کی صورت میں کیسے مؤثر رہنما ثابت ہو سکیں گے۔

حیرت ہے کہ عمران خان ان لوگوں کے سہارے کیسے نیا پاکستان تعمیر کریں گے جن کی پارلیمنٹ میں موجودگی کی وجہ سے وہ منتخب اسمبلی پر لعنت بھیجتے رہے ہیں۔ اگر عمران خان جان بوجھ کر پاکستان کے عوام کو دھوکہ نہیں دے رہے تو انہیں چاہئے کہ وہ اس سراب سے باہر نکلیں اور نیا پاکستان بنانے کا نعرہ ترک کرکے پرانے پاکستان میں ’ ساڈی واری آن دیو‘ کا کلمہ حق بلند کریں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali