41 سالہ عبدالکریم کی 11 سالہ دلہن

مقامی اخبار ’’بورنیو نیوز‘‘ کے مطابق چی عبدالکریم نامی یہ شخص ایک مالدار کباڑیہ ہے جبکہ لڑکی کے والدین بہت غریب ہیں۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس بچی کے والدین صرف غریب ہی نہیں بلکہ بے حس بھی ہیں۔ غربت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اپنی کمسن بچی کو ایک ادھیڑ عمر شخص کی عیاشی کا ساماں بنا دیں۔ ایسے والدین کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ جس شخص کی پہلے ہی دو بیویاں اور چھ بچے ہیں وہ آپ کی کمسن بیٹی کا ہاتھ کیوں مانگ رہا ہے۔
شادی کے نام پر اس کھلی بے حیائی نے ملک میں ایک ہنگامے کی سی فضاء پیدا کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر کوئی اس شیطان صفت شخص کی مزمت کر رہا ہے۔ بات اقوام متحدہ تک جا پہنچی ہے جس کے ذیلی ادارے یونیسف کے مقامی نمائندے کلارک ہیٹنگ کا کہنا تھا کہ ’’یہ صدمہ خیز اور ناقابل قبول ہے اور بچی کے حق میں اچھا نہیں۔یہ اس کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘‘

