غیر معمولی بارشیں، ماحولیاتی تبدیلیاں اور بعد از مرگ واویلا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ضرب الامثال صدیوں پر محیط انسانی تجربے اور مشاہدے کاختصر مگر جامع اظہار ہوا کرتی ہیں۔ قومیں ان محاوروں کو اپنی اجتماعی دانش کا حصہ بنا لیتی ہیں اور وموقع محل کی مناسبت سے اس پہ کاربند ہوتی بھی دکھائی دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر ترقی یافتہ دنیا کے بیشتر ممالک نے ’ پرہیز علاج سے بہتر ہے‘، کے فہم کے تحت قدرتی اور انسانی آفات سے نمٹنے اور ممکنہ نقصانات کے تدارک کے لیے کئی حفاظتی تدابیر اختیار کر رکھی ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کے حوالے سے بھی دنیا بہتر حالت تیاری میں معلوم ہوتی ہے اور کسی بحران کی صورت میں جانی و مالی نقصان کو کم سے کم سطح پر رکھنے کی مقدور بھر کاوشیں کی جاتی ہیں۔

دوسری طرف وطن عزیز میں اجتماعی دانش کا یہ اظہار نصاب کی کتابوں تک محدود نظر آتا ہے یا پھر طالب علم امتحانات خصوصاً اردو کے مضمون میں دس نمبر حاصل کرنے کے لیے محاورات کو رٹ لینے پر یقین رکھتے ہیں۔ انہیں عملی زندگی میں رہنما اصولوں کے طور پر دیکھنے یا سمجھنے کی ضرورت کم ہی محسوس کی جاتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کو ہی لے لیجیے، دنیا بھر میں ماہرین ماحولیات اور موسمیات گزشتہ دو دہایہوں سے چیخ چیخ کر حکومتوں اور عوام الناس کو باور کرا رہے ہیں کہ سنبھل جائے، آگاہ ہو جائیں، تیاری کریں، کہ موسم پہلے سے نہیں رہے، ان میں تبدیلیوں کا عمل تیز تر ہو رہا ہے اور یوں ماحولیاتی تبدیلیوں سے پیدا شدہ خطرات بھی مسلسل بڑھتے جائیں گے۔

یہ درست ہے اور ماہرین اس پر زور بھی دیتے ہیں کہ انسان صنعتی ترقی کے نام پر جو کچھ کر چکا ہے اور کر رہا ہے، اس کے بعد ماحولیاتی تبدیلیوں کو یکسر روکنا ممکن نہیں رہا، اہل دنیا اگر کچھ کر سکتے ہیں تو یہ کہ مل کر ایسے اقدامات کریں کہ فضا میں زہریلی گیسوں کی آمیزش کم سے کم اور درختوں کی بے دریغ کٹائی کو روکا جاسکے۔ ان ماحول دوست اقدامات سے ماحولیاتی تبدیلیوں کی رفتار میں کمی ضرور لائی جا سکتی ہے۔ تا ہم ماہرہن کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کا جو عمل شروع ہو چکا ہے، اس کے اثرات کا ہمیں لا محالہ سامنا رہے گا اور آنے والے برسوں میں سیلاب، خشک سالی، اچانک اور تیز بارشیں اور اس نوعیت کے دوسرے اثرات دنیا بھر میں رونما ہوتے رہیں گے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور تباہ کاریوں میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان میں سال 2010میں غیر معمولی سیلاب آیا اور سینکڑوں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے کو شدید نقصانات سے دو چار کیا۔ اس بڑی قدرتی آفت کے بعد اچانک سیلاب، بے وقت بارشیں یا مکمل خشک سالی جیسے اثرات ظاہر ہونے کی رفتار بڑھتی چلی گئی۔ پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وزارت قائم ہوئی، ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں پالیسیوں کی تیاری کا عمل شروع ہوا اور بڑے بڑے دعوے بھی دیکھنے میں آئے مگر عملی طور پر ہر نئی قدرتی آفت حالت تیاری سے متعلق ہمارے دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دیتی ہے۔

لاہور میں ہونے والی حالیہ غیر معمولی بارش ماحولیاتی تبدیلیوں کا محض ایک ادنی سا مظہر ہے مگر اس نے بھی شہریوں اور پالیسی سازوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ شہر کے کئی علاقے زیر آب آگئے، کئی مقامات پر سڑکیں اور شاہرائیں منہدم ہو گئیں اور شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ ماہرین موسمیات کے مطابق خطرہ ابھی ٹلا نہیں اور حالیہ مون سون کے دوران مزید غیر متوقع اور غیر معمولی بارشوں کا خڈشہ موجود ہے۔ اس تمام تر صورت حال کا جواب ہم نے کچھ یوں دیا کہ سیاست دانوں نے سے جوڑ کر بیٹھنے اور اس قومی معاملے پر صلاح مشورے کی بجائے ایک دوسرے کو کوسنے دینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ دنیا محو حیرت ہے کہ آخر یہ انسانوں کی کون سی قسم ہے جو آئندہ نسلوں کے لیے کچھ کرنے کی بجائے وقت سیاسی فوائد کے حصول میں جتی ہے۔

ہم قدرتی آفات کو روک نہیں سکتے مگر بہتر حالت تیاری کے باعث اپنی زراعت اور معیشت کے علاوہ انسانی زندگیاں بچانے کے لیے باقی دنیا سے سیکھ ضرور سکتے ہیں۔ تا اہم اس کے لیے رویوں میں تبدیلی اور۔ بعد از مرگ واویلا‘ کی پرانی روش کو ترک کرنا اولین شرط ہو گی۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے تدارک اور حالت تیاری کے لیے مرکزی اور صوبائی حکومتیں زبانی جمع خرچ پر قانع رہی ہیں۔

اس ضمن میں پاکستان میں کام کرنے والے بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کا کردار بھی انتہائی مایوس کن دکھائی دیتا ہے جنہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے مہم کو۔ پراجیکٹ کی ذہنیت سے لیا نہ کہ حقیقی انسانی مسئلے کے طور پر۔ بعض اداروں نے تو حماقت اور بے حسی کے ایسے نمونے پیش کیے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق شعور و آگاہی کی مہم کو فیصلہ کن بنانے کی بجائے ذاتی ہٹ دھرمی اور مخصوص مفادات کی نذر کر دیا وگرنہ تسلسل کی بدولت اس کام میں خاصی بہتری لائی جا سکتی تھی۔

؂اب بھی وقت ہے کہ مزید قدرتی سانحات کا انتظار کیے بغیر فیصلہ ساز ادارے، سیاسی قیادت اور ماہرین ماحولیاتی تبدیلویں کے منڈلاتے خطرات کے حوالے سے بہتر حالت تیاری کے لیے مقامی، ضلعی، صوبائی اور وفاقی سطح پر ضروری اقدامات اور پالیسیوں کے علاوہ عمل درآمد کے نظام میں بہتری کے لیے تندہی کے ساتھ کام کو یقینی بنائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں