25 جولائی کے انتخابات جمہوریت اور آمریت میں ریفرنڈم ہوں گے
25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کو ذاتی مقدمات میں عوامی عدالت کا درجہ دینے کی بات کرنے والے نوازشریف اور مریم نواز کو بھی یہ جواب دینا ہو گا کہ پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران جب الیکٹ ایبلز تلاش کئے جارہے تھے، تو اس وقت عوام پر ان کا اعتماد اور بھروسہ کہاں تھا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ نواز شریف نے گزشتہ جولائی میں نااہل ہونے کے بعد سے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا بیانیہ ضرور اختیار کیا لیکن اسے ایک اصول مان کر جدوجہد کی بنیاد رکھنے کی بجائے اس کی وجہ سے ملنے والی عوامی تائید کو مصالحت کا راستہ تلاش کرنے کی کوششوں پر صرف کیا اور اسی مقصد سے شہباز شریف جیسے نظام پرست شخص کو پارٹی کا صدر بھی بنایا گیا۔
کیا وجہ ہے کہ نواز شریف یہ جان لینے کے بعد کہ ان کے خلاف ’سازش‘ تیار کرلی گئی ہے اور انہیں بہر صورت سزا دی جائے گی، مسلم لیگ (ن) کو ایک حقیقی سیاسی قوت بنانے میں ناکام رہے۔ اس پارٹی کو نہ ایک منتخب ادارہ بنایا گیا اور نہ اس میں عوام تک چند اصولوں کی بنیاد پر رسائی کرنے والے رہنماؤں کو احترام دیا گیا۔ کیا یہ رویہ یہ واضح نہیں کرتا کہ آخر دم تک یہ امید کی جاتی رہی تھی کہ کسی نہ کسی سطح پر کوئی نہ کوئی مفاہمت ہوجائے گی اور اس بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ نکال لیا جائے گا۔ جمعہ کو احتساب عدالت کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد جب راستے بند دکھائی دینے لگے تو ایک بار پھر عوامی عدالت کے فیصلوں کی یاد ستانے لگی ہے۔ اور یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ ان کے خلاف جو سازش کی گئی ہے اس میں چند جنرل اور جج شامل ہیں۔
گویا میاں صاحب اب بھی اس اصول کی بنیاد پر میدان میں نکلنے اور جد و جہد کا اعلان کرنے پر پوری طرح آمادہ نہیں ہیں کہ وہ نظام کو جمہوری اصولوں پر استوار دیکھناچاہتے ہیں۔ یا وہ عوام کے مینڈیٹ کی مدد سے سیاست میں فوج کی مداخلت اور عدالتوں کی سیاست کا خاتمہ کریں گے۔ وہ سازش کا ذکر ضرور کرتے ہیں لیکن اس سازش کی تفصیل بتانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کیا یہ رویہ عوام پر ان کے اعتبار کی کمزوری کو ظاہر نہیں کرتا۔ کیا اس سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ ان کا موجودہ ’باغیانہ‘ طرز عمل دراصل مفاہمت کی تلاش ہی کا سفر ہے اور جب وہ اپنی عوامی مقبولیت کی بنیاد پر طاقتور اداروں کو تصادم کی بجائے صلح پر رام کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ان کی سیاست بھی وہی ہوگی جس پر ماضی میں عمل کرتے ہوئے وہ اس مقام تک پہنچے ہیں۔
نواز شریف کو اگر ستر برس کے بگڑے ہوئے نظام کو تبدیل کرنا ہے اور وہ واقعی ملک کے آئین کے مطابق پارلیمانی جمہوری نظام متعارف کروانے کی خواہش رکھتے ہیں تو انہیں اس کے لئے جد و جہد کا اعلان کرتے ہوئے، ملک کے عوام کی اکثریت کی طرح سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کو مسترد کرنا ہو گا۔ یہ اعلان انتخاب کو اپنے ذاتی مقدمات کے لئے عوامی عدالت قرار دینے سے نہیں ہو گا بلکہ اپنی پارٹی کو عوامی امنگوں اور ان کے نمائیندوں کی مدد سے مضبوط کرنے کے کام سے ہوگا۔ اس جنگ میں کامیابی کے لئے نواز شریف کو سازش کا ’انکشاف‘ کرنے کی بجائے ان عوامل کی دو ٹوک الفاظ میں نشاندہی کرنا ہو گی جو جمہوریت کو داغدار کرنے پر مصر ہیں۔ انہیں بتانا ہو گا کہ 25 جولائی کا انتخاب آزاد اور خود مختار پارلیمنٹ کے مقصد سے منعقد ہو رہا ہے۔ عوام نے اگر جمہوریت کی حمایت کرنے کی غرض سے نواز شریف کو ووٹ دئیے تو اس سیاسی طاقت کو نظام مستحکم کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ اسے عوامی عدالت سے بری ہونے کا اعلان قرار دیتے ہوئے انتخابات کو عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ریفرنڈم قرار نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ نواز شریف عوامی اور جمہوری لیڈر کے طور پر ایک ایسا نظام سامنے لانے کے عمل کاآغاز کریں گے جس میں قانون طاقتور اور کمزور میں تمیز کرنے کی روایت سے بالاہوسکے۔ اس طرح یہ انتخاب جمہوریت یا آمریت کے بیچ رائے کا اظہار بن سکیں۔
انتخاب نواز شریف کو عدالتی فیصلوں سے بری کرنے کا سبب نہیں بن سکتے، ان کے ذریعے ملک کے عوام کو غیر جمہوری طاقتوں کے استبداد سے نجات دلانے کی خواہش اور کوشش ہی ہر محب وطن کا خواب ہے۔ نواز شریف اس خواب کا حصہ بن کر ایک قد آور سیاسی لیڈر بن سکتے ہیں لیکن اس کے لئے انہیں گومگو کی کیفیت سے باہر نکلنا ہوگا۔ میدان پاکستان میں سجا ہے، اس میں فتحیاب ہونے کے لئے غیر واضح اعلانات کی بجائے نواز شریف کو فوری طور سے اپنے لوگوں کے بیچ پہنچنا چاہئے۔ ’جیل جانے کا خوف نہیں‘ کا اعلان کافی نہیں بلکہ جیل جا کر بتانا ہوگا کہ عوام جس شخص میں جمہوریت کے احیا کا خواب دیکھ رہے ہیں وہ واقعی بے خوف اور ان کی امیدوں پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

