خواتین کے لیے جسم کے صرف دو حصے ڈھانپنا ضروری ہے: ترک اسلامی مبلغ عدنان اوکتر


62 سالہ ترک شہری عدنان اوکتر ایک معروف اسلامی مبلغ ہیں۔ تاہم گزشتہ دنوں خواتین کے لباس کے متعلق انہوں نے ایک حیران کن رائے دی۔ تفصیلات کے مطابق عدنان اوکتر کا کہنا ہے کہ ’’خواتین کواپنا پورا جسم نہیں ڈھانپنا چاہیے۔ انہیں صرف سرپستانوں (Nipples)  اور پوشیدہ حصوں کو کپڑے سے چھپانا چاہیے۔ اس کے علاوہ پورا جسم ننگا رکھنا چاہیے تاکہ لوگ ان کی خوبصورتی کو دیکھ سکیں۔‘‘

عدنان اوکتر نے خواتین کے متعلق رواں سال فروری میں کہا تھا کہ ’’خواتین خدا کی حیران کن تخلیق ہیں۔ دنیا میں ان جیسی خوبصورت مخلوق خدا نے اور کوئی نہیں بنائی۔ خواتین آرٹ کا ناقابل یقین نمونہ ہیں۔ انہیں اپنے آپ کو کپڑوں میں چھپا کر نہیں رکھنا چاہیے۔ ان سے محبت کی جانی چاہیے، ان کی تعریف کی جانی چاہیے اور ان کی حفاظت کی جانی چاہیے۔‘‘

واضح رہے کہ عدنان اوکتر پر اب تک کئی خواتین برین واشنگ کرکے مالی و جنسی استحصال کا نشانہ بنانے کے الزامات عائد کر چکی ہیں لیکن ترک حکام نے تاحال ان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی۔

(بشکریہ ڈیلی پاکستان)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں