جب بیٹی حیران کرتی ہے۔۔۔
لاہور کے بڑے مہنگے علاقے میں بہت بڑی جگہ پر ایک بڑے سے احاطے میں ان لوگوں کے کئی مکان تھے جہاں پورا خاندان رہتا تھا۔ اسی احاطے میں ایک مہمان خانہ بنا ہُوا تھا، جہاں ہم لوگوں کو ٹھہرایا گیا تھا۔ مہمان خانہ کسی بھی اچھے ہوٹل سے کم نہیں تھا۔ میں بھی مرعوب ہی ہوکر آیا تھا اور ساتھ ہی میرے اندر کا خوف مجھے پریشان کرنے لگا تھا۔ وہ لوگ ہماری حیثیت سے کہیں بڑھ کر تھے۔ ہمارا خاندان پڑھے لکھے لوگوں کا درمیانے درجے کا خاندان تھا جو اطمینان سے اپنی دنیا میں خوشحالی سے رہ رہا تھا۔
ہم لوگ سادہ زندگی عزت کے ساتھ گزارتے تھے زندگی اور حالات نے جو بھی کچھ ہمیں دیا تھا وہ ہماری حیثیت سے زیادہ تھا ہمیں اس کے علاوہ اور چاہیے بھی کیا تھا، ہمارے مقابلے میں یہ لوگ امیر نہیں تھے بلکہ بے انتہا امیر تھے۔ بڑا سا گھر، زمینداری اور کاروبار، رہن سہن کا شاہی طریقہ اور کہاں ہم لوگ اوسط درجے کے روزانہ کام کرکے زندہ رہنے والے لوگ۔ میں اندر ہی اندر یہی سوچ سوچ کر پریشان ہوتا رہا۔ میں نے اپنے خوف کا ذکر فریدہ سے بھی کیا مگر مجھے لگا جیسے وہ مطمئن تھی اور خوش بھی کہ شازیہ کی پسند اچھی پسند ثابت ہوئی تھی۔ عظیم ایک خوبرو نوجوان تھا گورا چٹا، طویل قامت اور پُرکشش۔ ایسے چہرے تو فلموں میں کام کرتے ہیں۔ ہماری شازیہ بہت اچھے نصیب لے کر آئی ہے۔
دو ہفتے بھی نہیں گزرے تھے میں شش و پنج کا ہی شکار تھا کہ ایک دن شازیہ نے فون کرکے بتایا کہ اس نے عظیم سے منگنی توڑ دی ہے۔ یہ دوسری دفعہ کی بات تھی جب اس نے مجھے حیران کردیا، فریدہ پریشان ہوگئی جو اسپیکر پر یہ سب کچھ سن رہی تھی۔
سب ٹھیک ہے ناں بیٹا میں نے پوچھا تھا۔
ٹھیک ہے پاپا اور ٹھیک نہیں بھی ہے۔ اس نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔ ٹھیک اس لیے کہ میرے لیے یہی اچھا ہے اور اس لیے ٹھیک نہیں ہے کہ عظیم اس رشتے کو برقرار رکھنا چاہتا تھا جو میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ اس لیے کچھ عرصہ پریشانی میں گزرے گا، ہم دونوں جلد ہی ایک دوسرے کو بھول جائیں گے۔
فریدہ کے چہرے پر بڑھتی ہوئی پریشانی کے ساتھ میرے اندر نہ جانے کیوں ایک اطمینان کی لہر سی دوڑگئی تھی جس نے پُرسکون کردیا۔ یہی اچھا تھا۔ شاید میرے دل نے آہستہ سے کہا تھا۔
ٹھیک ہے شازیہ مگر وجہ تو بتاؤ میں نے فریدہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
سب ٹھیک ہے ابو سب ٹھیک ہے، میں نے سب کچھ ای میل میں لکھ دیا ہے اسے پڑھ لیں۔ پھر خدا حافظ کہہ کر اس نے فون بند کردیا تھا۔
ای میل میں لکھا تھا:
ابو امی!
پہلے تو مجھے اس بات کے لیے معاف کردیں کہ میرے اس فیصلے کے بعد دوستوں اور رشتہ داروں میں جو سبکی ہوگی وہ میری وجہ سے آپ دونوں کو ہی سہنا ہوگا۔ اس بات کے لیے بھی معاف کردیں کہ بظاہر ایک اچھے رشتے سے میں اپنی مرضی سے خود ہی الگ ہورہی ہوں جس کا آپ دونوں کو بھی افسوس ہوگا۔ مجھے احساس ہے کہ آپ دونوں کو بھی عظیم اچھے لگے تھے۔ عظیم مجھے بھی اچھے لگے اور شاید وہ اچھے بھی ہوں لیکن زندگی صرف عظیم کے ساتھ تو نہیں گزارنی ہے۔
وہ جس خاندان کا حصہ ہے اس خاندان کا ایک طریقہ زندگی ہے، اس طریقۂ زندگی کے ساتھ زندگی گزارنا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ وہ طریقہ زندگی، ان کے رہنے سہنے کے اصول، ان کی زندگی کا دستور میری آپ کی ہم سب کی زندگی سے مختلف ہے۔ بہت مختلف بلکہ ناقابل برداشت۔
ابو، ان کے گھر میں تھوڑے ہی دن رہنے سے یہ اندازہ ہوگیا کہ ان کی امارت، دولت اور عظمت کے پیچھے بہت سارے جھوٹ، دھوکے اور بے ایمانیاں ہیں، وہی طریقہ حیات ہے جس سے تمام عمر آپ نے اور میں نے نفرت کی ہے۔ جتنے دن میں وہاں رہی محکمہ زراعت کی ایک اچھی سی گاڑی محکمے کے ڈرائیور کے ساتھ ہمارے حوالے کردی گئی تھی، وہ ڈرائیور بیچارا ہماری ڈیوٹی نبھا رہا تھا، وہ ڈیوٹی جس کا محکمہ زراعت سے کوئی تعلق نہیں تھا، ان کے گھر میں بہت ساری گاڑیاں تھیں، مگر گھر کے لوگوں کے لیے سبزی گوشت پرچون کا سامان لانے کے لیے، گھر کے بڑے بوڑھوں کے لیے، میں اور امی جیسے مہمانوں کے لیے۔
حکومت کے مختلف محکموں کی گاڑیاں ڈرائیوروں کے ساتھ موجود تھیں۔ باتوں باتوں میں محکمہ زراعت کے ڈرائیور نے مجھے بتایا کہ گھر کے چوکیدار بھی محکمہ پولیس سے آئے ہیں۔ باورچی سرکاری ہسپتال کا ہے اور صفائی ستھرائی کرنے والے میونسپلٹی کے ملازم ہیں جو اپنی ڈیوٹیاں اس گھر میں دیتے ہیں۔ عظیم کے خاندان کے سرکاری افسران اور سیاسی عہدیدار سرکار کی ہر رعایت کا فائدہ اُٹھارہے تھے۔ زمینداری تو اپنی جگہ پر مگر شان وشوکت سرکار کے کارندوں کی وجہ سے تھی۔
اس دولت اور امارت کا کیا فائدہ ہے، ابو جب پورا خاندان جونک بن کر سرکار کو چوس رہا ہے، میں نے عظیم سے بات کی تھی، میرا خیال تھا کہ وہ میری بات کو سمجھ لے گا مگر یہ میری بھول تھی۔ وہ کیسے سمجھتا وہ سمجھ نہیں سکتا تھا۔ کیمبرج اورلندن میں اپنی پلیٹ خود دھونے والا اپنے کپڑے خود استری کرنے والا عظیم لاہور میں مختلف تھا۔ چال ڈھال کا انداز بات کرنے کا طریقہ، اٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ سب کچھ بدل گیا تھا اس گھر میں داخل ہونے کے ساتھ۔ اس کو میری بات سمجھ میں نہیں آئی۔ اسی طریقۂ زندگی سے واقف تھا وہ۔ لندن یورپ میں چند سال گزار لینے سے زندگی کے وہ طور طریقے نہیں بدلتے ہیں جو ان خاندانوں کی میراث ہے۔
اس نے پیدا ہونے کے بعد سے آج تک زندگی ایسے ہی گزاری تھی یہی اس کا سچ تھا اس کے علاوہ کوئی بھی معیار، کوئی بھی اصول اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ وہ لندن کی سڑکوں پر ٹریفک کے قوانین کا پابند تھا مگر لاہور میں نہیں۔ انگلستان اور یورپ کی بڑی شاہراہوں پر چنگی دیتا تھا مگر پاکستان میں نہیں۔ چنگیاں اور ٹیکس تو چھوٹے لوگ دیتے ہیں، رعایا کا کام ہے یہ حکمرانوں کے لیے الگ قانون ہے اور رعیت کے لیے الگ۔ وہ پاکستان کی اس بدبودار اشرافیہ کا رکن ہے جس کے سچ اور جھوٹ دنیا کے سچ اور جھوٹ سے مختلف ہیں۔ اس کے اور اس کے خاندان کے اور اس جیسے خاندانوں کے بہت سے چہرے ہوتے ہیں، اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔
ابو میری سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ ان گھروں کی مائیں اپنے بچوں کو کیا سکھاتی ہیں کیسے دیکھتی ہیں کہ ان کے نہ کوئی اصول ہیں اور نہ ہی کوئی ایمان۔ کیسے زندگی گزارتے ہیں یہ لوگ لوٹے ہوئے پیسوں پر اور کس طرح استعمال کرتی ہیں ان اداروں کو جن کا استحصال ان کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے کرتے ہیں عظیم بھی کوئی مختلف نہیں تھا ان بچوں سے جو ایسے گھرانوں میں جنم دیتے ہیں، جھوٹ، بے ایمانی اور غریبوں کے استحصال سے ان کی پرورش ہوتی ہے۔ آنکھ کھلتے ہی اور ہوش سنبھالتے ہی یہ سمجھتے ہیں کہ عوام، سرکار اور سب کچھ پر ان کا حق ہے اور یہی صحیح ہے۔ غلطی تو میری تھی جسے یہ سب کچھ نظر نہیں آیا تھا۔
اسے میری باتوں پرحیرت ہوئی۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی، میں رشتہ توڑنا نہیں چاہتی تھی وہ مجھے اچھا لگتا ہے اچھا لگا تھا۔ میں نے کہا تھا کیوں ناں ہم دونوں لندن میں سادگی سے شادی کرکے یہیں رہ لیں۔ ایسی زندگی گزاریں جس میں دوسروں کا خون پسینہ بھوک حق نہیں شامل ہو۔ یہاں ہم اچھے سے رہ سکتے ہیں بغیر جونک بنے ہوئے۔
مگر وہ ہنس دیا تھا، الو! کیسی بے وقوفی کی باتیں کرتی ہو ہم لوگ ایسی زندگی کا تجربہ کرسکتے ہیں اس طرح گزار نہیں سکتے۔ ہزاروں سال پہلے بھی سماج ایسا ہی تھا اب بھی ایسا ہی ہے اور ایسا ہی رہے گا چیزیں بدل جاتی ہیں اصول نہیں بدلتے ہیں۔ اس نے جواب دیا تھا مجھے پہلی دفعہ اس سے گھن سی آئی تھی۔
یہ زندگی کا پہلا دھوکہ اور پہلا صدمہ ہے جسے میں جھیل لوں گی۔ آپ دونوں اپنا خیال رکھیں اور مجھے معاف کر دیجئے گا۔
میں نے دل ہی دل میں شازیہ کو کئی دفعہ چوما۔ میرا سینہ غرور سے بھر گیا تھا۔
Jul 9, 2018

