چینیوں کی عربی زبان میں دلچسپی اچانک بڑٖھنے کیوں لگی؟

چین اور عرب ممالک کے تعلقات میں ماضی کے برعکس اب غیر معمولی گرمجوشی دیکھنے میں آرہی ہے۔ یہ گرمجوشی صرف حکومتی سطح پر ہی نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات عوامی سطح پر بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔ اس کی ایک دلچسپ مثال چین میں عربی زبان کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت ہے۔
گلف نیوز کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات دیگر عرب ممالک کے ساتھ چین کے تعلقات بڑے پیمانے پر مضبوط اور مستحکم ہوتے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں چینی شہریوں کی بڑی تعداد ان ممالک کا رُخ کرنے لگی ہیں۔ عرب ممالک میں ملازمتوں کے حصول اور سماجی میل جول کو سہل بنانے کیلئے ان چینی شہریوں کو عربی زبان سیکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ چین میں عربی زبان کی تعلیم حیرت انگیز ترقی کر رہی ہے۔
بیجنگ فارن سٹڈیز یونیورسٹی کے پرفیسر لیوشینلو ، جوکہ فیکلٹی آف عربی مطالعہ کے ڈپٹی ڈین ہیں، نے بتایا کہ ’’گزشتہ چند سالوں کے دوران عربی زبان نے چین میں بے پناہ ترقی کی ہے۔ جب میں طالب علم تھا تو پورے چین میں سات یا آٹھ یونیورسٹیاں تھیں جہاں عربی پڑھائی جاتی تھی، اب 50سے زائد چینی یونیورسٹیوں میں عربی زبان کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ چین میں دو کروڑ سے زائد مسلمان ہیں اور ہمارے خیال میں عربی زبان اُن کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ لیکن یہ عربی زبان کی تعلیم عام ہونے کی بنیادی وجہ نہیں ہے۔ دراصل اس کی بنیادی وجہ چین اور عرب ممالک کے وسیع ہوتے تعلقات ہیں ، جن کا دائرہ صرف تجارتی ہی نہیں بلکہ سیاسی و ثقافتی شعبوں تک بھی پھیل رہا ہے۔‘‘


