فاروق ہوٹل ڈوب رہا ہے


ستر کی دھائی میں آزاد پتن سے کہوٹہ تک سڑک پختہ ہوگی۔ ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت نے جی ٹی ایس کے نام سے ایک بس سروس شروع کی۔ قبل ازیں زمان بس، طارق بس بھی چلتی تھیں لیکن وہ زیادہ تر پلندری سے ہو کر راولا کوٹ جاتیں تھیں۔ یوں بہت وقت صرف ہوتا۔ جی ٹی ایس کی ڈائریکٹ سروس تھی راولاکوٹ کے لیے۔ چھہ سات گھنٹے میں لوگ گھر پہنچ جاتے۔ یہ ایک سماجی انقلاب تھا کہ لوگ چھہ سات گھنٹوں میں یہ سفر طے کرنے لگے، جو ان کے بزرگ محض ایک ایک ڈیڑھ عشرے قبل دو دنوں میں پیدل طے کیا کرتے تھے۔

میرے ساتھی قیصر خان نے خستہ حال میز پراپنے گولڈ لیف کے سیگرٹ کی راکھ بکھیری تو محمد رمضان کچھ غم گین سے ہوگئے۔ بتانے لگے کہ چچا محمد فاروق اسی طرح بگلے کے سگریٹ پیتے اور دھواں ہماری طرف اچھالا کرتے تھے۔ ہم دونوں نے بھی اظہار یک جہتی کی خاطر چہروں پر منصوعی اداسی طاری کی اور رمضان کی باتوں میں گہری دل چسپی لینا شروع کردی۔ فاروق چچا کا ہوٹل شروع میں ڈھابا سا تھا۔ چارپائیوں پر لوگ بیٹھ جاتے بلکہ ”پونچھی“ تھکے ہارے بسوں سے اترتے تو دوڑ کر بان کی چارپائیوں پر لیٹ جاتے۔ چند ایک لکڑی کے بنچ بھی آس پاس پڑے ہوتے۔ نماز کے لیے بھی ایک جگہ ہم وار کر کے پتھر کی سلیں بچھائی گئی تھیں۔ ہوٹل کی شکل آہستہ آہستہ بنتی گئی۔ میرے والد محمد صابر ملک بھر کی خاک چھانے کے بعد فوج سے رِٹائر ہوئے تو ہم نے پنشن کی رقم کا ایک حصہ فاروق ہوٹل کو ”معیاری‘‘ شکل دینے پر صرف کیا۔

گاڑی راولا کوٹ یا پلندری سے چلے یا ریلوے روڑ صدر راولپنڈی سے اس کا مستقل پڑاو فاروق ہوٹل ہوتا۔ رمضان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ فاروق صاحب خاصے ذہین کاروباریے تھے۔ وہ ڈرائیوروں اور ان کے مہمانوں کی خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتے۔ ان کی پسند کا کھانا اور اعلیٰ پائے کی دودھ پتی ہر وقت حاضر رہتی۔ دودھ پتی ڈرائیوروں اور ان کے مہمانوں کو ہشاش بشاش کردیتی۔ ہمارے مقابلے میں بہت سارے اور بھی ہوٹل کھلے لیکن اکثر نے چند ماہ بعد دُکان بڑھائی اور اگلے ٹھکانے کی تلاش کو چل پڑے۔

سفر طویل، سڑک تنگ اور گاڑیاں پرانی ہوتی تھیں لہٰذا راستے میں کوئی نہ کوئی گاڑی خراب ہوجاتی۔ فاروق چچا خاموشی کے ساتھ انہیں کھانا پہنچاتے۔ بسا اقات مستری کا بھی بندوبست کرتے۔ بل کا کبھی تقاضا نہ کرتے۔ اب ڈرائیور بسیں بھر بھر کر ہمارے ہوٹل پر رکتے۔ خوب رش ہوتا۔ کئی کئی ملازم لوگوں کی خدمت پر مامور تھے لیکن پھر بھی کمی کوتاہی ہوجاتی۔

رمضان بتاتے ہیں کہ گزشتہ اٹھارہ برسوں سے بسیں چلانے کا رواج ختم ہو گیا۔ اب ٹیوٹا ہائی ایس یا پھر نجی ٹرانس پورٹ کا اس سڑک پر راج ہے۔ ایک بڑا پل بھی موجود ہے۔ ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ اگلے چند برسوں میں ہمارا ہوٹل اور یہ سڑک سب کچھ آزاد پتن ڈیم کی نذر ہوجائے گا۔ دکھی دل کے ساتھ محمد رمضان نے کہا کہ اللہ تعالے ہمارا رازق ہے۔ اس جگہ کی یادیں اور باتیں دل اور دماغ سے کبھی کھرچی نہ جاسکیں گی۔ پون صدی اس دریا کی موجیں گنتے ہوئے گزر گئیں۔ ہماری تیسری نسل اب یہ ہوٹل چلا رہی ہے۔

محمد رمضان کو بتایا کہ چند ماہ بعد اس ہوٹل سے سات کلومیڑ اوپر نجی شعبے میں ”آزادپتن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ‘‘ کا منصوبہ شروع ہونے والا ہے، جو پانچ برس کے عرصے میں سات سو میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا۔ یہ سن کر وہ آب دیدہ ہوگئے۔ کہنے لگے ہمارا سب کچھ ڈوب جائے گا۔ میں نے سر اثبات میں ہلایا اور انھیں مستقبل کے سہانے خواب دکھانے لگا۔

رمضان صاحب، یہ سارا علاقہ ایک بہت خوب صورت جھیل میں تبدیل ہوجائے گا۔ دور دیسوں سے لوگ یہاں سیر کو آئیں گے۔ کشتیاں چلیں گی۔ بچے کھیلیں کودیں گے۔ لوگ سلفیاں بنائیں گے۔ فاروق ہوٹل کے پرلی جانب یعنی دریائے جہلم کے بائیں کنارے پر ایک بہت بڑی شاہ راہ بنائی جانے والی ہے، جسے مانسہرہ، مظفرآباد، میرپور ایکسپریس وے کا نام دیا گیا ہے۔ اس شاہ راہ کی تعمیر سے ایک خطے کے باسیوں کی زندگی میں ایک انقلاب آ جائے گا۔ میری باتیں سن سن کر محمد رمضان کا مرجھایا ہوا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔ بولے تو پھر فاروق ہوٹل میں رش بہت بڑھ جائے گا۔ آج کل پندرہ لاکھ سیاح آزاد کشمیر آتے ہیں اگر یہ شاہ راہ اور بجلی کے منصوبے مکمل ہوگے، تو کم ازکم ہر سال پچاس لاکھ سیاح اس علاقے کا رخ کریں گے۔ محمد رمضان کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا کہ اسے یقین نہیں آیا کہ ہماری زندگی میں ایسا ہونے جا رہا ہے۔

انھیں بتایا کہ آپ اب ایک اعلیٰ معیار کے ہوٹل کی تیاری کریں، جہاں دوتین ہزار لوگ روز کھانا کھا سکیں۔ کچھ اور لوگ بھی ہماری باتیں کان لگا کر سن رہے تھے۔ ایک صاحب نے جھٹ سے پوچھا کہ ہماری زمینوں کی قیمت بھی بڑھ جائے گی۔ کوڑیوں کے مول بکنے والی زمین سونے کے بھاو بکے گی۔ چند روز اور مری جان، فقط چند ہی روز۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ershad.mahmud@gmail.com

irshad-mehmood has 178 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood