جسٹس شوکت صدیقی کے الزامات: عدلیہ، خفیہ ادارے اور جمہوریت


جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر میں عائد کئے جانے والے الزامات کے طریقہ کار اور حکمت پر سوال اٹھانے کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ انتخابات سے فوری پہلے ان باتوں کا ملکی سیاست پر اثر مرتب ہو گا۔ اسی طرح یہ بحث زیادہ شدید اور سنگین صورت اختیار کرجائے گی کہ ملک کے حساس اداروں کی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں کیا ہیں اور ان کی نگرانی کیسے کی جاتی ہے۔ سیاست میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت کا معاملہ اصغر خان کیس میں ثابت ہو چکا ہے۔ اس مقدمہ کے فیصلہ کے مطابق سابق آرمی چیف جنرل (ر) اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی ایک مخصوص پارٹی کو انتخابات میں ناکام کروانے کے لئے متحرک رہے تھے اور مخالف سیاسی گروپوں اور لیڈروں میں اس مقصد کے لئے رقوم تقسیم کی گئی تھیں۔ اس طرح خفیہ ایجنسیوں کے ملکی سیاست پر اثر انداز ہونے کے الزامات ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فورم پر ثابت ہوچکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب تک یہ طریقہ جاری ہے؟

ملک کے بیشتر سیاست دان موجودہ انتخابات کے حوالے سے پری پول رگنگ کے الزامات عائد کرتے ہوئے اس طرف اشارہ کرتے رہے ہیں۔ انتخابات سے پہلے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے متعدد الیکٹ ایبلز کی اڑان اور سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف سیاسی تحریک منظم و متحرک کرنے کے لئے درپردہ عناصر کی سرگرمیاں اکثر مباحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ سینیٹ کے سابق چئیرمین رضا ربانی نے آج سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور عبوری حکومت کی غیر جانبداری کو مشکوک قرار دیا ہے۔ آرمی چیف اور پاک فوج کے ترجمان حال ہی میں انتخابات میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے بریت کا اعلان کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ فوج صرف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سیکورٹی فراہم کرنے کا کام کرے گی۔ تاہم ملک میں عام طور سے اس دعوے کو قبول نہیں کیا جاتا۔ انتہائی محتاط اور نظام دوست تبصرہ نگار بھی مستقبل کی سیاسی صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ قرار دیتے ہیں کہ اس بار تحریک انصاف کو موقع دینے اور مسلم لیگ (ن) کا راستہ روکنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ یا خفیہ اداروں کی مداخلت کا یوں اظہار ہوتا ہے کہ نواز شریف فوج سے تصادم کی پالیسی کی وجہ سے اس انجام تک پہنچے ہیں۔ یہ بات تو فوج اور اسٹبلشمنٹ کے سب سے بڑے ہمدرد چوہدری نثار علی خان بھی بار بار کہہ چکے ہیں۔

اسی طرح انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لئے ملک میں صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ پر اسرار قوتیں پاکستان تحریک انصاف کے لئے مزاج تیار کرنے کی ہدایات دیتی ہیں۔ مالکان نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے آزادی اظہار پر سخت ترین پابندیاں قبول کرلی ہیں جنہیں ’سیلف سنسر شپ‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ روزنامہ ڈان کے چیف ایگزیکٹو حمید ہارون نے گزشتہ دنوں بی بی سی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں اخبار کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام فوجی اداروں پر عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ ملک کے صحافیوں کو بدترین دباؤ کا سامنا ہے۔

اس دوران عابد باکسر نامی سابق ٹارگٹ کلر کی اچانک پاکستان واپسی، عدالت سے فوری ضمانت اور اس کے بعد شہباز شریف کے خلاف ٹی وی انٹرویوز بھی انتخابات میں مطلوبہ نتائج لینے کے لئے کسی خفیہ قوت کی موجودگی کا پتہ دیتے ہیں۔ اسی طرح کراچی کے بدنام زمانہ معطل ایس ایس پی راؤ انوار کی ضمانت پر رہائی بھی ملکی سیاست، عدالتی نظام اور بنیادی حقوق کے حوالے سے متعدد سوالات سامنے لاتی ہے۔ راؤ انوار پر ایک نوجوان نقیب اللہ کو ماورائے عدالت کارروائی کرتے ہوئے قتل کرنے کا الزام ہے اور اس نے چیف جسٹس ثاقب نثار کے سو موٹو نوٹس کے تحت کارروائی کے بعد گرفتاری دی تھی۔

اس قتل سے پیدا ہو نے والے غم و غصہ نے پشتون تحفظ موومنٹ کی صورت اختیار کی ہے جسے پشتون عوام میں ذبردست پذیرائی نصیب ہوئی ہے۔ لیکن فوج کے ترجمان نے اس تحریک کو بیرون ملک سے ملنے والی امداد کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا تھا۔ تاہم جب راؤ انوار جیسے مشکوک کردار کو انتخابات سے پہلے رہا کیا جائے گا اور عابد باکسر جیسے بد کردار لوگوں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا کھیل طشت از بام ہو گا تو سیاسی و انتظامی معاملات کے علاوہ عدالتی امور میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں شبہات پیدا ہوں گے۔ ہائی کورٹ کا ایک سینئر جج جب ان شبہات کو زبان دے رہا ہے تو ان کی سنگینی اور نقصان کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔

اس صورت حال میں یہ ضروری ہے کہ ایجنسیوں کے ذریعے سیاسی رسوخ حاصل کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور آئی ایس آئی یا دیگر اداروں کو سیاست دانوں کی نگرانی کرنے یا ان کی کمزوریوں کا ریکارڈ جمع کرنے کی بجائے ان عناصر کے خلاف کام کرنے پر مامور کیا جائے جو اس ملک کے لوگوں کو دہشت گردی کے ذریعے ہلاک کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ فوجی انٹیلی جنس اداروں کے سیاسی سیل فوری طور پر بند ہونے چاہئیں اور ان کے دائرہ کار کے بارے میں واضح حدود متعین کی جائیں۔ ان اداروں کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے فوج کا احترام متاثر ہوتا ہے اور ملک میں جمہوریت کے بارے میں فوج کی نیت پر شبہات کا اظہار سامنے آتا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ فوج کی غیر جانبداری اور جمہوریت پر مکمل یقین کا اظہار کرچکے ہیں۔ آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ کو ختم کر کے وہ اپنے ان نیک ارادوں کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali