زرداری کے خلاف جھوٹے مقدمات بنانے والوں کے اعترافات


4. ڈکٹیٹر پرویز مشرف

ڈکٹیٹر پرویز مشرف بھی وہ حکمران تھے، جن کے دورِ حکومت میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف کیسز چلتے رہے۔ 1996ء سے گرفتار آصف علی زرداری اِن کے دور میں 12 اکتوبر 1999ء سے لے کر 22 نومبر 2004ء تک قید میں رہے۔ پرویز مشرف نے بھی آصف علی زرداری پر مزید دو ریفرنس دائر کیے تھے (جن سے آصف علی زرداری باعزت بری ہو گئے تھے)۔

یاد رہے کہ فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد آصف علی زرداری نے سیاسی تدبر سے سابق ڈکٹیٹر کو بتدریج بند گلی کے آخری سِرے تک پہنچا دیا۔ حالات اِس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ ڈکٹیٹر کو اپنی وردی (جسے وہ اپنی کھال سے تشبیہ دیتے تھے) اُترنے کے بعد اپنی اصلی کھال کے اُترنے کی فکر پڑ گئی۔ جس کی وجہ سے ڈکٹیٹر اپنے اِدارے کی مدد سے معافی تلافی کراتے ہوئے بیرونِ ملک سُدھار گئے اور اُس وقت تک واپس تشریف نہیں لائے جب تک پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت رہی۔ مگر نگران حکومت کے بننے کے پہلے ہی دن ڈکٹیٹر پرویز مشرف واپس پاکستان لوٹ آئے۔

مجبوراً اقتدار سے باہر ہونے والے ڈکٹیٹر پرویز مشرف یہ بات بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اُنھیں اقتدار سے باہر نکالنے کے لیے محترمہ بینظیر بھٹو نے بنیاد رکھی اور اختتام آصف علی زرداری نے کیا۔ اِسی لیے پرویز مشرف آصف علی زرداری کے انتہائی خلاف ہیں اور اکثر اِن پر اپنے غصے کا اظہار بھی وافر مقدار میں کرتے رہتے ہیں۔ مگر اِس کے باوجود یہ ناقابل تردید تاریخ ہے کہ مارچ 2010ء میں پرویز مشرف کو میڈیا کے سامنے سوئس کیسز کے بارے میں کُھلا اعتراف کرنا پڑا کہ "یہ کیسز ایک فرضی داستانیں ہیں، اُن کی حکومت نے سوئس حکومت سے بار بار رابطہ کیا مگر جواب میں بتایا گیا کہ وہاں کوئی رقم نہیں پڑی ہوئی۔ سوئس حکومت کا کہنا تھا کہ یہ سب داستانیں اُنھیں پاکستانی میڈیا کے ذریعے سُننے کو ملتی ہیں۔ مشرف کا مزید کہنا تھا کہ ان فضول کیسز کی بیرونِ ملک تفتیش کرنے سے حکومتِ پاکستان کے کروڑوں روپے خرچ ہوئے مگر پاکستان کو ایک دھیلے کا بھی فائدہ نہیں ہوا”۔ مزید برآں، پرویز مشرف کی طرف سے این آر او کے ذریعے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف سب مقدمات واپس لینے کا ایک مکمل اعتراف تھا کہ یہ مقدمات جھوٹے ہیں (یہ بات بھی یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی طرف سے این آر او کی کالعدمی کے بعد افتخار چوہدری نے آصف علی زرداری کے خلاف کیسز کو خوب مصالحے دار بنایا اور باکمال شعبدہ بازی کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف خوب پروپیگنڈہ کیا۔ آخرکار، سب کیسز جھوٹے ثابت ہوئے اور آصف علی زرداری سب مقدمات میں باعزت بری ہوئے)۔

5. سیف الرحٰمن

نواز شریف حکومت کے دُوسرے دورِ حکومت میں قومی اِحتساب بیورو کے سابق چیئرمین سیف الرحمٰن نے نواز شریف کی خواہش پر بیگم نصرت بھٹو، محترمہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور حاکم علی زرداری کے خلاف ریفرنسز دائر کیے۔ اِن ریفرنسز میں اہم سوئس کیسز بھی شامل تھے۔ 12 اکتوبر 1999ء کو ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے آنے کے بعد سیف الرحمٰن بھی گرفتار ہو گئے تھے۔ خاندانِ شریفیہ تو پرویز مشرف سے معافی مانگ کر سرور پیلس سعودی عرب سدھار گیا مگر سیف الرحمٰن اڈیالہ جیل میں ہی رہ گئے۔ اس دوران جب ایک دن آصف علی زرداری کو جیل سے راولپنڈی کی احتساب عدالت میں پیشی پر لایا گیا تو سیف الرحمٰن کو بھی اُسی عدالت میں پیشی کے لیے ہتھکڑیوں میں وہاں پیش کیا گیا۔ سیف الرحمٰن نے جیسے ہی آصف علی زرداری کو دیکھا تو اُن کے قدموں میں گِر کر گِڑ گڑا کر معافیاں مانگنے لگے۔ صحافی حامد میر بھی دوسرے صحافیوں اور لوگوں کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری سے مخاطب سیف الرحمٰن نے صاف الفاظ میں کہا کہ "میں نے آپ پر جھوٹے مقدمات بنا کر ظلم کیا، مجھے جو حکم دیا گیا، میں نے وہی کیا تھا، مجھے معاف کر دیں”۔ حامد میر کہتے ہیں ان کے لیے یہ ایک ناقابلِ یقین منظر تھا، آصف علی زرداری سے سیف الرحمٰن نے معافی مانگ کر سر اوپر اٹھایا تو اُس کی نظر اُن پر پڑی، سیف الرحمٰن نے فوراً آنسو پونچھے اور زرداری صاحب کو دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہو گئے۔ حامد میر اِس بارے سوال کرتے ہیں "اگر آپ میری جگہ ہوتے اور آپ نے سیف الرحمٰن کو زرداری صاحب کے قدموں میں گر کر معافی مانگتے دیکھا ہوتا تو آپ کس کو سچا سمجھتے؟”

یاد رہے یہ وہی سیف الرحمٰن ہیں، جنھوں نے نواز شریف کے حکم پر لاہور ہائی کورٹ کے ججوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے سوئس کیسز میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سات سال قید، ساری جائیداد ضبط اور سارے اکاؤنٹس سیز کروانے کی سزائیں سنوائی تھیں، جو بعد میں شریفوں کی ججوں کے ساتھ ملی بھگت ثابت ہونے پر کالعدم ہو گئی تھیں۔ سیف الرحمٰن نے انہی مقدمات میں سوئیٹزر لینڈ میں سوئس انویسٹیگیٹنگ جج سے بھی ملی بھگت کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر وہاں شواہد نہ ہونے کی وجہ سے مقدمات چلانا تو دور کی بات مقدمات فائل تک کروانے میں ناکام رہے۔

6. شہباز شریف

کون سی بدتمیزی ہے، جو شہباز شریف نے آصف علی زرداری کے ساتھ اُن کے دورِ صدارت کے دوران روا نہ رکھی ہو؟ یہی شہباز شریف تھے، جو نواز شریف کی خواہش پر سیف الرحمٰن کے ساتھ مل کر ججوں سے گٹھ جوڑ کر کے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں دلوانے کے لیے پیش پیش تھے۔ پورے پانچ سال کے دوران وزیرِ اعلٰی پنجاب نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا سرکاری طور پر استقبال کرنے سے گریز کیا۔ بعد میں حالات نے پلٹا کھایا اور 2014ء میں اُنگلی کے اشارے پر سٹیج کیے گئے عمرانی دھرنے کے دوران شریفین ایک بار پھر آصف علی زرداری کے قدموں میں گِر گئے۔ یہ حالات کی ستم ظریفی ہی کہیے کہ آصف علی زرداری کی جاتی عمرہ آمد پر شہباز شریف اُن کے لیے 72 کھانوں کی ڈشیں اپنی نگرانی میں بنواتے ہوئے نظر آئے۔ شہباز شریف نے وہاں اپنی ماضی کی زیادتیوں اور اپنی ٹانکا ٹوٹی زبان کی کارستانیوں پر معافی مانگی۔ بعد میں 3 جون 2015ء کو بھی میڈیا کے سامنے شہباز شریف نے ماضی میں آصف علی زرداری کے خلاف دیئے گئے اپنے بے ہودہ بیانات پر ایک بار پھر معذرت کی۔

7. نواز شریف

نوازشریف وہ شخصیت ہیں، جنھوں نے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف قابلِ نفرین حد تک پروپیگنڈہ کیا اور کیسز کا انبار لگا دیا۔ اسے تقدیر ایزدی کا کمال ہی کہیئے کہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں میاں نوازشریف کو لانڈھی جیل میں اُسی کھولی میں قید کیا گیا، جس میں مختلف ادوار کے دوران محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری قید رہے تھے، چشم دید گواہوں کے مطابق نواز شریف اُسی کھولی کے دروازے کو پکڑ کر دھاڑیں مار کر روتے تھے۔ خیال رہے کہ آصف علی زرداری 1996ء سے ہی قید میں تھے۔ جب نواز شریف کو لانڈھی جیل میں قید کیا گیا تو اُس وقت آصف علی زرداری سنٹرل جیل کراچی میں قید تھے۔ نواز شریف نے جیل سے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف جُھوٹے مقدمات بنانے پر نوید چوہدری کے ذریعے پیغام بھیج کر آصف علی زرداری سے معافی مانگی۔

بعدازاں، نواز شریف ڈکٹیٹر پرویز مشرف سے معافی مانگنے اور دس سالہ معاہدے کے تحت جب سعودی عرب میں تھے، تو انھوں نے وہاں صحافی سہیل وڑائچ سے "غدار کون؟ نواز شریف کی کہانی اُن کی زبانی” نامی کتاب لکھوائی۔ آیئے، آپ کو اس کتاب کے صفحہ نمبر 137 پر لے چلتے ہیں۔

سوال: آپ کے دوسرے دور میں کئی پیچیدہ سیاسی مسائل پیدا ہوئے آپ نے احتساب کا ایسا طریق کار اپنایا کہ اپنی قائد حزبِ اختلاف بے نظیر بھٹو کا پتہ ہی صاف کر دیا، کیا یہ جمہوری رویہ تھا؟

نواز شریف: احتساب کا طریق کار غلط تھا۔ ہمیں اس حوالے سے اکسایا گیا تھا۔ فوج اور آئی ایس آئی کا ہم پر دباؤ تھا۔ جان بوجھ کر ہم سے بے نظیر اور اپوزیشن کے خلاف ایسے اقدامات کروائے گئے تاکہ سیاست دانو ں کا اعتبار ختم ہو جائے۔

اِس کے بعد جب بھی نواز شریف کی آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی، اُنھوں نے بار بار قسمیں کھاتے ہوئے آصف علی زرداری کو یہ یقین دھانی کروانے کی بھرپور کوششیں کیں کہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات ملٹری کے پریشر پر بنائے گئے تھے۔ یاد رہے کہ نواز شریف کے پہلے دونوں ادوار میں آصف علی زرداری مکمل طور پر قید رہے، وہ ایک بار ضمانت پر بھی رہا نہیں ہوئے۔ حتٰی کہ اُنھیں والدہ کے جنازے میں شریک ہونے کے لیے پیرول پر رہا تک نہ کیا گیا۔

اگر مندرجہ بالا ناموں کو دیکھا جائے تو یہ وہی لوگ تھے، جنھوں نے آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات بنائے اور پروپیگنڈے کے طوفاں بپا کیے۔ بعد میں وہ سب کے سب آصف علی زرداری سے معافیاں مانگ چکے (اگر کسی نے بظاہر معافی نہیں مانگی تو اُس نے اپنے عمل سے یہ ضرور ثابت کیا کہ وہ بالکل جھوٹا تھا اور آصف علی زرداری سچا) اور اقرار کر چکے کہ اُنھوں نے جھوٹے مقدمات بنا کر جَھک فرمائی تھی۔ اگر کسی کے پاس رتی برابر بھی عقل ہو اور اُس کے ضمیر میں ذرا برابر زندگی کی رمق باقی ہو تو وہ ایک ثابت شدہ جھوٹ پر اصرار نہیں کرے گا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2