میڈیا تباہی لا رہا ہے
جب ہم یورپ کے زرعی بادشاہت کے دور سے صنعتی جمہوری دور تک کے تاریخی سفر کا مطالعہ کر کے وہاں کے سرمایہ دار طبقے اور عوام کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے نشوونما پانے والے پانے والے اداروں کے کردار اور مقبوضہ ملکوں میں کالونی گیروں کی طرف سے اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے مسلط کیے گئے یورپ کے ہم نام اداروں کے کردار کا موازنہ کرتے ہیں تو ہمیشہ یہ بات نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہاں انتظامی ڈھانچہ اور عدالتیں ہمیں انصاف مہیا کرنے کے لیے نہیں قانون مسلط کرنے کے لیے قائم کی گئی ہیں۔
پارلیمنٹ کی بجائے تاج برطانیہ کے نمائندے کبھی وائسرائے کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک دربار کے طور پر متعارف کروائی گئی تھی۔
پاکستان بننے کے ساتھ ہمیں یہ تمام ادارے اور محکمے برطانوی کالونیل ورثہ کے طور پر ملے ان کا کردار آج بھی حکمرانوں کے مفادات کی نگرانی کرنا ہے یہاں بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ پاکستان میں موجود برطانوی اداروں کئی ہم نام کالونیل ادارے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہی کردار اپنا لیں گے جس کردار کا سرمایہ دارانہ نظام ان سے تقاضہ کرتا ہے مطلب عدلیہ حکمران طبقے کی خدمت گزار بن کر اکثریت کو قانون کے نام پر قیدی رکھنے کی بجائے عام آدمی کو انصاف مہیا کرنا شروع کر دے گی۔
عوامی نمائندے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی بیورکریسی اور عوام کے درمیان دلدلی کے فرائض سر انجام دینے کی بجائے ایسے سسٹم کو متعارف کروانے کی کوشش کریں گئے کہ جس سے ہر شخص بلا جھجھک کسی بھی دفتر میں جا کر خود اپنا کام کروا سکے گا۔
اس طرح میڈیا کے بارے میں بھی یہی خیال کیا جاتا تھا کہ چونکہ میڈیا کیپٹل ازم کی ضرورتوں کی پیداوار ہے آزادی صحافت کے لیے بے شمار صحافیوں کی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے عام لوگ بھی یہی اندازہ لگاتے تھے کہ پابند میڈیا اپنی آزادی کے لیے لڑائی لڑتے ہوئے وہ صحافتی کردار ادا کرے گا جس پر لوگوں کو اعتماد ہو گا جس کی غیر جانبداری شک و شبہ سے بالا تر ہو گی۔
جمہوریت انسانی حقوق اور اظہار رائے کے حق کی حفاظت کرے گا مگر الیکٹرانک میڈیا کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آزاد صحافت کے نام پر اپنے صحافتی کاروبار کو منافع بخش بنانے کے لیے یا اپنا کاروبار بند ہونے کے خوف سے بڑھ چڑھ کرنا بظاہر نادیدہ قوتوں کی خوشنودی حاصل کی جا رہی ہے۔
یہ بھی دراصل صحافت کا پوسٹ کالونیل کردار ہے، پوسٹ کالونیل کہنا بھی شاید مقصد کو واضح نہ کر سکے، میڈیا کو جو کمرشل اشتہار ملتے ہیں وہ زیادہ تر ملٹی نیشنل کمپنوں کی پروڈکٹ کے ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان کا قومی سرمایہ دار بطور طبقہ پاکستان کی منظم قوت ہوتا تو شاید وہ میڈیا کو سرمایہ دارانہ مقاصد کے لیے استعمال کرتا۔
اب چونکہ پاکستان کی آزاد عدلیہ اور آزاد صحافت پاکستان کی سب سے طاقتور، منظم، مسلح اور سیاسی قوت کے تابع ہے ایسا لگتا ہے کہ مارشل لاء ہمیشہ ایک نعمت کے طور پر قوم کو قدرتی طور پر ملتا ہے سیاستدان آ کر ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتے ہیں پھر فوج کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔
عسکری تجزیہ نگار، متعصب تبصرہ نگار گم نام فون کال سے خوفزدہ رپورٹر، باد شاہ کی خوشامد کو کلمہ حق سمجھنے والے اینکر پرسن ہی میڈیا کہلاتے ہیں وہاں اکا دکا آواز جہالت کے شعور میں ڈبو دی جاتی ہے۔
میڈیا اپنا تاریخی کردار کھو چکا ہے جو لوگ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ آزاد میڈیا کے ہوتے ہوئے مارشل لاء جیسی قبضہ گیر حکومتیں نہیں چل سکتیں، یہاں تو میڈیا فوج کے سیاسی حکومتوں کے غیر مستحکم کرنے کے عمل کو ان کا قومی فریضہ اور نظریاتی سرحدوں کے فوج کے محافظ کے محافظ ہونے کے خود ساختہ بیانئیہ کی تشہیر کو مذہبی فریضہ سمجھ کر ادا کر رہا ہے دوسری طرف پاکستان کا دانشوار طبقہ تعلیم کو شعور کے لیے لازمی قرار دے رہا ہے۔
میڈیا جدید دور میں سیاسی تعلیم کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور وہ جس طرح لوگوں کو غیر سیاسی بنانے پر تلا ہوا ہے اس کا نتیجہ جمود، سیاسی نظریوں کی بجائے سیاسی عقیدوں کے فروغ، سنسنی خیزی پسماندگی پر فخر، ماضی کی طرف لوٹ جانے کا عزم ترقی یافتہ دنیا سے نفرت نمائش مذہبیت اور بے سمتی کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔


