تحریک انصاف کی نہیں، عوام کے سیاسی شعور کی کامیابی
اس سفر میں عمران خان کو حوصلہ دے کر یہاں تک لانے والے ہی ان کے لئے مشکلات کا سبب بھی بنیں گے۔ کیوں کہ قومی مفاد، ملک کی ضروریات اور حکمرانی کے طریقہ کے بارے میں عسکری اداروں نے ایک خاص فارمولا ایجاد کر رکھا ہے جسے عدلیہ کی بالواسطہ تائید و حمایت بھی حاصل ہے۔ منتخب ہوکر معاملات دیکھنے والا ہر لیڈر جب بھی اس طریقہ کی کمزوریوں کو دور کرنے کی خواہش کا اظہارکرے گا، اس کی مشکلات کا آغاز ہوجائے گا۔ اس مشکل میں سیاسی قوتیں باہم دست و گریبان ہو تی ہیں اور برسر اقتدار گروہ سے اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کے لئے اس پرانے کھیل میں وہی مہرہ بننے کے لئے آمادہ ہوجاتی ہیں جو ماضی میں ان کی شکست اور ہزیمت کا سبب بنے تھے۔ اس لئے انتخاب کے بعد ایک پارٹی کو ملنے والی واضح اکثریت کے موقع پر یہ کہنا بے حد ضروری ہے کہ ملک میں جمہوری عمل کی کامیابی سیاسی طاقتوں کی یک جہتی میں ہے۔ اگر یہ قوتیں ایک دوسرے کے خلاف آلہ کار بننے کی روش پر قائم رہیں گی تو ملک پر انہی قوتوں کا تسلط رہے گا جو اگرچہ منتخب تو نہیں ہوتیں لیکن خود کو منتخب اداروں اور افراد سے بہتر اور بالا سمجھتی ہیں۔
کامیابی کے بعد عمران خان نے خاص طور سے پولنگ والے دن کوئٹہ دھماکہ، بلوچ عوام کی بہادری اور جمہوریت پسندی کا ذکر کیا ہے اور ان کے حوصلہ کی داد دی ہے۔ لیکن بطور وزیر اعظم جب وہ معاملات کا جائزہ لیں گے اور سب کو قانون کی نظر میں مساوی دیکھنے کا اقدام کرنا چاہیں گے تو انہیں خبر ہو گی کہ بلوچستان میں لوگ کیوں لاپتہ ہو جاتے ہیں اور انہیں انصاف کیوں نہیں ملتا۔ کیا وجہ ہے کہ ملک کے باقی تین صوبوں کے لوگ ایک پارٹی سے تنگ آکر نئی پارٹی کو منتخب کر لیتے ہیں لیکن بلوچستان میں نمائیندگی کا اختیار انہی مہروں کے ہاتھ میں رہتا ہے جنہیں خواہ کوئی نام دے لیا جائے لیکن ان کا کام اور مقصد صرف ایک ہے۔ کہ عوام کی حاکمیت کی بجائے قومی مفاد کا تشکیل شدہ بیانیہ نافذ کرنے میں مدد کی جائے اور بدلے میں اقتدار کی ضمانت حاصل کی جائے۔ منتخب وفاقی حکومت جب بھی اس صورت حال کو تبدیل کرنے اور قانون کو انسانی حقوق سے کھلواڑ کرنے والے عناصر تک دراز کرنے کی کوشش کرے گی اس کا اپنا عرصہ حیات تنگ ہوجائے گا۔ عمران خان کوا س معاملہ میں استثنیٰ حاصل نہیں ہو سکے گا۔
عمران خان نے آج منتخب ہونے کے بعد بھی مغرب میں عدل کے نظام اور پاکستان میں اس کی کمزوری کا حوالہ دیا ہے لیکن انہیں جان لینا چاہئے کہ عدل کا نظام اسی وقت قابل اعتبار بنے گا جب ملک میں قانون سے بالا اداروں کو بھی قانون کے دائرہ میں لانے کا اہتمام ہوسکے گا۔ یہ انتظام صرف بلوچستان کا نعرہ لگانے یا عبدالقدوس بزنجو کی طرح وزیر اعلیٰ بننے اور صادق سنجرانی جیسے شخص کو سینیٹ کا چئیرمین بنوانے سے ممکن نہیں ہو سکے گا۔ اس کے لئے پارلیمنٹ میں سب سیاسی پارٹیوں سے تعاون کا پلیٹ فارم تیار کرنا ہو گا۔ یہ جاننا ہو گا کہ سیاست دانوں کو مطعون کرنے، گالی دینے اور جیلوں میں بھرنے سے نہ انصاف عام ہو گا اور نہ ہی قانون کا بول بالا ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے قانون سے بالا اداروں کو قانون کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔ اسی لئے ووٹ کے احترام کی بات کرنا ضروری ہے۔
اسی لئے بدھ کو ہونے والے انتخاب میں عوام کو کامیاب مان لینے میں عافیت ہے اور یہی وجہ ہے کہ دھاندلی ڈرامہ اگر کل غلط تھا تو کہنا ہوگا کہ اس سے آج بھی کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ انتخاب مشکوک تھے لیکن ان میں عوام نے بے لاگ رائے دی ہے اور اس کا اظہار ایک پارٹی کی واضح برتری کی صورت میں دیکھنے میں آیا ہے۔ معلق پارلیمنٹ کی خواہش اور کوشش کرنے والے عناصر کی ناکامی کا کریڈٹ بھلے عمران خان لیں لیکن انہیں جلد یا بدیر یہ ماننا پڑے گا کہ ان ارادوں کو عوام کے سیاسی شعور نے ناکام بنایا ہے۔ اسی عوامی مینڈیٹ کے احترام کے سفر میں جب بھی انہوں نے راست قدم اٹھانے کی کوشش کی تو انہیں اپنے دوش پر لے کر اڑنے والی ہوا کو باد مخالف بننے میں دیر نہیں لگے گی۔
عمران خان کے علاوہ فوج نے خود بھی ملک میں شفاف انتخاب کروانے کے کا سہرا اپنے سر باندھنے میں تاخیر نہیں کی۔ کل ساڑھے تین لاکھ فوجی ملک بھر میں سیکورٹی انتظامات پر تعینات تھے لیکن دن کے شروع میں ہی کوئٹہ دہشت گردی میں تیس سے زائد افراد کی شہادت کے باوجود میجر جنرل آصف غفور کا شام چھ بجے پولنگ ختم ہونے کے فوری بعد جاری ہونے والے ٹویٹ پیغام کا خلاصہ یہ تھا: ’ شکریہ ہم وطنو۔ دنیا نے آج پاک فوج کے لئے آپ کی شیفتگی کو دیکھا۔ آپ نے ہر گمراہ کن پروپیگنڈا کو مسترد کردیا ہے۔ ہم آپ کی غیر متزلزل اعانت کی وجہ سے طاقت ور ہیں۔ ہماری زندگیاں پاکستان اور اس کے عوام کے لئےوقف ہیں۔ پاکستان پھر جیت گیا‘۔
یہ قیاس آرائی بے سود ہوگی کہ کوئٹہ کے المناک سانحہ اور انتخابات کے بارے میں اٹھنے والے شبہات کے باوجود آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کو یہ بیان جاری کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ تاہم اس بیان کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری بابر یعقوب فتح محمد کے اس بیان کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے تصویر مکمل کی جاسکتی ہے کہ’ پولنگ کے دوران سیکورٹی فراہم کرنے پر وزارت خزانہ نے پاک فوج کو 9 ارب روپے ادا کئے ہیں‘۔
عمران خان یا ملک کے کسی بھی نئے وزیر اعظم کو ان دو بیانات کے بیچ سفر کرتے ہوئے انصاف، خوشحالی اور عوامی توقعات پورا کرنے کی کوششوں کا آغاز کرنا ہے۔

