2018 کے انتخابی نتائج جمہوریت کو مستحکم کریں گے
کوئی بھی باوقار اور قابل اعتبار معاشرہ اس کمی کو دور کئے بغیر نہ آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ ہی جمہوری عمل کو سب کے لئے فعال اور مؤثر قرار دیا جاسکتا ہے۔ ملک کو حقیقی معنوں میں جمہوری بنانے کے لئے اقلیتوں میں یہ احساس پیدا کرنا ضروری ہوگا کہ وہ بھی معاشرے کا قابل قدر حصہ ہیں اور اگر انہیں انتخابی عمل سے کوئی جائز شکایات ہیں تو ان کا ازالہ کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ ایسی ہی بعض آئینی ترامیم کی موجودگی کی وجہ سے ملک کی عدالتوں کو سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت متعدد لیڈروں کو ’امین و صادق‘ نہ سمجھتے ہوئے نااہل قرار دینے کا موقع ملا تھا۔ خود عمران خان بمشکل اس آئینی شق کا شکار ہونے سے بچ پائے تھے جبکہ ان کے قریبی معتمد جہانگیر ترین کو انہی شقات کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا جاچکا ہے۔ منتخب ہونے اور حکومت بنانے کے بعد عمران خان کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اس قسم کی آئینی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے کام کریں تاکہ عوام کے حق انتخاب کا احترام مستحکم ہو اور عدالتیں لوگوں کے ووٹ سے منتخب ہو کر اسمبلیوںمیں جانے والے لوگوں کے بارے میں یہ فیصلے صادر کرنے سے بچ سکیں کہ کون سچا اور دیانت دار ہے۔
دو روز قبل منعقد ہونے والے انتخابات کا یہ پہلو بھی روشن ہے کہ اب ملک میں تیسری سیاسی قوت وفاقی سیاسی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ پارلیمانی جمہوری نظام میں دو بڑی پارٹیوں کے ہوتے ہوئے ایسی تیسری سیاسی قوت کا سامنے آنا خوش آئیند ہے جسے وفاق کی تمام اکائیوں میں نمائیندگی حاصل ہے اور جو سب صوبوں میں سیاسی موجودگی ثابت کرسکتی ہے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ہی کو یہ اعزاز حاصل تھا۔ اب ملک میں تین پارٹیاں ملک کے سب صوبوں میں سیاسی طور سے متحرک ہیں۔ اگرچہ کہا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ اور مسلم لیگ (ن) پنجاب کی پارٹی ہے اور تحریک انصاف خیبر پختون خوا کی پارٹی بن کر ابھر رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ تینوں پارٹیاں دوسرے سب صوبوں میں سیاسی کام میں مشغول ہیں اور وہ علاقائی پارٹی بننے کو امتیاز نہیں سمجھتیں۔
پیپلز پارٹی نے گزشتہ انتخاب میں ناکامی کے باوجود موجودہ انتخابات میں سب صوبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں سخت دباؤ میں ہونے کے باوجود باقی صوبوں پر بھی توجہ دی اور وہاں سے انتخاب میں حصہ لیا۔ اگرچہ اس بار ان دونوں پارٹیوں کو اس مقصد میں بہت زیادہ کامیابی نہیں ملی لیکن اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اگر یہ پارٹیاں اپنے گڑھ کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بھی سیاسی کام جاری رکھیں گی تو انہیں مستقبل میں کامیابی حاصل ہوسکے گی۔ اس طرح ملک میں تین توانا سیاسی قوتیں متبادل سیاسی پروگرام کے ساتھ عوام کے سامنے جا سکیں گی۔ یوں کامیاب ہونے والی پارٹی پر کارکردگی بہتر کرنے کا دباؤ بڑھے گا اور ناکامی کی صورت میں عوام کے پاس ایک کی بجائے دو متبادل موجود ہوں گے۔ ان کے علاوہ وہ سیاسی پارٹیاں بھی اس جمہوری عمل کو قوت بخشنے کا سبب بنیں گی جو ایک خاص علاقہ تک ہی اپنا سیاسی کام جاری رکھ سکتی ہیں۔
انتخابات سے قبل درپردہ قوتوں کی مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے الیکٹ ایبلز کو تحریک انصاف میں شامل ہونے پر مجبور کرنے کا حوالہ دیا جاتا رہا تھا۔ اس کے علاوہ آزاد ارکان اور ان میں جیپ کے نشان کی مقبولیت سے بھی یہ تاثر قوی ہؤا تھا کہ عسکری ادارے ان لوگوں کو کامیاب کرواکے سیاسی جوڑ توڑ میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم انتخابی نتائج کے بارے میں جو معلومات اب تک سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے نام نہاد الیکٹ ایبلز کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ اکثر صورتوں میں تحریک انصاف کا امیدوار ہونے کے باوجود انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح قومی اور صوبائی سطح پر نہ صرف جیپ کے نشان والے امید وار بری طرح ناکام رہے بلکہ آزاد ارکان بھی بہت زیادہ تعداد میں کامیاب نہیں ہوئے۔
تصویر کے اس رخ سے عوام کی سیاسی بلوغت کا اظہار ہوتا ہے۔ مرکز کے علاوہ پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے بڑی پارٹیوں کو بہر حال ایک خاص حد تک آزاد ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی لیکن اس کے باوجود عمومی طور سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ عوام نے آزاد حیثیت میں انتخاب جیت کر اسے سیاسی بلیک میلنگ کے لئے استعمال کرنےوالے عناصر کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اب اگر سیاسی جماعتیں بھی ووٹروں کی طرح ایسے عناصر کی غیر ضروری پذیرائی سے گریز کی روایت کو مستحکم کرسکیں تو مستقبل میں جمہوری عمل مزید شفاف ہوسکے گا۔ ایسی روایات مستحکم ہونے کی وجہ سے ہی عوام کسی ایک لیڈر کے سحر میں مبتلا ہو کر ووٹ دینے کی بجائے، پارٹی پروگرا م اور کارکردگی کے مطابق ووٹ دینے کا شعار اپنائیں گے۔
یہ اطلاعات امید افزا ہیں کہ ملک کی بیشتر سیاسی قوتیں انتخابی عمل کے بارے میں شکایات کے باوجود نتائج کو ماننے اور جمہوری عمل میں کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کرہی ہیں۔ عوام نے ایک پارٹی کو ملک کے ہر حصے میں کامیاب کروا کے پاکستان میں علاقائی انتشار اور بے چینی کی افواہوں کو بھی دفن کردیا ہے۔ تحریک انصاف اور عمران خان کو اس بات کا احساس موجود رہنا چاہئے کہ انہیں یہ کامیابی خیر سگالی کے اظہار کے طور پر نصیب ہوئی ہے۔ عوام نے ایک نئی قیادت کو بہتر نتائج دکھانے کے لئے منتخب کیا ہے۔ اگر وہ اس مقصد میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ 2023 کے انتخابات صرف پانچ برس کی دوری پر ہیں۔

