2018 کے انتخابی نتائج جمہوریت کو مستحکم کریں گے
پاکستان کے حالیہ انتخابات یہ ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ اگر جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا جائے اور لوگوں کو آزادانہ ماحول میں اپنی رائے دینے کا حق و اختیار حاصل ہو تو اجتماعی ذہانت ملک و قوم کی درست سمت میں رہنمائی کرسکتی ہے۔ ان انتخابات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ملک کے عوام سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے اور اس قیادت کو ووٹ کے ذریعے اقتدار سونپنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ان کے خیال میں ملکی مسائل کو سمجھنے اور ان کا مناسب حل تلاش کرسکتی ہے۔ اگرچہ حالیہ انتخابات کے بارے میں قومی اور عالمی سطح پر شبہات کا اظہار کیا جارہا تھا اور الیکشن کمیشن نے انتخابی نتائج میں تعطل اور بعض معاملات میں حد درجہ تساہل اور بدانتظامی کا مظاہرہ کرکے، ان شبہات کو مزید قوی کیا ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں اسٹبلشمنٹ کی پسندیدہ جماعت ہونے کے الزامات سامنے آرہے تھے اور کہا جارہا تھا کہ اس پارٹی کا مقابلہ کرنے والی مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ اس کے باوجود پاکستانی عوام کی بڑی تعداد نے 25 جولائی کو ووٹ دیتے ہوئے عمران خان کی قیادت پر بھروسہ کرکے ایک نئی سیاسی قوت کو ملک کا انتظام چلانے کا موقع دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو ملنے والی کامیابی کے بارے میں اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ شاندار کامیابی نہ تو الیکشن سے پہلے یا اس کے دوران فراہم کی جانے والی کسی درپردہ مبینہ اعانت کی وجہ سے ملی ہے اور نہ ہی تحریک انصاف بطور پارٹی یہ انتخاب جیتی ہے۔ یہ کامیابی عمران خان کی ذاتی کامیابی ہے۔ وہ ذاتی طور پر ہی اپنی حکومت کی کاکردگی کے لئے جوابدہ بھی ہوں گے۔
ایک لحاظ سے کسی ایک فرد کے وعدوں اور دعوؤں کا اعتبار کرتے ہوئے اسے ملک کی حکومت بنانے کا اختیار سونپنا سیاسی جؤا بھی ثابت ہو سکتا ہے اور یہ رویہ کلاسیکل جمہوری روایت کے بھی برعکس ہے، جس میں ووٹر سیاسی پارٹیوں کے منشور اور کارکردگی کا جائزہ لے کر ان کی حمایت یا مخالفت کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں جمہوریت کا سفر چونکہ متعدد نوعیت کی مشکلات کا شکار رہا ہے جن میں غیر جمہوری قوتوں کی بار بار مداخلت کے علاوہ 1970 کے انتخابات کے نتیجے میں ملک کا دو لخت ہونا بھی اہم عوامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی مختصر تاریخ میں تین آئین بنائے گئے اور مختلف قسم کے جمہوری نظام کے تجربے کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چئیر مین ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں 1973 میں البتہ ایک ایسا متفقہ آئین منظور کیا گیا جسے آج بھی ہر طبقہ فکر کی حمایت حاصل ہے۔
اس دوران بھی دو فوجی حکمرانوں نے ملک کے آئینی سفر کو دشوار بنانے میں افسوسناک کردار ادا کیا لیکن اس کے باوجود اس آئین کو آج بھی ملک کے سیاسی اور سماجی تناظر میں بہترین دستاویز کی حیثیت حاصل ہے اور اسے وسیع تر سیاسی حمایت بھی میسر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں پرویز مشرف کی فوجی آمریت کے بعد شروع ہونے والے جمہوری دور میں تیسرے انتخاب منعقد ہوئے ہیں۔ ان تینوں انتخابات کے بارے میں تنازعہ موجود رہا ہے۔ خاص طور سے 2013 کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف نے تسلسل سے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دھاندلی کا شور مچایا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف دھرنا اور مظاہروں کی سیاست کرتے ہوئے عمران خان نے منتخب قومی اسمبلی پر ’لعنت‘ بھیجنے جیسے سنگین الفاظ بھی استعمال کئے تھے۔ لیکن اس کے باوجود اسے ملک کے آئین اور عوام کی کامیابی سمجھا جائے گا کہ وہی عمران خان لوگوں سے ووٹ مانگ کر اور حاصل کرکے اب قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اور اسی بنیاد پر ملک میں آئیندہ حکومت بنانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
سابق فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں کی گئی بعض آئینی ترامیم کے علاوہ خود بھٹو صاحب نے ملک کے مذہبی عناصر کو خوش کرنے کے لئے جو ترامیم 1973 کے آئین میں شامل کی تھیں، ان کی وجہ سے اقلیتوں کے حقوق اور منتخب ارکان کی صورت حال کے حوالے سے ملک کے آئین میں سقم موجود ہیں جنہیں وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کی صورت میں ہی دور کیا جاسکتا ہے۔ آئین کی انہی کمزوریوں کی وجہ سے ملک کی احمدی اقلیت نے دو روز پہلے منعقد ہونے والے انتخابات میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ملک کا میڈیا اور سیاست دان چونکہ انتخابات میں دھاندلی اور اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کے موضوعات پر مباحث میں مصروف تھے جس کی وجہ سے ملک میں تعصب اور امتیازی سلوک کا شکار ایک چھوٹی سی اقلیت کے اس افسوسناک اقدام کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی یا لیڈر نے یہ یقین دلوانے کی کوشش کی کہ منتخب ہونے کے بعد وہ ان شکایات کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے جن کی وجہ سے ملک کی ایک اقلیت انتخابی عمل سے خود کو علیحدہ کرنے پر مجبور ہوئی تھی۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


