چالیس مردوں سے بھری بس میں خاتون ہوسٹس کو جنسی طور پہ ہراساں کرنے والے کی ویڈیو اور صارفین کا لعن طعن

ایک سوشل میڈیا صارف نے اس واقعے کی تفصیلات شیئرکرتے ہوئے لکھا کہ ’ گزشتہ روز میں گھر واپس آرہاتھا ، جب بس ہوسٹس نے مسافروں کو کھانے پینے کی اشیاءدینا شروع کیں تو بس کے عقبی حصے میں براجمان اس مسافر نے اس کی ویڈیو بناناشروع کردی اور ظاہر ہے کہ اس فعل کا لڑکی نے بھی اچھا نہیں سمجھالیکن اس شخص نے یہیں بس نہیں کی بلکہ جب وہ اسے چیزیں دینے لگیں تو نامناسب طریقے سے اس نے اسے چھونے کی بھی کوشش کی ۔
اجنبی مسافر کی اس قبیح حرکت پر ہوسٹس بس ڈرائیور کے پاس آئی اور اسے ہراساں کیے جانے کی شکایت کی ، اس پر مبینہ طورپر ہراساں کرنیوالا یہ شخص آگے آیا اور لڑکی کو دھمکیاں بھی دینا شروع کردیں اور اپنے مکروہ فعل کی دلیلیں دیناشروع کردیں ، صرف یہی نہیں بلکہ شرمندہ ہونے کی بجائے ہنسنا شروع کردیا۔ اس پر دیگر مسافروں نے بھی مداخلت کی اور اسے شرمسار کرکے لعن طعن شروع کی تو اس نے معافی مانگ لی ۔
مسافر نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ جب میں بس سے اتر کر آرہاتھا تو خوف کی ماری بس ہوسٹس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، وہ چالیس مردوں سے بھری بس میں اکیلی خاتون تھی ، اگر ایک ورکنگ عورت نے حلال کمانے کی کوشش کی ہے تو ہمیں اس کی حوصلہ شکنی نہیں کرنی چاہیے ، ہمیں ایسی حرکات کیخلاف کھڑے ہوجاناچاہیے۔یہاں یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ واقعہ کس علاقے میں پیش آیا، مسافر کہاں سے سوار ہوکر کہاں اترا ۔ ویڈیو دیکھئے

