اساتذہ کے ساتھ پولنگ سٹیشن پر کیا ہوا
نو بجے تک یہ تھکی ہاری بھوک اور گرمی سے نڑھال ہو چکی تھیں۔ نتیجہ کی ذمہ داری الیکشن کمیشن صرف پریزائڈنگ کو تفویض کرتا ہے اس لیے میرا اپنا عملہ بھی شور مچانا شروع کر دیتا ہے کہ دیر ہو رہی ہے، بچے چھوٹے، گھر دور وغیرہ وغیرہ یہی مسائل پولنگ ایجنٹس کے بھی ہوتے ہیں۔ فارم 45 کے لیے ظاہر ہے انہیں میرے کام کے ختم ہونے کا انتظار کرنا تھا اور انہیں یہ انتظار بہت برا لگتا ہے اس وجہ سے اکثر مقامات پر کافی مسائل ہوئے۔ پریزائڈنگ مجبور ہے اس لیے زیادہ شور مچانے والوں کو سادہ کاغذ پر نتیجہ دینے کی پیشکش کرتا ہے کئی ایجنٹس خود بھی سادہ کاغذ کے نتیجے کو کافی سمجھتے ہیں۔ مجھ پر پریشر زیادہ بڑھا تو میں نے بھی یہی آفر کی کہ سادہ کاغذ پر لو اور مجھے لکھ دو کہ اپنی مرضی سے سادہ کاغذ پر نتیجہ وصول کیا ہے اس بات پر بادل نخواستہ ہی سہی وہ انتظار کرتی رہیں۔ لیکن یاد رکھیے کہ ہر پریزائڈنگ تجربہ کار نہیں ہوتا۔ اکثر لوگ پہلی مرتبہ یہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا پریشر، اپنے عملے کا پریشر، پولنگ ایجنٹس کا پریشر اور اعصاب کو توڑ دینے والا باہر شور مچاتے ہوئے لوگوں کا پریشر سب مل کر فیصلے کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتا ہے پھر جو ایجنٹس سادہ کاغذ پر نتیجہ لے گئے ہیں وہ کبھی یہ نہیں کہتے کہ یہ ان کی اپنی چوائس تھی ظاہر ہے بہت آسان ہے پریزائڈنگ کو ذمہ دار ٹھہرانا۔ میرے سٹیشن پر بھی یہ سب مسائل تھے لیکن چونکہ یہ واحد کام ہے جس میں الیکشن کمیشن نے مجھے مکمل اختیار دیا ہے اس لیے بار بار شور مچانے والوں کو میں ایک حرفی جواب دے رہی تھی کہ دیر ہو رہی ہے تو پھر؟ لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ اتنا اعتماد، اتنی بے نیازی اور فیصلہ کرنے کی ایسی طاقت تجربے اور عمر کی دین ہوتی ہے۔ اپنے کیریئر کے آغاز میں میں نے جنوبی پنجاب کے ایک دیہی علاقے میں یہ ڈیوٹی کی تھی۔ آج تک اس رات کے گہرے ہوتے سائے میری یادداشت میں زندہ ہیں اس پر اگر تب یہ فارم 45 بھی ہوتا تو۔
اب نتیجہ سیل ہو چکا ہے۔ تھیلے بھی اپنے ہاتھ جلا کر سیل کر چکی ہوں لیکن آرمی کی گاڑی نے قریبی سٹیشنوں کے عملے کو اکھٹے لے کر جانا ہے۔ ہم ایک دوسرے کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ سیشن کورٹ پہنچنا پل صراط کو طے کرنا تھا۔ نتیجہ جمع کروا کر جب میں چار بجے کے قریب گھر پہنچتی ہوں ٹی وی کے دمکتے چہرے شور مچا رہے ہیں پو لنگ سٹیشنوں کے دروازے بند کر کے دھاندلی کی جا رہی ہے۔ واقعی؟ آپ زمینی حقائق سے واقفیت رکھتے بھی ہیں؟ آپ نے الیکشن ٹرانسمشن کی سپیشل نشریات کرنی تھیں تو آپ نے ہوم ورک تو کیا ہوتا آپ پتا تو کرتے یہ کام کیسے ہونا ہے۔
میں ان چند خوش نصیبوں میں سے تھی جن کا نتیجہ آر ٹی ایس ہو گیا تھا یعنی سسٹم بیٹھنے سے پہلے پہلے۔ اگر میں اتنی جلدی نتیجہ تیار کرکے بھی اس پریشر میں تھی کہ دیر ہو رہی ہے تو باقی میری کولیگز پر کیا گزری ہو گی۔ اگر آر ٹی ایس بھاگ بھاگ کر بھی چلتا تو بھی ہر پریزائڈنگ کے فارم 45 کو جانچنا پھر ان سب کو مرتب کرنے کے بعد ہی نتیجے کے اعلان کا مرحلہ آنا تھا۔ تھکن، تکلیف ہر احساس دوچند ہو گیا احساس کی تکلیف سے بڑھ کر کیا تکلیف ہے کہ ہمارا میڈیا طے کر چکا ہے کہ ہر معاملے کا منفی روپ ہی پیش کرے گاکہ پڑھے لکھے سوچنے سمجھنے والے لوگ بھی اپنی رائے اس کے طے کردہ خطوط پر بنائیں گے۔ ایک حلقے کے پریزائڈنگ انٹر کنیکٹڈ تھے۔ میں نے نتیجہ اڑھائی بجے جمع کروایا میرے ساتھیوں کی طرف سے تمام نتائج جمع کروانے تک صبح کے آٹھ بج چکے تھے۔ حضرت ذرا غور۔
اب جب میں نے اتنی تکلیف دہ باتیں کر لی ہیں تو آئیے آپ کو اس مشاہدے کے کچھ اچھے پہلووں سے بھی روشناس کرواوں۔ بطور استاد میں اچھا نہیں سمجھتی کہ صرف نقائص یا خامیوں ہی کا ذکر کیا جائے۔ ایک مشاہدہ جس نے میرے دل کو بہت تقویت دی کہ لوگ باشعور ہو چکے ہیں۔ ہاتھ میں موجود پرچی کی ویلیو سے گھریلو عورتیں بھی آگاہ ہو چکی ہیں۔ اچھے ووٹر ٹرن اوور نے مجھے خوش کیا۔ ن لیگ دھاندلی کا شور تو مچا رہی ہے لیکن آپ کا دل مانے تو میری اس کہانی کو کم و بیش ہر پریزائڈنگ کی کہانی سمجھ لیجیے۔
پہلی مرتبہ ن لیگ کا ورکر واقعی ایک سیاسی ورکر تھا وہ ڈو اور ڈائی والے مرحلے پر تھے ان کی محنت نظر آرہی تھی۔ پہلے ایسی ڈیڈیکیشن میں نے صرف پیپلز پارٹی کے ورکر میں دیکھی تھی۔ ان کے لیے اس میں اطمینان کا پہلو ہونا چاہیے۔ مزید یہ کہ ووٹر پورے یقین سے اپنی چوائس پر ووٹ ڈال رہے تھے اس لیے مطمئن رہیے کہ آپ کو جو ووٹ ملے ہیں وہ خالص آپ کے اپنے ہیں۔ یہ حقیقت چھپی ہوئی نہیں کہ ہمارے معاشرے کی زوال پذیری نے جو چیز بہت عام کی ہے وہ یہ ہے کہ نفرت کا جذبہ فیصلوں میں ڈرائیونگ فورس کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ہم سب کو مل کر اس کے توڑ کی کو شش کرنی چاہیے۔ پی ٹی آئی جیت گئی ہے اللہ پاکستان کے لیے اس جیت کو با برکت کرے اور دائروں میں سفر کرتی قوم کی مشکلات کو آسانیوں میں بدل دے۔ آمین۔
