اکیلا باپ، ڈومیسٹک پارٹنر اور نیو جرسی میں ٹوٹنے والی منگنی


شیاٹل ائرپورٹ پر ہمارے آفس کے نمائندے موجود تھے اورمجھے ایک مناسب سے اپارٹمنٹ میں پہنچادیا گیا تھا۔ میں جب امریکا پہنچا تو سردی کا زمانہ تھا اسی رات برف پڑنی شروع ہوئی تھی۔ رات کو گرما گرم کھانا کھا کر دوستوں سے گپ شپ لگاتے ہوئے کمبل اوڑھ کر سویا تو گہری نیند میں سوتا ہی رہا تھا۔ صبح جب آنکھ کھلی تو باتھ روم سے فارغ ہوکر میں نے کھڑکی کا پردہ اٹھا کر دیکھا تو حیران رہ گیا تھا۔ ہر چیز سفید تھی۔ چھت، دیوار، درخت، گاڑی، گھاس اتنی سفیدی تو میں نے ساری زندگی نہیں دیکھی تھی۔

کراچی میں رہتے ہوئے مجھے برفباری کا کوئی بھی تجربہ نہیں تھا۔ کتابوں میں پڑھا ہوا اور ٹیلی ویژن پر دیکھا ہوا حقیقت سے بہت مختلف تھا۔ حقیقت سفید چادر کی طرح چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی اور ابھی بھی برفباری ہورہی تھی۔ میں دروازہ کھول کر باہر آگیا تھا۔ ٹھنڈ اور برف کے باریک باریک ذرّوں کا پہلا تجربہ شاندار تھا، بہت شاندار۔ تھوڑی دیر کے لیے تو مجھے سب کچھ ایک خواب سا لگا تھا۔امریکا کی وہ پہلی صبح میں کبھی بھی نہیں بھول سکا۔

میں ہفتے کی صبح پہنچا۔ ہفتہ اور اتوار کو آرام کرنے کے بعد پیر کی صبح جا کر میں نے آفس میں اپنے آنے کی اطلاع دی تھی جہاں مجھے کام سکھانے کے لیے ابتدائی دو ہفتوں کا روزنامچہ دے دیا گیا تھا۔ مجھے کام سمجھنے میں کوئی خاص مشکل نہیں ہوئی اورسب سے اچھی بات یہ تھی کہ دفتر کا ماحول بہت ہی اچھا تھا۔ کام کرنے والوں کا رویہ دوستانہ تھا وہ ہر طرح سے کام میں مدد کرنے کے لیے تیار تھے۔

میں بہت جلد شیاٹل میں بس گیا۔ مجھے لوگ، شہر، کام، لائبریری، پارک اور سارا نظام اچھا لگنے لگا۔ سڑکوں پر چلتے ہوئے بسوں میں بیٹھے ہوئے،گھومتے گھامتے ہوئے مجھے کراچی، کراچی کی سڑکیں اور کراچی کے لوگ یاد آتے تھے۔ اب تو اس وقت کی احساس محرومی کی شدت بیان کرنا بھی مشکل ہے۔ آخر ہم لوگوں کو یہ چیزیں کیوں میسر نہیں ہیں۔ ہمارے بچوں کے لیے اسے اسکول کیوں نہیں ہیں، ان کے آنے جانے کے لیے اس طرح اس طرح کی بسیں کیوں نہیں ہوسکتی ہیں۔ ہمارے شہروں میں لائبریریاں، پارک، میوزیم کیوں نہیں بن سکتے ہیں۔ ہم لوگوں کو امریکیوں کی طرح عزت سے رہنے کا حق کیوں نہیں ہے، ہمیں صاف پانی، صاف ہوا کیوں میسر نہیں ہے، کیوں کیوں! کیوں کا عذاب مجھے ہر وقت گھیرے رہتا تھا۔

شیاٹل شہر چارہزار سال پہلے امریکا میں رہنے والے قدیم باشندوں نے بسایا تھا جب یورپ سے گورے لوگ یہاں پہنچے تو یہاں سردار شیاٹل کی حکومت تھی۔ سردار شیاٹل کی ایک تقریر بہت مشہور ہے جس میں وہ گورے لوگوں کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ ”آپ لوگ ہم سے ہماری زمین خریدنا چاہتے ہیں انسان زمین، ہوا، فضا، بادل، پہاڑ، سمندر، دریا، جھرنے، جانور، تتلی، بجلی، بادل کیسے بیچ سکتا ہے۔ یہ دریا میری ماں ہے، یہ پہاڑ میرے اجداد ہیں، یہ جنگل میرا گھر ہے، یہ بھینس بکریاں گھوڑے جنگل کے جانور ہمارے بھائی بہن ہیں، ان کے ساتھ ہم صدیوں سے رہ رہے ہیں، انہیں ہم کیسے بیچ سکتے ہیں۔“

شیاٹل کی طویل تقریر اور جدوجہد گوروں کی پیش قدمی کو نہیں روک سکی اور شہر پر ان کا قبضہ ہوگیا اور آہستہ آہستہ سارا علاقہ گوروں کے تسلط میں آگیا۔

گوروں نے جہاں جنگلوں کو اکھاڑا وہاں مقامی آبادیوں کو برباد بھی کیا۔ نہ جانے کتنی جانیں لیں، کتنا خون بہایا ان معصوم لوگوں کا، ان کی ماﺅں بہنوں بیٹیوں کا، جوہزاروں سال سے اپنی دنیا میں اپنے اصولوں، روایات، تمدن و ثقافت کے ساتھ رہ رہے تھے۔ یہی دنیا کا اصول ہے۔ مضبوط لوگ کمزور لوگوں کو تباہ کردیتے ہیں۔ کمزور لوگ اپنی تمام تر ایمانداری اور بہترین اصولوں کے ساتھ فنا ہوجاتے ہیں۔

گوروں نے ایک زندہ تہذیب جو بارود کا مقابلہ نہیں کرسکی کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا، پھر ایک عظیم الشان شہر قائم کیا اور اس کا نام اسی سردار کے نام پر شیاٹل رکھ دیا۔ اسی شہر میں آج دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگ آباد ہیں۔ بڑی بڑی صنعتیں ہیں، یونیورسٹیاں ہیں، لائبریری ہیں، فنکار ہیں، ادبی مراکز ہیں، چہل پہل ہے، گہما گہمی ہے۔ شہر تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔

ہر زمانے، ہر دور میں جب شہر بستے ہیں تو ترقی بھی کرتے ہیں۔ اپنی روایات خود بناتے ہیں۔ اپنی دنیا خود بساتے ہیں، علم کے چراغ جلاتے ہیں، روشنی پھیلاتے ہیں، آج کا شیاٹل ایسا ہی شہر ہے۔ چیف شیاٹل نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ اس کے نام سے بسنے والے شہر میں لوگ ایسے رہتے ہوں گے، ایسا کرتے ہوں گے۔

آہستہ آہستہ میں اس شہر کا عادی ہوگیا۔ یہاں کی سردی کا بھی گرمی کا بھی، موسم بہار کی خوشبو اور سبزی کا بھی اور موسم خزاں کی اُداس شاموں اور سوکھے پتوں سے بھری ہوئی سڑکوں، پگڈنڈیوں کا بھی۔ مجھے محبت ہوگئی تھی یہاں کی لائبریریوں سے، یہاں کے چائے خانوں سے، سینما ہالوں سے جہاں ایک وقت میں کئی کئی فلمیں چل رہی ہوتی ہیں۔ یہاں کے ان چھوٹے بڑے ریسٹورانٹ سے جہاں ہر قسم کا کھانا ملتا ہے، اس شہر نے مجھے بہت کچھ دیا۔ میری صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کی، مجھے نوکری دی، مجھے اتنی زیادہ تنخواہ دی کہ میں اس قابل ہوگیا تھا کہ اپنی چھوٹی بہنوں کی تعلیم مکمل کراسکوں، ان کے جہیز کے لیے اپنی ماں کو پیسے بھیج سکوں، جنہوں نے آہستہ آہستہ کرکے ان کے لیے جہیز بنائے، رشتے تلاش کیے اور ان کی شادیاں کردی تھیں جو اپنی تعلیم کی وجہ سے اپنے پیروں پر کھڑی بھی تھیں اور خوشی خوشی اپنی زندگیاں بھی گزار رہی تھیں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3