علما آپس میں طے کر لیں کہ جمہوریت اور سیکولرازم اسلامی ہیں یا غیر اسلامی
کتنی آسانی سے پروفیسر صاحب نے فرما دیا کہ چودہویں اور پندرہویں صدیاں جوکہ جمہوریت کی صدیاں ہیں ان میں مسلمانوں کا زوال ہی ہوا ہے۔ تعجب ہے پروفیسر صاحب ان صدیوں میں کس مسلم ملک میں جمہوریت کی بات کر رہے ہیں؟ ذہن پر جتنا دل کرے زور ڈالئے اور بتائیے کہ دنیا کے کون کون سے مسلمان ممالک میں جمہوریت تھی؟ اگر جمہوریت تھی ہی نہیں تو مسلمانوں کا زوال جمہوریت سے کیسے جوڑا جا سکتا ہے؟ اپنے اسی مضمون میں ایک جگہ پروفیسر صاحب فرماتے ہیں کہ ”احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا غلبہ خلافت اور خلافت کی طرز کے نظام حکومت یعنی ملوکیت میں ہی ہو سکتا ہے۔ جمہوری نظام میں اسلام کا غلبہ تو درکنار‘ اسلام کی خیر ہی نہیں۔ جمہوریت میں اسلام اور مسلمان دونوں کو خطرہ ہے۔ تجربہ شاہد ہے‘ تاریخ گواہ ہے کہ جمہوریت اسلام کے مزاج کے خلاف ہے“۔
گویا یہاں جمہوریت کو اسلام کے مزاج کے خلاف بتایا جا رہا ہے۔ اب اسی مرحلے پر رک جائیے، اگر جمہوریت اسلام کے خلاف ہے تو اخوان المسلمین، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائی اسلام جیسے خالص مذہبی گروہ اس کا حصہ کیسے ہیں؟ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں فرماتے ہیں کہ ”مشاورت اسلامی طرز زندگی کا ایک اہم ستون ہے، اور مشورے کے بغیر اجتماعی کام چلانا نہ صرف جاہلیت کا طریقہ ہے، بلکہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے ضابطے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرما رہا ہے کہ : ’اُن کے معاملات میں اُن سے مشورہ لیا جاتا ہے‘، بلکہ یہ فرما رہا ہے کہ: ’اُن کے معاملات آپس کے مشورے سے چلتے ہیں۔ ‘ اِس ارشاد کی تعمیل محض مشورہ لے لینے سے نہیں ہو جاتی، بلکہ اِس کے لیے ضروری ہے کہ مشاورت میں اجماع یا اکثریت کے ساتھ جو بات طے ہو، اُسی کے مطابق معاملات چلیں“۔
دیکھا آپ نے پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری اور مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی رائے میں کیسا قطب جنوبی اور قطب شمالی کا فرق ہے۔ اب اگر ان دونوں بزرگوں کے ارشادات سامنے پڑے ہوں تو میرے جیسا کم علم اور ناسمجھ کیوںکر فیصلہ کرے گا کہ اسلام اور جمہوریت کا کیا رشتہ ہے؟ ایسے میں تو بس میں اپنے بال ہی نوچ سکتا ہوں۔
ایک طرف علماء کا وہ طبقہ ہے جو خلافت راشدہ اور شوریٰ کی دہائی دے کر بتاتا ہے کہ جمہوریت کی جڑیں اسلامی تاریخ میں گہرے تک دھنسی ہوئی ہیں جبکہ ایک دوسری رائے وہ ہے جس کا اظہار پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری جیسے حضرات ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ”پہلے مسلمانوں میں جمہوریت تھی نہیں یہ پیدا وار ہی مغرب کی ہے اور مغرب کی ذہنی غلامی کے صلہ میں مسلمانوں کو ملی“۔
اس بحث میں ایک دلچسپ امر ”اسلامی جمہوریہ“ کا تصور بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر جمہوریت اسلام کی ضد ہے تو اسلامی جمہوریہ کا کیا مطلب؟ کسی ملک کو اسلامی جمہوریہ کہنے سے پہلے اس بات پر بھی غور کر لنا چاہیے کہ جمہوریت کا اصل تصور فرد کی جس آزادی اور حکومت کی جتنی سخت جوابدہی کی بات کرتا ہے، کیا وہ مخصوص دین کی بالادستی کے تصور کے ساتھ اسی شکل میں نافذ ہو سکتی ہیں؟ مطلب اسلامی جمہوریہ کہلانے والے ممالک نے جمہوریت کے اصل تصور کو جزوی طور پر ہی لیا ہے۔ خیر یہاں اس بحث کو چھیڑنے کا مقصد اس بات کو ٹٹولنا ہے کہ مسلمانوں کے ممالک میں کیسا نظام حکومت ہو اس بارے میں ہمارا موقف کتنا بکھرا ہوا ہے۔
