پندرھواں خواب نامہ۔۔۔۔ ڈیٹ بھی بس جسمانی تبادلہِ لطف و اضطراب ہے
رابعہ کی پہلی دوستی ابو کے ساتھ تھی، پھر اپنے چچاوں کے ساتھ تھی۔ اور یہ عجب بات ہے رابعہ کو اپنے ابو سے جتنی محبت تھی اتنی ہی اپنے چچاوں اور تا یا جان سے تھی۔ اسے ان سب سے بابا کی سی خوشبو آتی ہے۔ تایا انور علی خاں خاموش طبعت و شیریں زبان تھے۔ کسی کی برائی کرتے رابعہ نے ان کو کبھی نہیں سنا۔ پنجابی شاعری و زبان ان کی زبان میں سرائیکی سے زیادہ میٹھی لگتی تھی۔ جیسے ان کی زبان و لہجے میں تاثیر تھی، وہ تاثرکہ جس کے لئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے” شاید کہ ترے دل میں اتر جائے میری بات”۔ رابعہ نے ان سے یہ ظرف سیکھنے کی کوشش کی۔
بڑے چچا نوشاد آرمی میں تھے۔ دو جنگوں کے غازی، گویا سینہ رازوں سے بھرا ہو ا تھا، اس بوجھ سے صاحب ظرف کا لہجہ دھیما تر ہو جاتا ہے۔ اس کے راز اس کی آنکھو ں اور تجربات اس کی نصیحتو ں میں اتر آتے ہیں۔ وہ جب بھی لاہو ر آتے تو رابعہ اکثر ان کو گہر ی سوچ میں مبتلا دیکھا کرتی۔ خامو ش طبیعت وہ بھی تھے۔ لیکن جب سیاست، آرٹ، لیٹریچر پہ بات کرتے تو کمال کر دیتے۔ بلکہ یو ں بھی ہو تا کہ رات گزر جاتی، بات ختم نا ہوتی۔ رابعہ کو کم عمری میں بھی اتنے برے برے زندگی کے فلسفے سننے میں مزہ آتا۔ ان سے چھوٹے چچا امتیاز تھے۔ اکاؤنٹس سے وابستہ صوفی طبعت سادہ سے انسان۔ جن کی زندگی کا فلسفہ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے بہت مضبوطی سے جڑا ہو اتھا۔
ان کی صحبت سادگی کی منہ بولتی تصویر تھی۔ ان کا فلسفہ زندگی شکر پہ مبنی تھا۔ پھر چاچو افضال نا گلہ نا شکوہ، مشکل میں بھی مسکراہٹوں کی اک انوکھی کہانی۔ چاچو سلیم نیشنل ہاکی ٹیم کا ایک اہم نام۔ وہ نام جن کے ساتھ پاکستان کا ہاکی ولڈکپ، اور ہاکی اولمپک کی کامیاب تاریخ رقم ہے۔ ضبط وخاموشی کی اک الگ باوقار داستان۔ چاچو خالد رابعہ کے لئے ایک خاموش درویش اور فاروق چاچو اک نم آنکھو ں والی زندگی کا اک ہنستا مسکراتا انسان، جو اپنی ہنسی میں دنیا کا سارا غم اڑا دینے پہ ملکہ رکھتے ہیں، کبھی کبھی تو یو ں بھی ہوتا کہ پوری پوری رات گزر جاتی لاؤنچ یا ڈارئنگ روم چائے، کافی، قہوہ کے کپ اور گپ شپ۔
زندگی اپنے نشیب و فراز کے ساتھ سفر کرتی رہی۔ یہ نا سب کو خوشی دیتی ہے، نا دکھ۔ یہ نشیب و فراز کی اک کہانی ہے۔ جس میں نشیب کے پتھر ہمیشہ نشانے پہ لگتے ہیں۔
یا درویش رابعہ نے جب کچھ عرصہ ایک معروف غیر ملکی این جی او کے ساتھ کام کیا تھا۔ اسی دوران اسے سینکڑوں خواتین و حضرات کے انٹرویوز کرنے کا موقع ملا۔ دیہات، شہر، قصبے ہر طبقے کے لوگو ں سے ملنے، اور بات کرنے کا موقع ملا۔ اس پیشہ وارانہ کام نے سوسائٹی، مرد، عورت کی نفسیات کو سمجھنے کا بہت موقع دیا۔
پھر اردوافسانہ عہد حاضر میں( افسانہ انسائیکلوپیڈیا)کے حوالے سے بھی سینکڑوں تخلیق کارو ں سے ملنے اور بات کرنے کا نا صرف موقع ملا بلکہ وہ اپنی تما م تر تہذیبی شخصیت کے ساتھ مشاہدے کے فریم میں آگئے۔ یہ سب کیا کم تھا، جو رابعہ کو وسعت قلب و ذہن سے نا نوازتا۔
بس بات اتنی سی ہے کہ زندگی نے رابعہ کو اورطرحسے برتا، رابعہ نے زندگی کو او رطرح سے گزارا۔ واقعہ اتنا ساہوا۔
اب یہاں مشرق میں بھی مرد و عورت کی باہمی رضا مندی سے سب جائز ہو چکا ہے۔ مگر یہاں اس رضا میں، تسکین، تجربہ، مشاہدہ، عادت، نشہ کے ساتھ ساتھ کچھ مفادات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اور مردانہ یک طرفہ مرضی سے تو جر م جائز ہے۔
‘عشق میں توحید کے قائل۔ ‘خواہش تک یا۔ ڈائلاگ تک رہ گیاہے۔ توحید فنا مانگتی ہے۔ ہم بقا کی دوڑ میں ہیں۔
کبھی آئیے رہئے مشاہدہ کیجئے۔ آپ جس معاشرے کو چھوڑ کر گئے تھے بقا کی جنگ میں وہ کتنا بدل گیا ہے۔
رابعہ کو محسوس ہوتا ہے ’عشق میں تو حید کی قائل صرف‘ زلیخا ’ تھی۔ جس کو منفی کردار بھی کہا گیا اور مرد سے اس کی محبت کو، جنونیت کو سراہا بھی بہت لیکن یہاں رابعہ کا نقطہ نظر بد ل جاتا ہے۔
زلیخا کی سی جنونیت کے اگر آپ خواہ ہیں تو مد مقابل بھی تو یوسف ہو۔
یوسف اگر مفاد پہ، خلوت پہ، دولت پہ، سلطنت پہ، ملکہ پہ، مالکہ پہ، حسن پہ رام ہو جاتا تو یوسف ہی نا ہوتا۔
یوسف کے کردار کو منفی گردانا گیا کہ وہ‘ بزدل‘ تھا۔ رابعہ یہاں بھی الگ نقطہ نظر رکھتی ہے
۔ وہ بہادر تھا تو انکار کیا۔
یوسف رابعہ کی پہلی محبت ہے۔ یوسف رابعہ کا آئیڈیل ہے۔ رابعہ کی سب کتابیں اس محبت کے نام ہیں۔ رابعہ کہتی ہے
‘اگر مجھے سمجھنا چاہو۔ میری کتابوں کے انتساب پڑھ لینا‘
اپنی پہلی و مستقل محبت کے ساتھ رابعہ درویش کو فی امان اللہ کہتی ہے کیونکہ موبائل بیٹری کا سانس بند ہونے کو ہے۔
رات آج بھی دن میں بدلنے والی ہے۔ کہیں دور سے بانسری کی دھن سنائی دے رہی ہے۔ یہا ں نیم اندھیری راتو ں میں نہر کنارے کوئی دیوانہ آکر اپنا دردہواؤں کے سپردکر دیتا ہے۔
‘دو ستاروں کا زمیں پہ ہے ملن آج کی رات۔
اور یہ رات بھی گزر گئی ہے۔
دن پکار رہا ہے کہ میں آ رہا ہوں۔
اور رابعہ دن کی روشنی سے اداس ہو جاتی ہے۔

