بوا حمیدن کی غزالہ: ایک ہاری ہوئی کہانی


بوا حمیدن کی کیمو تھراپی کامیاب رہی۔ غزالہ کا تعلیمی سلسلہ بھی جاری رہا۔ فائزہ کو ایک ابھرتی ہوئی ٹرانسپورٹ کمپنی میں جاب مل گئی تھی جہاں اس نے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی۔ کمپنی کا مالک فائزہ کی کارکردگی سے بہت خوش ہوا اور اُس نے متعدد بار اس کی تنخواہ اور دیگر مراعات میں اضافہ کیا۔ خاندان کے لئے علاج معالجہ اور اپنے ہمراہ دوبئی کا فارن ٹرپ بھی دیا۔ ہزار سی سی گاڑی اور شوفر کی سہولت بھی ملنے والی ہے۔

پچھلے سال بلال نے گھرمیں شوشا چھوڑا کہ اس کی منگنی غزالہ سے طے کر دی جائے۔ قریشی صاحب بہت برانگیختہ ہوئے تھے۔ عاق کرنے کی دھمکی بھی دی۔ بلال نے انکار کی وجہ پوچھی تو فائزہ کا پست اخلاقی کردار زیر بحث آیا۔ بلال نے بھوک ہڑتال اور کورٹ میرج کی دھمکی دی تو قریشی صاحب چھاتی پکڑ کر لیٹ گئے۔ پورا ہفتہ بستر سے نہیں اٹھے۔ اپنی قربانیا ں گنواتے رہے۔ قریشی صاحب بھی کیا کرتے۔ آخر کو وہ اِسی سماج کا ایک پرزہ ہی تھے جو کسی کی طرف انگلی اٹھا تو سکتا ہے، مگر اُس کے درد کا درماں نہیں کر سکتا، اُس کے آنسو نہیں پونچھ سکتا، اُس کا سہارا نہیں بن سکتا۔ بلال نے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر کوئی سرا نہیں ملا۔ پھر اس نے زندگی کو ایک ٹوٹے ہوئے پیانومیں تبدیل ہوتے دیکھا اور چپ سادھ لی۔

آج شام کو بواحمیدن کے گھر ایک سادہ سی تقریب منعقد ہوئی اور غزالہ کی منگنی ایک ادھیڑ عمر ڈاکٹر سے طے پا گئی جسے اپنی پہلی بیوی کی حادثاتی موت کے بعد کلینک چلانے اور دو عدد بچوں کو سنبھالنے کے لئے ایک عدد سگھڑ، سلیقہ شعار اور حسین لیڈی ڈاکٹر درکار ہے۔

ڈاکٹر موصوف نہایت عمر چور، مستعد اور زندہ دل آدمی واقع ہوئے ہیں ؛ صبح میڈیکل کالج میں فارما کالوجی پڑھاتے ہیں، شام میں کلینک کرتے ہیں ؛ اپنی ریشمی ٹائیوں اورپھولدارشرٹوں کی وجہ سے طالبات کے حلقوں میں کافی معروف ہیں۔

ڈاکٹر صاحب ہمیشہ سے غزالہ کے لئے اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتے تھے۔ بیوی کی ناگہانی وفات نے گوشے کا حجم بڑھا دیا۔ بے جا التواء کے قائل نہ تھے۔ بیگم کا چالیسواں ہوتے ہی بواحمیدن کے روبرو پیش ہوئے اور غزالہ کا ہاتھ مانگ لیا۔ بواحمیدن تو جیسے اِسی انتظار میں بیٹھی تھی۔ فوراً بات پکی کر ڈالی۔ غزالہ نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ویسے بھی وہ ڈاکٹر صاحب کا بہت احترام کرتی ہے اور احترام کو محبت میں بدلتے دیر ہی کتنی لگتی ہے!

اِسے محض اتفاق ہی سمجھا جائے کہ جب ڈاکٹر صاحب گلاب کے پھولوں کا گلدستہ تھامے اپنی نئی نویلی گاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے تو ٹھیک اُسی لمحے میری نظر ان کے فاتحانہ چہرے اور مسرور آنکھوں سے ہوتی ہوئی اُن کے نچلے دھڑ اور قدموں پہ جا رکی۔
یہ چال میں نے پہلے بھی کہیں دیکھی تھی مگر کہاں؟
بہت سوچا مگر یاد نہیں آیا۔
پھر ایک دم آنکھوں کے سامنے ایک دھندلی سی شبیہہ لہرائی اور بواحمیدن کا خاوند لمبے لمبے ڈگ بھرتا دکھائی دیا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2