لڑکی کا اغوا یا رضامندی سے فرار

بیان ازاں مسمات عذراشاہین دختر چوہدری شاہین علی قوم آرائیں سکنہ گلی نمبر 6 مکان نمبر 1595، رحمانیہ سٹریٹ گڑھی شاہومین بازار، لاہور بابت مقدمہ نمبر 131 / 16 تھانہ گڑھی شاہو زیر دفعہ 365 بی، تعزیر اتِ پاکستان.بر حلف بیان لیا کہ عاقلہ، بالغہ اور تعلیم یافتہ ہوں۔ شریف گھرانے سے تعلق ہے۔ والدصاحب زمیندارہ کرتے ہیں۔ والدہ دینی معلم ہیں۔ محلے کے بچوں کو سپارہ پڑھاتی ہیں۔ میں بھی صوم و صلوٰۃ کی پابند ہو ں اور اپنا نفع نقصان خوب سمجھتی ہوں۔ 3 جنوری 2016 کا وقوعہ ہے۔ منگل کا دن تھا۔ تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا۔ گھر پر کوئی نہ تھا۔ میں باورچی خانے میں ناشتہ تیار کر رہی تھی۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے سو چا گوالا ہو گا۔

Read more

فیس بک کی ایک پروفائل اور محبت وغیرہ

نام: شیلا اگروال عمر: 19 سال اسٹار: ورگو ازدواجی حیثیت: غیر شادی شدہ زبانیں جو میں بول سکتا ہوں /سکتی ہوں : ہندی، انگریزی، پنجابی مذہبی نقطہ نظر: کوئی نہیں سیاسی نظریات: اعتدال پسند جنسی رجحانات: نارمل جنم بھومی: چندی گڑھ پیشہ: بے روزگاری (ابھی سٹوڈنٹ جو ہوں ) تعلیم: بی۔ ایس سائیکلوجی (فورتھ سمسٹر)…

Read more

اشرف المخلوقات

”سائیکل بالکل کھپڑ ہو گئی ہے۔ کوئی سواد نہیں رہا۔ “ دین محمد منشی، جون کے غضب ناک سورج کی طرف دیکھ کر منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑایا۔
”سواد کس چیز کا؟ تم بھی تو بوڑھے ہو گئے ہو دین محمد! “
”صبح دیر سے اُٹھوں گا۔ کوئی جگائے مت۔ “ اس نے چارپائی پر لیٹنے سے پہلے یہ بات اتنی بار دہرائی تھی کہ سب کے ذہنوں میں اچھی طرح سے نقش ہو گئی۔
”سجاک ابا جی! ملک سائیں نے بلوایا ہے۔ “
”اوئے ستیاناس تمہارا۔ پہلے یہ تو پوچھ لیتے بات کیا ہے؟ “

Read more

صابر علی ولد شاکر علی کا ٹرائل

”صابر علی ولدشاکر علی، عمر 49 سال، سکنہ ملتان، حاضر ہو! “ صابر نے ایک پاٹ دار آواز سنی اور اُچھلتا ہوا کمرۂ عدالت میں جا گرا۔ایک بڑی سی مستطیل میز کے پیچھے دو عمر رسیدہ منصف بیٹھے تھے اور اُسے ہی گھور رہے تھے۔
صابر نے اپنے حلق میں کچھ اَٹکتا ہوا سا محسوس کیا۔
”کارروائی شروع کی جائے! “ منصف نمبر ایک نے میز پر ہتھوڑا مارا۔

منصف نمبردو نے فورا ً ایک رجسٹر کھولا اور گنتی شروع کر دی۔ وہ کافی دیر تک گنتی میں مصروف رہا۔ اِس دوران اُس کے چہرے کے تاثرات مسلسل بدلتے رہے۔ کبھی اُس کے ماتھے پر بل پڑ جاتے تو کبھی اس کی بھنوئیں تن جاتیں۔ پھر اچانک اُس کی آنکھوں سے ملائمت ٹپکنے لگتی۔

Read more

افسر حسین کا صبر

افسر حسین ٹیلی فون ایکسچینج میں بطور سینئر آپریٹر کام کرتا تھا۔ سارا دن وہ لوگوں کی شکایات سنتا اور انھیں ڈائری میں نوٹ کرکے متعلقہ افراد تک پہنچاتا رہتا۔ اپنے باقی ساتھیوں کے برعکس وہ جھنجھلاہٹ بھری ٹیلی فون کالز آسانی سے سن لیا کرتاتھا۔ کبھی کبھار اسے بہت سخت باتیں بھی سننے کو مل جاتیں، مگر وہ اپنی آواز کی مٹھاس برقرار رکھتا۔

بچپن سے وہ ایک بہترین سامع تھا۔ اُس کا باپ جب کبھی اداس ہوتا تو اسے گھرسے باہر لے جاتا اور سارا راستہ دکھوں کی پٹاری کھولے بین بجاتا رہتا۔ پھر وہ اسے بتاتا کہ بڑا بیٹا ہونے کے ناطے یہ سب کچھ اسے جلد از جلد سمجھ لینا چاہیے۔ ماں اکثر اسے اپنی جٹھانیوں اور نندوں کے ظلم کی داستانیں سناتی اور دھاڑیں مار مار کر روتی چلی جاتی۔ دادی رات کو کہانی سنانے سے پہلے یہ بتانا نہ بھولتی کہ کس طرح سکھ بلوائیوں نے اس کے والدین کو کرپانوں اور تلواروں سے شہید کر دیا اور کس طرح وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کماد کی فصلوں میں چھپتی چھپاتی ہوشیار پور سے لاہور پہنچی۔ و ہ کچھ بھی نہ بولتا بس درمیان میں ایک آدھ بار سر ہلا دیتا۔

Read more

سینٹرل چوک

موبائل کی رِنگ ٹون مسلسل بج رہی ہے۔ صبح صبح کون تنگ کر رہا ہے؟ قدموں کی رفتار تیز کرتے ہوئے، گھڑی کی سوئیوں پر نظر دوڑاتا ہوں تو پارہ چڑھنے لگتا ہے۔ نو بج کر سات منٹ ہی تو ہوئے ہیں۔ آدمی ہیں بھائی۔ مشین تھوڑی ہیں۔ ایسی بھی کیا غلامی! دفتر سے لیٹ…

Read more

نروان

اضطراب اپنی آخر ی حدوں کو چھونے لگا، تشنگی نا قابل برداشت ہو گئی اور نیند کی دیوی کو روٹھے ہوئے ہفتہ ہو چلا تو اُس نے زندگی میں پہلی بار بڑے چاؤ سے اکٹھے کیے گئے سامانِ تعیشات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور اپنے سنگ مرمر سے بنے محل کو الوداع کہہ کر کسی انجانی ڈگر پہ چل پڑا۔ اُس نے منبر پر بیٹھے مولوی سے سکون کی شاہراہ کا راستہ پوچھا اور پہلو میں ذہنی خلفشار سمیٹ کر لوٹ آیا۔ شاعر سے اپنے مسئلے کا تذکرہ کیا اور کھوکھلے جذباتی دلائل کا جواب ایک استہزا ئیہ قہقہے سے دیتا ہو ا آگے بڑھ گیا۔

Read more

کاملیت پسند

کئی ہفتوں کے بعد آفتاب نے دھند کی اوٹ سے اپنا روشن چہرہ نکالا تھا۔ میٹھی میٹھی دھوپ جاڑے کی سرد ہواؤں کے دوش پہ بکھری تھی۔ میں مردہ خانے سے باہر نکلا اور کچھ ہی قدموں کے فاصلے پر موجود روزی گارڈن کے قریب جاکر رک گیا جہاں رنگ برنگے گلاب کے پھول مسکرا کر اپنی تکمیل کا اعلان کر رہے تھے اور نیم باز کلیاں ایک عالم اداسی میں یہ سوچ کر لچکے جاتی تھیں کہ کب اُن پر شباب کا جوبن ٹوٹ کے برسے گا۔

ہڑبونگ مچاتے لڑکوں کے ٹولے آئے اور میری محویت کی دیوار میں شگاف ڈالے بغیر گزر گئے۔ جامہ زیب لڑکیوں کے گروپ فضا میں ہیجان آمیز خوشبو ئیں بکھیرتے چلے گئے مگر میرا ارتکاز جوں کا توں رہا۔

Read more

روٹین کے چند موبائل میسیجز

گرل فرینڈ ایسی ہونی چاہیے جس کی گود میں سر رکھو تو چہرہ نظر نہ آئے (; جن کو سمجھ آگئی ہے وہ آگے فاروڈکریں۔ باقی لوگ پوگو پہ کارٹون دیکھیں۔ گڈمارننگ ملتان
ارسال کنندہ: جاوید جذباتی

نماز پڑھو! اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھی جائے۔
ارسال کنندہ : مولوی زاہد

بیوی: جب تم لسی پیتے ہو، مجھے پارو کہتے ہو۔ جب تم شربت پیتے ہو مجھے جاناں کہتے ہو۔ اور جب تم وائن پیتے ہو مجھے ڈارلنگ کہتے ہو۔ پھر آج یہ بھوتنی کیوں؟
خاوند: آج میں نے سپرائیٹ پی ہے۔ سیدھی بات۔ نو بکواس۔

Read more

خود سے بچھڑے ہو ئے کردار

("اکیلے لوگوں کاہجوم " ----ایک طائرانہ جائزہ) "اکیلے لوگوں کا ہجوم "ساحر شفیق کا ذہنی اور روحانی سفر ہے جو اس نے اپنی ذات کے اندرون میں طے کیا ہے اور اپنی ذات کے باہر بھی۔ بلا شبہ یہ جدید اُردو افسانے کا نیا چہرہ ہے جس کے کلیدی موضوعات عصرِحاضر کے انسان کی تنہائی…

Read more