بوڑھا چارلی اور ریمبراں

٭ وہ خود کو نہایت عظیم مصور سمجھتا تھا حالانکہ آج تک اُس کی کوئی ایک تصویر بھی نہیں بکی تھی۔
٭ اُسے مائیکل اینجلو اور ڈائیونچی کی طرح میورلز بنانے کا شوق تھا تاہم کسی چرچ نے اُس کی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کی۔
٭ تیسرے درجے کے نقاد تک اُس کے نام سے لا علم تھے اور وہ سماجی تقریبات میں بالکل نہیں بلایا جاتا تھا۔
٭ عام لوگ بھی اُس کی عزت نہ کرتے ا ور اُسے چارلس کاپر فیلڈ کے بجائے بوڑھا چارلی کہہ کربلاتے۔
٭ دیکھا جائے تو اُس کی زندگی ناکامی کا ایک چلتا پھرتا شاہکار تھی جس میں فقط ایک لفظ یعنی ”نہیں“ واضح تھا جو ہر مقام پر اُس کا منہ چڑاتا اور اُسے ذلیل کرتا رہا۔

Read more

جہنمی

مکروہ آوازیں۔ بھیانک چہرے۔ آتشی دیواریں۔ نوکیلے سائے۔ تُند طوفانی بگولے۔ شاید مجھے جہنم میں دھکیل دیا گیا ہے۔ عجب نحوست زدہ مقام ہے : پیچھے زہریلے کانٹوں کا مسکن، آگے اژدھوں کی طویل قطار؛ جہنم کا دربان میری مدد کر سکتا ہے مگر پہلے اُسے یہ باور کرانا ہو گا کہ میں بے گناہ…

Read more

رنگوں میں سوچنے والی لڑکی

پہلی بار جب سویرا نے علی کو بتایا کہ وہ رنگوں میں سوچتی اور محسوس کرتی ہے تو وہ کافی دیر تک ہنستا رہا۔ ”اچھا جی! یعنی آپ جناب کو روتے ہوئے نیلا رنگ نظر آتا ہے۔ موتیے کی خوشبو ڈارک گرین ہوتی ہے۔ اور چیئرمین صاحب کے چاروں طرف سفید رنگ کا دائرہ سا…

Read more

ایک کیلائیڈوسکوپ کی روداد

میں ایک دُم کٹا بندر تھا جس نے ایک متعفن پنجرے میں جنم لیا اور اندھیرے کو اپنی ماں سمجھا۔ مجھے نفرت کی گھٹی پلائی گئی اور میرے کانوں میں جہالت کا سیسہ انڈیلا گیا تاکہ میں گونگا اور بہرا ہوجاؤں۔ میں نے تتلی کے پر نوچے، کتابوں کو پھاڑا اور خوشبو کا بلات کار کیا۔ یقینا میں عمر بھر موت کا بینڈ ماسٹر ہی رہتا مگر ایک نیلی شام سے ذرا پہلے سوال کے ہاتھوں نے مجھے اپنی بانہوں میں جکڑا اور پنجرے سے باہر اُچھال دیا (پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے ) ۔

Read more

وقت کی اکائی اور انقلاب کا جشن

بیرکوں میں بند کتے گوشت کی بُو سونگھ کر بھونکنے لگے تو بادشاہ نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونسی اور سارا شہر بہرا ہوگیا۔
کتوں نے کھونٹے اکھاڑے ؛ زنجیریں توڑیں ؛ دروازوں میں شگاف کیے ؛ فصیلیں گرائیں اور لوگوں پر ٹوٹ پڑے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگ جو بہرے تھے، اور بھوکے تھے، ا ور ننگے تھے، اور جھونپڑیوں میں سورہے تھے۔

Read more

لڑکی کا اغوا یا رضامندی سے فرار

بیان ازاں مسمات عذراشاہین دختر چوہدری شاہین علی قوم آرائیں سکنہ گلی نمبر 6 مکان نمبر 1595، رحمانیہ سٹریٹ گڑھی شاہومین بازار، لاہور بابت مقدمہ نمبر 131 / 16 تھانہ گڑھی شاہو زیر دفعہ 365 بی، تعزیر اتِ پاکستان.بر حلف بیان لیا کہ عاقلہ، بالغہ اور تعلیم یافتہ ہوں۔ شریف گھرانے سے تعلق ہے۔ والدصاحب زمیندارہ کرتے ہیں۔ والدہ دینی معلم ہیں۔ محلے کے بچوں کو سپارہ پڑھاتی ہیں۔ میں بھی صوم و صلوٰۃ کی پابند ہو ں اور اپنا نفع نقصان خوب سمجھتی ہوں۔ 3 جنوری 2016 کا وقوعہ ہے۔ منگل کا دن تھا۔ تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا۔ گھر پر کوئی نہ تھا۔ میں باورچی خانے میں ناشتہ تیار کر رہی تھی۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے سو چا گوالا ہو گا۔

Read more

فیس بک کی ایک پروفائل اور محبت وغیرہ

نام: شیلا اگروال عمر: 19 سال اسٹار: ورگو ازدواجی حیثیت: غیر شادی شدہ زبانیں جو میں بول سکتا ہوں /سکتی ہوں : ہندی، انگریزی، پنجابی مذہبی نقطہ نظر: کوئی نہیں سیاسی نظریات: اعتدال پسند جنسی رجحانات: نارمل جنم بھومی: چندی گڑھ پیشہ: بے روزگاری (ابھی سٹوڈنٹ جو ہوں ) تعلیم: بی۔ ایس سائیکلوجی (فورتھ سمسٹر)…

Read more

اشرف المخلوقات

”سائیکل بالکل کھپڑ ہو گئی ہے۔ کوئی سواد نہیں رہا۔ “ دین محمد منشی، جون کے غضب ناک سورج کی طرف دیکھ کر منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑایا۔
”سواد کس چیز کا؟ تم بھی تو بوڑھے ہو گئے ہو دین محمد! “
”صبح دیر سے اُٹھوں گا۔ کوئی جگائے مت۔ “ اس نے چارپائی پر لیٹنے سے پہلے یہ بات اتنی بار دہرائی تھی کہ سب کے ذہنوں میں اچھی طرح سے نقش ہو گئی۔
”سجاک ابا جی! ملک سائیں نے بلوایا ہے۔ “
”اوئے ستیاناس تمہارا۔ پہلے یہ تو پوچھ لیتے بات کیا ہے؟ “

Read more

صابر علی ولد شاکر علی کا ٹرائل

”صابر علی ولدشاکر علی، عمر 49 سال، سکنہ ملتان، حاضر ہو! “ صابر نے ایک پاٹ دار آواز سنی اور اُچھلتا ہوا کمرۂ عدالت میں جا گرا۔ایک بڑی سی مستطیل میز کے پیچھے دو عمر رسیدہ منصف بیٹھے تھے اور اُسے ہی گھور رہے تھے۔
صابر نے اپنے حلق میں کچھ اَٹکتا ہوا سا محسوس کیا۔
”کارروائی شروع کی جائے! “ منصف نمبر ایک نے میز پر ہتھوڑا مارا۔

منصف نمبردو نے فورا ً ایک رجسٹر کھولا اور گنتی شروع کر دی۔ وہ کافی دیر تک گنتی میں مصروف رہا۔ اِس دوران اُس کے چہرے کے تاثرات مسلسل بدلتے رہے۔ کبھی اُس کے ماتھے پر بل پڑ جاتے تو کبھی اس کی بھنوئیں تن جاتیں۔ پھر اچانک اُس کی آنکھوں سے ملائمت ٹپکنے لگتی۔

Read more

افسر حسین کا صبر

افسر حسین ٹیلی فون ایکسچینج میں بطور سینئر آپریٹر کام کرتا تھا۔ سارا دن وہ لوگوں کی شکایات سنتا اور انھیں ڈائری میں نوٹ کرکے متعلقہ افراد تک پہنچاتا رہتا۔ اپنے باقی ساتھیوں کے برعکس وہ جھنجھلاہٹ بھری ٹیلی فون کالز آسانی سے سن لیا کرتاتھا۔ کبھی کبھار اسے بہت سخت باتیں بھی سننے کو مل جاتیں، مگر وہ اپنی آواز کی مٹھاس برقرار رکھتا۔

بچپن سے وہ ایک بہترین سامع تھا۔ اُس کا باپ جب کبھی اداس ہوتا تو اسے گھرسے باہر لے جاتا اور سارا راستہ دکھوں کی پٹاری کھولے بین بجاتا رہتا۔ پھر وہ اسے بتاتا کہ بڑا بیٹا ہونے کے ناطے یہ سب کچھ اسے جلد از جلد سمجھ لینا چاہیے۔ ماں اکثر اسے اپنی جٹھانیوں اور نندوں کے ظلم کی داستانیں سناتی اور دھاڑیں مار مار کر روتی چلی جاتی۔ دادی رات کو کہانی سنانے سے پہلے یہ بتانا نہ بھولتی کہ کس طرح سکھ بلوائیوں نے اس کے والدین کو کرپانوں اور تلواروں سے شہید کر دیا اور کس طرح وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کماد کی فصلوں میں چھپتی چھپاتی ہوشیار پور سے لاہور پہنچی۔ و ہ کچھ بھی نہ بولتا بس درمیان میں ایک آدھ بار سر ہلا دیتا۔

Read more