بگ برادر، بریو نیو ورلڈ اور ڈاک شارٹ فلم فیسٹول بہاول پور

بابائے صحافت والٹر لپمین کا خیال تھا کہ ہم دنیا کو میڈیا کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ سن انیس سو بائیس میں جب انہوں نے یہ بات کہی ہوگی تو اُس وقت میڈیا کا مطلب اخبارات، میگزینز اور گونگی فلموں سے زیادہ اور کیا ہو گا؟ ابھی تو پہلا ریڈیو سٹیشن قائم ہوئے بھی محض ایک برس ہوا ہو گا اور یہ بھی نہیں معلوم کہ کتنے لوگ اس کی نشریات سنتے ہوں گے۔ ابھی تو دنیا نے ٹیلی ویژن

Read more

ریاض قدیر کی افسانوی دنیا

ریاض قدیر کی افسانوی دنیا سعادت حسن منٹو، گائے ڈی موپساں، خواجہ غلام فرید، ترقی پسندی، میلو ڈرامہ اور بے پناہ آئیڈیلزم سے عبارت ہے۔ منٹو اور موپساں اُن کی آل ٹائم انسپائریشن رہے، چناں چہ اِنہی کے تقابلی جائزے پر اُنہوں نے اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ تحریر کیا، جب کہ انگریزی، اردو اور سرائیکی پر یکساں دسترس نے اُنہیں اِس قابل بنایا کہ موپساں اور مشیل فوکو کو اردو، اور خواجہ غلام فرید کو انگریزی کے قالب میں ڈھال

Read more

مسخاکے بائی علی نعیم

علی نعیم بنیادی طور پر ایک مجسمہ ساز ہے۔ پچھلے ایک عشرے میں جنوبی پنجاب کے اہم چوراہوں پر جتنے بھی مجسمے نصب ہوئے، وہ سب اُسی کی دِین ہیں، لیکن اُس نے کبھی اِس کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی۔ وہ ایک منکسر المزاج فن کار ہے، جو نام سے کہیں زیادہ اپنے کام سے وابستہ ہے۔ اُس کے مجسمے ہماری ثقافتی زندگیوں کا ایک انمٹ حصہ ہیں، مگر اُس نے کبھی یہ باور نہیں کروایا۔ سچ کہوں

Read more

جواریوں کا علامہ اقبال

اب سے کوئی پندرہ، بیس سال پہلے عزیز ہوٹل چوک پر ایک ننگ دھڑنگ بابے کی حکمرانی تھی، جو خود کو علامہ اقبال کہتا تھا، حالانکہ اس کا حلیہ موہن داس کرم چند گاندھی سے مشابہ تھا۔ وہ ناک میں سگریٹ کا فلٹر گھسا کر ایک زوردار کش لیتا، اور منہ سے دھواں نکالتا، تو یوں لگتا جیسے کوئی مال گاڑی چلی آ رہی ہو۔ لوگوں نے اس کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں پھیلا رکھی تھیں۔ بیشتر افراد

Read more

جب میں نے مائیکل اینجلو کو مسکراتے دیکھا

قائد اعظم ڈرامیٹک کلب اینڈ مووی سوسائٹی ہر سال و ائیوا لی فسٹا کے عنوان سے اپنا دو روزہ ایونٹ سٹیج کرتی ہے، جس میں پہلا دن شارٹ موویز، کلچرل ڈانسز اور لپ سنک بیٹل کے لیے مختص ہوتا ہے اور دوسرا دن موب ڈانس، ڈراموں اور ڈی جے نائٹ کے لیے۔ شعبہ اناٹومی کی سربراہ، ڈاکٹر صباحت گل اِس کی پیٹرن ہیں اور فائنل ائر ایم۔ بی۔ بی۔ ایس کے سٹوڈنٹ ارحم بن ریاست اِس کے صدر، جبکہ ڈائریکٹر

Read more

قرطاس پہ دستک

1۔ ایک بے تکی زندگی کا خلاصہ میں ساڑھے چار برس کا تھا، جب مجھے علامہ اقبال پبلک سکول شجاع آباد میں داخل کرایا گیا۔ علامہ اقبال ایک معیاری، لیکن آمرانہ مزاج کا حامل سکول تھا۔ میں ٹھہرا سدا کا کھلنڈرا اور کام چور، سیدھا ماں کے پلو سے لپٹ گیا اور لگا رحم کی دہائیاں دینے : ”نی مائے سانوں کھیڈن دے، میرا وت کھیڈن کون آسی!“ (ماں مجھے کھیلنے دے، پھر میرے ساتھ کون کھیلنے آئے گا۔) اور

Read more

کہانی سے بڑے کردار کی کہانی

میں ایک اچھا طالبعلم تھا لیکن مجھ سے رٹا نہیں لگایا جاتا تھا۔ مجبوراً مجھے طبع زاد مضامین، درخواستیں اور خطوط لکھنے پڑتے۔ پانچویں جماعت تک اردو کے جتنے بھی اساتذہ ملے، سب نے اِس کی خوب حوصلہ شکنی کی، لعن طعن اور مار پیٹ سمیت تمام حربے آزمائے، نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ اردو اور انگلش کے نمبروں کی وجہ سے میری پوزیشن ماری جانے لگی۔ مس آصف توصیف عثمانی وہ پہلی استاد تھیں جنہوں نے میرے طبع

Read more

ایک لنگڑے سپاہی کی کہانی

ہمارے پاس ایک ہٹاچی لومینر بلیک اینڈ وائٹ ٹی۔ وی ہوا کرتا تھا، جس کا سلائیڈنگ فریم اور چوبی ٹانگیں اِسے ایک خاص طرح کی انفرادیت اور شان عطاء کرتی تھیں۔ بارسلونا اولمپکس اور بانوے کا کرکٹ ورلڈ کپ ہم نے اِسی ٹی۔ وی پر دیکھا اور مکی ماؤس، پنک پینتھر اور وڈی وڈ پیکر جیسے کارٹونز بھی۔ پھر یہ ٹی۔ وی پرانا ہو گیا۔ کبھی اِس کی سکرین پر کیڑے مکوڑے ناچنے لگتے تو کبھی یہ ششکاریاں مار کر

Read more

باس

عفیفہ اور میں نے ایک ہی سال میں ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ سے ایم اے کیا۔ فرق بس یہ تھا کہ وہ مارننگ کی بیگم تھی اور میں ایوننگ کا جوکر۔ اُس نے پچھلے کئی برسوں کا ریکارڈ بریک کرتے ہوئے امتیازی نمبروں سے ڈگری حاصل کی اور طلائی تمغے کی حق دار قرار پائی۔ میں اُس روز اِتنا جلا بھنا ہوا تھا کہ میں نے اُسے متعدد بار بتایا اگر گولڈ میڈل میں سچ مچ کا گولڈ ہوتا تو لوگ

Read more

ایک آسیبی شہر کی کتھا

میں ملتان میں پیدا ہوا، چناب کے ساتھ چہلیں کیں، راوی میں غوطے لگائے، مگر کچھ ہی فاصلے پر موجود ستلج میرے لیے اجنبی رہا۔ اِسی ستلج پر ایک عظیم الشان پُل بنا ہوا ہے، جس کے ایک جانب ملتان ہے اور دوسری جانب بہاول پور، درمیان میں محض تین سو میٹر کا فاصلہ ہے، لیکن مجھے اِس تین سو میٹر کے فاصلے کو پاٹنے میں تیس برس لگ گئے کیونکہ میں نئی جگہوں اور نئے لوگوں سے خوفزدہ تھا۔

Read more

خواب بُننے والوں کے خواب – ریجنل کلچرل کانفرنس بہاول پور 2024

مورخہ گیارہ جولائی کو بہاول پور آرٹس کونسل کے زیرِ اہتمام پہلی ایک روزہ ریجنل کلچرل کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس کی خاص بات یہ تھی کہ اِس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تو صبح ساڑھے دس بجے ہونا تھا، لیکن میں نو بجے ہی گھر سے نکل آیا۔ راستے میں احمد پوری گیٹ، درواڑی گیٹ اور فرید گیٹ دکھائی دیے تو طبیعت ہشاش بشاش ہو گئی۔ صادق

Read more

سائنس کونسل ملتان سے آرٹس کونسل ملتان تک

کلمہ چوک ملتان، جو کبھی پل موج دریا کہلاتا تھا، فلائی اوورز کے اُس جال کے نیچے آ کر دب گیا ہے، جو پہلے فیصل مختار کی ضلعی نظامت اور پھر یوسف رضا گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران تعمیر ہوئے۔ کلمہ چوک لاہور کے ساتھ بھی کم و بیش یہی کچھ ہوا، لیکن بہرحال اس کی ذمہ داری فیصل مختار اور یوسف رضا گیلانی پر عائد نہیں کی جا سکتی، ہر شہر اپنے مسیحا اور آمر آپ پیدا کرتا

Read more

ایک ننھے بلیک میلر کی سرگزشت

میں نے پی۔ ٹی۔ وی کی گود میں آنکھ کھولی۔ مرینہ خان میرا پہلا کرش تھی تو راحت کاظمی اور جنید جمشید میرے ابتدائی رول ماڈل۔ ماموؤں کی فراوانی تھی لیکن چچا ایک بھی نہ تھا، لہٰذا میں نے صبح کی نشریات کے میزبان، مستنصر حسین تارڑ کو اپنا چچا بنا لیا۔ چار سال کی عمر میں سکول جانا شروع کیا تو یہ جان کر سخت مایوسی ہوئی کہ میرا ہر کلاس فیلو انہیں ’ذاتی‘ چچا سمجھتا تھا۔ احساسِ ملکیت

Read more

سائنس کونسل ملتان سے آرٹس کونسل ملتان تک

کلمہ چوک ملتان، جو کبھی پل موج دریا کہلاتا تھا، فلائی اوورز کے اُس جال کے نیچے آ کر دب گیا ہے، جو پہلے فیصل مختار کی ضلعی نظامت اور پھر یوسف رضا گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران تعمیر ہوئے۔ کلمہ چوک لاہور کے ساتھ بھی کم و بیش یہی کچھ ہوا، لیکن بہرحال اس کی ذمہ داری فیصل مختار اور یوسف رضا گیلانی پر عائد نہیں کی جا سکتی، ہر شہر اپنے مسیحا اور آمر آپ پیدا کرتا

Read more

چنگیز خان کا ڈنڈا

بننا تو میں ہیڈ بوائے چاہتا تھا لیکن میرا قد اِتنا چھوٹا تھا کہ مجھے کبھی مانیٹر کے لیے بھی شارٹ لسٹ نہیں کیا گیا۔ چھٹی جماعت تک یہی صورتِ حال رہی۔ آخر میری دعائیں، تعلیمی کارکردگی اور جوڑ توڑ کی صلاحیتیں رنگ لے آئیں اور ساتویں جماعت میں مجھے مانیٹر بنا دیا گیا۔ کلاس انچارج، سر افضل بودلہ سے ملا اور اپنی ذمہ داریوں کے متعلق استفسار کیا تو اُنہوں نے لکڑی کا ایک ڈنڈا بنا کر لانے کی

Read more

ڈائینوسس

اپالو اور ڈائینوسس حسن کے دو متضاد کُرے ہیں۔ اپالو تفکر، تعقل، توازن اور ترتیب کا استعارہ ہے ؛ ڈائینوسس جوش، جرات، جذبے اور جنون کی علامت ہے۔ اپالو کا حسن دھیما اور باوقار ہے ؛ ڈائینوسس کا حسن وحشت اور دیوانگی سے لبریز ہے ؛ اپالو کی خوب صورتی آنکھوں میں ٹھنڈک اور دل میں نور پیدا کرتی ہے ؛ ڈائینوسس کی خوب صورتی جلا کر راکھ کر دیتی ہے ؛ اپالو تخلیق کا دیوتا ہے، ڈائنوسس تخریب کی

Read more

سورج کے ساتھ ساتھ

ہم شاہ رخ خان کے عہد میں پیدا ہوئے۔ ہم نے ”ڈر“ ، ”کچھ کچھ ہوتا ہے“ ، ”کبھی خوشی کبھی غم“ ، ”دل والے دلہنیا لے جائیں گے“ ، ”دل تو پاگل ہے“ اور ”محبتیں“ جیسی رومان انگیز فلمیں دیکھیں اور اپنے آپ کو ایک چھوٹا موٹا راہول یا راج آریان سمجھنے لگے۔ ہم نے شدید خوابوں، خیالوں جیسا لڑکپن گزارا۔ ہماری زندگی کا واحد مطمعِ نظر کسی سمرن یا پوجا کی تلاش تھا، اور مزے کی بات یہ

Read more

ایک فکشن پارے کی کتھا اور دوسری کہانیاں

مورخہ پچیس مئی کو میریٹ ہوٹل کراچی میں گیارہویں یو۔ بی۔ ایل آرٹس اینڈ لٹریری ایوارڈز کی رنگا رنگ تقریب منعقد ہوئی، جس میں میرا ایک فکشن پارہ ’رنگوں میں سوچنے والی لڑکی اور گونجتی سرگوشیاں‘ آن لائن ادب کی کیٹیگری میں پہلے انعام کا حق دار قرار پایا۔ اب سے کوئی تین برس قبل جب ”ڈھشما“ کو نیشنل لائبریری آف پاکستان سے ایوارڈ ملا تھا تو ایک عجیب سی سرشاری اور طمانیت کا احساس ہوا تھا، لیکن ساتھ ہی

Read more

خالد سعید: روشنی کی سرگزشت

خالد سعید، دس مارچ انیس سو سینتالیس کو ملتان میں پیدا ہوا۔ اُس نے گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول ملتان سے میٹرک، اور ایمرسن کالج ملتان سے ایف۔اے کیا اور مزید تعلیم کے حصول کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور چلا گیا، جہاں اُس نے پہلے گریجوایشن، اور پھر نفسیات میں ماسٹرز کیا۔ اُس کی شخصیت کی طرح اُس کا تعلیمی ریکارڈ بھی کافی متنوع اور کثیر الجہت ہے۔ اُس نے زندگی کے مفاہیم کھوجنے اور مقامی دانش تک رسائی کے لیے

Read more

آؤ مونچھ مونچھ کھیلیں!

بدقسمتی سے ہم ایک ایسے سماج کے پروردہ ہیں، جس کے بیشتر استاد ”شہوت میں ڈوبے کیکڑوں“ کا روپ دھار چکے ہیں۔ اگر آپ ایک لڑکی ہیں تو دو چار جگہ جسم کا نذرانہ پیش کیجئے اور میڈل سے لے کر نوکری تک سب آپ کی دسترس میں۔ میرٹ گیا بھاڑ میں۔ خود سپردگی ہی سب سے بڑا میرٹ ہے (اپنے ”تن“ میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی) ۔ اگر آپ ایک لڑکے ہیں تو دلالی کے لئے تیار

Read more

معاصر نقاد کے نام ایک خط

لوگ کہتے ہیں کہ تمہارا مطالعہ نہایت سطحی اور بودا ہے اور زندگی کے تجربات نہ ہونے کے برابر۔ ان کا خیال ہے کہ تمہاری دانش اس جعلی زیور کی مانند ہے، جو دیکھنے میں تو کھرا سونا لگتا ہے، لیکن ٹھوک بجا کر دیکھا جائے تو دیگی لوہے کی چادروں پر سنہری پانی کے چھینٹوں سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ تمہیں چند مخبوط الحواس مدیروں اور تمہارے اپنے طالب علموں کے علاوہ کسی نے

Read more

ہم اور ہمارے سٹیریو ٹائپس

اکرم کو دیکھو، تین سال کی سروس میں گاڑی اور بنگلا بنا لیا! اس بار نمبر تھوڑے کیوں آئے؟ تمہاری نوکری کیوں نہیں لگ رہی بھائی؟ آپ کی توند بہت موٹی ہے، جینز مت پہنا کریں!  عادتیں نسلوں کا پتا دیتی ہیں، آپ تو شکل ہی سے خاندانی معلوم ہوتے ہیں!  اچھی عورت وہی ہے جو بچے پالے اور چولہا چوکھا کرے! ہر مرد کی فطرت میں ظلم اور بے وفائی ہوتی ہے! یہ شادی نہیں ہو سکتی کیونکہ تم

Read more

فرتاش سید کا ایک خط ساحر شفیق کے نام

ساحر شفیق نے فرتاش سید کو خط لکھا اور پوسٹ کرنے کے لیے منور آکاش کو دیا۔ منور آکاش جناب رفعت عباس کا ناول ”لونڑ دا جیون گھر“ سرائیکی سے اردو میں ترجمہ کر رہے تھے۔ انہوں نے خط مسودے کے ساتھ رکھ دیا، اور سو گئے۔ منور آکاش چونکہ ایک خوب رو جوان ہیں لہٰذا بھابھی ان پر کڑی نظر رکھتی ہیں، اور اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں، کہ منور آکاش تو پھر منور آکاش ہیں، میں نہ

Read more

”لال سنگھ چڈھا“ کے پہلے پندرہ منٹ

”لال سنگھ چڈھا“ کے پہلے پندرہ ہی منٹ دیکھے ہیں، مگر یہ پندرہ منٹ کم از کم اتنا ضرور متعین کر رہے ہیں کہ ”لال سنگھ چڈھا“ ، ”فورسٹ گمپ“ سے کہیں زیادہ میچور سیاسی بیانیہ لیے ہوئے ہے۔ گولڈن ٹمپل مساکر، اندرا گاندھی کا قتل، ہندو سکھ فسادات، سکھوں کی امرتسر سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی، سروائیول کے لیے ایک عام فرد کی اپنے مذہبی تشخص سے دست برداری اور موب لنچنگ : یہ سب پہلو مل کر

Read more

رنگوں میں سوچنے والی لڑکی اور گونجتی سرگوشیاں

اب سے کوئی بارہ برس قبل میں نے ”رنگوں میں سوچنے والی لڑکی“ کے عنوان سے ایک افسانہ تحریر کیا۔ رنگوں میں سوچنے والی لڑکی کو تصویروں میں آوازیں اور آوازوں میں تصویریں نظر آتی تھیں۔ اس کا ماننا تھا کہ تیز ہوا کا شور ڈارک بلیک اور بچوں کی ہنسی آف وہائٹ ہوتی ہے۔ اسے لڑکیوں پر فحش جملے کسنے والے مردوں کے آس پاس سرمئی رنگ کے بلبلے پھوٹتے نظر آتے تھے اور وہ بیمار لوگوں کو ان

Read more

کاسنی رنگ کا آدمی

بہا الدین زکریا یونی ورسٹی ملتان میں تین ہی سال گزارے لیکن سچ پوچھیے تو ان تین برسوں میں کئی زندگیاں جینے کا موقع ملا۔ کسی روز ان خواب ناک ایام کی مفصل روداد لکھنے کی کوشش کروں گا، جنہوں نے نہ صرف مجھے میرے ہونے کا التباس فراہم کیا، بلکہ نہ ہونے کا آگہی بھی دی۔ میری یادوں کی زنبیل میں ایک نہیں، ہزاروں پوٹلیاں ہیں جن پر زکریا یونی ورسٹی کا نام لکھا ہے۔ ان میں سے ایک

Read more

ایک سانولی سلونی شام اور رقص کرتی رات کی کہانی

شام فرتاش و ملتان کلچرل نائٹ، دو جولائی سن دو ہزار اکیس کو ملتان ٹی ہاؤس میں منعقد ہوئی۔ ابھی تقریب کا باضابطہ آغاز بھی نہ ہوا تھا کہ واپڈا نے ہاتھ دکھا دیا۔ قریب قریب آٹھ بجے کا عمل تھا۔ تھوڑی پریشانی تو ہوئی، لیکن یہ سوچ کر خود کو تسلی دی کہ ٹی ہاؤس والوں کا جناتی سائز جنریٹر آخر کب کام آئے گا۔ بیک اپ جنریٹر بھی تھوڑی دیر بعد کھانس کر خاموش ہو گیا تو ”دنیا

Read more

ایک سخت جان افسانوی مجموعے کی روداد

”ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری“ کا پہلا ایڈیشن سن دو ہزار دس میں شائع ہوا تاہم انیس افسانوں اور ایک سو بارہ صفحات پر مشتمل یہ کتاب اپنا رنگ جمانے میں ناکام رہی۔ کچھ افسانے کچے رہ گئے تھے۔ کچھ ضرورت سے زیادہ پک گئے تھے۔ پروف کی بھی کافی اغلاط تھیں۔ کچھ عالی ظرف دوستوں اور بزرگوں نے خوب حوصلہ افزائی کی، مگر قبر کا حال تو مردہ ہی جانتا ہے، لہذا ان افسانوں کو مسلسل قطع و برید

Read more

امڑی

میرے والد اکلوتی اولاد تھے۔ اکلوتے ہونے نے انہیں انٹروورٹ اور کم گو بنا دیا۔ ان کے زیادہ دوست نہیں بن پائے۔ امی اس کے برعکس ایک بھرے پرے خاندان سے آئی تھیں چناں چہ رشتہ بنانا اور نبھانا جانتی تھیں۔ خالی ستر اسی تو ان کی کولیگز تھیں۔ کسی کے گھر میلاد ہو رہا ہے تو کسی نے ایویں ہی گیٹ ٹو گیدر رکھی ہوئی ہے۔ خود ہمارے اپنے گھر پارٹی کا سا سماں رہتا۔ آس پڑوس میں بھی

Read more

ققنس کے آنسو (ایک آٹو بائیو بلیک کومیڈی )

اب سے کوئی چار برس قبل وومن یونیورسٹی بہاول پور نے ایچ ای سی پنجاب کے اشتراک سے ایک سیمینار منعقد کروایا جس میں مجھے کی نوٹ سپیکر کے طور پر مدعو کیا گیا۔ کرنا کرانا کیا تھا۔ وہی دس پندرہ منٹ کا تھیٹر، کچھ اقوال زریں، ایک تاریخی واقعہ، ڈیڑھ درجن اصطلاحات۔ ٹھیک سے یاد نہیں کہ ٹاپک کیا تھا مگر ہال میں موجود ایک طرحدار خاتون کی مست نگاہی نے جناب ابھیجیت کا وہ شہرہ آفاق گیت یاد

Read more

وائس ورسا

اور جب کیدو نے ہیر کو بالوں سے پکڑا اور اس کے باپ سردار چوچک سیال کے سامنے لا پٹخا تو چوچک نے اپنی نوک دار مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا: ”دس اوئے ہیرئیے! ۔ اے رانجھو تیرا کی لگدا ہے؟“ تو ہیر کی آواز میں جیسے کسی نخلستان میں چوکڑیاں بھرتی ہرن کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کا سوز اتر آیا اور وہ جذب کے عالم میں دھیرے سے گنگنائی:

”رانجھا رانجھا کردی نی میں، آپے رانجھا ہوئی
سدونی مینوں دھیدو رانجھا، ہیر نہ آکھو کوئی ”

اور پھر مورخ نے بتایا کہ رانجھا بھی تو ”ہیر ہیر“ کہتا، خود ہیر سیال بن گیا تھا لہذا جب وہ ایک دوسرے کے روبرو آئے تو ایک دوسرے کو پہچان نہ پائے۔

Read more

3 جون 2047 کا منصوبہ

3 جون 1947 کو وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے برٹش انڈیا کو تحلیل کرتے ہوئے دو آزاد ملکوں کے قیام کا اعلان کیا تو محمد علی جناح، موہن داس کرم چند گاندھی، پنڈت جواہر لعل نہرو اور ابو الکلام آزاد تاش کی بازی کھیلنے انڈیا کافی ہاؤس میں اکٹھے ہوئے۔ پتے پھینٹنے کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے مستقبل کو لے کر گرما گرم بحث چھڑ گئی۔ ان چاروں کا خیال تھا کہ مستقبل کا برصغیر ان کے نام

Read more

چھوٹے شہر کا بڑا آدمی

آصف نور سے پہلی ملاقات گورنمنٹ ہائی اسکول شجاع آباد کی فیئر ویل پارٹی میں ہوئی۔ چونکہ میں ایک گھوسٹ سٹوڈنٹ تھا اور پہلی بار سکول آیا تھا، لہذا وہ میرے نام سے آشنا تھا مگر میری شکل سے واقف نہ تھا۔ نیر مصطفی جیسے بھاری بھرکم اور بارعب نام کی مناسبت سے اس نے ایک طویل قامت نوجوان کی شبیہ بنا رکھی تھی۔ ایک کم رو اور پستہ قامت لمڈے کو دیکھ کر کافی مایوس ہوا۔ میرے ذہن میں

Read more

حقیقت اورافسانہ (فلیش نان فکشن)

حقیقت کی تین اقسام ہیں : معروضی حقیقت، موضوعی حقیقت، سماجی حقیقت۔ معروضی حقیقت سائنسی نوعیت کی ناقابل تردید سچائی ہے جو کسی خاص زمان و مکاں میں خود کو دہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جیسے پانی کو جب جب ایک خاص درجہ حرارت تک گرم کیا جائے گا تو بخارات میں تبدیل ہو جائے گا۔ سادہ ملیریا کی وجہ ہمیشہ مادہ اینوفلیز مچھر ہوگی جو اپنے شکار کو کاٹ کر اس کے بدن میں پلازموڈیم نامی ایک جرثومہ داخل

Read more

بڑے بھائی صاحب کی لاٹھی، بگ برادر کا ڈنڈا

فلسفہ اقبال کے دور رس اور دیرپا نشے میں مخمور، اہل مغرب کو باقاعدہ اور باضابطہ نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا۔ ابھی ممولا ہی تھا کہ ہو نہار اور چکنے پا توں والی ملت کی پاسبانی اور نگہبانی کے لیے سر گرم عمل ہو گیا جو بہ امر الٰہی اور بہ فضل خدا، نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کا شغر سراٹھائے کھڑی تھی اور اپنی پوری تمکنت، طنطنے اور جاہ و جلال کے ساتھ مسلسل

Read more

فیض ؔ والا لوو

” تونے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ۔“ سے محبوب اور رقیب کی فینٹسی شروع ہوئی۔
مہ رخوں کے لیے مصوری سیکھنے کا خوب جتن کیا مگر پورٹریٹ تو درکنار، تجرید بھی میسر نہ آ پائی ؛ خاکسار کا فنی سفر، ناشپاتی اور امرود سے ذرا پہلے منقطع ہو گیا۔

صورت گری میں ناکام رہنے کا دکھ بالآخر لفظوں سے تصویریں بنانے کی حسرت ناتمام میں ڈھل گیا۔
لفظوں سے تصویریں تو کجا، معنی بھی برامد نہ ہو پائے۔

Read more

بوڑھا چارلی اور ریمبراں

٭ وہ خود کو نہایت عظیم مصور سمجھتا تھا حالانکہ آج تک اُس کی کوئی ایک تصویر بھی نہیں بکی تھی۔
٭ اُسے مائیکل اینجلو اور ڈائیونچی کی طرح میورلز بنانے کا شوق تھا تاہم کسی چرچ نے اُس کی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کی۔
٭ تیسرے درجے کے نقاد تک اُس کے نام سے لا علم تھے اور وہ سماجی تقریبات میں بالکل نہیں بلایا جاتا تھا۔
٭ عام لوگ بھی اُس کی عزت نہ کرتے ا ور اُسے چارلس کاپر فیلڈ کے بجائے بوڑھا چارلی کہہ کربلاتے۔
٭ دیکھا جائے تو اُس کی زندگی ناکامی کا ایک چلتا پھرتا شاہکار تھی جس میں فقط ایک لفظ یعنی ”نہیں“ واضح تھا جو ہر مقام پر اُس کا منہ چڑاتا اور اُسے ذلیل کرتا رہا۔

Read more

جہنمی

مکروہ آوازیں۔ بھیانک چہرے۔ آتشی دیواریں۔ نوکیلے سائے۔ تُند طوفانی بگولے۔ شاید مجھے جہنم میں دھکیل دیا گیا ہے۔ عجب نحوست زدہ مقام ہے : پیچھے زہریلے کانٹوں کا مسکن، آگے اژدھوں کی طویل قطار؛ جہنم کا دربان میری مدد کر سکتا ہے مگر پہلے اُسے یہ باور کرانا ہو گا کہ میں بے گناہ ہوں۔ میرا کوئی قصور نہیں۔ مجھے غلطی سے جہنم میں دھکیل دیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ زندگی کی مجرد تصویر کو دیکھنے کا

Read more

رنگوں میں سوچنے والی لڑکی

پہلی بار جب سویرا نے علی کو بتایا کہ وہ رنگوں میں سوچتی اور محسوس کرتی ہے تو وہ کافی دیر تک ہنستا رہا۔ ”اچھا جی! یعنی آپ جناب کو روتے ہوئے نیلا رنگ نظر آتا ہے۔ موتیے کی خوشبو ڈارک گرین ہوتی ہے۔ اور چیئرمین صاحب کے چاروں طرف سفید رنگ کا دائرہ سا بن جاتا ہے۔ ہاہاہاہاہا“ ”ایک بات تو بتا موٹو؟ “ علی نے بہ مشکل اپنی ہنسی کو بریک لگاتے ہوئے کہا۔ ”میں نہیں بتاتی گندے

Read more

ایک کیلائیڈوسکوپ کی روداد

میں ایک دُم کٹا بندر تھا جس نے ایک متعفن پنجرے میں جنم لیا اور اندھیرے کو اپنی ماں سمجھا۔ مجھے نفرت کی گھٹی پلائی گئی اور میرے کانوں میں جہالت کا سیسہ انڈیلا گیا تاکہ میں گونگا اور بہرا ہوجاؤں۔ میں نے تتلی کے پر نوچے، کتابوں کو پھاڑا اور خوشبو کا بلات کار کیا۔ یقینا میں عمر بھر موت کا بینڈ ماسٹر ہی رہتا مگر ایک نیلی شام سے ذرا پہلے سوال کے ہاتھوں نے مجھے اپنی بانہوں میں جکڑا اور پنجرے سے باہر اُچھال دیا (پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے ) ۔

Read more

وقت کی اکائی اور انقلاب کا جشن

بیرکوں میں بند کتے گوشت کی بُو سونگھ کر بھونکنے لگے تو بادشاہ نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونسی اور سارا شہر بہرا ہوگیا۔
کتوں نے کھونٹے اکھاڑے ؛ زنجیریں توڑیں ؛ دروازوں میں شگاف کیے ؛ فصیلیں گرائیں اور لوگوں پر ٹوٹ پڑے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگ جو بہرے تھے، اور بھوکے تھے، ا ور ننگے تھے، اور جھونپڑیوں میں سورہے تھے۔

Read more

لڑکی کا اغوا یا رضامندی سے فرار

بیان ازاں مسمات عذراشاہین دختر چوہدری شاہین علی قوم آرائیں سکنہ گلی نمبر 6 مکان نمبر 1595، رحمانیہ سٹریٹ گڑھی شاہومین بازار، لاہور بابت مقدمہ نمبر 131 / 16 تھانہ گڑھی شاہو زیر دفعہ 365 بی، تعزیر اتِ پاکستان.بر حلف بیان لیا کہ عاقلہ، بالغہ اور تعلیم یافتہ ہوں۔ شریف گھرانے سے تعلق ہے۔ والدصاحب زمیندارہ کرتے ہیں۔ والدہ دینی معلم ہیں۔ محلے کے بچوں کو سپارہ پڑھاتی ہیں۔ میں بھی صوم و صلوٰۃ کی پابند ہو ں اور اپنا نفع نقصان خوب سمجھتی ہوں۔ 3 جنوری 2016 کا وقوعہ ہے۔ منگل کا دن تھا۔ تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا۔ گھر پر کوئی نہ تھا۔ میں باورچی خانے میں ناشتہ تیار کر رہی تھی۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے سو چا گوالا ہو گا۔

Read more

فیس بک کی ایک پروفائل اور محبت وغیرہ

نام: شیلا اگروال عمر: 19 سال اسٹار: ورگو ازدواجی حیثیت: غیر شادی شدہ زبانیں جو میں بول سکتا ہوں /سکتی ہوں : ہندی، انگریزی، پنجابی مذہبی نقطہ نظر: کوئی نہیں سیاسی نظریات: اعتدال پسند جنسی رجحانات: نارمل جنم بھومی: چندی گڑھ پیشہ: بے روزگاری (ابھی سٹوڈنٹ جو ہوں ) تعلیم: بی۔ ایس سائیکلوجی (فورتھ سمسٹر) اپنے بارے میں : ایک عام سی لڑکی (اکثر لوگ اِسی غلط فہمی میں مارے جاتے ہیں ) ۔ مشاغل: فلمیں دیکھنا اور لڑکوں کو

Read more

اشرف المخلوقات

”سائیکل بالکل کھپڑ ہو گئی ہے۔ کوئی سواد نہیں رہا۔ “ دین محمد منشی، جون کے غضب ناک سورج کی طرف دیکھ کر منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑایا۔
”سواد کس چیز کا؟ تم بھی تو بوڑھے ہو گئے ہو دین محمد! “
”صبح دیر سے اُٹھوں گا۔ کوئی جگائے مت۔ “ اس نے چارپائی پر لیٹنے سے پہلے یہ بات اتنی بار دہرائی تھی کہ سب کے ذہنوں میں اچھی طرح سے نقش ہو گئی۔
”سجاک ابا جی! ملک سائیں نے بلوایا ہے۔ “
”اوئے ستیاناس تمہارا۔ پہلے یہ تو پوچھ لیتے بات کیا ہے؟ “

Read more

صابر علی ولد شاکر علی کا ٹرائل

”صابر علی ولدشاکر علی، عمر 49 سال، سکنہ ملتان، حاضر ہو! “ صابر نے ایک پاٹ دار آواز سنی اور اُچھلتا ہوا کمرۂ عدالت میں جا گرا۔ایک بڑی سی مستطیل میز کے پیچھے دو عمر رسیدہ منصف بیٹھے تھے اور اُسے ہی گھور رہے تھے۔
صابر نے اپنے حلق میں کچھ اَٹکتا ہوا سا محسوس کیا۔
”کارروائی شروع کی جائے! “ منصف نمبر ایک نے میز پر ہتھوڑا مارا۔

منصف نمبردو نے فورا ً ایک رجسٹر کھولا اور گنتی شروع کر دی۔ وہ کافی دیر تک گنتی میں مصروف رہا۔ اِس دوران اُس کے چہرے کے تاثرات مسلسل بدلتے رہے۔ کبھی اُس کے ماتھے پر بل پڑ جاتے تو کبھی اس کی بھنوئیں تن جاتیں۔ پھر اچانک اُس کی آنکھوں سے ملائمت ٹپکنے لگتی۔

Read more

افسر حسین کا صبر

افسر حسین ٹیلی فون ایکسچینج میں بطور سینئر آپریٹر کام کرتا تھا۔ سارا دن وہ لوگوں کی شکایات سنتا اور انھیں ڈائری میں نوٹ کرکے متعلقہ افراد تک پہنچاتا رہتا۔ اپنے باقی ساتھیوں کے برعکس وہ جھنجھلاہٹ بھری ٹیلی فون کالز آسانی سے سن لیا کرتاتھا۔ کبھی کبھار اسے بہت سخت باتیں بھی سننے کو مل جاتیں، مگر وہ اپنی آواز کی مٹھاس برقرار رکھتا۔

بچپن سے وہ ایک بہترین سامع تھا۔ اُس کا باپ جب کبھی اداس ہوتا تو اسے گھرسے باہر لے جاتا اور سارا راستہ دکھوں کی پٹاری کھولے بین بجاتا رہتا۔ پھر وہ اسے بتاتا کہ بڑا بیٹا ہونے کے ناطے یہ سب کچھ اسے جلد از جلد سمجھ لینا چاہیے۔ ماں اکثر اسے اپنی جٹھانیوں اور نندوں کے ظلم کی داستانیں سناتی اور دھاڑیں مار مار کر روتی چلی جاتی۔ دادی رات کو کہانی سنانے سے پہلے یہ بتانا نہ بھولتی کہ کس طرح سکھ بلوائیوں نے اس کے والدین کو کرپانوں اور تلواروں سے شہید کر دیا اور کس طرح وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کماد کی فصلوں میں چھپتی چھپاتی ہوشیار پور سے لاہور پہنچی۔ و ہ کچھ بھی نہ بولتا بس درمیان میں ایک آدھ بار سر ہلا دیتا۔

Read more

سینٹرل چوک

موبائل کی رِنگ ٹون مسلسل بج رہی ہے۔ صبح صبح کون تنگ کر رہا ہے؟ قدموں کی رفتار تیز کرتے ہوئے، گھڑی کی سوئیوں پر نظر دوڑاتا ہوں تو پارہ چڑھنے لگتا ہے۔ نو بج کر سات منٹ ہی تو ہوئے ہیں۔ آدمی ہیں بھائی۔ مشین تھوڑی ہیں۔ ایسی بھی کیا غلامی! دفتر سے لیٹ ہونے کے نقصانات تو بہت سارے ہیں مثلاً ذلت، شرمندگی وغیرہ۔ فائدہ یہ ہے کہ سکول کی ویگنوں اور بسوں کا رش کم ہوجاتا ہے،

Read more

نروان

اضطراب اپنی آخر ی حدوں کو چھونے لگا، تشنگی نا قابل برداشت ہو گئی اور نیند کی دیوی کو روٹھے ہوئے ہفتہ ہو چلا تو اُس نے زندگی میں پہلی بار بڑے چاؤ سے اکٹھے کیے گئے سامانِ تعیشات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور اپنے سنگ مرمر سے بنے محل کو الوداع کہہ کر کسی انجانی ڈگر پہ چل پڑا۔ اُس نے منبر پر بیٹھے مولوی سے سکون کی شاہراہ کا راستہ پوچھا اور پہلو میں ذہنی خلفشار سمیٹ کر لوٹ آیا۔ شاعر سے اپنے مسئلے کا تذکرہ کیا اور کھوکھلے جذباتی دلائل کا جواب ایک استہزا ئیہ قہقہے سے دیتا ہو ا آگے بڑھ گیا۔

Read more

کاملیت پسند

کئی ہفتوں کے بعد آفتاب نے دھند کی اوٹ سے اپنا روشن چہرہ نکالا تھا۔ میٹھی میٹھی دھوپ جاڑے کی سرد ہواؤں کے دوش پہ بکھری تھی۔ میں مردہ خانے سے باہر نکلا اور کچھ ہی قدموں کے فاصلے پر موجود روزی گارڈن کے قریب جاکر رک گیا جہاں رنگ برنگے گلاب کے پھول مسکرا کر اپنی تکمیل کا اعلان کر رہے تھے اور نیم باز کلیاں ایک عالم اداسی میں یہ سوچ کر لچکے جاتی تھیں کہ کب اُن پر شباب کا جوبن ٹوٹ کے برسے گا۔

ہڑبونگ مچاتے لڑکوں کے ٹولے آئے اور میری محویت کی دیوار میں شگاف ڈالے بغیر گزر گئے۔ جامہ زیب لڑکیوں کے گروپ فضا میں ہیجان آمیز خوشبو ئیں بکھیرتے چلے گئے مگر میرا ارتکاز جوں کا توں رہا۔

Read more

روٹین کے چند موبائل میسیجز

گرل فرینڈ ایسی ہونی چاہیے جس کی گود میں سر رکھو تو چہرہ نظر نہ آئے (; جن کو سمجھ آگئی ہے وہ آگے فاروڈکریں۔ باقی لوگ پوگو پہ کارٹون دیکھیں۔ گڈمارننگ ملتان
ارسال کنندہ: جاوید جذباتی

نماز پڑھو! اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھی جائے۔
ارسال کنندہ : مولوی زاہد

بیوی: جب تم لسی پیتے ہو، مجھے پارو کہتے ہو۔ جب تم شربت پیتے ہو مجھے جاناں کہتے ہو۔ اور جب تم وائن پیتے ہو مجھے ڈارلنگ کہتے ہو۔ پھر آج یہ بھوتنی کیوں؟
خاوند: آج میں نے سپرائیٹ پی ہے۔ سیدھی بات۔ نو بکواس۔

Read more

خود سے بچھڑے ہو ئے کردار

("اکیلے لوگوں کاہجوم ” —-ایک طائرانہ جائزہ) "اکیلے لوگوں کا ہجوم "ساحر شفیق کا ذہنی اور روحانی سفر ہے جو اس نے اپنی ذات کے اندرون میں طے کیا ہے اور اپنی ذات کے باہر بھی۔ بلا شبہ یہ جدید اُردو افسانے کا نیا چہرہ ہے جس کے کلیدی موضوعات عصرِحاضر کے انسان کی تنہائی ، رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ اورشناخت کا گم ہونا ، ہیں۔ ساحر نے خود کو مختلف سانچوں میں رکھ کر پینٹ کیا ہے اور اپنی

Read more

بوا حمیدن کی غزالہ: ایک ہاری ہوئی کہانی

ابھی کچھ دن پہلے روزنامہ‘ ترنگ‘ کے ادبی ایڈیشن میں ایک سکہ بند نقاد نے میرے تازہ ترین ناول ’محبت کے سات رنگ ’ کو بازاری لٹریچر قرار دیتے ہوئے مجھے ادبی کنوئیں کے اُس مینڈک سے تشبیہہ دی ہے جو اگلے سو سال بھی پھدکتا رہے تو شاعرانہ لفاظی اور غیر حقیقی موضوعات کی گرفت سے دامن نہیں چھڑا پائے گا۔ یوں تو نقاد موصوف بذاتِ خود سترہ ناکام کتابوں کے مصنف اور پرلے درجے کے احمق واقع ہوئے

Read more

’’ دشمنوں کے لئے نظمیں ‘‘—-ایک تاثراتی مطالعہ

دشمنوں کی ڈی کنسٹرکشن ابھی کچھ دیر پہلے حفیظ تبسم کی کتاب کا مسودہ بذریعہ ای میل موصول ہوا تو حسرت آلود یادوں کی ایک پٹاری سی کھلتی چلی گئی (چونکہ وائی فائی کی سپیڈ معمول سے کچھ کم تھی لہذا نظموں کی فائل کافی دیر بعد جاکر کھلی )۔ فائل تو جیسے تیسے کھل گئی مگر جب ایک مرتبہ دشمنوں کے لئے ساری نظمیں پڑھ چکنے کے بعد بھی یہ سمجھنے سے قاصررہا کہ آخر ان دشمنوں کے درمیان

Read more

ایک طویل سفر کی کتھا

خزاں کی زلفوں میں اُلجھی ایک شام، آخری دَموں پہ تھی۔ تالاب کنارے، پیپل کا ایک بوڑھا شجر، اپنے شاخچوں میں بسنے والے پرندوں کے انتظار میں کھڑا اونگھ رہا تھا۔ دِ ن بھر کی مسافت سے تھکا ہارا سورج، تالاب کے پانی میں اُتر کر اشنان کرنے لگا تو لکن میٹی کھیل کر گھروں کو لوٹتے بچے یہ اچھوتا نظارہ دیکھ کر مسحور سے ہو گئے۔ ایک شریر بچے نے پانی میں کنکری پھینکی تو لہروں کا جال سا

Read more

دائرہ…..مختصر کہانیاں

دی اینڈ "F”دبایا، فائر ہوا، چار آدمی ہلاک۔ فکر کی کوئی بات نہیں برے آدمی تھے سالے! برائی پندرہ سو افراد فی مربع کلومیٹر کی شر ح سے بڑھتی ہے۔ اچھائی نگوڑی نیگیٹو گروتھ کی پٹیاں پڑھتی ہے۔ "J”پہ انگلی رکھی تو ہیرو جمپ لگا کر برے آدمیوں کے سروں کے عین اوپر ۔ "K”کی مدد سے کِک بنا کر دشمنوں پہ دھاوا بول دیا۔ دشمن کی ناک چپٹی ، منہ لمبوترا اور رنگ کالا ہے۔ ہیرو دبا کے گورا،

Read more

واردات – مختصر کہانیاں

(کتاب پیدائش و اموات کا ایک باب) تیسری عالم گیر برفابی کے پانچ لاکھ سال بعد، جب سورج دوبارہ نمودار ہوا، اور زندگی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ بحال ہوئی تو تباہی کے اسباب جاننے کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنایا گیا، جس کا سربراہ ٹی ریکس نامی ایک سپر روبورٹ تھا۔ کمیشن نے تمام طبعی اور واقعاتی شواہد کا معائنہ کر نے کے بعد انکشاف کیا کہ آج سے چھہ لاکھ سال پہلے کرۂ ارض پر

Read more

کرما – ایک بلیک کامیڈی

میں ایک پیپل کا درخت تھا۔ میں نے چھاؤں بانٹی اور آکسیجن دان کی۔ ایک روز میرے بدن پر تیز دھار آرا چلا کر مجھے کاٹ دیا گیا۔ میری لاش سے میزیں اور پلنگ بنائے گئے۔ اگلی دفعہ میں ایک کونج بن کر نمودار ہوا۔ میں نے ہوا کے دوش پر رقص کیا، بے ساختہ محبت کی، بہار کی آمد کے گیت گائے اور ایک پیشہ ور شکاری کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ مجھے خوشی ہے میں حالتِ رقص

Read more

چلیے اب دونوں وقت ملتے ہیں۔۔۔

(شارٹ نوٹ) تخیّل کے علاوہ کوئی بھی چیز ہمیں بیتے ہوئے پل اور گزرے ہوئے کل نہیں لوٹا سکتی (یوں تو تاریخ بھی یہ کام کر سکتی تھی، المیہ مگر یہ ہوا کہ ساری تاریخ بوگس اور بے ہودہ نکلی)۔ چونکہ تخیّل کا تخلیقی اظہار محض آرٹ ہے لہٰذا آرٹسٹ کو ماضی میں ضرور جینا چاہیے۔ یہ نہ صرف ایک تخلیقی اور پرمسّرت عمل ہو گا بلکہ زندگی اور سماج کے لئے ہزارہا امکانات اور ممکنات کا راستہ بھی ہموار

Read more

میں، قاضی اور کولاج

ایک ذلت آمیز آپ بیتی کا خلاصہ پہلے میں نالائق اور کم علم ہوا کرتا تھا، اب کوتاہ فہم اور قلیل اندیش بھی ہوں۔ بہا الدین ذکریا یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت میں زندگی کے تین قیمتی سال اساتذہ سے بحث و مباحثہ کرتے ہی گزار دیے۔ جھولی پھیلا دی ہوتی تو علم کی دولت سے مالا مال ہو جاتا۔ میں مگر منہ پھاڑ کر سوال داغتا رہا، جو اب سننے اور سمجھنے کی زحمت نہ کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ

Read more

انسان ہونا بےمعنی ہے، اصل چیز نسل اور خاندان ہے

’’ تمہارا بلڈ گروپ کیا ہے؟‘‘ ’’ اے نیگیٹو۔‘‘ ’’پھر تو میرا اندازہ بالکل درست نکلا۔‘‘ ’’کون سا؟‘‘ ’’یہی کہ تم منفی مکتبہ ہائے خون سے تعلق رکھتے ہو۔‘‘ ’’منفی مکتبہ ہائے خون؟ یہ کیا بکواس ہے؟ یعنی خون نہ ہوا، معاشرتی علوم ہو گئے؟ـــــ‘‘ ’’ لو! معاشرتی علوم اور کیا ہوتے ہیں بھلا؟ خون کا مطالعہ ہی تو تاریخ کا مطالعہ ہے، یہی تو نفسیات اور سماجیات کی بنیادی اکائی بھی ہے، اسی کے سہارے تو سیاسیات اور اخلاقیات

Read more

(ڈھشما (ایک پروپیگنڈہ اینی میٹڈ فلم کا خلاصہ

پردہ اٹھتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سلور سکرین پر ٹائٹل چل رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک جنّاتی سائز کا مگرمچھ اپنا منہ کھولتا ہے اور ڈوبتے ہوئے سورج کو زندہ نگل جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سرخ رنگ کے آتشی دائرے باہم پیوست ہو کر اولمپک رنگ بناتے ہیں تو ایتھوپیا کا جھنڈا تھامے کئی باگڑ بلے دوڑتے چلے جاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Read more

متنجن ، زردہ اور نثری نظم کی کھچڑی

انسان سے بڑا وائرس کوئی نہیں جس نے اپنی توسیع پسندانہ دیوانگی کے شکنجے میں پھنس کر اتنے پنجرے بنا لیے کہ خود بھی انہی میں قید ہو کر رہ گیا! یوں تو اِس قید کے مختلف نام اور مختلف چہرے ہیں مگر سماج، نظام اور ڈسپلن اِس کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور ظالمانہ شکلیں ہیں ؛ شاعری اِس زنداں سے نجات کا ایک وسیلہ بن کر سامنے آئی تھی، المیہ مگر یہ ہوا کہ اِسے بھی ڈسپلن

Read more

فرزانگی، دیوانگی

ہم سبھی کے اندر ایک مہان دیوتا چنگھاڑتا تھا مگر اِس کے باوجود ہم مضحکہ خیز بالشتیوں کے سوا کچھ بھی نہ بن پائے! ہم دیوتا بھی ہو سکتے تھے مگر جو نہی ہم نے بچپنے کی دیوار عبور کی، ہمارے اجداد نے خوف کی پٹاریاں کھولیں اور ہمارے کانوں میں سنپولیے ڈال دیے! ہم جو سمندروں کا پانی ایک گھونٹ میں پی جانے کی شکتی لے کر پیدا ہوئے تھے بالآخرچِلّو بھر پانی میں ڈوب کر مر جائیں گے

Read more

احمد ندیم تونسوی کی جوکرومیٹری

1۔ پیش لفظ ابھی کچھ دیر پہلے ایک صاحب کی دو سو پانچویں کتاب بہ عنوان۔ ”گھاس پر لکھی تحریر‘‘کا فلیپ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو یہ جان کر نہایت خوشی ہوئی کہ آں جناب  نہ صرف اردو ادب کے سب سے بلند پایہ افسانہ نگار اور شاعر ہیں بلکہ انتہائی گراں قدرمؤرخ، محقق اور نقاد بھی ہیں، مزید براں ان کی شخصی وجاہت، تعلیمی کامرانیاں، پیشہ ورانہ فتوحات، خاندانی نجابت اور کامیاب عشقیہ وارداتیں بھی ہر پہلو اور ہر

Read more

میری پہلی محبت کی آخری کہانی

(1) دادی کی گود میں سر رکھ کر لیٹے، کتنی ہی کہانیاں سنتا۔ کبھی دین محمد لکڑ ہارے کا قصہ جسے مقدس درخت کاٹنے کی پاداش میں بندر بنا دیا جاتا ہے، کبھی خدا بخش کسان کی داستان جسے عمر بھر کی محنت اور سچائی کے عوض سونے کے سکوں سے بھری تھیلی ملتی ہے تو کبھی اسلم بِڈے کی کہانی جس کا قد بہت چھوٹا ہوتا ہے اور وہ ٹاٹ والے سکول میں پڑھنے کے باوجود ایک دن شہر

Read more

راجا گدھ اور عشق کا عین ،شین، قاف جیسی تحریروں کا جواز

احتساب ببلی کتیاں والے کو شراب نوشی کے الزام میں دھر لیا گیا۔ ببلی نے اعترافِ جرم کے بجائے اپنی بے گناہی کا واویلا کیا تو ڈیوٹی پر موجود حوالدار کا پارہ چڑھ گیا۔ اُس نے ببلی کی خوب چھترول کی اور ماں بہن کی غلیظ گالیاں دیں یہاں تک کہ وہ تیر کی طرح سیدھا ہو گیا اور مک مکا کی دہائیاں دینے لگا۔ مک مکا کے پیسوں سے شراب کی ایک بڑی بوتل منگوائی گئی۔ پوز سات سال

Read more