جناح صاحب کیوں پاکستان کو سیکولر ریاست نہیں بنا سکے ؟


مسلم لیگ کے پاس ایسا کوئی پروگرام نہ تھا۔ یہ معلوم نہیں تھا کہ پاکستان بن گیا تو اس کا سیاسی، معاشی اور ریاستی نظام کیسا ہوگا۔ ان کے پاس کسی زرعی اصلاحات کا پروگرام نہ تھا۔ لے دے کے جناح کی ایک گیارہ اگست کی تقریر تھی جس کی بنیاد پر کہا جانے لگا کہ جناح صاحب پاکستان کو ایک سیکولر ملک بنانے کے خواہش مند تھے لیکن گیارہ اگست کی تقریر کو جماعت اسلامی نے متنازعہ بنادیا۔ وہ جامعت اسلامی جو جناح صاحب جیسے انسانوں کی وجہ سے پاکستان مخالف تھی، وہی جماعت اب کہنے لگی کہ جناح تو پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کے مخالف تھے۔ یہ وہ تضاد ہے جس پر ہم سب کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جناح ذاتی زندگی میں ایک سیکولر انسان تھے۔ جدید تہذیب و خیالات کو پسند کرتے تھے۔ یہ بڑی حقیقت ہے جسے ہمیشہ جھٹلایا گیا ہے۔

نصاب کی کتابوں میں ایک پروپگنڈے کے تحت جناح کو نصاب میں ہمیشہ ضیا الحق بناکر پیش کیا گیا ہے۔ اسی کے نتائج ہیں جو آج ہم بھگت رہے ہیں۔ جناح صاحب پاکستان کے بنتے ہی انتقال کرگئے۔ 11 اگست کی تقریر بھی متنازعہ بنادی گئی، اس ساری صورتحال کا فائدہ جماعت اسلامی جیسی تنظیموں نے اٹھایا اور ان لوگوں نے پاکستان کو ضیاٗالحق کا پاکستان بنادیا۔ جناح کے بعد لیاقت علی خان صاحب کی آمد ہوئی، ان کے ساتھ ہی انیس سو انچاس میں قرارداد مقاصد لائی گئی۔ جس میں اس بات کو قانون بنادیا گیا کہ پاکستان اب کیسا ہوگا۔ جس بنیاد پر پاکستان بنایا گیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا۔ جس بنیاد پر پاکستان کی نظریاتی پرورش کی گئی، اسی وجہ سے بنگلہ دیش بنا۔ کبھی ہمارے سیاستدانوں اور طاقت ور حلقوں نے اس پر غور ہی نہیں کیا۔

آج پاکستان کے چاروں صوبوں میں اتحاد نہیں۔ کشمکش، انتشار، انتہا پسندی اور دہشت گردی اورلڑائی جھگڑے ہیں۔ جس کے ہم خود ذمہ دار ہیں، ہم ہی ہیں جنہوں نے جناح کے پاکستان کو ضیاٗالحق کا پاکستان بنادیا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان بننے کے بعد، جناح صاحب کی وفات کے بعد مسلم لیگ کی لیڈرشپ نے ناہلی کا ثبوت دیا؟ مسلم لیگ کی اوسط درجے کی قیادت نے تباہ کن اقدامات اٹھائے جس کا خمیازہ یہ قوم دہشت گردی اور انتہا پسندی کی شکل میں بھگت رہی ہے۔ انیس سو انچاس کی قرارداد کی گونج آج ہر گھر میں سنائی دے رہی ہے۔ جب ریاست کا نظریہ جانبدارانہ ہوگا تو ملک ایسے ہی ہوگا جیسا پاکستان ہے۔ لیاقت علی خان سے بھٹو تک سب نے جناح کے پاکستان کو ضیاٗالحق کا پاکستان بنانے کی کوشش کی۔

اس کے بعد ضیا الحق خود تشریف لے آئے۔ انہوں نے تو کمال کرنا ہی تھا۔ قوم نے فرقوں میں تقسیم ہونا ہی تھا۔ ضیاٗالحق کے آتے ہی طالبان آگئے، جماعت اسلامی کا سنہری دور شروع ہوگیا۔ انتہا پسندی کی فصلیں لگنے لگی، جو اب پک کر پھل دے رہی ہیں۔ اب جھگڑے، انتہا پسندی اور مذہبی فسادات ہیں کیونکہ یہ ضیا الحق کا پاکستان ہے۔ اب ریاست کے نظریئے میں جنرل ضیاٗ بیٹھا ہے، نصاب کی کتابوں میں جنرل ضیاٗ مسکرا رہا ہے۔ بیورو کریسی، یونیورسٹیوں، سییاست، معیشت اور معاشرت میں جگہ جگہ ضیا الحق تشریف فرما ہے۔ ایسی صورتحال میں کیسے پاکستان میں امن سکون آسکتا ہے۔ یہاں تک کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے اداروں میں ضیاٗ گھنسا ہوا ہے۔

ریاست کو غیر جاندار بناناہے، اسے انسانیت پسند نظریئے پر چلانا ہے تو سب سے پہلے جنرل ضیاٗ کو زندگی کے ہر شعبے سے نکال باہر کرنا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ضیاٗ الحق کا پاکستان ہے۔ یہ پاکستان کبھی بھی جناح کا پاکستان نہیں رہا۔ سوال یہ کہ کیا عمران خان صاحب اور باقی تمام سیاسی و فوجی قیادت زندگی کے ہر شعبے سے ضیاٗ کو باہر نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ سابق آمر کو پاکستان سے نہ نکالا گیا تو جمہوریت بھی خطرے میں رہے گی، انتخابات میں دھاندلیاں بھی ہوتی رہیں گی، اسٹیبلشمنٹ بھی مضبوط رہے گی اور مارشل لا کا خطرہ بھی منڈلاتا رہے گا۔ انتہا پسندی بھی رہے گی، تعصب اور نفرت کا رویہ بھی برقرار رہے گا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2