ہولی ہے بھئی ہولی ہے

دنیا کے تمام جشن ہی حسین اور دلکش ہوتے ہیں۔ یہ فیسٹیول، میلے، تہوار ہی زندگی کی سچی اور اصلی حقیقتیں ہیں۔ انسان کی زندگی کلرفل ہونی چاہیے۔ رنگوں کی وجہ سے ہی انسان کے جذبات میں محبت، امن، پیار اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے اس لئے ہولی، کرسمس اور عید جیسے تہوار کا انسانی زندگی میں ہونا بہت اہم ہے۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ ہولی ہندوؤں کا تہوار ہے یا عیسائیوں کا۔ لیکن ایک بات جانتا ہوں کہ اس تہوار میں رنگ، خوشی، رقص، نغمے اور زندہ دلی ہے۔ میں ایک بات جانتا ہوں کے ہزاروں انسان ہولی کے تہوار یا فیسٹیول کے موقع پر اکٹھے ہوتے ہیں، ایک دوسرے پر مختلف اقسام کے خوبصورت رنگ پھینکتے ہیں، قہقہے بکھیرتے ہیں، مسکراتے ہیں، نغمے گاتے ہیں اور یہی زندگی کی خوبصورتی ہے۔

Read more

اورموم بتیاں جلتے جلتے بجھ گئیں

پاک بھارت جنگ کی باتیں سن سن کر جب میں تنگ آگیا تو سائیں بابا سے ملنے اندرون شہر لاہور چلا گیا۔ بابا اپنے کمرے میں بیٹھے کتاب پڑھ رہے تھے۔ کمرے کے درو دیوار اداسی کا منظر پیش کرتے نظر آئے۔ ایسا لگا جیسے میں کسی اداس اور سنسان درگاہ پر آگیا ہوں۔ مصنوعی…

Read more

عالمی یوم خواتین اور اسلامی جمہوریہ پاکستان

کچھ تین چار دن پہلے کی خبر ہے جب ایبٹ آباد کے سروان چوک پر مردہ سماج کی اکلوتی زندہ آواز کو گولیاں مار کر بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ جی ہاں میں بات کررہاہوں کوہستان ویڈیو اسکینڈل کے بنیادی گواہ اور بہادر انسان افضل کوہستانی کی۔ کوہستان ویڈیو اسکینڈل 2012 کوسامنے آیا تھا۔ اس ویڈیو میں دو لڑکے رقص کررہے تھے اور پانچ لڑکیاں تالیاں بجارہی تھی۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے دوسرے روز میڈیا پر یہ خبر آئی کہ ویڈیو میں تالیاں بجانے والی پانچوں لڑکیوں کو ایک جرگے کے حکم پر بے دردی سے قتل کردیا گیا ہے۔

Read more

آپ نے فلم ’غالب‘ دیکھی؟

رشید رضوی نے بالکل درست فرمایا، کِہ مغل دور نے ہندوستان کو تین نایاب چیزیں دی ہیں۔ انھی تین چیزوں کی وجہ سے مغل بھی ہمیشہ ہمیشہ تاریخ میں زندہ رہیں گے۔ مغل دور نے ہندوستان کو تاج محل، اردو اور مرزا غالب سے نوازا ہے۔ ’’مرزا غالب‘‘؛ گلزار صاحب اور کیفی عظمی نے اس…

Read more

اردو غزل اور نظم کا منفرد شاعر: منیر نیازی

بے چین بہت پھرنا ،گھبرائے ہوئے رہنا اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا ایک اور شعر ہے۔۔۔۔ رنج فراق یار میں،رسوا نہیں ہوا۔۔۔۔ اتنا میں چپ ہواکہ تماشا نہیں ہوا منیر نیازی اردو غزل اور نظم کا سب سے منفرد اور نرالا شاعر ہے ۔ان کی نظموں میں نئی بات ملتی ہے۔نئے احساسات…

Read more

محمد رفیع کی سال گرہ

ایک زمانہ تھا جب گاؤں میں شادیوں کے موقع پر لاوڈ اسپیکر پر ہمیشہ ایک آواز گونجتی رہتی تھی۔ بڑے بزرگ کہا کرتے تھے چلو اس شادی پر چلتے ہیں۔ شادی کی تقریب بھی دیکھ لیں گے اور محمد رفیع کے گانے بھی سن لیں گے۔ اسی زمانے میں محمد رفیع سے میری تھوڑی بہت جان پہچان ہوئی۔ شاید اس وقت میری عمر کوئی چار پانچ سال ہو گی۔ محمد رفیع کی آواز بہت میٹھی اور سریلی محسوس ہوتی تھی۔ رات کو گانا بجتا رہتا تھا اور میں گھر کے صحن میں ان نغموں کو سنتا رہتا تھا اور اسی دوران نیند آ جاتی تھی۔ محمد رفیع میرے پیارے سے بچپن کی ایک خوب صورت یاد ہیں۔

محمد رفیع چوبیس دسمبر انیس سو چوبیس کو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں گاؤں سے ایک فقیر گزرتا تھا، وہ گاؤں میں گاتے ہوئے داخل ہوتا تھا، معلوم نہیں یہ فقیر کہاں سے آتا تھا اور کہاں چلا جاتا تھا۔ گاؤں میں ایک بچہ تھا جو ہمیشہ اس فقیر کے پیچھے جاتا۔ وآپس آکر وہ بچہ گاؤں والوں کو اس فقیر کا پنجابی میں گایا ہوا گیت گا کر سناتا تھا۔ کوٹلہ سلطان سنگھ کے بازار میں لوگ جمع ہوتے تھے اور وہ اس بچے سے فقیر کے سریلے گیت سنتے تھے۔

Read more

خوف پر کیسے قابو پایا جائے؟

اس دنیا میں لاکھوں نہیں، کروڑوں نہیں بلکہ اربوں انسان ایسے ہیں جو خوف اور ڈر کے ہاتھوں زلیل ہورہے ہیں۔ ہر انسان کے ذہن میں ہر وقت کوئی نہ کوئی ہارر فلم چل رہی ہے۔ کسی کے ذہن میں یہ ہارر مووی چل رہی ہے کہ اگر وہ ناکام ہوگیا تو کیا ہوگا؟ کسی کو یہ خوف ہے کہ کوئی انسان اس کو بے عزت نہ کردے؟ کسی کو یہ ڈر ستا رہا ہے کہ جس سے وہ محبت کرتا ہے، کہیں وہ اسے رد نہ کردے؟ کسی کو یہ خوف ہے کہ اتنا بڑا پیسہ لگا دیا ہے کہیں بزنس ڈوب نہ جائے؟ دیکھا جائے تو تقریبا تمام انسان کچھ ایسا ہی سوچ رہے ہوتے ہیں؟ ایسا سوچنے کی وجہ سے ان کے چہروں سے مسکراہٹیں غائب ہوچکی ہیں اور وہ بیچارے ہر وقت پریشان اور دکھی دکھائی دیتے ہیں۔ ڈپریشن کا شکار ایسے انسانوں کے دماغ میں دوسری سوچ یہ چل رہی ہوتی ہے کہ کیسے خوف پر قابو پایا جائے؟

Read more

انسان کو غصہ کیوں آتا ہے؟

اس خوبصورت زمین پر ہر روز غصے کی وجہ سے ہزاروں انسان قتل ہوجاتےہیں۔ دنیا میں ہر قتل کے پیچھے غصے کا عمل دخل ہے۔ انسان انسان کا دشمن ہے، اس کی وجہ بھی غصہ کی کیفیت ہے، انسان غصے کی وجہ سے اپنے دوستوں اور پیاروں کو کھودیتا ہے۔ غصہ ایک خوفناک اور خونی…

Read more

کیا زندگی نتائج اخذ کرنے کا نام ہے؟

دوستوں کی جانب سے مجھ سے ایک سوال کیا جاتا ہے کہ تم کیا ہو؟ مذہبی ہو یا غیر مذہبی؟ سیکولر ہو یا کمیونسٹ؟ روحانی انسان ہویا مادہ پرست؟ اس سوال کا جواب میں آج تک نہیں دے سکا۔ سوال کا جواب نہ دینے کی وجہ آج اس تحریر میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

انسانی جسم میں انسان کا دماغ بنیادی طور پر ایک ایسا آلہ یا ٹول ہے جس سے وہ سچائی کے سفر کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں جو اس سفر کو انجوائے کرتے ہیں۔ ایسے بھی انسان ہوتے ہیں دماغ کو ایک ایسے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس کا مقصد کسی خاص نتیجے یا نتائج تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا انسانی دماغ کو نتائج اخذ کرنے والے ٹول کے طور پر استعمال کرنا چاہیے؟ یہ انسانیت کی بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی کے زیادہ تر انسان دماغ کو نتائج اخذ کرنے والا ٹول سمجھتے ہیں۔ دماغ کو صرف نتائج اخذ کرنے کے ٹول یا ڈیوائس کے طور پر استعمال نہیں کرناچاہیے۔ دماغ و ذہن کی بہت اہمیت ہے۔ اس سے ہم انسان زندگی کو مسلسل دیکھ رہے ہیں۔ زندگی کی گہرائی اور وسعت کو سمجھنے اور جاننے کے لئے دماغ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ دماغ کا صرف یہ کام نہیں کہ وہ نتائج اخذ کرے، سوال پیدا کرے یا کسی چیز یا نظریے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتا رہے؟

Read more

سانحہ اے پی ایس اور سقوط ڈھاکہ سے ہم نے کیا کچھ سیکھا؟

آج 16دسمبر 2018 ہے۔16دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پشاور کا خونی سانحہ رونما ہوا تھا۔گزشتہ چار سالوں کی طرح آج بھی شہید کئے جانے والے سینکڑوں بچوں کے لئے شمعیں جلیں گی۔ایک بار پھر ہماری آنکھیں نم ہوں گی ۔ایک بار پھر ان دہشت گردوں کی مزمت کی جائے گی جنہوں نے درندگی کا…

Read more