کیا نواز شریف مکمل نظریاتی ہو گئے ہیں؟

مسلم لیگ (ن) کے ورکر اور رہنما مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کو ایک شاندار ریلی یا جلوس کی شکل میں کوٹ لکھپت جیل چھوڑ آئے ہیں۔ چھے ہفتوں کی چھٹی کے بعد قیدی دوبارہ جیل پہنچ چکا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف غیر معینہ مدت تک لندن میں ٹھہر چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے لندن میں ٹھہر جانے کے بعد اور نواز شریف کے دوبارہ جیل جانے کے بعد اب سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نواز شریف بیانیے والی قیادت کیا کچھ کرنے جا رہی ہے؟

Read more

کیا پاکستان میں صدارتی نظام آرہا ہے؟

مختلف نیوز چینلز کے زرائع والے صحافی گزشتہ دس روز سے زرائع سے یہی خبر دے رہے تھے کہ کابینہ میں تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ اے آر وائی، جیو نیوز اور ٹوئینٹی فور نیوز والے سیٹھی صاحب دس دن سے کہہ رہے تھے کہ وزیر خزانہ اسد عمر کی چھٹی ہونے والی ہے۔ عمرانی حکومت تردید کررہی تھی اور فواد چوہدری فرما رہے تھے سب بکواس ہے۔ کچھ نہیں ہونے والا، کابینہ میں کوئی تبدیلیاں نہیں آرہی۔ پیمرا کی طرف سے کابینہ میں تبدیلی کی خبریں دینے والے نیوز چینلز کو نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔

Read more

مشال خان کی دوسری برسی بھی گزر گئی

مشال خان کی دوسری برسی بھی گزر گئی۔ مشال خان مردان کی خان عبدالولی خان یونیورسٹی کا ذہین طالبعلم تھا۔ مشال خان کو 13 اپریل 2017 کے دن ایک ہجوم نے توہین مذہب کے غلط الزام کے نتیجے میں بے دردی سے قتل کر ڈالا تھا۔ مشال خان کے قتل کے بعد باشعور سوچ و…

Read more

دہشت گردی پھر لوٹ آئی

گزشتہ روز یعنی گیارہ اپریل کے دن بلوچستان میں دہشت گردی کے دو واقعات ہوئے۔ دہشت گردی کا پہلا بڑا واقعہ گیارہ اپریل کی صبح کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں ہوا۔ یہ واقعہ ہزار گنجی کی ہول سیل فروٹ اور سبزی مارکیٹ میں ہوا۔ اس مارکیٹ سے ہزارہ کمیونٹی کے تاجران اور دکانداروں کے…

Read more

ہولی ہے بھئی ہولی ہے

دنیا کے تمام جشن ہی حسین اور دلکش ہوتے ہیں۔ یہ فیسٹیول، میلے، تہوار ہی زندگی کی سچی اور اصلی حقیقتیں ہیں۔ انسان کی زندگی کلرفل ہونی چاہیے۔ رنگوں کی وجہ سے ہی انسان کے جذبات میں محبت، امن، پیار اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے اس لئے ہولی، کرسمس اور عید جیسے تہوار کا انسانی زندگی میں ہونا بہت اہم ہے۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ ہولی ہندوؤں کا تہوار ہے یا عیسائیوں کا۔ لیکن ایک بات جانتا ہوں کہ اس تہوار میں رنگ، خوشی، رقص، نغمے اور زندہ دلی ہے۔ میں ایک بات جانتا ہوں کے ہزاروں انسان ہولی کے تہوار یا فیسٹیول کے موقع پر اکٹھے ہوتے ہیں، ایک دوسرے پر مختلف اقسام کے خوبصورت رنگ پھینکتے ہیں، قہقہے بکھیرتے ہیں، مسکراتے ہیں، نغمے گاتے ہیں اور یہی زندگی کی خوبصورتی ہے۔

Read more

اورموم بتیاں جلتے جلتے بجھ گئیں

پاک بھارت جنگ کی باتیں سن سن کر جب میں تنگ آگیا تو سائیں بابا سے ملنے اندرون شہر لاہور چلا گیا۔ بابا اپنے کمرے میں بیٹھے کتاب پڑھ رہے تھے۔ کمرے کے درو دیوار اداسی کا منظر پیش کرتے نظر آئے۔ ایسا لگا جیسے میں کسی اداس اور سنسان درگاہ پر آگیا ہوں۔ مصنوعی…

Read more

عالمی یوم خواتین اور اسلامی جمہوریہ پاکستان

کچھ تین چار دن پہلے کی خبر ہے جب ایبٹ آباد کے سروان چوک پر مردہ سماج کی اکلوتی زندہ آواز کو گولیاں مار کر بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ جی ہاں میں بات کررہاہوں کوہستان ویڈیو اسکینڈل کے بنیادی گواہ اور بہادر انسان افضل کوہستانی کی۔ کوہستان ویڈیو اسکینڈل 2012 کوسامنے آیا تھا۔ اس ویڈیو میں دو لڑکے رقص کررہے تھے اور پانچ لڑکیاں تالیاں بجارہی تھی۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے دوسرے روز میڈیا پر یہ خبر آئی کہ ویڈیو میں تالیاں بجانے والی پانچوں لڑکیوں کو ایک جرگے کے حکم پر بے دردی سے قتل کردیا گیا ہے۔

Read more

آپ نے فلم ’غالب‘ دیکھی؟

رشید رضوی نے بالکل درست فرمایا، کِہ مغل دور نے ہندوستان کو تین نایاب چیزیں دی ہیں۔ انھی تین چیزوں کی وجہ سے مغل بھی ہمیشہ ہمیشہ تاریخ میں زندہ رہیں گے۔ مغل دور نے ہندوستان کو تاج محل، اردو اور مرزا غالب سے نوازا ہے۔ ’’مرزا غالب‘‘؛ گلزار صاحب اور کیفی عظمی نے اس…

Read more

اردو غزل اور نظم کا منفرد شاعر: منیر نیازی

بے چین بہت پھرنا ،گھبرائے ہوئے رہنا اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا ایک اور شعر ہے۔۔۔۔ رنج فراق یار میں،رسوا نہیں ہوا۔۔۔۔ اتنا میں چپ ہواکہ تماشا نہیں ہوا منیر نیازی اردو غزل اور نظم کا سب سے منفرد اور نرالا شاعر ہے ۔ان کی نظموں میں نئی بات ملتی ہے۔نئے احساسات…

Read more

محمد رفیع کی سال گرہ

ایک زمانہ تھا جب گاؤں میں شادیوں کے موقع پر لاوڈ اسپیکر پر ہمیشہ ایک آواز گونجتی رہتی تھی۔ بڑے بزرگ کہا کرتے تھے چلو اس شادی پر چلتے ہیں۔ شادی کی تقریب بھی دیکھ لیں گے اور محمد رفیع کے گانے بھی سن لیں گے۔ اسی زمانے میں محمد رفیع سے میری تھوڑی بہت جان پہچان ہوئی۔ شاید اس وقت میری عمر کوئی چار پانچ سال ہو گی۔ محمد رفیع کی آواز بہت میٹھی اور سریلی محسوس ہوتی تھی۔ رات کو گانا بجتا رہتا تھا اور میں گھر کے صحن میں ان نغموں کو سنتا رہتا تھا اور اسی دوران نیند آ جاتی تھی۔ محمد رفیع میرے پیارے سے بچپن کی ایک خوب صورت یاد ہیں۔

محمد رفیع چوبیس دسمبر انیس سو چوبیس کو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں گاؤں سے ایک فقیر گزرتا تھا، وہ گاؤں میں گاتے ہوئے داخل ہوتا تھا، معلوم نہیں یہ فقیر کہاں سے آتا تھا اور کہاں چلا جاتا تھا۔ گاؤں میں ایک بچہ تھا جو ہمیشہ اس فقیر کے پیچھے جاتا۔ وآپس آکر وہ بچہ گاؤں والوں کو اس فقیر کا پنجابی میں گایا ہوا گیت گا کر سناتا تھا۔ کوٹلہ سلطان سنگھ کے بازار میں لوگ جمع ہوتے تھے اور وہ اس بچے سے فقیر کے سریلے گیت سنتے تھے۔

Read more