اسلام آباد ہائیکورٹ: جسٹس اطہر من اللہ اور نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی میں لمحہ بہ لمحہ مکالمہ

(اسلام آباد ہائی کورٹ کا نیب سے مسلسل ایک ہی سوال)
جسٹس اطہر من اللہ: نوازشریف کے خلاف کرپشن میں بریت کے فیصلے کو چیلنج کیوں نہیں کیا؟ خود تسلیم کرلیا کہ کرپشن نہیں ہوئی؟ ٹرسٹ ڈیڈ کو جعلی بھی مان لیا جائے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اس ٹرسٹ ڈیڈ سے معاونت کیسے ثابت ہوتی ہے؟
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب: کیا مریم نواز کو عوامی عہدیدار کے طور پر بھی سزا دی جا سکتی ہے؟
خواجہ حارث: نہیں دی جا سکتی تھی،
جسٹس اطہر من اللہ: بے نامی ہونا غیر قانونی نہیں ہے۔ ٹرسٹ ڈیڈ کا مقصد ہی یہی ہے کہ میں بے نامی ہوں۔ اگر یہ جعلی بھی ہے تو جرم نہیں بنتا۔ اس میں سازش کہاں سے آگئی ہے؟ آپ کا کیس یہ ہے کہ مریم نواز یا زیر کفالت تھیں یا پھر بے نامی دار تھیں۔
نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: ہمارا کیس یہ ہے کہ مریم نواز جائیداد کی مالک 1993 سے ہیں۔ مریم نواز نے 2006 میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پیش کی۔
جسٹس اطہر من اللہ بچہ تین سال کا ہو تو کیا زیرکفالت ہونے کی سزا معاونت کی دی جائے گی۔
نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: بچہ 18 سال کا تھا۔
جسٹس اطہر من اللہ: نیب نے تسلیم کر لیا ہے کہ نواز شریف نے دولت کرپشن سے نہیں بنائی۔ تین ملزمان میں سے یہ جائیداد کس کی ملکیت میں تھی؟ مجھے ریکارڈ کی طرف جانا ہوگا۔ ریکارڈ کے مطابق مریم نواز بے نامی دار ہے؟ بے نامی دار کو کیسے سزا دی جاسکتی ہے؟
نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: مریم نواز نے سازش کی معاونت کی۔
جسٹس اطہر من اللہ: کیا مریم نواز کو نائن اے فائیو کے تحت سزا دی جاسکتی ہے؟ احتساب عدالت نے نیب کےقانون نائن اے فائیوکے تحت بھی سزا دے دی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ نیب کی شق نائن اے فائیو کی پہلے کبھی تشریح ہوئی ہے یا نہیں؟ اگرشق نائن اے فائیوکی تشریح ہوئی ہے تو ہمیں بتا دیں۔ اگر آپ کی بات مان لی جائے تو پھر ہر زیرکفالت شخص سزا پائے گا۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو کس جرم کی سزا دی گئی؟ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر صرف گواہ ہے۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے معاونت کیسے کی؟
جسٹس اطہر من اللہ: آپ کہتے ہیں کہ چونکہ کیلیبری فونٹ دستیاب نہیں تھا، لہذا جعل سازی ہوئی۔
نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: جی کمرشلی دستیاب نہیں تھا۔
جسٹس اطہر من اللہ: گواہ نے پیش ہو کر کیا کہا، دیکھ لیتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ فرانزک ماہر کی رپورٹ کی بنیاد پر سزا ہوئی۔ فیصلے میں لکھا ہے کہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی تھی جس وجہ سے سزا ہوئی۔ فیصلے میں فرانزک ماہر کا ذکر نہیں ہے۔ آپ نے فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے۔ آپ نے فیصلے کو چیلنج بھی نہیں کیا ہے۔ اب صرف جو فیصلہ سامنے ہے، اس پر فوکس رکھیں۔ احتساب عدالت نے جس بنیاد پر سزا دی ہے، وہ پڑھ لیں۔ فیصلے میں واضح لکھا ہے کہ مالک مریم نواز نہیں ہے، نواز شریف ہے۔ مریم نواز نےاثاثے چھپانے میں والد کی معاونت کی ہے۔ اگر فیصلے میں لکھی انگریزی کی کوئی اور انگریزی ہوسکتی ہے تو بتا دیں۔
نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: مریم نواز بینیفشل اونر تھی۔
جسٹس اطہر من اللہ: ٹرائل کورٹ نے واضح کہا کہ جائیداد کے مالک نواز شرف ہیں۔ اگر اس فیصلے پر کوئی تحفظات تھے تو نیب اپیل دائر کر دیتا۔ احتساب عدالت کہتی ہے کہ عوامی عہدیدار ہوتے ہوئے نواز شریف نے جائیداد بنائی۔
نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: ہم نے ثابت کیا کہ مریم نواز بینیفشل اونر تھیں۔
جسٹس اطہر من اللہ: آپ نے ثابت کیا ہوگا لیکن احتساب عدالت کے جج نے یہ نہیں لکھا۔
نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: آپ کیس ایسے نہ سنیں۔ پہلے وکلاء صفائی کو سن لیں پھر مجھے سنیں۔ اس طرح میں بھی کنفیوز ہورہا ہوں۔
جسٹس اطہر من اللہ: ہم ابھی تفصیل میں نہیں جا رہے ہیں۔ کیس چند نکات پر محدود ہو رہا ہے۔
(جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی رپورٹرز کو تنبیہ) میڈیا غلط تاثر نہ دے، ابھی ہم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ضرورت محسوس کی تو میڈیا کو روک سکتے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ: ابھی یہ کیس زیر سماعت ہے۔ نواز شریف کا جائیداد سے کیا تعلق ہے؟
خواجہ حارث: نوازشریف کا ان جائیدادوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نیب کے گواہان نے بھی نوازشریف کا تعلق ظاہر نہیں کیا ہے۔ میں نے واجد ضیاء سے جرح میں پوچھا تو انہوں نے نواز شریف کا کوئی تعلق نہیں بتایا۔ نیب نوازشریف سے متعلق ریکارڈ پر کچھ بھی لے کر نہیں آیا۔ کوئی دستاویز نہیں جو یہ بتا سکے کہ نوازشریف ان جائیدادوں کے مالک تھے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب: فیصلے میں لکھا ہے کہ عام طور ہر بچے والدین کے زیرکفالت ہوتے ہیں،
خواجہ حارث: جی یہ فیصلے میں لکھا گیا ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب: جے آئی ٹی نے یہ کہاں لکھا ہے کہ نوازشریف کے بچوں کا موقف کیا تھا۔
خواجہ حارث نے جے آئی ٹی رپورٹ کے متعلقہ حصے پیش کر دیے
جسٹس اطہر من اللہ: جائیدادوں کے ساتھ نواز شریف کا کہیں تو تعلق بنا ہو گا۔ یہ بات ہمیں سردار مظفر بتائیں گے۔ حسن اور حسین نواز کیا کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ جائیداد کیسے حاصل کی؟
خواجہ حارث عدالت کو 1980 کے گلف اسٹیل ملز معاہدے کے نکات اور قطری خطوط سے متعلق تفصیل بتاتے ہیں
جسٹس اطہر من اللہ: یہ فرسٹ امپریشن کا اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔ ایک ہی جائیداد میں ایک دفعہ آپ کو بری کیا جاتا ہے اور دوسری شق میں سزا دی جاتی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ: 15 تاریخ کو کیپٹن صفدر اور مریم نواز کے وکیل کو سنیں گے۔ 16 اگست کو نیب کو سنا جائے گا۔
نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: مجھے دو دن دیے جائیں۔
جسٹس اطہر من اللہ: آپ تحریری جواب لے آئیے گا، سوالات ہم نے اٹھا دیے ہیں۔ آپ کو 20 منٹ میں سن لیں گے۔
کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی

